قربانی : خالص اﷲ کے لیے

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

      ﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو عظیم عیدیں ’’عید الفطر‘‘ اور ’’عید الاضحی‘‘ عنایت فرمائی ہیں۔ ’’عید الفطر‘‘ ماہ رمضان المبارک کے ایک مہینے کے روزے مکمل کرنے کی خوشی میں عطا فرمائی ہے اور ’’عید الاضحی‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے طور پر عطا فرمائی ہے۔ اِن دونوں عیدوں میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو رکعت نماز پڑھنا واجب کر دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ خوشی کتنی بھی زیادہ ہو اُس میں اﷲ کی بندگی اور تقویٰ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اِس لیے ہم مسلمانوں کو اِس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیئے کہ ہم دونوں عیدین میں بے جا خرافات سے بہت زیادہ پرہیز کریں اور دونوں عیدین کی خوشیاں اِس طرح منائیں جس طرح اﷲ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کو دو طرح کی آوازیں بہت سخت ناپسند ہیں، پہلی خوشی میں گانے بجانے کی اور دوسری غم میں تیز آواز سے رونے کی۔

  اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کئی باتوں میں آزمایا اور آپ علیہ السلام تمام آزمائشوں میں کامیاب ہوئے۔ اِن آزمائشوں میں سے سب سے بڑی آزمائش اپنی ’’سب سے پیاری چیز‘‘ کی قربانی ہے۔ انسان دنیا میں اپنے تمام رشتہ داروں سے محبت کرتا ہے، اپنے والدین سے، بھائی بہن سے، بیوی سے اور دوسرے تمام رشتہ داروں سے بہت محبت کرتا ہے لیکن اُسے ’’سب سے زیادہ‘‘ محبت اپنی اولاد سے ہوتی ہے۔ یہ فطری چیز ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ’’اولاد کی محبت‘‘ انسان کی فطرت میں ودیعت کردی ہے اور اِسی کی وجہ سے انسان اپنی اولاد کے لیے بڑی سے بڑی تکلیف اور مصیبت اُٹھانے کو تیار ہوجاتا ہے۔ بچپن میں جب اُس کی اولاد گرنے لگتی ہے تو وہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دوڑتا ہے اور بچے کو گرنے سے پہلے سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے چاہے اِس کوشش میں اُسے بڑے سے بڑا زخم ہی کیوں نہ آجائے اُسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اُسی ’’سب سے پیاری چیز‘‘ کو ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربان کردی۔ ’’عید الاضحی‘‘ کی آمد آمد ہے اور ماشاء اﷲ صاحب نصاب مسلمان انشاء اﷲ ضرور ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ قربانی کریں گے لیکن غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ جو قربانی ہم کریں گے، کیا وہ واقعی ہم ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ کریں گے؟ یاد رہے اﷲ تعالیٰ کو وہی عمل زیادہ پسند ہے جو خالص اُسی کے لیے کیا جائے اور اُس میں کسی بھی قسم کی کوئی ملاوٹ نہ ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ اپنے بیٹے کے گلے پر چھری چلا دی تھی۔ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ اپنے بیٹے کو قربان ہونے کے لیے شوہر کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ اپنے آپ کو قربان ہونے کے لیے پیش کردیا تھا اور اپنے گلے پر چھری رکھوا کر چلوا دی تھی۔ اِن تینوں مقدس ہستیوں کا ’’خالص عمل‘‘ اﷲ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اﷲ نے سب سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچایا اور اُس کی جگہ دُنبہ ذبح کروایا اور پھر اِس عمل کو قیامت تک کے لیے ’’اُمت مسلمہ‘‘ پر واجب کردیا۔ آج بھی ’’اُمت مسلمہ‘‘ کے صاحب نصاب حضرات اِس پر بڑے ذوق و شوق سے عمل کررہے ہیں اور انشاء اﷲ قیامت تک کرتے رہیں گے۔ اﷲ تعالیٰ کو ’’عید الاضحی‘‘ کے دنوں میں جو عمل سب سے زیادہ پسند ہے وہ اﷲ کے لیے قربانی کرنا ہے۔ اُم المومنین سید عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’قربانی کے دنوں میں قربانی کرنے سے زیادہ کوئی عمل اﷲ کو محبوب اور پسندیدہ نہیں ہے اور بے شک قربانی کا جانور قیامت کے دن سینگوں اور اپنے کھروں اور بالوں کے ساتھ آئے گا اور بے شک قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کا مقام حاصل کرلیتا ہے۔ ‘‘ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج بھی مسلمان بڑی خوشی اور رغبت سے قربانی کرتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی یہ غور کیا ہے کہ کیا ہم ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ قربانی کررہے ہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے رشتہ داروں اور محلے والوں اور تعلقات والوں کو دکھانے کے لیے قربانی کررہے ہیں ؟ یا یہ سوچ کر رہے ہیں کہ پچھلے سال قربانی کی تھی اِس لیے اِس سال اگر قربانی نہیں کریں گے تو لوگ کیا کہیں گے؟ یا ہمارے اندر یہ خیال ہو کہ پچھلے سال ایک جانور کی قربانی کی تھی اِس لیے اِس سال دو جانور کی قربانی کریں تاکہ لوگوں پر ہمارا اور رعب چھا جائے۔ یا کہیں ہمارے اندر یہ خیال ہو کہ ہمارے فلاں رشتہ دار نے اتنے کا جانور لایا ہے تو میں اُس سے اچھا اور اُسے مہنگا جانور لاؤں تاکہ اُس پر اور میرے خاندان والوں اور رشتہ داروں پر میری امارت ظاہر ہو۔ یہ اور ایسے کئی اعمال ایسے ہیں جو قربانی کو ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ نہیں ہونے دیتے ہیں اور ہماری قربانی یا تو خاندان والوں، رشتہ داروں، محلے والوں اور تعلقات والوں کو دکھانے والی قربانی بن جاتی ہے۔ یا پھر ہماری دولت اور شہرت کو ظاہر کرنے والی قربانی بن جاتی ہے۔ بہت سارے افراد تو کافی دن پہلے جانور لے آتے ہیں اور محلے میں اُسے گھماتے رہتے ہیں اور لوگوں کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ بہت سے افراد تو خواہ مخواہ اپنے رشتہ داروں، محلے والوں اور تعلقات والوں سے جب ملتے ہیں کہتے کہ میرا جانور تم نے دیکھا جو میں قربانی کے لیے لایا ہوں اور اُنہیں زبردستی جانور دکھاتے ہیں اور اُس کے بارے میں بار بار اِس اُمید میں ’’کیسا ہے؟ کیسا ہے؟‘‘ پوچھتے ہیں کہ سامنے والا میری اور میرے جانور کی تعریف میں کچھ کہے۔

