معصوم نمازی اور مساجد اللّٰہ

مسعود محبوب خان

     رسول اللّٰہ نے فرمایا: "اللّٰہ کو مسجدیں بہت زیادہ محبوب ہیں۔ اور بازار انتہائی ناپسند ہیں”۔ (مسلم شریف)

      الحمداللّٰہ! شہر کی ایک خوبصورت مسجد کے ذمّہ دار ہونے کی حیثیت سے سوچا کچھ باتیں آپ کے گوش گزار کی جائے۔ بات بھی اتنی اہم ہے کہ اس سے امت مسلمہ کا مستقبل وابستہ ہے۔ اللّٰہ نے امت مسلمہ پر پانچ وقت کی نماز فرض کی ہیں۔ اسلام کے بُنیادی اَرکان میں نماز ایک اِمتِیازی شان رکھتی ہے۔ ہم اپنی نمازوں کی ادائیگی کے لیے مسجدوں میں جاتے ہیں، مساجد اسلام میں ایک اہم رول ادا کرتی ہیں، مساجد مسلمانوں کی زندگی کا مرکز و محور ہیں۔ دین کے انہیں مراکز و محور سے ہم خود بھی جڑے رہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی جوڑے رکھیں۔ کیونکہ مساجد اللّٰہ بچّوں کی ایک تربیت گاہ ہونے کا حق بھی ادا کرتی ہیں۔ بچّوں کے لیے جس طرح گھر کا ماحول، دینی و عصری تعلیمی ادارے وغیرہ جس طرح تربیت گاہیں ہیں اسی طرح مساجد اللّٰہ بھی ایک بہترین تربیت گاہ ہے۔

     مگر بعض اوقات بہت افسوس ہوتا ہے ان کم علم مقتدیوں پر جو معصوم بچّوں کو چھوٹی سی غلطی پر ڈانتے اور پیٹتے بھی ہیں، سزاؤں کے نام پر ان معصوموں پر زیادتیاں بھی کرتے ہیں۔ نادانی اور سنت رسولﷺ سے ناواقفیت کی بنا پر تو کچھ حضرات بچّوں سے بڑھ کر اپنی جہالت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ تو ایسے نظر آتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کا غصہ نکالنے کے لیے شاید مسجد آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا یہ عمل بعض اوقات برداشت سے باہر ہوتا ہے۔ سزاؤں کے تصور سے یہ معصوم نفوس مسجدوں میں آنے سے بہت ڈرتے ہیں، حالانکہ ان کی خواہش ہوتی ہیں کہ اپنی نمازوں کو اللّٰہ کے گھر یعنی مسجد میں ادا کریں۔ ان سب درشت رویوں، گرم لہجوں، سخت غصے والے مزاجوں اور بچّوں کی بے عزتی کرنے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور مارنے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ بچے مسجد کے ماحول سے متنفر ہوکر مساجد کا رخ ہی نہیں کرتے!! بعض مساجد کے اماموں اور مقتدیوں کے ان رویوں نے ہماری مساجد کو معصوم بچّوں سے بے رونق کر رکھا ہے۔ بہر حال ہماری مسجدوں کے اماموں و مقتدیوں اور مسجد کے ذمّہ داران کو یہ تمام نامناسب رویے اور نظریے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ خسارہ ہمارا ہی ہے۔

