قربانی کے مسائل

شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

(امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار)

قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے زمانۂ جاہلیت  میں بھی اس کو عبادت سمجھا جاتا تھا مگر بتوں کے نام پر قربانی کرتے تھے اسی طرح آج تک بھی دوسرے مذاہب میں قربانی مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے مشرکین اور عیسائی بتوں کے نام پر یا مسیح کے نام پر قربانی کرتے ہیں۔ سورۂ کوثر میں اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جس طرح نماز اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہو سکتی قربانی بھی اسی کے نام پر ہونی چاہیے۔ دوسری ایک آیت میں اسی مفہوم کو دوسرے عنوان سے بیان فرمایا ہے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے (الانعام)

رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے بعد ہجرت دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا ہر سال برابر قربانی کرتے تھے (ترمذی) جس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف مکہ معظمہ میں حج کے موقع پر واجب نہیں بلکہ ہر شخص پر ہر شہر میں واجب ہوگی بشرطیکہ شریعت نے قربانی کے واجب ہونے کے لیے جو شرائط اور قیود بیان کی ہیں وہ پائی جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  مسلمانوں کو اس کی تاکید فرماتے تھے اسی لیے جمہور علمائے اسلام کے نزدیک قربانی واجب ہے (شامی)

قربانی کس پر واجب ہے؟

 چند صورتوں میں قربانی کرنا واجب ہے:

(1) کسی شخص نے قربانی کی منت مانی ہو تو اس پر قربانی کرنا واجب ہے (بدائع الصنائع)

(2) کسی شخص نے مرنے سے پہلے قربانی کی وصیت کی ہو اور اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی مال سے قربانی کی جا سکے تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے ( عالمگیری) (3) جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر قربانی کے دنوں میں قربانی کرنا بھی واجب ہے (عالمگیری) پس جس شخص کے پاس رہائشی مکان کھانے پینے کا سامان استعمال کے کپڑوں اور روز مرہ استعمال کی دوسری چیزوں کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا نقد روپیہ مال تجارت یا دیگر سامان ہو اس پر قربانی کرنا واجب ہے (الدرالمختار) مثلاً ایک شخص کے پاس دو مکان ہیں ایک مکان اس کی رہائش کا ہے اور دوسرا خالی ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے جبکہ خالی مکان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو ( عالمگیری) یا مثلاً ایک مکان میں وہ خود رہتا ہو اور دوسرا مکان کرایہ پر اٹھایا ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے البتہ اگر اس کا ذریعہ معاش یہی مکان کا کرایہ ہے تو یہ بھی ضروریات زندگی میں شمار ہوگا اور اس پر قربانی کرنا واجب نہیں ہو گی (فتاویٰ بزازیہ علی ھامش الھندیۃ) یا مثلاً کسی کے پاس دو گاڑیاں ہیں ایک عام استعمال کی ہے اور دوسری زائد تو اس پر قربانی واجب ہے ( عالمگیری)

یا مثلاً کسی کے پاس دو پلاٹ ہیں ایک اس کے سکونتی مکان کے لیے ہے اور دوسرا زائد تو اگر اس کے دوسرے پلاٹ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو تو اس پر قربانی واجب ہے ( عالمگیری) عورت کا مہر معجل اگر اتنی مالیت کا ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے یا صرف والدین کی طرف سے دیا گیا زیور اور استعمال سے زائد کپڑے نصاب کی مالیت کو پہنچتے ہوں تو اس پر بھی قربانی کرنا واجب ہے (حاشیہ ردالمحتار) ایک شخص ملازم ہے اس کی ماہانہ تنخواہ سے اس کے اہل و عیال کی گزر بسر ہوسکتی ہے پس انداز نہیں ہو سکتی اس پر قربانی واجب نہیں جبکہ اس کے پاس کوئی اور مالیت نہ ہو (الدرالمختار) ایک شخص کے پاس زرعی اراضی ہے جس کی پیداوار سے اس کی گزر اوقات ہوتی ہے وہ زمین اس کی ضروریات میں سمجھی جائے گی ۔

 ایک شخص کے پاس ہل جوتنے کے لیے بیل اور دودھیاری گائے بھینس کے علاوہ اور مویشی اتنے ہیں کہ ان کی مالیت نصاب کو پہنچتی ہے تو اس پر قربانی کرنا واجب ہے (فتاویٰ بزازیہ علی ھامش الھندیۃ)

(4)  ایک شخص صاحب نصاب نہیں نہ قربانی اس پر واجب ہے لیکن اس نے شوق سے قربانی کا جانور خرید لیا تو قربانی واجب ہے ( عالمگیری)(5) مسافر پر قربانی واجب نہیں  (فتاویٰ عالمگیری) (6) صحیح قول کے مطابق بچے اور مجنون پر قربانی واجب نہیں خواہ وہ مالدار ہوں (الفقہ الاسلامی وأ دلتہ)

