قربانی کی فضیلت و اہمیت

شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

(امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار)

یہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے اس مہینہ میں پورا عالم اسلام قربانی کرتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی سنت کو زندہ کرتا ہے جس شخص کو بھی اللہ تعالی نے ہمت اور توفیق عطا فرمائی ہے وہ قربانی کرنا ایک فریضہ سمجھتا ہے اس مہینہ میں قربانی نہ کرنا بہت بڑی بدنصیبی اور بدبختی سمجھی جاتی ہے ۔ کچھ عرصہ سے منکرین حدیث نے جس طرح اسلام کے اور بہت سے عظیم الشان احکامات اور شعائر کا مذاق اڑانا شروع کردیا ہے اسی طرح انہوں نے قربانی جیسے عظیم اسلامی نشان کو ہدف تنقید بناکر رکھا ہے ان کی نظر میں قربانی کا جانور ذبح کر کے مال اور وقت کو ضائع کیا جاتا ہے اور ستم بر ستم یہ کہ وہ اپنے ان خیالات فاسدہ کو اسلامی فلسفہ بھی قرار دیتے ہیں اور قرآن مجید پر بہتان باندھتے ہیں کہ قرآن بھی ان کے اس خیال فاسد کی تائید کرتا ہے (العیاذ باللہ)

 فضائل قربانی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ہر سال قربانی فرمائی کسی سال ترک نہیں فرمائی اس سے مواظبت ثابت ہوئی جس کا مطلب ہے لگاتار کرنا اس طرح اس سے وجوب ثابت ہوا (ترمذی، مشکوٰۃ)

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی عید الاضحیٰ کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ زندہ ہو کر آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے پس اے خدا کے بندو دل کی پوری خوشی سے قربانیاں کیا کرو (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ وسلم ان قربانیوں کی کیا حقیقت اور کیا تاریخ ہے ؟ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے،( روحانی اور نسلی) مورث حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے یعنی سب سے پہلے ان کو اللہ تعالی کی طرف سے اس کا حکم دیا گیا اور وہ کیا کرتے تھے ان کی اس سنت اور قربانی کے اس عمل کی پیروی کا حکم مجھ کو اور میری امت کو بھی دیا گیا ہے ان صحابہ نے عرض کیا پھر ہمارے لیے یا رسول اللہ ان قربانیوں میں کیا اجر ہے؟ آپ نے فرمایا قربانی کے جانور کے ہر ہر بال کے عوض ایک نیکی انہوں نے عرض کیا تو کیا اون کا بھی یا رسول اللہ یہی حساب ہے؟  اس سوال کا مطلب تھا کہ بھیڑ،  دنبہ،  مینڈھا، اونٹ جیسے جانور جن کی کھال پر گائے،  بیل یا بکری کی طرح کے بال نہیں ہوتے بلکہ اون ہوتا ہے اور یقیناً ان میں سے ایک ایک جانور کی کھال پر لاکھوں یا کروڑوں بال ہوتے ہیں تو کیا ان اون والے جانوروں کی قربانی کا ثواب بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی کی شرح سے ملے گا؟  آپ نے فرمایا۔ ہاں! اون والے جانور کی قربانی کا اجر بھی اسی شرح اور اسی حساب سے ملے گا کہ اس کے بھی ہر بار کے عوض ایک نیکی ہے۔ (مسند احمد، سنن ابن ماجہ، مشکوٰۃ، الترغیب)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپ برابر ( ہر سال)  قربانی کرتے تھے ۔ (جامع ترمذی)

حنش بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ کیا ہے یعنی آپ ایک کی بجائے دو مینڈھوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں؟  انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں تو ایک قربانی میں آپ کی جانب سے کرتا ہوں۔ سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے وہ اپنا اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بقر عید کے دن کا بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کا کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں۔ (بخاری)

  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بقر عید کے دن سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک قربانی کرنا تھا حضرت انس رضی اللہ عنہ کا معمول بھی سنت نبوی کے مطابق قربانی کرنا تھا بلکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے تو محبت نبوی میں ڈوبی ہوئی ایک اور بات بھی فرما دی کہ چونکہ میرے آقا اور محبوب کا معمول بھی دو مینڈھے قربان کرنا تھا میں نے بھی اداۓ رسول کی پیروی اپنا معمول بنا لیا تھا ۔

 غریبوں کی طرف سے قربانی ۔

جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھ بقر عید کی نماز پڑھی پھر جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں ایک مینڈھا پیش کیا گیا اور  آپ نے اسے ذبح کرتے ہوئے فرمایا”اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے”  خدایا یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان سب لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہ کی ہو۔ (ابو داؤد، ترمذی)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کے غریبوں کا اس قدر فکر تھا کہ جو گھرانے قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے سرکار دوعالم صلی اللہ وسلم نے اپنے ثواب میں ان کو بھی شریک کر لیا خوش قسمت ہیں  وہ غریب جو حضور کی یادوں میں شامل تھے خوش قسمت ہیں وہ غریب جن کی قربانی پیغمبر اعظم نے ادا کی ۔

