ماہِ رمضان: امت محمدیہ کے لیے خصوصیات وامتیازات

 مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، ہر شخص عبادت وریاضت میں مصروف ومنہمک ہے، عجیب روح پر ور منظر اور دل چھوتا نظارہ، ہر سمت قرآن کی آوازیں ، تلاوت قرآن، تلاوت، روزہ کا ماحول، سخت گرمی، دھوپ کی تمازت وشدت، ہو کا منظر، ۱۵ گھنٹے کا روزہ، لیکن بندگانِ خدا ہیں کہ دھوپ کی شدت اور تمازت اور گرما کی اس شدت میں بھی بحکم خداوندی روزہ کی ادائیگی اور راتوں کی عبادت سے ماہ مبارک کو معمور کئے ہوئے ہیں ، ویسے تو رمضان المبارک اور اس کے مختلف اور متنوع عبادات کے بے شمار فضائل ومناقب ہیں ، لیکن اس ماہِ مقدس اور مبارک کو اللہ عزوجل کو اللہ عزوجل خصوصا امت محمدیہ کے خیر وبھلائی کا ذریعہ بنایا، اس ماہِ مبارک میں امتِ محمدیہ کے لیے چند ایک خصوصیات سے نوازا گیا ہے، جس سے دیگر امتیں محروم تھیں، اور یہ خصائص اور امتیازات صرف اور صرف اس امت محمدیہ علیہ السلام کو خصوصا عطا کی گئی ہیں۔

ویسے تو امت محمدیہ کو بے شمار خصائص اور امتیازات سے مختلف مواقع سے نوازا گیا ہے، لیکن خصوصا رمضان میں شب قدر کے علاوہ بھی دیگر خصوصیات اور امتیازات ایسے جس سے یہ امت ممتاز کی گئی ہے، اور اس کو یہ فضیلت اور شریف حاصل ہے کہ خصوصا مندرجہ پانچ خصائص اسے ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور تقدس میں عطا کی گئی ہیں :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کو رمضان میں پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، افطار تک فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں ، اللہ تعالی روزانہ جنت کو مزین فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ عنقریب میرے نیک بندے اپنے اوپر سے محنت و تکلیف کو اتار پھینکیں گے اور تیرے پاس آئیں گے، اس مہینے میں سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا غیر رمضان میں انہیں جو آزادی حاصل ہوتی ہے وہ اس میہنے میں نہیں ہوتی اور ماہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی بخشش کردی جاتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہی شب قدرہے ؟ فرمایا نہیں البتہ بات یہ ہے کہ جب مزدور اپنی مزدوری پوری کرلے تو اسے اس کی تنخواہ پوری پوری دے دی جاتی ہے۔ (مسند احمد )

اس حدیث میں پانچ امور بتائے جو امت محمدیہ کو رمضان المبارک میں امتیازی اور خصوصی طور پر عطا کئے گئے ہیں جو اس قبل امتوں کو عطانہیں کئے گئے ؛ تاکہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم او رامت کی شان کا اظہار ہوسکے اور ان کی فضیلت اور ان کے لیے ثواب اخروی کا خزینہ اور سامان بھی مہیا ہو جائے۔

 ۱۔ روزہ دار کی منہ کی خوشبو :

روزہ دار کی منہ کی بو کو مشک کی خوشبو سے بہتر قرار دیا گیا، یا تو اس کا مطلب جیسا کہ شراح حدیث نے بیان کیا ہے کہ روز قیامت روزہ دار کی منہ کی بو اللہ عزو جل کے یہاں مشک کی خوشبو سے بہتر ہوگی، یا اس مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مخلوق کو پتہ ہونا چاہیے جس معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے روزہ دار کے منہ سے بو آرہی ہے، یہ بو اللہ عز وجل کے یہاں مشک کی خوشبو سے بہتر ہے، یعنی مخلوق جس بو کو سب سے زیادہ ناپسند کرتی ہے، اس کو مخلوق کے یہاں سب سے زیادہ پسندیدہ خوشبو مشک سے تشبیہ دی گئی ہے۔

 اس سے یہ بھی چلا کہ روز قیامت اعمال کی بھی ایک مخصوص قسم کی خوشبو ہوگی، جس میں روزہ کی خوشبو مشک کی خوشبو سے تشبیہ دی گئی ہے، یہ ایسی خصوصیت ہے جو صرف امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے۔ ( فیض القدیر:۲؍۳۰۷،) یہی وجہ ہے کہ علامہ شوکانی فرماتے ہیں کہ امام شافعی کا مذہب ہے کہ زوال کے بعد مسواک نہ کی جائے کہ اس کی وجہ سے یہ خوشبو ختم ہوجاتی ہے، جس میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ’’ جب تم روزہ سے ہو تو صبح کو مسواک کرو، شام میں مسواک نہ کرو، کیونکہ جس روزہ دار کے ہونٹ شام میں خشک ہوتے ہیں وہ روز قیامت اس کے لیے نور ہوں گے ’’ کانتا لہ نورا بین عیینہ یوم القیامۃ‘‘ علامہ شوکانی اس روایت کو ضعیف قرار دے کر جمہور کا مسلک یہ بتا یا ہے کہ مسواک صبح وشام ہر وقت روزہ کی حالت میں مسنون ہے، بہرحال یہ بو دانتوں کی وجہ سے نہیں ؛ بلکہ معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے آتی ہے( نیل الأوطار، باب السواک للصائم: ۱؍ ۱۳۹)