قربانی کن جانوروں کی جائز ہے؟

(1) بکری، بکرا، مینڈھا، بھیڑ، دنبہ، گاۓ، بیل، بھینس، بھینسا، اونٹ، اونٹنی، کی قربانی درست ہے ان کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی درست نہیں (فتاویٰ عالمگیری) (2) گائے، بھینس،  اونٹ میں اگر سات آدمی شریک ہو کر قربانی کریں تو بھی درست ہے مگر ضروری ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو اور یہ بھی شرط ہے کہ سب کی نیت قربانی یا عقیقہ کی ہو  صرف گوشت کھانے کے لیے حصہ رکھنا مقصود نہ ہو اگر ایک آدمی کی نیت بھی صحیح نہ ہو تو کسی کی قربانی صحیح نہیں ہوگی (عالمگیری)(3) کسی نے قربانی کے لیے گائے خریدی اور خریدتے وقت یہ نیت تھی کہ دوسرے لوگوں کو بھی اس میں شریک کر لیں گے اور بعد میں دوسروں کا حصہ رکھ لیا تو یہ درست ہے (فتاویٰ عالمگیری) لیکن اگر گائے خریدتے وقت دوسرے لوگوں کو شریک کرنے کی نیت نہیں تھی بلکہ پوری گائے اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت تھی مگر اب دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے تو یہ دیکھیں گے کہ آیا اس شخص کے ذمہ قربانی واجب ہے یا نہیں؟  اگر ہے تو دوسروں کو بھی شریک کر تو سکتا ہے مگر بہتر نہیں اور اگر اس کے ذمہ قربانی واجب نہیں تھی تو دوسروں کو شریک کرنا درست نہیں (عالمگیری)(4) اگر قربانی کا جانور گم ہوگیا اور اس نے دوسرا خرید لیا پھر  اتفاق سے پہلا بھی مل گیا تو اگر اس شخص کے ذمہ قربانی واجب تھی تب تو صرف ایک جانور کی قربانی اس کے ذمہ ہے اور اگر واجب نہیں تھی تو دونوں جانوروں کی قربانی لازم ہوگئی (الدرالمختار) (5) بکری اگر ایک سال سے کم عمر کی ہو خواہ ایک ہی دن  کی کمی ہو تو اس کی قربانی کرنا درست نہیں پورے سال کی ہو تو درست ہے اور گاۓ بھینس پورے دو سال کی ہو تو قربانی درست ہوگی اس سے کم عمر  کی ہو تو درست نہیں اور اونٹ  پورے پانچ سال کا ہو تو قربانی درست ہوگی (البحر)(6)بھیڑ یا دنبہ اگر چھ مہینے سے زائد کا ہو اور اتنا فربہ ہو یعنی موٹا تازہ ہو کہ اگر پورے سال والے بھیڑ دنبوں کے درمیان چھوڑا جائے تو فرق معلوم نہ ہو تو اس کی قربانی کرنا درست ہے اور اگر کچھ فرق معلوم ہوتا ہے تو قربانی درست نہیں (البحر الرائق) (7) جو جانور اندھا یا کانا ہو یا اس کی ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زائد جاتی رہی ہو یا ایک کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گیا ہو تو اس کی قربانی کرنا درست نہیں (شامی)(8) جو جانور اتنا لنگڑا ہو کہ صرف تین پاؤں سے چلتا ہو چوتھا پاؤں زمین پر رکھتا ہی نہیں یا رکھتا ہے مگر اس سے چل نہیں سکتا تو اس کی قربانی درست نہیں اور اگر چلنے میں چوتھے پاؤں کا سہارا تو لیتا ہے مگر لنگڑا کر چلتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے (البحر الرائق) (9) اگر جانور اتنا دبلا ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں اگر ایسا دبلا نہ ہو تو قربانی درست ہے  جانور جتنا موٹا فربہ ہو اسی قدر قربانی اچھی ہے (درمختار، بدائع الصنائع) (10) جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں یا زیادہ دانت جھڑ گئے ہوں اس کی قربانی درست نہیں (درمختار)

