ماہ ذو الحجہ اور اس کے ابتدائی دس دن

ذکی نور عظیم ندوی

ذوالحجہ اسلامی ہجری سال کا آخری مہینہ ہی نہیں بلکہ یہ حج، قربانی اور اسلام کے چار محترم مہینوں میں بھی ہے، اس طرح یہ مختلف عبادتوں، فضیلتوں، قربانیوں اور  گزرے ہوئے ماہ و ایام کے احتساب اور اس میں کئے گئے اعمال کے جائزہ اور ہونے والی کوتاہیوں کی معافی اور تلافی کا مہینہ بھی ہے۔

یہ حج کے مہینوں شوال، ذو قعدہ اور ذو الحجہ میں بھی ہے جس میں حج کے لیے سفر، حج تمتع اور قران کا عمرہ اور اسکے دوسرے بیشتر اعمال قیام منی، وقوف عرفہ، مبیت منی و مزدلفہ، رمی جمار، حج میں جانور ذبح کرنا، بال بنوانا،طواف قدوم و طواف زیارت، سعی اور طواف وداع غرض حج کے تمام ارکان و اعمال کئے جاتے ہیں۔

 یہ مہینہ اشہر حرم (محترم اسلامی مہینوں) ذو قعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب میں بھی ہے جس میں ظلم و زیادتی قتل و خوں ریزی، حق تلفی اور دیگر محرمات اور برائیوں کو سخت ناپسند قرار دیا گیا، جس کا احترام تمام عرب قبائل پہلے بھی کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تمام مسلمانوں سے بھی اس کی عظمت و تقدس اور حرمت کے احترام کا پابند کیا گیا۔

ماہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن دینی اعتبار سےخصوصی طور پر بہت عظمت و فضیلت کے ایام ہیں۔ان ایام کو عید قرباں سے پہلے اسی طرح خیرو برکت اور بے شمار فضائل کا سبب بنایا گیا ہے جس طرح عید الفطر سے پہلے رمضان کے آخری عشرہ کو۔ ان ایام کی عظمت کی وجہ سے ہی اللہ نے قرآن میں اس کی قسم بھی کھائی ہے اور اللہ نے سورہ فجر میں فرمایا "وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ”

  مذکورہ بالا وجوہات اور دیگر بے شمار فضیلتوں کی بنا پر کئی حدیثوں میں ان ایام کو دنیا کا سب سے زیادہ افضل دن قرار دیا گیا۔ ہاں رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں شب قدر کی وجہ سے ضرور افضل ہیں لیکن دن کے اعتبار سے یہ دن سب سے بہتر اور افضل ہیں یہاں تک کہ بیشتر علماء نے دن کے اعتبار سے ان ایام کو رمضان کے دنوں سے بھی زیادہ افضل قرار دیا ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں ان ایام کو دنیا کے سب سے عظیم ایام قرار دیا گیا ہے۔”أفضلُ أيّامِ الدُّنيا العشرُ يعني عشرَ ذي الحجَّةِ”

ان دنوں تمام نیک اعمال کی اہمیت و فضیلت ہی نہیں بلکہ ان کے ثواب میں بھی بے شمار اضافہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ بخاری شریف کی حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ان دنوں کی تمام  چھوٹی بڑی نیکیاں کرنے والا عام مجاہد سے بھی افضل ہے ہاں وہ صرف اس مجاہد کا رتبہ نہیں پا سکتا جو جھاد میں جان و مال دونوں قربان کردے۔ "إلا رجل خرج بنفسه وماله ثم لم يرجع من ذلك بشيء”(البخاري)

یوں تو ان ایام میں حج، اس کے مختلف مناسک،قربانی اور دیگر کئی اعمالِ ہیں۔ اور عرفات کا دن جس کی اہمیت حاجیوں کے لیے بھی ہے جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اس دن اللہ تعالی سب سے زیادہ بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں اور فرشتوں سے ان پر فخر کا بھی اعلان فرماتے ہیں”ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبداً من النار من يوم عرفة، وإنه ليدنو ثم يباهي بهم الملائكة” (مسلم)

اسی طرح جن بندوں کو حج کا موقع نہیں ملا ان کو اس دن کے روزہ کے عوض دو سالوں، گزرے ہوئے اور آنے والے سال کے گناہوں کی معافی کا وعدہ فرماتے ہیں اور اسی وجہ سے مسلم شریف میں اس ایک دن کے روزہ کو گزرے اور آنے والے سالوں کے کفارہ کا ذریعہ قرار دیا گیا "صوم یوم عرفۃ يكفّر السنة الماضية والباقية "(مسلم).

یہ تو چند خاص اعمال ہوئے جو ان ایام کے ساتھ خاص ہیں اور ان کا خصوصی طور پر اہتمام کرنا چاہئیے لیکن ان دنوں میں اللہ تعالی تمام چھوٹے بڑے اعمال اور ان کی کیفیات چاہے ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے، مالیات سے ہو یا عبادات، اخلاق اور معاملات سے ان تمام کے اجر وثواب میں بے تحاشہ اضافہ فرما دیتے ہیں حتی کہ چھوٹی چھوٹی دعائیں اور اذکار اللہ کی محبوبیت اور پسندیدگی کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دعاؤں کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی ترغیب فرماتے ہیں اور مسند احمد کی حدیث میں "لا الہ الا اللہ” "اللہ اکبر” اور "الحمدللہ” کو پڑھنے کی بھی ترغیب دی ہے”ما من أيام أعظم عند الله ولا أحب إليه العمل فيهن من هذه الأيام العشر، فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد” (أحمد)۔

اس لیے” اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔۔۔ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ اللَّهُ أَكْبَرُ ۔۔۔ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ”۔کو ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے ایام تشریق  کے آخری دن 13 تاریخ تک جب بھی موقع ملے بکثرت پڑھنا چاہیے۔ اور یوم عرفہ 9 ذو الحجہ کی فجر کے بعد سے 13کی عصر تک نمازوں کے بعد خصوصی طور پر اس کا پڑھنا مسنون و مطلوب ہے.

ذوالحجہ کے ابتدائی دس ایام حاجیوں اور غیر حاجیوں کو دیکھتے ہوئے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ اگر ان ایام میں حاجیوں کو حج کے اعمال کے ذریعہ گناہوں کی معافی اور اللہ کے قرب کا موقعہ دیا گیا ہے تو غیر حاجیوں کو عرفہ کے دن خصوصی طور پر روزہ رکھنے اور دس تاریخ سے قربانی کے دیگر ایام میں قربانی کو متبادل کے طور پر اللہ کی جانب سے عطا کیا گیا اور اسی وجہ سے اس کا نام عید الاضحی یا عید قرباں رکھا گیا ہے۔

عید قرباں اسلام کا اہم ترین شعار اور مسلمانوں کے لیے عید الفطر کے بعد خوشی کا دوسرا سب سے اہم موقع ہے۔

 عید قرباں میں قربانی کے نقطۂ نظر سے درج ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے

1- نماز سے پہلے غسل کرنا اور جو اچھا و بہتر کپڑا موجود و میسر ہو پہننا، عطر لگانا ۔جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا معمول تھا۔

2۔ قربانی کا اصل مقصد صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی ہو جیسا کہ سورہ حج آیت نمبر 37 میں ہے۔”لَن یَنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُمْ” ان کے گوشت اور خون اللہ کو نہیں پہونچتے بلکہ اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘

3- بغیر کچھ کھائے عید قرباں کی نماز پڑھنا اور عید کی نماز پڑھ کر  کچھ کھانا پینا جس کی وضاحت ترمذی کی حدیث میں کی گئی ہے’’کان النبيﷺ لا یطعم یوم الأضحی حتی یصلي‘‘، (ترمذی)’’اللہ کے رسولﷺ عیدالاضحی کے دن کچھ نہیں کھاتے تھے یہاں تک کہ نمازِ عید ادا کرلیں۔ ‘‘

4- ہر خوش حال مسلمان کو قربانی کرنی چاہیے۔ اور اسی لیے ترمذی شریف میں ایسا نہ کرنے والے کو سخت انداز میں خبردار کیا گیا ہے "من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقربن مصلانا‘ (ابن ماجہ)’’جو شخص گنجائش کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ ‘‘

5-قربانی کا وقت نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس ی لیے بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ اگر کسی نے نماز سے قبل جانور ذبح کردیا تو اسے دوسرا جانور ذبح کرنا ہوگا۔ ‘’من ذبح قبل الصلاۃ فإنما ذبح لنفسہ، ومن ذبح بعد الصلاۃ فقد تم نسکہ وأصاب سنۃ المسلمین‘‘۔(بخاری]’’

6- قربانی کا جانور کم از کم دو دانت والا ہونا چاہیے چنانچہ مسلم شریف میں ہے ’’لَا تَذْبَحُوْا اِلَّا مُسِنَّۃً، اِلَّا أَنْ یَعْسُرَ عَلَیْکُمْ، فَتَذْبَحُوْا جَذْعَۃً مِنَ الضَّأْنِ‘‘(مسلم) ’’کہ قربانی صرف دو دانت والے ہی کی کرو، البتہ اگر نہ ملے توایک سالہ بھیڑ قربان کرسکتے ہو۔ ‘‘

7- قربانی کا جانور ابو داؤد کی حدیث کے مطابق عیب دار یعنی لنگڑا، اندھا، کانا یا انتہائی لاغر نہیں ہونا چاہیے۔’’أربع لا تجوز في الأضاحي: العوراء بین عورھا، والمریضۃ بین مرضھا، والعرجاء بین ظلعھا، والکسیر التي لا تنقي‘‘۔(ابوداود)

8- ایک بکری ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق صرف ایک شخص اور اس کے اہلِ خانہ کی جانب سے کافی ہوگی۔ ‘’کان الرجل یضحي بالشاۃ عنہ وعن أھل بیتہ‘’ (ترمذی)’

تبصرے بند ہیں۔