     بچے بچپن میں اپنی شرارتوں کے نتیجہ میں ہی تو بچے ہوتے ہیں، ورنہ اگر شرارت نہ ہوتو بزرگوں اور بچّوں میں فرق کیا رہے جائیگا۔ بچے تو ہر دور میں شرارتی رہے، بھاگنے، دوڑنے، باتیں کرنے، اچھلنے، کودنے والے، ابھی تو ہم نے ہی انہیں مسجد کے آداب نہیں سکھائے، انھیں کیا پتا کہ مسجد کے آداب کو کیسے ملحوظ رکھیں؟ جب بچّوں کا رشتہ مسجد سے استوار ہوگا، نمازیوں کی حرکات و سکنات کو دیکھتے رہیں گے تو ان شاء اللّٰہ! آہستہ آہستہ سب سیکھ جائیں گے!! نبی کریمﷺ کے دور میں بھی بچے ایسے ہی کیا کرتے تھے، کبھی اس صف میں دوڑتے، تو کبھی اس صف میں، کبھی نبیﷺ کے اوپر جسم مبارک پر چڑھ جاتے، کبھی سجدے میں آپؐ کی گردن پر تو کبھی آپؐ کی پیٹھ پر چڑھ کر کھیلنے لگتے، کبھی منبر پر چڑھ کر شرارتیں کرتے۔ اسی لیے ان شرارتوں کی عمر میں ان کی سہی سمت میں رہنمائی کرنا ہم لوگوں کا کام ہے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اسلام کے لیے لگا سکیں۔ بچپن کی نادانی، شور شرابہ اور شوخی پہ سختی کرکے، مسجد کے پاکیزہ ماحول سے متنفر اور برگشتہ کردینے والے احباب، نئی نسل (خصوصاً نوخیز و نونہال معصوم بچّوں) کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیتے ہیں۔ بچوں کو شیطان سمجھنے والوں، بچے شیطان نہیں ہوتے بلکہ وہ اللّٰہ کی نشانیوں میں ایک نشانی ہیں، ہاں یہ مانتے ہیں کہ معصوم ہوتے ہیں مگر گناہوں سے پاک لیکن ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہی ان کی عمر کا تقاضہ ہوتا ہے۔

     جو بچے اس قدر چھوٹے اور ناسمجھ ہوں کہ مسجد کے تقدس کو ذرا بھی نہیں سمجھتے یا پاکی ناپاکی کا شعور نہیں رکھتے حتی کہ ان کی وجہ سے مسجد کے ناپاک ہونے کے غالب گمان ہو تو ایسے بچّوں کو مسجد لانے والے افراد خود ہی ان پر خصوصی توجہ رکھیں۔ البتہ اگر مسجد کے ناپاک ہونے کا غالب اندیشہ نہ ہو اور ان کی وجہ سے مسجد کا تقدس بھی پامال نہ ہو اور نہ ہی کسی کی عبادت میں خلل آئے تو ایسی صورت میں انھیں مسجد لانے سے پہلے صاف صفائی اور طہارت و پاکیزگی اور مسجد کے آداب سمجھا کر لایا جائے۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ نبی کریم ﷺ نے تو بچّوں کو درکنار ایک یہودی کے مسجد میں پیشاب کرنے کو بھی برداشت کیا اور لوگوں کو اسے مارنے اور ڈانٹنے سے منع کیا۔ میرے خیال میں تو بچے اگر مساجد میں پیشاب یا پاخانہ بھی کردیں تو اس پر ہنگامہ کھڑا نہ کریں۔

     آج عجیب معاملہ ہے ہمارے مسجدوں میں آنے والے افراد کا ان کی خواہش یہ رہتی ہیں کہ بچے، نمازوں کے خشوع و خضوع کو، مسجد کے ادب و احترام کو، صفائی و سلیقہ کو، طہارت و پاکی کو ملحوظ رکھیں، جب کہ ہم بڑے ہونے کی حیثیت سے اپنا جائزہ لیں کمیاں ہمیں اپنے اندر بھی نظر آئیگی۔ مساجد میں داخل ہوتے ساتھ ہی ہمارے نظم و ضبط کا معاملہ اجاگر ہوجاتا ہے، داخلے پر ہی چپل و جوتے منتشر انداز میں ہماری ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں، حالانکہ ہمیں صف بندی و سلیقہ کی تعلیم دی جاتی ہے، وضو خانہ پر کسی ساتھی کا لمبے وقت تک وضو کرنا کچھ لوگوں کو اتنا ناگوار گزرتا ہے کہ وہیں اپنے غصے کا اظہار کردیتے ہیں۔ آج کل تو مسجدوں میں کرسیوں کی اجارہ داری نے ایک نئے فتنے کا آغاز کردیا ہے۔ پہلی صف میں یا آگے کی صفوں میں نماز کی ادائیگی نے لوگوں کے خشوع و خضوع کو تو جیسے غارت ہی کردیا ہو۔ نمازیں لمبی اور خطبہ طویل ہونے پر تو امام کو اور مسجد کے منتظمین کو قابل ملامت نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات صورت حال یہاں تک تشویشناک ہوجاتی ہے کہ بچّوں سے زیادہ ان بڑے حضرات کے شور شرابہ کی وجہ سے مسجد کا تقدس پامال ہوجاتا ہے اور لوگوں کی عبادتوں میں خلل بھی واقع ہوجاتا ہے۔ بڑے ہونے کے اعتبار سے ہمیں پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا بڑے ہونے کی حیثیت سے خود اپنی خبر لینی ہوگی اور اس کے بعد ہی بچّوں پر نظر رکھنی ہوگی۔   ؏

نہ تھی حال کی جب ہمیں خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

     آج کے اس دجالی تہذیب اور پرفتن دور میں اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے اور مساجد اللّٰہ سے قلبی لگاؤ پیدا کرنے کے لیے، قرآن و حدیث کا مفہوم و سہی فہم و فراست پیدا کرنے کے لیے ان معصومانہ ذہنوں کو مسجد میں لانے کی ترغیب دی جائے۔ انہیں مسجد میں نماز ادا کرنے کا بچپن سے عادی بنایا جائے۔ تاکہ بچّوں کو عصر حاضر کے حالات کے تناظر میں تربیتی و تادیبی نقطہ نظر سے عَمَلی ترغیب (Practical Motivation)  دلائی جاسکے۔

     ہونا تو یہ چاہیے کہ مضبوط حکمت عملی کے تحت بچّوں کا مساجد سے روحانی رشتہ استوار کرنے کے لیے اور نمازوں کا پابند بنانے کے لیے انہیں ترغیبی انعامات سے نوازا جانا چاہیے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم بچّوں کو مساجد میں آنے کی ترغیب دیں، مسجد میں آنے والے بچّوں کا کھلے دل سے استقبال کریں۔ ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں۔ اگر مسجد سے بچّوں کو محبت ملے گی تو وہ تادم آخریں مسجد سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ اگر آج ہماری مسجدوں میں دوران نماز  بچّوں کی معصوم شرارتوں کی آوازیں نہ آرہی ہوں تو یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

     مسجدوں میں کبھی کبھار بچّوں کی طرف داری کی وجہ سے یا ان بچوں کے بیچ بچاؤ میں ایک لمبی بحث کو موقع فراہم ہوجاتا ہے۔ کچھ حضرات کم علمی کی بنیاد پر جو دل میں آیا کہہ دیتے ہیں۔ بچّوں کے مسجد میں آنے کے نقصانات گنائے جاتے ہیں، دوسروں کی نمازوں میں خلل پڑھنے اور خشوع و خضوع باقی نہ رہنے کے قصیدے سنائے جاتے ہیں۔ بچّوں کے مسجد میں آنے سے مسجد کا تقدس و احترام کم ہونے کے قصے بیان کئے جاتے ہیں۔ ابن ماجہ کی حدیث کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ ملت کے نونہالوں کو مساجد اللّٰہ میں آنے کی ممانعت والی ابن ماجہ کی روایت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ روایت فنی حیثیت سے ضعیف ہے۔ جس کو بنیاد بناکر لوگ جواز پیش کرتے ہیں کہ چھوٹے بچّوں کو مسجد میں لانا جائز نہیں۔ حدیث یہ ہے کہ:

     ”مساجد اللّٰہ کو بچّوں اور دیوانوں سے بچاؤ، نیز خرید و فروخت، لڑائی جھگڑے، آواز بلند کرنے، حد قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے مسجدوں کو بچاؤ۔ مسجد کے دروازے پر طہارت کے واسطے جگہ بناؤ۔ یوم جمعہ کو مسجدوں میں خوشبو پھیلاؤ۔” (أخرجه ابن ماجہ برقم ۷۵، کتاب المساجد و الجماعات)

      جب کہ صحیح احادیث و سیرتِ صحابہ کرامؓ سے بچّوں کو مسجد میں لانا ثابت ہے۔ اللّٰہ کے رسولﷺ کی حیات مبارکہ میں واقعہ ملتا ہے کہ: ”رسولﷺ نماز پڑھا رہے تھے اور دوران نماز اپنی نواسی امامہ کو اٹھائے ہوئے تھے۔ جب کھڑے ہوتے تو امامہ کو اٹھا لیتے اور سجدہ میں جاتے تو زمین پر رکھ دیتے۔” (صحیح مسلم)۔ رسولﷺ تو اپنی نواسی امامہ بنت زينب کو گود میں لے کر نماز پڑھاتے تھے، اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ اس وقت امامہ بنت زینب کی عمر کیا ہوگی؟

     آپﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے حسن ؓ و حسین ؓ کو مسجد میں آتے دیکھ کر خطبہ روک دیا اور منبر سے اتر کر انھیں گود میں لے کر منبر پر چڑھے۔ (ترمذی و ابوداؤد)

     رسولﷺ کے زمانے میں بچوں کو مسجد سے قلبی لگاؤ تھا، مسجد سے محبت اور شغف کے نتیجے میں انہوں نے مسجد کو ہی اپنا مسکن بنایا تھا۔ عبداللّٰہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بچپن سے جوانی کی عمر تک ہم لوگ مسجد میں ہی سویا کرتے تھے۔

     اسلام میں چھوٹے بچّوں کو مسجد میں لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور نماز کو لمبا کرنا چاہتا ہوں لیکن بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو ہلکی کر دیتا ہوں، بچے کی ماں کو، بچے کی وجہ سے، پریشان ہونے کی وجہ سے۔” (صحیح مسلم)

     یعنی نماز کے دوران بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپؐ نماز مختصر کردیا کرتے تھے لیکن یہ کبھی نہیں کہتے تھے کہ لوگ یا عورتیں اپنے بچّوں کو مساجد میں نہ لایا کریں، بچّوں کے رونے سے یا شرارت کرنے سے نمازیوں کی نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے، یا نماز میں خشوع و خضوع نہ ہونے کی وجہ سے نماز خراب ہوتی ہے، ایسے الفاظ کبھی بھی آپؐ کی زبان مبارک سے کبھی نہیں نکلے۔ نبیﷺ نے فرمایا : "میرا دل کرتا ہے کہ میں نماز میں قرأت کو لمبا کروں، پھر میں بچوں کے رونے کی آوازوں کو پاتا ہوں تو میں قرأت کو مختصر کر دیتا ہوں”۔ یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ  نے اپنی قرأت مختصر کردی مگر بچوں کو مسجد میں لانے سے منع نہیں کیا۔

     ایک مرتبہ رسول اللّٰہﷺ نے اپنی نماز میں سجدہ کو کافی طویل کردیا، صحابہ کرامؓ کے دل میں مختلف افکار اور خیالات نے جگہ بنائی، کافی لمبے وقت کے بعد آپﷺ نے سلام پھیرا، آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو متفکر دیکھ کر فرمایا کہ ایک بچہ پیٹھ پر چڑھ کر کھیلنے لگا مجھے گوارا نہ ہوا کہ اسے پیٹھ پر سے اتارا جائے۔ جب وہ خود سے نیچے اترا تو میں نے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔ ہائے قربان جاؤں نبی کریمﷺ کی اس ادا پر! بچّوں کے لیے کتنی تکریم و تعظیم، عزت و احترام کا معاملہ تھا ہم سب کے پیارے نبی کریمﷺ کا!! بچّوں کی شرارتوں اور ان کے کھیلنے کودنے کو برداشت کیا لیکن ناراضگی کا کہیں بھی مظاہرہ نہیں کیا۔ کیا آج کے دور کے مسلمانوں کی نمازوں میں خشوع و خضوع کا معاملہ آپؐ اور اصحابِ رسول ؓ کی نمازوں سے زیادہ ہوگیا ہے؟ کیا واقعی بچّوں کی معصومانہ حرکتوں کے نتیجے میں ہماری نمازیں اللّٰہ کے حضور قابل قبول نہیں ہوتیں؟ دیکھئے کتنی عزت کتنا احترام مسجد میں نماز کے دوران بھی ایک بچے کے کھیل یا اس کی شرارتوں سے دل برداشتہ ہوکر کبھی شکوہ و شکایت کا معاملہ پوری تاریخ میں نہیں ملتا ہے۔ کیا ہماری نمازوں کا خشوع و خضوع صحابہ کرامؓ کی نمازوں سے زیادہ ہے، جو کسی بچے کی آواز پر، اس کے رونے پر، اس کی شرارتیں کرنے پر فوراً خراب ہوجاتا ہے۔

     ان تمام روایت سے نبی کریمﷺ اور عام صحابہ کرامؓ کا مسجدوں میں بچّوں کو لانا ثابت ہوتا ہے۔ اس سے چھوٹے بچّوں کو مسجدوں میں لانے کا شرعی جواز فراہم ہوتا ہے۔ پنج وقتہ نمازوں کے علاؤہ بھی بچّوں کو نمازِ عیدین اور نمازِ استقساء وغیرہ میں ضرور ساتھ لے جائیں۔ اسی طرح نمازِ حاجت، نمازِ استخارہ اور سجدۂ شکر میں بھی انہیں اپنے ساتھ رکھیں۔ جس کے نتیجے میں اُن کے دل میں نماز کی محبت راسخ ہوجائے گی اور اُن کے علم میں بھی نمازوں کے متعلق معلومات میں مزید اضافہ ہوجائیگا۔