(11) جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں اس کی قربانی کرنا درست نہیں اگر کان تو ہوں مگر چھوٹے ہوں اس کی قربانی درست ہے (درمختار)(12) جس جانور کے پیدائشی طور پر سینگ نہ ہوں اس کی قربانی درست ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گئے تو صرف اوپر سے خول اترا ہے اندر کا گودا باقی ہے تو قربانی درست ہے اگر جڑ ہی سے نکل گئے ہوں تو اس کی قربانی کرنا درست نہیں (فتاویٰ شامی) (13) خصی جانور کی قربانی جائز، بلکہ افضل ہے (عالمگیری)  (14) جس جانور کے خارش ہو تو اگر خارش کا اثر صرف جلد تک محدود ہے تو اس کی قربانی کرنا درست ہے اور اگر خارش کا اثر گوشت تک پہنچ گیا ہو اور جانور اس کی وجہ سے لاغر اور دبلا ہو گیا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں (فتاویٰ شامی) (15) اگر جانور خریدنے کے بعد اس میں کوئی عیب ایسا پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی قربانی درست نہیں تو اگر یہ شخص صاحب نصاب ہے اور اس پر قربانی واجب ہے تو اس کی جگہ تندرست جانور خرید کر قربانی کرے اور اگر اس شخص کے ذمہ قربانی واجب نہیں تھی تو وہ اسی جانور کی قربانی کر دے (حاشیہ ردالمحتار)۔ (16) جانور پہلے تو صحیح سالم تھا مگر ذبح کرتے وقت جو اس کو لیٹا یا  تو اس کی وجہ سے اس میں کچھ عیب پیدا ہوگیا تو اس کا کچھ حرج نہیں اس کی قربانی درست ہے (حاشیہ ردالمحتار)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ قربانی میں کیسے جانوروں سے پرہیز کیا جائے یعنی وہ کیا عیوب اور خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے جانور قربانی کے قابل نہیں رہتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور بتایا کہ چار یعنی چار عیوب اور نقائص ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی عیب و نقص جانور میں پایا جاۓ تو قربانی کے قابل نہیں رہتا ایک ایسا جانور جس کا لنگڑا پن بہت کھلا ہوا ہو کہ اس کی وجہ سے اس کا چلنا بھی مشکل ہو دوسرے وہ جس کی ایک آنکھ خراب ہو گئی ہو اور وہ خرابی بالکل نمایاں ہو تیسرے وہ جو بہت بیمار ہو چوتھے وہ جو ایسا کمزور اور لاغر ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا بھی نہ رہا ہو  (موطا امام مالک، مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا یا کان کٹا ہوا ہو (سنن ابن ماجہ)

قربانی دراصل بندہ کی طرف سے اللہ تعالی کے حضور میں نذر ہے اس لیے ضروری ہے کہ اپنی استطاعت کی حد تک اچھے جانور کا انتخاب کیا جائے یہ بات بہت غلط ہے کہ لولا، لنگڑا، اندھا، کانا، بیمار، مریل، سینگ ٹوٹا، کان کٹا جانور اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کیا جائے۔ قرآن مجید میں اصول کے طور پر فرمایا گیا ہے ۔ مفہوم تم کو نیکی کا مقام اس وقت تک ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں مرغوب و محبوب ہوں (آل عمران)

قربانی کا وقت 

(1) بقرعید کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ تک کی شام آفتاب غروب ہونے سے پہلے تک قربانی کا وقت ہے ان دنوں میں جب چاہے قربانی کر سکتا ہے لیکن پہلا دن افضل ہے پھر گیارہویں تاریخ پھر بارہویں تاریخ (عالمگیری) (2) شہر میں نماز عید سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں اگر کسی نے عید سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو یہ گوشت کا جانور ہوا قربانی نہیں ہوگی البتہ دیہات میں جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی عید کے دن صبح صادق طلوع ہو جانے کے بعد قربانی کرنا درست ہے (الفقہ الاسلامی وادلتہ) (3) اگر شہری آدمی  خود تو شہر میں موجود ہے مگر قربانی کا جانور دیہات میں بھیج دے اور وہاں صبح صادق کے بعد قربانی ہو جائے تو درست ہے (عالمگیری)(4) ان تین دنوں کے دوران رات کے وقت قربانی کرنا بھی جائز ہے لیکن بہتر نہیں (عالمگیری)(5) اگر ان تین دنوں کے اندر کوئی مسافر اپنے وطن پہنچ گیا یا اس نے کہیں اقامت کی نیت کر لی اور وہ صاحب نصاب ہے تو اس کے ذمہ قربانی واجب ہوگی (عالمگیری) (6) جس شخص کے ذمہ قربانی واجب ہے  اس کے لیے ان دنوں میں قربانی کا جانور ذبح کرنا ہی لازم ہے اگر اتنی رقم صدقہ خیرات کر دے تو قربانی ادا نہیں ہوگی اور یہ شخص گناہ گار ہو گا (عالمگیری)(7) جس شخص کے ذمہ قربانی واجب تھی اور ان تین دنوں میں اس نے قربانی نہیں کی تو اس کے بعد قربانی کرنا درست نہیں اس شخص کو توبہ و استغفار کرنی چاہیے اور قربانی کے جانور کی مالیت صدقہ خیرات کر دے (عالمگیری) (8) ایک شخص نے قربانی کا جانور باندھ رکھا تھا مگر کسی عذر کی بنا پر قربانی کے دنوں میں ذبح نہیں کر سکا تو اس کا اب صدقہ کر دینا واجب ہے ذبح کرکے گوشت کھانا درست نہیں (عالمگیری)(9) قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے لیکن جو شخص ذبح کرنا نہ جانتا ہو یا کسی وجہ سے ذبح نہ کرنا چاہتا ہو اسے ذبح کرنے والے کے پاس موجود رہنا بہتر ہے (بدائع الصنائع)(10) قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت کے الفاظ پڑھنا ضروری نہیں بلکہ دل میں نیت کر لینا کافی ہے اور بعض دعائیں جو حدیث پاک میں منقول ہیں اگر یاد ہوں تو ان کا پڑھنا مستحب ہے (بدائع الصنائع)

اللہ تعالیٰ قربانی کی اجر و فضیلت عطا فرمائے آمین

تبصرے بند ہیں۔