قربانی نہ کرنے پر وعید ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس گنجائش ہو اور اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے ۔ (ترغیب)

پوری ملت اسلامیہ شریعت کا ایک اہم شعار اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی یادگار منا رہی ہے انہی میں ایک شخص جسے خدا نے سب کچھ دیا ہے وہ آسانی سے اس اہم سنت میں حصہ لے سکتا ہے اور اس کے باوجود بے پرواہی برت رہا ہے تو اس کا کیا منہ ہے کہ سب مسلمانوں کے ساتھ مل کر عید مناۓ وہ اس قابل نہیں کہ مسلمانوں کی عید گاہ میں جائے اسے مسلمانوں سے الگ تھلگ اپنا راستہ بنانا چائیے مسجدیں اور عید گاہیں ایسے لوگوں کی ہیں جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے ہیں اور اپنی زندگی کا سرمایہ سبیل الرسول کو سمجھتے ہوئے اطاعت خدا و رسول کو اپنی زندگی کا ماحصل سمجھتے ہیں ۔

قربانی کی حقیقت ۔

اصل میں قربانی کی حقیقت تو یہ تھی کہ عاشق خود اپنی جان کو خدا تعالی کے حضور میں پیش کرتا مگر اللہ تعالی کی رحمت دیکھئے ان کو یہ گوارا نہ ہوا اس لیے حکم دیا کہ تم جانور ذبح کر دو ہم یہی سمجھیں گے کہ تم نے خود اپنے آپ کو قربان کردیا چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی کی طرف سے خواب کے ذریعہ بشارت دی گئی کہ آپ اپنے اکلوتے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کریں اب یہ حکم اول تو اولاد کے بارے میں دیا گیا اور اولاد بھی کیسی فرزند اکلوتا اور فرزند بھی ناخلف نہیں بلکہ نبئ معصوم ایسے بچے کی قربانی کرنا بڑا مشکل کام ہے حقیقت میں انسان کو اپنی قربانی پیش کرنا اتنا زیادہ مشکل نہیں مگر اپنے ہاتھ سے اپنی اولاد کو ذبح کرنا بہت مشکل کام ہے مگر چونکہ حکم خداوندی تھا اس لیے آپ نے اپنے بیٹے کی محبت پر حکم خداوندی کو مقدم رکھتے ہوئے فرمان الہی کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا اور اسماعیل علیہ السلام کو منی کے منحر میں لے گئے اور فرمایا بیٹا مجھے خدا تعالی نے حکم دیا ہے کہ میں تجھ کو ذبح کر دوں تو اسماعیل علیہ السلام نے فوراً یہ فرمایا۔ مفہوم، ابا جان جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریئے ان شاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے   اب بیٹا بھی خوش ہے کہ خدا کی راہ میں قربان ہو رہا ہوں ادھر باپ بھی خوش ہے کہ میں اپنے ہاتھ سے بیٹے کی قربانی پیش کر رہا ہوں چنانچہ حکم خداوندی کی تعمیل میں اپنے بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی اس وقت حکم الہی ہوا بے شک آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزاء دیا کرتے ہیں یعنی جب کوئی اللہ کا بندہ اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر کےاپنے تمام جذبات کو قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم بالآخر اسے دنیوی تکلیف سے بھی بچا لیتے ہیں اور آخرت کا اجروثواب بھی نامۂ اعمال میں لکھ دیتے ہیں، اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض میں دیا (الصفت)

روایات میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے یہ آسمانی آواز سن کر اوپر کی طرف دیکھا تو جبرئیل علیہ السلام ایک مینڈھا لیے کھڑے تھے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی مینڈھا تھا جس کی قربانی آدم علیہ السلام کے صاحبزادے ہابیل نے پیش کی تھی، واللہ اعلم،  بہرحال یہ جنتی مینڈھا ابراہیم علیہ السلام کو عطا ہوا اور انہوں نے اللہ تعالی کے حکم سے اپنے بیٹے کے بجائے اس کو قربان کیا اس ذبیحہ کو” عظیم” اس لیے کہا گیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا تھا اور اس کی قربانی کے مقبول ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا (تفسیر مظہری، معارف القرآن)

 چنانچہ اسی دن سے اونٹ، بھینس، گاۓ، مینڈھا، بکرا وغیرہ قربانی کے لیے فدیہ (بدلہ) میں مقرر ہوگیا ہے (خطبات حکیم الاسلام)

قربانی کا مقصد یہی ہے کہ رب کی رضا کے لیے جیئں زندگی گزاریں اپنے خالق کی خوشنودی کے لیے جہاں رہیں جس حال میں رہیں اسلام کے سچے وفادار بن کر رہیں ہر لمحہ اطاعت الٰہی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں گزاریں۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی طرف سے کی جانے والی قربانی قبول فرمائے آمین

تبصرے بند ہیں۔