     اگر مسجد میں بچّوں کی تعداد کم ہو تو ان کو بڑوں ہی کی صف میں کھڑا کردیا جائے، یا پھر صفوں کے دونوں کنارے پر کھڑا کیا جائے۔ کیوں کہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ دو یا دو سے زائد بچے ایک جگہ جمع ہوکر نہ صرف اپنی نماز خراب کرتے ہیں، بلکہ دوسروں کی نماز میں بھی خلل پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ بہتر تو یہی ہوگا کہ بچّوں کو مسجد میں ساتھ لانے والے حضرات انہیں اپنے ساتھ لے کر صف کی ایک جانب کھڑا ہوکر نماز ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اس صورت میں ان کو پہلی صف میں کھڑا کرنا ہی مناسب عمل ہوگا۔ اس عمل سے بڑوں کی نمازوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور بچے کی حرکت پر بھی نظریں مرکوز ہوتی ہیں۔ بچّوں کے گم ہو جانے کے وسوسے اور خدشات بھی فنا ہوجاتے ہیں۔

     اسی کے ساتھ یہ بات بھی بخوبی ذہن نشین کرلی جائے کہ بچّوں کی صف کا پیچھے ہونا، یہ اس وقت ہے جب جماعت شروع نہ ہوئی ہو، لیکن جب بچے بڑوں کی صفوں کے بعد صف بنالیں اور نماز شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں بعد میں آنے والے حضرات بچّوں کو جبراً پیچھے نہ کریں۔ البتہ یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اگر بچے سلیقہ مند نہ ہوں اور ان کی علیحدہ صف بنانے سے ان کے شور و شغف یا لوگوں کی نماز خراب ہونے کا غالب گمان ہو تو ایسی صورت میں ان کی علیحدہ صف نہ بنائی جائے، بلکہ ان کو متفرق طور پر بڑوں ہی کی صفوں میں کھڑا کردیا جائے۔ جب نماز شروع ہوگئی تو یہ حکم نہیں کہ بچّوں کو ان کی جگہ سے ہٹایا جائے بعض حضرات نے بچّوں کو بڑوں کی صف میں کھڑے ہونے کی اس صورت میں اجازت دی ہے کہ بچے شرارت نہ کرسکیں کیونکہ جب وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کے برابر میں ہوتے ہیں تو شرارت نہیں کرتے اور جب بچے ہی بچے ہوں تو شرارت عامةً کیا کرتے ہیں۔ یہ بھی کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ بچّوں کو ڈانٹ کر ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی صف میں بھیجیں، اس سے بچّوں کی تربیت نہیں ہوسکے گی اور وہ مسجد سے دور ہوسکتے ہیں۔ اگر بچے نماز کے دوران مسجد میں شور و غل کریں تو انہیں سلیقہ، نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھانا چاہیے، سخت لہجہ سے پیش نہیں آنا چاہیے۔ سختی و جسمانی اذیت انہیں مسجدوں سے دور کر دیتی ہے۔

     نمازوں کے وقت مسجد میں بچّوں کو شرارت، شور شرابہ، کھیل کود سے روکنے کے لیے واعض و نصیحت اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ بعض اوقات واعض و نصیحت کرنے والوں میں دین کا کم فہم و سہی شعور اور دینی بصیرت کے فقدان کے نتیجے میں بچے ضد میں آکر منع کرنے والے کام کرتے ہیں۔

     مساجد کی طرف طلباء کو راغب کرنے اور اس مقدس مقام کے ساتھ اپنے رابطے کو مستحکم کرنے میں مدد دینے والے انتہائی اہم پروگراموں کا اعلان کئی اجزاء میں کیا جاسکتا ہے۔ قریبی تعلیمی اداروں سے ملاقات کرکے دوران اسکول یا مدرسہ جو بھی نمازیں آتی ہوں اور خصوصاً نماز جمعہ مسجد میں آکر ادا کرنے کی تلقین کی جائے، اس کے لیے ہم اسکولوں میں جاکر مسجد میں نماز پڑھنے کے فوائد اور اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالیں۔ اسکول کے طلبہ کو انفاق فی سبیل اللّٰہ کی ترغیب دینے کے لیے کم از کم ہفتہ میں ایک بار استطاعت کے مطابق مسجد کے لیے رقم جمع کی جائیں۔ اس کا مصرف اسکول اور مسجد کے ذمّہ داران اپنی ثواب دید کے مطابق طئے کریں۔