       یہ ہمارے لیے قابلِ فکر بات ہے کہ اِس طرح کے اعمال ’’ریاکاری‘‘ میں آتے ہیں اور ہماری قربانی ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ نہیں ہوپاتی ہے جبکہ اﷲ تعالیٰ اُسی قربانی کو قبول فرماتا ہے جس میں کسی بھی قسم کی ’’ریا کاری‘‘ شامل نہ ہو۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا :’’اﷲ کو قربانی کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ ہی اُس کا خون، بلکہ اُسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے، اِسی طرح اﷲ نے جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے کہ تم اُس کی راہنمائی کے شکریہ میں اُس کی تکبیر بیان کرو اور محسنین کو بشارت دے دو (سورہ الحج آیت نمبر 37 )اِس آیت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اﷲ تعالیٰ ہم سے قربانی کے ذریعے ’’تقویٰ‘‘ چاہتا ہے۔ امام مقاتل فرماتے ہیں :’’تمہاری طرف سے اﷲ کی بارگاہ میں اعمال صالحہ اور تقویٰ پہنچتا ہے۔ ‘‘ امام ضحاک فرماتے ہیں :’’اگر تمہارا عمل پاکیزہ ہوگا اور تم خود پاک ہوگے تو وہ تمہارا عمل تمہارے نیک اعمال تک پہنچ جائے گا اور قبول ہوجائے گا۔ ‘‘امام ابن عیسیٰ فرماتے ہیں کہ اُن کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا لیکن اُس کی بارگاہ میں تمہاری طرف سے ’’تقویٰ‘‘ پہنچتا ہے یعنی جو اُس کی طرف ارادہ کیا گیا ہو اُس کو اﷲ قبول فرماتا ہے اور وہ اُس کی طرف بلند ہوتا ہے، وہ اُسے سنتا ہے اور اُس پر ثواب عطا فرماتا ہے، اِسی کی طرف حدیث :’’اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ ‘‘ اشارہ کرتی ہے۔

   اب ہم یہ غور کریں کہ ہم جو قربانی کرتے ہیں اُس میں ہماری نیت کیا ہوتی ہے؟ کیا ہماری نیت صرف گوشت کھانے کی ہوتی ہے؟ یا صرف ایک رسم نبھانے کی ہوتی ہے؟ یا لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوتی ہے؟ یا فخر کا اظہا ر کرنے کے لیے ہوتی ہے؟ یا ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ ہوتی ہے؟ یہ سوال بہت ہی اہم ہے کیونکہ اِسی پر ہماری قربانی کی قبولیت کا دارومدار ہے۔ اِس لیے قربانی کرتے وقت ہماری نیت صرف اور صرف اﷲ کو راضی کرنے کی ہو اور ہمارے دل میں اِس کے سوا اور کوئی خیال نہ ہو۔ تب ہمارے اندر انشاء اﷲ ’’تقویٰ‘‘ پیدا ہوگا اور تقویٰ اﷲ سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ اﷲ کی سزا کے ڈر سے گناہوں سے بچنا ہے۔ قربانی میں تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری قربانی ’’ریاکاری‘‘ سے پاک ہو اور ’’خالص اﷲ کے لیے‘‘ ہو۔ ہمارے اندر قربانی کے لیے ذرا بھی دکھاوا نہ ہو اور ہم اِس بات سے ڈرتے رہیں کہ کہیں ہم سے ایسی حرکت سرزد نہ ہوجائے جس کی وجہ سے ہماری قربانی مقبولیت تک نہ پہنچ سکے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ’’سب سے پیاری چیز‘‘ اپنی اولاد ہو اﷲ کے لیے قربان کیا اور یہ عمل اﷲ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اِسے قیامت تک کے لیے جاری و ساری فرما دیا۔ کیا ہم اﷲ کے اپنی ’’سب سے پیاری چیز‘‘ اپنی خواہشوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ؟

تبصرے بند ہیں۔