اسلامی پردہ اور جدید فلسفہ مغرب

ولی اللہ سندھی

اسلام انسانوں کو جس پاکیزہ طرزِ زندگی کی دعوت دیتا ہے اس میں لباس اور اس کی حدود و نوعیت بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ باحجاب ہونے کے نتیجہ میں عورت کو دینی اور دنیاوی طور پر جو بے شمار فوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں وہ عقل سلیم رکھنے والے فرد پر عیاں ہیں۔ مسلمان عورت کی عظمت و وقار میں اس کے حیا دارانہ رویے کا بھی بڑا حصہ ہے۔ وہ مغرب زدہ عورتوں کی طرح اپنے حسن کے گھمنڈ اور نمائش کے مرض میں مبتلا نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اس کی خوبصورتی ہر کس و ناکس کے لیے نہیں ہے۔ حیا ء دار لباس میں ملبوس خاتون کسی بھی معاشرے میں ایک امتیازی شناخت کی مالکہ ہوتی ہے۔ مغربی باشندوں کی طرح بدن اور جنسی کشش اس کی پہچان اور اس کی معاشرہ میں اس کے مقام کے تعین کا ذریعہ نہیں بنتی ، جبکہ مغربی تہذیب میں ہر عورت کی پہچان درحقیقت اس کی جنسی کشش ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اسلامی پردے والے حیاء دار لباس سے عورت جو عزت و وقار حاصل کرتی ہے اس کے نتیجے میں وہ مردوں کی طفیل بن کر نہیں رہتی  بلکہ معاشرے کی ایک مکمل رکن اور مکمل انسان کارتبہ عملا ًحاصل کر لیتی ہے۔ جبکہ مغربی معاشروں میں کسی عورت کا اس مقام کو حاصل کرلینا نہایت انہونی سی بات ہے۔ ایک باپردہ عورت کی زندگی مکمل ہوتی ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں مغربی عورت کاوجود کس قدر الم اور درد ناک ہوتا ہے۔ اسلام نے عورت کو خواہش پرستوں ،نفس پرستوں ، بدکاروں اور بد معاشوں کی نظروں سے خوب بچایا ہے ،ایسی صورت میں پردہ ان کے لیے تمام شرور و مفاسد سے مکمل بچاؤ ہے۔ جو مسلمان عورت باپردہ لباس نہ پہنے اس کے متعلق یہ کوئی نہیں جان سکتا کہ وہ مسلمان ہےکیونکہ وہ اپنے عقیدہ اور اپنے ایمان کا کوئی ثبوت ظاہر نہیں کرتی۔ لہٰذا وہ باپردہ لباس اختیار کر کے اپنے عقیدے کا ثبوت فراہم کرسکتی ہے۔ ایک مسلمان عورت جو اسلامی اصولوں کے مطابق حجاب کرتی ہو تو مغربی معاشروں میں رہنے کے باوجود اس شیطانی پھندے میں گرفتار نہیں ہوسکتی ، کیونکہ وہ مغربی رسوم و رواج کی پابند نہیں ہوتی۔

اس کی مثال محترمہ سارہ ( انگلینڈ ) کی ہے وہ کہتی ہیں :

” قبول اسلام کے دو دن بعد ہی میں نے اسلامی لباس اختیار کر لیا۔ ابتدا میں مجھے حجاب پہننے کے بعد عیب سا لگا، جیسے میں ایک عام عورت نہیں رہی۔ لیکن حجاب سے مجھے ایک طرح کا تحفظ حاصل ہوا۔ دوسرا فائدہ مجھے یہ ہوا کہ میں ایک عورت ہی نہیں بلکہ ایک انسان بھی ہوں کیونکہ مغربی ماحول میں عورت کو ایک طرح کا کھلونا بنا کر پیش کیا جاتا ہے "۔

   محترمہ خدیجہ(آسٹریلیا) کا خط پاکستانی خواتین کے نام

” میں اپنی مسلمان بہنوں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ وہ وہی طریق زندگی اختیار کریں جو پیغمبر اسلام سیدنا محمد ﷺ نے انہیں دیا ہے۔ میں نے شلوار قمیض چادر اور برقع سے بڑھ کر اچھا لباس خواتین کے لیے اور کوئی نہ دیکھا اس سے خواتین کی عزت ہے اور یہی چیز معاشرے کو مختلف قباحتوں اور اخلاقی برائیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ میں پاکستانی خواتین تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ یورپ میں عورتوں کا لباس توہین آمیز ہوتا ہے اللہ کے لیے ان کی نقالی سے بچیں اور پردے کا وہ انداز اختیار کریں جس کی تلقین اسلام نے کی ہے "۔

ادیان عالم کا بھی عمیق سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں دیگر کئی تہذیبوں میں پردے کا تصور موجود تھا ، البتہ اکثر تہذیبوں  میں پردے کے جبراََ نفاذ کی کوئی کوئی نہ کوئی شکل موجود تھی اور پردہ نہ کرنے والی عورتوں کو سزا ملتی تھی اس کے برعکس اسلام پردہ اختیار کرنے کی تاکید ضرور کرتا ہے۔ لیکن تاریخ اسلامی میں پردہ اختیار نہ کرنے پر حد وغیرہ کے حوالے سے ہمیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ البتہ حضرت عمر فاروق ؓکے زمانے میں حضرت ام ورقہ  ؓ خواتین کے سلسلے میں بازار کی نگران مقرر ہوئی تھیں۔ مخصوص شرعیہ کے حوالے سے ہمیں اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگر اسلام کے بنیادی مقدس مآخذ قرآن و سنت کا غیر متعصبانہ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ اسلام میں پردے کا عمومی مقصد عورت اور مرد دونوں کی عفت و عصمت کی حفاظت  ہے۔

عہد جاہلیت میں بھی پردہ اور حجاب کا وجود تو ثابت ہوتا ہے ، لیکن اس کی مثالیں بہت قلیل ہیں۔ طلوع اسلام کے وقت حالت عام یہ تھی کہ حجاب کی جگہ نمائش و تبرج عام تھا۔ معاشروں اور  تہذیبوں میں پردہ صرف  امراء کی عورتوں تک محدود تھا۔ عرب میں بھی قبل از اسلام پردے کا رواج تھا لیکن محض امارت اور ریاست میں اعلیٰ مقام امراء کے حامل افراد کے لیے تھا۔ وہ اپنے آپ کو عام لوگوں سے برتر سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ اپنی عورتوں کو عام لوگوں کے سامنے لانا پسند نہیں کرتے تھے۔ تاکہ کمتر لوگوں کی نظر ان پر نہ پڑے۔ اس کے  برعکس اسلام میں آزاد عورتوں پر غیر محارم سے سے پردہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسلام کے علاوہ دوسرے  مذاہب میں عورت کے لیے محرم و نا محرم کا کوئی مخصوص تصور نہیں رہا بلکہ اکثر معاشروں میں عورت رنگین زندگی کا مظہر تھی۔ عورت عمومی طور  پر تعیش فراہم کرنے کا ذریعہ دکھائی دیتی تھی جوکہ آج بھی مغربی فکر کا جاٸزہ لیا جاٸے تو یہی چیز ملتی ہے۔ جبکہ اسلام معاشرے کو سفلی، آوارگی اور جنسی استحصال سے محفوظ رہنے کا درس دیتا ہے۔ بلاشبہ اسلام ہی حقیقی فطرت پر مشتمل اور ایک پاکیزہ تعلیم و تربیت پر مبنی نظام حیات کی طرف دعوت دیتا ہے۔

علامہ اقبال ؒ  کے اس شعر پر کلام ختم کرتا ہوں۔

یہ علم، یہ حکمت،یہ تدبر، یہ حکومت

پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا