نماز کا طریقۂ کار

  فراست حسین

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی (نماز پڑھ کر) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے   ۱؎      [سنن ابی داوود۔796؛ کتاب نماز شروع کرنے ؛ باب۔ نماز کے ثواب میں کمی] قال شيخ  الباني: حسن؛

نماز  میں دو باتیں ہوتی ہیں جس پر نماز کا ثواب منحصر کرتا ہے۔ ایک نماز کا جسم اور دوسرا نماز کی روح۔ عام طور پر جو کچھ ہمیں بچپن میں نماز پڑھنا سکھایا جاتا ہے۔  کیا پڑھنا ہے، کیسے قیام کرنا، رکوع و سجدہ  کرنا وغیرہ یہ سب نماز کا  جسم ہے۔ اور نماز کے دوران نمازی کے  دل کی حالت۔ یہ نماز کی روح ہے۔ کیونکہ  تقویٰ ، خشوع اور خضوع  بھی دل میں ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی  کسی بھی عمل کے ثواب کیلیے دو چیزیں دیکھتا ہے۔ پہلا دل کی حالت اور دوسرا عمل۔ اور دونوں کے مرکب پر اجر لکھا جاتا ہے۔

 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں، شکلوں اور مالوں کی طرف نہیں دیکھتا، وہ تو صرف تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔“ (دل کی بات کرتے ہوئے آپ ﷺنے) اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔ [ سلسله احاديث صحيحه۔2305؛   کتاب۔ نصیحتیں اور دل کو نرم ؛    باب۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں معیار کا دار و مدار عمل اور دل کی صفائی پر ہے؛ ]۔

 اللہ تعالٰی دل میں  دیکھتا ہے نیت، پہچان،  ارادہ، خیال، دلچسپی، انہماک، کوشش، محنت، محبتِ   الہی، محبتِ دین، محبتِ رسول ؐ، محبتِ قرآن، وغیرہ (سارے سو فٹ ویر)۔ اور اللہ تعالٰی  عمل کی کارکردگی( ایفیسی اینسی )  متعین کرتا ہے دل کی حالت  کے مطابق ۔  یہ کارکردگی منفی صد فیصد سے  صفر تک پھر صفر سے   مثبت صد فیصد  تک اور  بڑھتے ہوئے   مثبت سات سو فیصد اور پھربے انتہا تک چلا جاتا ہے۔

        نمازادا کرنے کا مقصد  اللہ کو یاد کرنا ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر۔

إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي [20:14]  یقیناً میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر ‌[سورہ  طاہا:14]۔

  وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا [73:8]اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی  (اللہ) کے ہو رہو۔ ‌[سورہ مزمل:8]

نمازی کے دل کی حالت نماز کے دوران ایسا ہونا چاہیئے۔ اسلیئے نماز  اسی طرح ادا کریں۔ پہلے  ساری دنیا سے  ذہنی طور پر کٹ جائیں۔ اور اپنے آپ کو ساری دنیا سے الگ کرلیں۔ اور سب کچھ بھول کر  اللہ کو یاد کریں۔ یعنی ۔  یہ بھی بھول جائیں کہ آپ کون ہیں۔ آپ  کہاں ہیں۔آپ کے والدین، زوج اوراولاد کون ہیں۔ اور  صرف اللہ ہی کے ہو  کر رہ جائیں۔  جیسے   آپ اللہ کو (دل کی آنکھ سے )  بالکل سامنے موجود دیکھ رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالٰی جو ہمارا خالق بھی ہے، ہمارا مالک بھی ہے، ہمارا رب بھی اور ہمارا الہ بھی۔ اسی کے ساتھ روبرو (آمنے سامنے)ہیں۔اور اللہ  سے باتیں بھی  کر رہے ہیں۔ یعنی جو کچھ بھی  نماز میں  پڑھتے ہیں وہ  اللہ کو  کہہ رہے ہیں۔ اور اللہ وہ ساری باتیں سن رہا ہے۔  اور اللہ اس کا جواب بھی دے رہا ہے۔ لیکن ہمارے (زمینی) انسانی  اعضاء اسے سن یا دیکھ نہیں سکتے۔ حالانکہ  اس نے یہ باتیں  قرآن و سنت میں درج کردی ہیں۔

نماز   رسول اللہ ﷺ کو معراج میں بطور  تحفہ ملا تھا۔ اس لیے  نماز کو معراج المومنین ( یعنی مومنوں کا معراج۔اللہ کے ساتھ مومنوں کی  بہت ہی اعلٰی  درجے  کی میٹنگ و ملاقات؛ جس سے مومنوں کے  درجات بلند ہوتے ہیں)  کہا جاتا ہے۔ یعنی  نماز ایک باضابطہ اللہ کے ساتھ میٹنگ   ہے۔ اس لیے  اس  میٹنگ کیلیے پہلے تیاری کی جاتی ہے۔ اسی تیاری کے سلسلے میں پہلے  ظاہری تیاری۔ طہارت(غسل یا  وضو)  پھر دعائیں اور  لباس۔ تو اچھی طرح تیار ہوں۔ اچھا لباس  پہنیں جیسے آپ کسی بہت ہی خاص (جس سے زیادہ خاص تو کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔ اور تصور بھی نہیں کیا جاسکتا) مہمان سے ملنے کیلیے (میٹنگ  و ملاقات   کیلیے) جارہے ہیں۔ اور پھر باطنی تیاری  یعنی دل کی حالت کی تیاری۔ نماز سے پہلے کچھ دیرخاموشی کے ماحول میں (۲ سے ۵ منٹ) خاموشی سے  اپنے زبان، کان  و آنکھ کو  ذہنی طور پر بند کرکے اور ذہن سے اپنے  دل پر اللہ کا خوف و ڈر  طاری و نافذ  کریں۔  قرآن کے لفظوں میں قائم کریں۔  اس طرح کے صرف آخرت کو یاد کریں۔ آخرت  میں سب سے پہلے حشر(سارے انسانوں کا اجتماع)۔ پھر اعمال نامے کے اندرجات ؛ اللہ کی   عدالت  میں  حساب و کتاب کیلیے  اللہ کے سامنے پیشی ، اور   اللہ کی اجازت  کے بعد کوئی  شفاعت کرنے والا، پھر اللہ کا  فیصلہ؛  پھر پل صراط  اور جنت یا جہنم۔ پھر کم از کم دو رکعات   نفل نماز ادا کریں ۔ نماز میں اللہ کو بالکل سامنے موجود ہونے کا  احساس کریں۔ اور اللہ کے  خوف سے اپنے  دل میں  (جسم میں نہیں۔ کیونکہ رسول ﷺ کے نماز کا طریقہ  میں  یہ نہیں ہے) لرزاہٹ  و گھبراہٹ پیدا کریں۔ مصنوعی نہیں بلکہ حقیقی۔مثلاً یہ سوچیں۔  یا اللہ !  میرا کیا ہوگا ؟ یا اللہ ! آخرت میں میرا کیا حال ہوگا۔ اگر تو مجھے جہنم کی آگ میں ڈال دیگا۔ اللہ ؟۔ وغیرہ وغیرہ۔  اس کے بعد نماز شروع کریں۔ اور اس إحساس کو نماز کی  تکبیر سے لیکر سلام  تک  مسلسل قائم رکھیں بغیر  انقطاع کے۔ اپنے دماغ  و ذہن کو  اللہ کے اِس احساس سے ہٹنے نہ دیں۔ درمیان میں شیطان اور آپ کا اپنا  نفس  اِس  احساس کو  ختم کرنے  کی کوشش کریگا  اور آپ کو  بہت ساری باتیں یاد دلانے کی کوشش کریگا۔ تو آپ   کو   اپنے نفسانی اور شیطانی  وسوسے سے  بچتے ہوئے اسی إحساس پر نماز مکمل کریں۔ اس  وسوسےکو نظر انداز کرکے اپنے اُس إحساس پر قائم و دائم رہیں۔ جو نماز کیلیے آپ نے تیار کی ہے۔  ابتدا میں  یہ تھوڑی مشکل  ہے۔ اس کیلیے مشق، تربیت  کی ضرورت ہے۔ اور  اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ کرتے کرتے ہو جائیگا۔ شروع میں آدھی رکعات تک ہو کر ٹوٹ جائیگی۔ جہاں پر ٹوٹی ہے وہاں سے  دوبارہ اس خیال پر پھر  کوشش  کریں [ اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ   بار بار پلٹنے والے(توبہ۔۱۱۲)]۔ اور(صرف انفرادی نماز میں) نماز کے اندر ہی  أَعُوذُ بِاللّٰهِ  مِن الشَّيْطَانٍ  الرَّجِيم پڑھیں  اور بائیں طرف  تین بار سوکھا تھوک دیں۔ تو  شیطان بھاگ جائیگا۔اور شیطانی اور نفسانی وسوسا ختم ہو جائیگا۔  لیکن ہوشیار رہیں وہ   دوبارہ بھی    پریشان کر سکتا ہے۔