     بچّوں، نوعمروں اور نوجوانوں کو مسجد میں مختلف ذمہ داری تفویض کی جائیں۔ جس میں مسجد کی صاف صفائی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ مفید اسلامی  لائبریری قائم کرکے اس کا نظم و ضبط بچّوں کے حوالے کئے جائیں۔ دیگر بچّوں اور طلبہ کو مسجد میں لانے کے لیے بچّوں کے حلقے قائم کئے جائیں۔ بہترین تلاوت و اذان کی تعلیم دی جائے۔ مساجد کی لائبریری میں بچّوں کی اسلامی نہج پر تربیت حاصل کرنے والی کتابیں جمع کی جائے، دستیاب کتابوں کی فہرست تیار کرکے محلے کے بچّوں اور قریبی اسکولوں کو پیش کی جائے تاکہ طلبا بھی مساجد کی دستیاب کی ہوئی کتابوں سے مستفیض ہو سکے۔ مساجد کے ذمّہ داروں کا بچّوں، نوعمروں اور نوجوانوں کے ساتھ گہرا تعلق مساجد میں اپنی موجودگی کو راغب کرنے اور تقویت پہنچانے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

     اس حوالے سے ترکی نے ایک زبردست پیش قدمی کی ہے، سات سال سے کم عمر بچّوں کے لیے مسجد ہی میں یا پھر مسجد سے متصل کھیل کود کے پلے گراونڈ بنائے ہیں۔ تاکہ والدین بچّوں کی فکر سے بری ہوکر خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد میں اپنی عبادات کے فرائض مکمل کرسکیں۔ سات سال سے بڑی عمر کے بچوں کے لیے یہ اعلان کیا کہ جو بچے ایک مخصوص دنوں تک مسجد میں باجماعت نمازیں ادا کریں گے انہیں تحفہ و تحائف سے نوازا جائیگا۔ میرا چھوٹا بھائی لندن میں ہے، اس کا کہنا ہے وہاں پر بہت سی مسجدوں میں معصوم بچّوں کے کھیلنے کودنے کی ایک مختص جگہ ہوتی ہے۔ اسی نوعیت کے عملی تجربات دیگر یورپین ممالک میں بھی ہوتے ہیں۔

     مساجد کے ذمّہ داران کو چاہیے کہ ملت کے بچوں، نوعمروں، نوخیز نونہالوں اور نوجوانوں کے لیے مختلف مقابلوں کا انعقاد کریں، جو ایک مؤثر اقدام ہوگا اور انہیں مسجدوں سے محبت اور رغبت دلانے کا ذریعہ بھی بنے گا۔ مساجد کے ذمّہ داران افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ اس اہم مسئلہ پر غور و فکر کریں اور ایک دوسرے کو بچّوں کو مساجد میں لانے اور ان کی اسلامی نہج پر تربیت کو اپنے نئے طریقوں اور ترکیبوں کے ساتھ شیئر کریں۔ تاکہ امت مسلمہ کی نئی نسل مساجد کی اہمیت و افادیت اور ادب احترام سے آگاہ رہیں۔ اور اللّٰہ کی محبوب اور پسندیدہ جگہ مساجد اللّٰہ سے معصوم بچّوں کا مضبوط ترین رشتہ استوار ہو۔ ملت اسلامیہ کی یہ نئی نسل واقعی ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن سکیں۔ اس طرح کی سرگرمیاں عمل صالح کے فروغ دینے میں ہمارے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔

     آئیں! مساجد اللّٰہ اور اپنے دلوں اور دماغوں کے دروازے بچّوں کے لیے وسیع کردیں۔ موجودہ دور میں اشد ضروری ہے کہ بچّوں کو مسجد کے بابرکت ماحول اور پرنور فضاؤں میں رکھ کر ایمان و اسلام کے بیج بوئے جائیں۔ جس کے نتیجے میں ان شاء اللّٰہ! صالح افراد و قیادت امت مسلمہ کا مستقبل ہونگے۔ معصوم بچے ہی ہماری امت کا مستقبل ہیں، اس مستقبل کی کرنوں کے ذریعے دنیا کو منور کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا