رمضان اور قرآن

 عبدالباری شفیق السلفی

ماہ رمضان قرآن کریم کے نزول کی سالگرہ ہے، اس لیے اس ماہ کو قرآن کریم سے گہرا ربط وتعلق ہے، لہذا رمضان المبارک کے مہینہ میں مسلمانوں کو قرآن کریم کی تلاوت کاخاص اہتمام والتزام کرنا چاہیے ،کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرکے ایک سے زائد باراسے ختم کرنے اورتلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے معانی ومفہوم کوبھی ذہن نشین کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، اس لیے کہ اسی مقدس وبابرکت مہینہ کی شب قدرمیں قرآن کریم سراپا رشدوہدایت بن کر لوح محفوظ سے آسمان دنیاپر نازل کیاگیا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ھُدَیً لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ۔ ۔ ۔ }(البقرۃ:۱۸۵)

ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتاراگیا جولوگوں کو ہدایت کرنے والاہے اورجس میں ہدایت کی اورحق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔

{اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ}(القدر:۱)

یقینا ہم نے اسے شب قدرمیں نازل فرمایا۔ {اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ}(الدخان:۳)یقینا ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے۔

قرآن کریم کی تلاوت کی بڑی فضیلت ہے،اس میں لوگوں کے لیے ہرلحاظ سے شفا ء موجود ہے، اس کی تلاوت سے لوگوں پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اورانھیں سکون قلب حاصل ہوتا ہے، آلام ومصائب سے نجات ملتی ہے،نیز پریشانی اورغم دور ہوجاتے ہیں، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پران فوائد کا ذکر کیا ہے۔

{وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنُ مَاھُوَ شِفَائٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلَا یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ اِلاَّ خَسَارًا}(الاسراء:۸۲)

ترجمہ:یہ قرآن جوہم نازل کررہے ہیں مومنو ںکے لیے توسراسر شفا ء اوررحمت ہے، ہاں ظالموں کوبجز نقصان کے اورکوئی زیادتی نہیں ہوتی۔ {۔ ۔ ۔ ألَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ}(الرعد:۲۸)ترجمہ:یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَأقَامُوْ الصَّلوٰۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاھُمْ سِرًّاوَّ عَلَا نِیَۃً یَرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ، لِیُوَفِّیَھُمْ اُجُوْرَھُمْ وَیَزِیْدَھُمْ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّہٗ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ}(فاطر:۲۹،۳۰)

ترجمہ:جولوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اورنماز کی پابندی رکھتے ہیں اورجو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیدہ اورعلانیہ خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امید وارہیں جوکبھی خسارہ میں نہ ہوگی تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اوران کو اپنے فضل سے اورزیادہ دے۔ بیشک وہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہے۔

احادیث شریفہ میں بھی تلاوت قرآن اورذکر الٰہی کے بڑے فضائل ذکرکئے گئے ہیں،چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں:۔

۱۔ حضرت ابو سعید خدری -رضی اللہ عنہ- سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ’’ میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں اس لیے کہ وہ ہرعمل کی بنیاد ہے، تم جہاد کو لازم پکڑواس لیے کہ اسلام میں رہبانیت( ترک دنیا) نہیں ہے،اوراپنے اوپراللہ کا ذکر اورقرآن کریم کی تلاوت لازم پکڑو کہ یہ آسمان میں تمہارے لیے باعث راحت اورزمین میں تمہارے لیے باعثِ ذکرِخیر ہے‘‘۔ (حسن ؍أحمد )

۲۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ ’’تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن پڑھے اور پڑھائے‘‘۔ (بخاری)

۳۔ حضرت عبداللہ بن مسعود- رضی اللہ عنہ- سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا تواس کے بدلہ اسے دس نیکیاں ملیں گی اورہر نیکی دس گنا تک بڑھائی جائے گی، میرا یہ مطلب نہیں کہ ’’الٓم‘‘ایک حرف ہے، بلکہ’ ا ‘ ایک حرف ہے ’ل‘ ایک حرف ہے اور’م‘علیحدہ حرف ہے‘‘۔ (صحیح؍ترمذی ،حاکم)

۴۔ حضرت عائشہ صدیقہ- رضی اللہ عنہا -سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ’’قرآن کا ماہربزرگ وپاکباز سفیروں(اللہ کے وہ فرشتے جواللہ کی وحی اس کے رسولوں تک پہنچاتے ہیں) کے ساتھ ہوگا، اورجوقرآن اٹک اٹک کر مشقت سے پڑھتا ہے (یعنی ماہرین کی طرح روانی اورسہولت سے نہیں پڑھ پاتا) تواس کو دوہرا اجرملے گا‘‘۔ (بخاری ومسلم)

۵۔ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندہ کی سفارش کریں گے، روزہ کہے گا اے میرے رب! میں نے اس (بندہ) کو (دن میں)کھانے اورتمام خواہشات پوری کرنے سے روک دیا تھا(اوریہ بندہ محض تیری رضا کے لیے دن بھرکھانے پینے اوراپنی ہرخواہش پوری کرنے سے رُکا رہا) اس لیے اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اورقرآن عرض کرے گا اے میرے پروردگار !میں نے اس (بندہ) کو رات میں سونے( اورآرام کرنے) سے روک دیاتھا(اوریہ رات کواپنے بستر سے الگ ہوکراوراپنی نیند کو تج کررات میں قرآن کی تلاوت کرتا تھا، تراویح اورقیام اللیل کی نمازوں میں قرآن سنتا اورسناتا تھا) اس لیے اس کے بارے میں میری سفارش منظور فرما، آپ ﷺ نے فرمایا کہ(اللہ کی بارگاہ میں) دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی‘‘۔ (صحیح؍احمد، حاکم،طبرانی)) نیز ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حکم دیا :’’ قرآن کی تلاوت کرواس لیے کہ قرآن قیامت کے دن قرآن پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئے گا‘‘۔ (رواہ مسلم واحمد)

حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص -رضی اللہ عنہما-کو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہرمہینے میں ایک بارقرآن ختم کریں، انھوں نے کہا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اوراسے باربار کہتے رہے تونبی کریمﷺ نے کہا کہ’’ تین دن میں قرآن ختم کرو‘‘۔ (بخاری)

قرآن کریم کی تلاوت کے آداب:

قرآن کریم کی تلاوت کے فضائل وبرکات کے بیان کے بعد اب اس کی تلاوت کے آداب ذکر کئے جارہے ہیں، جن کا لحاظ ہرتلاوت کرنے والے کو کرناچاہیے۔

۱۔ تلاوت قرآن بھی ایک اہم عبادت ہے اوراس کی قبولیت کا دارومدار بھی نیت پرہے، اس لیے سب سے پہلے تلاوت کرنے والے کو اپنی نیت خالص کرلینی چاہیے، اور عبادت سمجھ کر قرآن کریم کی تلاوت کا شرف حاصل کرنا چاہیے ،ریا، نمود اوردکھاوے سے اجتناب ضروری

ہے۔

۲۔ قرآن کریم کی تلاوت یکسوہوکر حضورقلب کے ساتھ کرنی چاہیے جیساکہ حدیث میں وارد ہے’’ قرآن پڑھو جب تک تمہارے دل متوجہ ہوں اورتمہیں یکسوئی حاصل ہو اورجب تمہارے دل میں انتشار پیداہوجائے اوریکسوئی ختم ہوجائے تواٹھ جاؤ‘‘۔ (یعنی قرآن کی تلاوت بندکردو) (بخاری ومسلم)

۳۔ کوشش ہونی چاہیے کہ قرآن کریم کے معانی سمجھ کرپڑھے جائیں،اس لیے کہ بغیر سمجھے قرآن کی تلاوت سے وہ لذت اورفائدہ حاصل نہ ہوسکے گا جواس کا مطلوب ومقصود ہے۔

۴۔ قرآن کی تلاوت پاک وصاف اورباوضو ہوکرکرنی چاہیے اس لیے کہ کلام الٰہی کی تعظیم اوراحترام کایہی تقاضا ہے ،بدرجۂ مجبوری بغیروضو کے قرآن کی تلاوت زبانی کی جاسکتی ہے لیکن حدث اکبر(جس سے غسل کرناواجب ہو)سے پاکی بہرحال ضروری ہے،البتہ قرآن پاک چھونے کے لیے حدث اصغر وحدث اکبر دونوں سے پاکی ضروری ہے۔

۵۔ قرآن کریم کی تلاوت صاف ستھری جگہ بیٹھ کر کرنی چاہیے، گندے اورناپاک مقامات یا شور وہنگامہ کی جگہوں پراس کی تلاوت سے احتراز کرناچاہیے۔

۶۔ قرآن کریم پڑھنے سے پہلیاَعوذ باللہ من الشیطان الرجیمپڑھ کر شیطان مردود سے ضرورپناہ مانگنی چاہیے، ایک آیت بھی پڑھنی ہو توتعوُّذضروری ہے ارشاد الٰہی ہے:{فَإِذَا قَرَأتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}(النحل:۹۸) جب قرآن پڑھو توشیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔

۷۔ صحت مخارج اورتلفظ کی صحیح ادائیگی کا خیال رکھنا چاہیے، اس لیے کہ بسااوقات غلط تلفظ سے معنی بدلنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اسی طرح قرآن ٹھہر ٹھہر کر اچھی آواز سے پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے، حدیث میں باقاعدہ حکم ہے کہ’’زَیِّنُوْا الْقُرآنَ بِاَصْوَاتِکُمْ‘‘ (صحیح؍أبوداؤد،ابن ماجہ) ’’قرآن کو اپنی آواز سے مزین وآراستہ کرو‘‘،نیز دوسری حدیث میں ہے کہ ’’حَسِّنُوا الْقُرْآنَ بِأصْوَاتِکُمْ فَاِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ یَزِیْدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا‘‘(اس کی اسناد جید ہے؍دارمی، حاکم،تمّام)یعنی’’ قرآن کو اپنی آواز سے خوبصورت بناؤ، اس لیے کہ اچھی آواز سے قرآن کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے ‘‘۔ اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت انس- رضی اللہ عنہ- سے سوال کیا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺقرآن کیسے پڑھتے تھے؟ توانھوں نے جواب دیا کہ کھینچ کھینچ کر،پھر حضرت انس- رضی اللہ عنہ- نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیمپڑھ کر عملی طورپر اس کی وضاحت کی اوربسم اللہکو کھینچا پھرالرحمٰن کو کھینچا پھرالرحیم کوکھینچا۔ معلوم ہوا کہ خوب ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے قرآن پڑھنا چاہیے البتہ دوران قرأت بیجا تکلف سے احتراز کرناچاہیے۔