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! شیطان میری نماز میں حائل ہو گیا اور مجھ کو قرآن بھلا دیتا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اس شیطان کا نام خنزب ہے جب تجھے اس شیطان کا اثر معلوم ہو تو اللہ کی پناہ مانگ اس سے اور بائیں طرف تین بار  (سوکھا) تھوک (نماز کے اندر ہی)۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا پھر اللہ نے اس شیطان کو مجھ سے دور کر دیا [صحیح مسلم۔5738؛ کتاب۔ سلامتی اور صحت کا بیان؛  باب۔ نماز میں شیطان کے وسوسہ سے پناہ مانگنے کے بارے میں ]

عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ  ﷺنماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ ﷺ  رو رہے تھے ۱؎۔ [ سنن نسائی۔1215؛  کتاب۔ نماز میں سہو؛  باب۔ نماز میں رونے کا بیان؛]   قال شيخ  الباني: صحیح؛    وضاحت: ۱؎: اس سے نماز میں اللہ کے خوف سے رونے کا جواز ثابت ہوا۔

ابوہریرہ ؓ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اگر تمہیں وہ معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ [صحیح بخاری۔ 6485؛ کتاب۔ دل کو نرم کرنے والی؛ باب۔ نبی ؐ کا ارشاد۔ اگر تمہیں معلوم ہو جاتا جو مجھے معلوم ہے تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ؛ ]

اسی إحساس کو اللہ کے رسول ﷺ اپنی مجلسوں میں  صحابہ کرامؓ کے درمیان  بھی قائم کرتے تھے۔ اس کے  لیے وہ حدیث حنظلہ ؓ  [حنظلہ منافق ہو گیا] دیکھ لیں۔ تو بات بالکل ظاہر ہوجائیگی۔ صحيح مسلم۔6966؛ كِتَاب التَّوْبَةِ؛  باب: ذکر کے دوام اور امور آخرت میں غور و فکر کی فضیلت، اور بعض اوقات اس کو چھوڑنے، اور دنیا کے ساتھ مشغول ہونے کا بیان۔.3؛

‏‏‏‏ سیدنا حنظلہ ؓ  اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ  رسول اللہ ﷺکے محرروں (کاتبوں)  میں سے تھے، انہوں نے کہا: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور پوچھا: کیسا ہے تو اے حنظلہ ؓ  ۔ تو میں نے کہا۔ حنظلہ ؓ   تو منافق ہو گیا  (یعنی بے ایمان)۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: سبحان اللہ! تو کیا کہتا ہے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہﷺکے پاس ہوتے ہیں تو آپ ﷺ  ہم کو یاد دلاتے ہیں دوزخ اور جنت کی گویا دونوں ہماری آنکھ کے سامنے ہیں، پھر جب ہم آپ ﷺ کے پاس سے نکل جاتے ہیں تو بیبیوں، اولاد اور کاروبار میں مصروف ہو جاتے ہیں تو بہت بھول جاتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ہمارا بھی یہی حال ہے، پھر میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺکے پاس پہنچے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! حنظلہ منافق ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا۔  "تیرا کیا مطلب ہے ؟”

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہم کو یاد دلاتے ہیں دوزخ اور جنت کی گویا دونوں ہماری آنکھ کے سامنے ہیں، پھر جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو بیبیوں، بچوں اور کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور بہت باتیں بھول جاتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم سدا بنے رہو اسی حال پر جس طرح میرے پاس رہتے ہو اور یاد الہٰی میں رہو البتہ فرشتے تم سے مصافحہ کریں تمہارے بستروں پر اور تمہاری راہوں میں۔ لیکن اے حنظلہ! ایک ساعت دنیا کا کاروبار اور ایک ساعت یاد پروردگار۔ تین بار یہ فرمایا۔ یعنی۔ نماز (عبادت۔ یاد پروردگار)  کیلیے یہ حالت ضروری ہے۔

مغیرہ بن شعبہ ؓ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم ﷺ اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ ﷺ کے قدم یا (یہ کہا کہ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ ﷺ سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو فرماتے ” کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔[صحیح بخاری۔ 1130؛   کتاب: تہجد کا بیان؛  باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج جاتے؛ ]