 ۲۔ فرشتے استغفار کرتے ہیں :

دوسری خصوصیت روزہ دار کے لیے رمضان المبارک میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کے لیے روزہ کی حالت میں روزہ دار کے لئیفرشتے دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں ، اور اللہ عزوجل سے اس کے لیے بخشش اور مغفرت کا سوال کرتے ہیں ، اللہ کی یہ پاکیزہ اور مطیع وفرماں بردار مخلوق بھی ان کے لیے دعاء رحمت ومغفرت میں دن بھر جب روزہ دار روہ سے ہوتا ہے وہ ان کے لیے مغفرت اور بخشش کی دعاء کرتے رہتے ہیں۔

۳۔ جنت کی تزین :

رمضان المبارک میں جنت کی تزئین کی جاتی ہے، اس کو سنوارا اور سجایا جاتا ہے، چونکہ بندے رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر، محنت ومشقت کر کے، دن کے روزے اور رات کی عبادت کے ذریعے رمضان المبارک کو معمور کرتے ہیں ، اس طرح بڑے مجاہدے اور مشقت کے دور سے گذرتے ہیں جس وجہ سے اللہ عزوجل فرماتے ہیں ۔للہ تعالی روزانہ جنت کو مزین فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ عنقریب میرے نیک بندے اپنے اوپر سے محنت و تکلیف کو اتار پھینکیں گے اور تیرے پاس آئیں گے۔

اورایک دوسری روایت میں ہے : جنت کو رمضان میں ایک سال سے دوسرے سال تک لیے تزئین کی جاتی ہے، جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ہوا چلتی ہے، جس سے جنت کے پتے حورعین پر گرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں : اے رب ! اے اللہ تیرے بندوں کو ہمارے شوہر بنایئے اس سے ہم اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک عطا کریں گے۔ (شعب الایمان، فضائل رشھر رمضان، حدیث: ۳۳۶۰)۔

۴۔سرکش شیطان مقید ہوتے ہیں :

رمضان المبارک میں امت محمدیہ کے لیے مزید ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس مہینے میں سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا غیر رمضان میں انہیں جو آزادی حاصل ہوتی ہے وہ اس میہنے میں نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ معاصی اور گناہوں میں رمضان کے موقع سے کمی واقع ہوتے، شرابی، جواری، بدکار، سگریٹ نوشی کرنے والے سارے کے سارے رمضان المبارک کے اہتمام ان چیزوں سے رک جاتے ہیں ۔ علامہ نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : شیطان کے مقید ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ مخالفت اور نافرمانیوں سے بچ جاتے ہیں۔ سرکش شیطاطین کے بند ہونے کا تذکرہ بے شمار روایات میں موجود ہے۔

 ۵۔لیلۃ الجائزۃ

آخری خصوصیت حدیث مذکورہ میں یہ بتلائی گئی ہے، امت محمدیہ جو رمضان بھر اعمال کرتی ہے، اور عبادتوں اور ریاضتوں میں اپنے آپ کو منہمک اور مصروف رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کو آخری رات میں ان کی بخشش اور مغفرت کی جاتی ہے، صحابہ نے سوچاشاید کہ یہ لیلۃ القدر ہو، تو فرمایا: نہیں البتہ بات یہ ہے کہ جب مزدور اپنی مزدوری پوری کرلے تو اسے اس کی تنخواہ پوری پوری دے دی جاتی ہے۔ جس طرح محنت کرنے والے کو دن بھر کام کرنے والے کو آخری حصہ میں یا مہینے اور ہفتہ کے آخیر میں اس کی اجرت دی جاتی ہے، اسی طرح رمضان المبارک میں امت محمدیہ کے لیے خصوصا رمضان کی آخری جس کو لوگ شاپنگ اورخریداری میں گذاردیتے ہیں ، یہ اللہ سے اپنے اعمال کا انعام اور بدلہ لینے کی رات ہوتی جس کو اللہ نے امت محمدیہ کے لیے مخصوص کیا ہے، لیکن ہماری اکثریت اس رات کو رمضان شاپنگ، خوش گپیوں میں گذاردیتے ہیں ، اللہ کی جانب سے جو انعامی جلسہ منعقد ہوتا ہے، جہاں ان کو تمغوں سے نوازاجانا ہے اس میں شرکت نہیں کرتے، کتنی بڑی محرومی کی بات ہے، کھلاڑی خوب محنت کرے اور سب سے زیادہ محنت کرے اور میڈل اس کے نام آئے اور وہ اسی محفل سے غائب جس محفل میں اس کو میڈل اور اس کے محنت کا پھل دیا جانا ہے۔

مختصر یہ کہ اللہ عزوجل امت محمدیہ کو بہت سے سارے مواقع سے مخصوص امتیازات اور خصوصیات عطا کئے ہیں، جس میں و رمضان المبارک کامہینہ بھی شامل ہے جس میں ان خاص امتیازات سے امت محمدیہ کو نوازا گیا ہے۔ ان کی منہ کی بو مشک سے زیادہ بہتر ہوتی ہے، فرشتے ان کے لیے دعاء مغفرت کرتے ہیں ، ان کے لیے جنت کی تزئین کی جاتی ہے، سرکش شیاطین مقید کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اعمال کا کرنا آسان ہوجاتا ہے، اور خصوصا اللہ عزوجل نے رمضان المبارک کی اختتام پر رات کو امت محمدیہ کے لیے لیلۃ الجائز اور انعام کی رات بنایا ہوا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