۸۔ قرآن کی تلاوت بآواز بلند افضل ہے، البتہ اگرپاس میں کوئی سورہا ہے یا نماز پڑھ رہا ہے یاذکر وتلاوت میں مصروف ہے اوربلند خوانی سے اس کی نماز، تلاوت یا آرام میں خلل کااندیشہ ہو تو قرآن کی تلاوت آہستہ کرنی چاہیے، پھربھی اتنی آواز تونکلنی ہی چاہیے جسے کم ازکم پڑھنے والا سن سکے۔

۹۔ جب سجدہ کی آیات سے گزریں تومسنون ومستحب ہے کہ سجدۂ تلاوت کریں خواہ وہ وقت ایسا کیوں نہ ہو جس میں نماز پڑھنی ممنوع یامکروہ ہے۔

۱۰۔ جب قاری ایسی آیتوں پرپہنچے جن میں جہنم، اللہ کے عذاب یامعذّب قوموں کا تذکرہ ہوتوپڑھنے اورسننے والوں کو ان چیزو ں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے، اورجہاں جنت اور اللہ کی نعمتوں کاذکر ہوتو اللہ سے ان کا سوال کرنا چاہیے۔

۱۱۔ کبھی کبھار قرآن دوسروں سے بھی سننا چاہیے بالخصوص اچھی اورپرسوز آواز سے دلوں میں اثرپیدا ہوتا ہے، چنانچہ بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ’’ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار حضرت عبداللہ بن مسعود- رضی اللہ عنہما- سے برسر منبرفرمائش کی کہ مجھے قرآن سناؤ،حضرت عبداللہ بن مسعود- رضی اللہ عنہما- نے متعجب ہوکرسوال کیا کہ میں آپ کو قرآن سناؤں؟ حالانکہ وہ آپ ہی پرنازل کیاگیا ہے، توآپ نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ اپنے علاوہ دوسرے سے اس کی قرأت سنوں، چنانچہ عبداللہ بن مسعود- رضی اللہ عنہما- نے سورۂ نسا ء کی تلاوت شروع کی اور جب وہ اس آیت پر پہنچے {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَھِیْداً}( النساء:۴۱)(آپ جذبات سے بے قابوہوگئے اور) ابن مسعود سے فرمایا کہ’’حَسْبُکَ الْآنَ‘‘’’ اب بس کرو‘‘ ابن مسعود -رضی اللہ عنہما -کا بیان ہے کہ میں نے جب قرأت بند کرکے آپ پرنظرڈالی تو آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں اور ان سے آنسو بہہ رہے تھے‘‘۔ (بخاری ومسلم)

اس وقت اچھے قاریوں خصوصاً ائمہ حرمین شریفین کی تلاوت قرآن کی کیسٹیں دستیاب ہیں، کبھی کبھار انھیں سن کراپنے ایمان میں تازگی پیدا کرنی چاہیے۔

۱۲۔ مسجدوں کے علاوہ گھروں میں قرآن کی تلاوت کااہتمام کرنا چاہیے، اس سے گھروں میں برکت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ’’تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، شیطان ہراس گھرسے بھاگ جاتا ہے جہاں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے‘‘۔ (بخاری ومسلم)

۱۳۔ ہرمسلمان کو قرآن مجید حفظ کرنے یا کم ازکم اس کی خاص سورتوں اورآیتوں کے یاد کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے ،اس لیے کہ صحیح حدیث میں حفظ قرآن کے بڑے فضائل ذکرکئے گئے ہیں چنانچہ عبداللہ بن عمروبن عاص -رضی اللہ عنہما- نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا’’صاحب قرآن سے قیامت کے دن کہاجائے گا’’اِقْرَاْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا، فَاِنَّ مَنْزِلَتَکَ عِنْدَ اٰخِرِ اٰیَۃٍ کَمَا تَقْرَأُ بِھَا‘‘۔ (حسن أبوداؤد،ترمذی)

۱۴۔ جوسورتیں یا آیتیں یادہوجائیں ان کی حفاظت کرنی چاہیے اورانھیں دہراکرتازہ کرتے رہناچاہیے، اگرکوئی مسلمان قرآن یادکرکے بھول جاتا ہے تواس کے لیے حدیثوں میں سخت وعید آئی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو قرآن کی روشنی سے معمور کردے،اس کے احکام پرچلنے کی توفیق بخشے اورہمیشہ تلاوت اورذکرِ الٰہی میں مشغول رہنے کی سعادت سے نوازے۔ (آمین)

تبصرے بند ہیں۔