اور (جماعت  کی نماز کے علاوہ) انفرادی  نمازوں  کے اندر  زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگا کریں۔ اور روتے ہوئے اللہ سے دعائیں مانگیں۔ رونا اِس طرح ہو جیسے اللہ کے رسول ﷺ روتے تھے۔ یعنی رونے میں زبان سے آواز نہ ہو۔یعنی دل رو رہا ہو۔ انکھیں رو رہیں ہوں۔ مگر آواز  کے ساتھ نہیں۔  آپ ﷺنے فرمایا: ”لوگو! اب نبوت کی خوشخبری دینے والوں میں کچھ نہیں رہا (کیونکہ مجھ پر نبوت کا خاتمہ ہو گیا) مگر نیک خواب جس کو مسلمان دیکھے یا اسے دکھایا جائے اور تم کو معلوم رہے کہ مجھے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ رکوع میں تو اپنے رب کی بڑائی بیان کرو (یعنی  سُبْحَانَ ربِّي العظيمِ کہو) اور سجدہ کے اندر دعا میں کوشش کرو تو تمہاری دعا قبول ہو۔ [صحیح مسلم -1074؛  کتاب- نماز کے احکام و مسائل ؛  باب۔ رکوع اور سجود میں قرآن پاک پڑھنے کی ممانعت؛]۔  صحیح حدیثوں  کے مطابق۔ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے اندر دعا مانگنے کے سلسلے میں  رکوع  میں بہت کم دعا مانگی ہے۔ قیام، قوما، سجدہ اور قاعدہ میں  کافی  دعا مانگی ہے۔ یعنی   سوائے رکوع کے   نماز کی سبھی  حالتوں (قیام، قوما، سجدہ اور قاعدہ) میں پہلے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ وہ پہلے پڑھیں پھر  (حدیث کی، اور اپنی زبانوں میں) دعائیں مانگیں۔ اور رکوع اور سجدے کے علاوہ  سبھی میں   قرآن کی دعائیں  بھی مانگیں۔ خصوصاً  سجدے میں بہت  زیادہ دعا مانگیں۔     یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے نماز کے بعد دونوں ہاتھ اٹھا کر اجتماعی   دعائیں   مانگنے کا   ثبوت نہیں ملتا۔ جب کہ انفرادی دعا  دونوں ہاتھ اٹھا کر نماز کے بعد بھی  کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ساری دعائیں اپنے انفرادی  سنت اور نفل نمازوں  کے اندر ہی مانگ لیں تو پھر عموماً اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ نماز میں  ہم لوگ اپنی ساری باتیں  اللہ کو بتاتے ہیں۔ اللہ اس کا جواب بھی دیتا ہے۔

لوگوں نے جو رسول اللہ ﷺ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر بھی عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے غم پر۔ ہاں اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ آپ ﷺ نے زبان کی طرف اشارہ کیا (اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔عمر رضی اللہ عنہ میت پر ماتم کرنے پر ڈنڈے سے مارتے ‘ پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی جھونک دیتے۔ یعنی  آواز کے ساتھ رونا  کو نوحہ  و  ماتم کہتے ہیں جو منع ہے۔[صحیح بخاری۔1304؛   کتاب۔جنازہ؛   باب۔مریض کے پاس رونا؛  آخری حصہ]

اور پھر   ہر نماز کے ہر ساعت  و ہر لمحے میں  ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ  اللہ تعالٰی سامنے موجود ہے آپ  اللہ ﷻ کو دل کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اور اُسی کی  عبادت کر رہے ہیں۔

اور پھر   ہر نماز کے اندر  اللہ کے ساتھ کئے ہوئے  سَمِعْنَا وَ أَطَعٰنَا  وَ سَلَّمْنَا  (ہم نے سنا، ہم نے اطاعت کیا اور ہم نے مان لیا) کے معاہدے کی تجدید کریں۔  اور یہ بھی   دعا کریں۔ یا اللہ !  میں نے اپنے آپ کو اور اپنی ساری خواہشات کو آپ ﷻ کے حوالے کردیا ہے۔  یا اللہ  ! میں کچھ بھی ایسا نہیں کرنا چاہتا  جو آپ  ﷻکے تابع نہ ہو۔ میں کچھ ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتا جو  تیرے تابع نہ ہو یا اللہ !۔ پس تو مجھے معاف کردے۔ اور میں تجھ سے راضی و خوش ہوں۔ یعنی میں تجھ سے محبت کرتا ہوں اللہ !، تیرے دین سے محبت کرتا ہوں۔ تیرے نبی ؐ سے محبت کرتا ہوں اور تیرے قرآن سے محبت کرتا ہوں۔ لہذا  اخلاص کے ساتھ مجھے اپنے سیدھے راستے پر چلا۔  اسی لیے  میں یہ دعا کرتا ہوں۔ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً ۔ (یا  نَبِیاً)۔ آپ ﷺ فرماتے تھے  ”ایمان کا مزہ چکھا اس نے جو راضی ہو گیا اللہ کی حکمرانی پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کی پیغمبری پر۔ [صحیح مسلم۔ 151؛  کتاب۔ ایمان ؛  باب۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کو رب، اسلام کو دین، اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہو وہ مومن ہے اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرے ]  پس تو مجھے اپنے دین پر اخلاص کے ساتھ چلنے کی توفیق دیدے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ اور  تو بھی   مجھ سے  راضی و خوش  ہوجا !۔ اللہ !  اور  تو بھی   مجھ سے  راضی و خوش  ہوجا !۔ اللہ !

اُس کے بعد اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ نماز کی ساری فضیلت یں ملنا شروع جائینگی۔

اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ [عنکبوت۔۴۵]   (اے نبیؐ) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو ‌[29:45]۔ تلاوت کے معنی۔ پڑھنا سمجھنا اور عمل کرنا، پیچھے چلنا۔[حوالہ: سورہ شمش۔۲]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ فلاں آدمی رات کو نماز پڑھتا ہے لیکن صبح کو چوریاں کرتا ہے۔  آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب اس کا یہ (نیک) عمل اسے ایسا کرنے سے روک دے گا۔ [ سلسلہ احادیث صحيحه۔543؛   کتاب۔ اذان اور نماز؛    باب۔ نماز برائیوں سے روکتی ہے]

اوپر کی آیت ‏[عنکبوت۔ ۴۵]‏ میں فرمایا کہ اللہ کا  ذکر نماز سے بھی زیادہ  بڑی چیز ہے۔ ذکر میں  قرآن و سنت آتا ہے[الحجر۔۹]۔ تو پھر قرآن و سنت  کی اہمیت اتنی   زیادہ کیوں ہے ؟۔  کیونکہ قرآن و سنت کو سمجھنا  (تذکر و تدبر)  ایمان کا جز ہے، اور یہ  سارے  عبادت کی بنیاد  اور عبادت  کے ہر شعبے پر حاوی ہے ۔ ہر شعبے کو زندگی عطا کرتا ہے۔  تسبیح  کو بھی ذکر ہی کہا جاتا ہے۔ مثلاً۔ سُبْحَانَ رَبِّيْ الاَعْلٰی۔ ہرنقص سے پاک و مبرّا   [ہر طرح کے ظلم نا انصافی، اور غلط کاموں سے،یعنی میرا رب کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، کبھی بھی  نا انصافی نہیں کرتا اور کوئی غلط کام نہیں کرتا۔ اور نہ وہ کرسکتا ہے] ہے میرا رب  ( اللہ)  جو بہت ہی اعلٰی ہے۔ اسی طرح  سُبْحَانَ رَبِّيْ  العَظِیْم   بھی۔   سُبْحَانَ  مصدر ہے جس کے معنی۔  ہر نقص سے پاک، پاکیزہ، مبرّا، ہر برائی  سے بچا ہوا، پرہیز شدہ۔ تَسْبِیْحٌ کا لفظ  قولی، فعلی اور قلبی ہر قسم کی  عبادت پر بولا جاتا ہے۔مگر  اسلام کا ہر عبادت قلبی ہے۔ یعنی اللہ تعالٰی دل کی حالت  ہر عمل کے دوران دیکھتا ہے اور پھر کارکردگی  متعین کرتا ہے (بقرہ:۲۶۱۔۲۶۸)۔

  وضاحت: ۱؎: جب نماز کے شرائط، ارکان یا خشوع و خضوع میں کسی طرح کی کمی ہوتی ہے تو پوری نماز کا ثواب نہیں لکھا جاتا بلکہ ثواب کم ہو جاتا ہے، بلکہ کبھی وہ نماز الٹ کر پڑھنے والے کے منہ  پر (پھینک کر)  مار دی جاتی ہے۔

تبصرے بند ہیں۔