اسلام میں اخلاق کی اہمیت  

عُبید اَحمد آخون

(پاندریٹھن سرینگر کشمیر)

اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات میں جگہ دے کر انسان کو اشرف یعنی بہتر کا درجہ روزِ اول سے ہی دیا ہے اللہ تعالٰی نے وقتً فوقتاً  پیغمبر علیه سلام بھی بھیجے تاک انسان الله کی نافرمانی کا مرتکب نں ںو جب انسان کو کوںؑی عںده یا زمه داری دی جاتی تو اٗس کے اصول بھی وضع کیے جاتے ںے تاکه وه انسان  سب زمه داریوں پر کھرا اٗترے اسی طرح اشرف المخلوقات کے صفوں میں شامل ہونے کے لیے  اخلاقی نظام پر چلنا والوں کو ہی تعریف کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے- سچائی، انصاف، پاسِ عہد اور امانت کو ہمیشہ سے انسانی اخلاقیات میں تعریف کا مستحق سمجھا گیا ہے  اور  جھوٹ، ظلم  بد عہدی  اور خیانت کو  ہمیشہ نا پسند کیا گیا ہے – خود غرضی؛  سنگ دلی،  بخل اور تنگ نظری کو کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں ہوا. انسان ہمیشہ سے اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے اپنے آپ کو اُن لوگوں میں شامل کرتا ہے جن میں اُسے وقار عزت ملے یا یوں کہیے جہاں احساس کمتری کا شکار  ہونے کا خطرہ لاحق ہو وہاں انسان جانا پسند نہیں کرتا،  انسان  کو اللہ تعالٰی نے عقل و شعور  کے ساتھ تخلیق کیا  اور عقل و شعور  پر گامزن رہنا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ اخلاق کی پاسداری میں ثابت قدم رہنے والوں کی جمیعت کے ساتھ شانہ بہ شانہ امتِ مسلمہ اور مزہب اسلام کی پیروی کر رہے ہیں. اس سے معلوم ہوا کہ انسانی اخلاقیات دراصل وہ عالمگیر حقیقتیں ہیں جن کو سب انسان جانتے ہیں اور ہمیشہ سے جانتے چلے آررہے ہے نیکی اور بدی کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہیں بلکہ شعور آدمی کی فطرت میں ہیں. قرآن اس حقیقت کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے فَاَلھَمَھَا فُجورَھا وَتقواھاَ یعنی نفسِ انسان خُدا نے بھلائی اور بُرائی کی واقفیت الہامی طور پر عطا کر رکھی ہیں.

” اخلاقی نظام پر مولانا سید ابو اعلیٰ  مودودیؒ  لکھتے ہے کہ اگر اخلاق کی بھلائی اور بُرائی جانی پہچانی چیزیں ہے اور دنیاں ہمیشہ بعض صِفات کے نیک اور بعض کے بد ہونے پر متفق رہی ہے تو پھر دنیاں میں مختلف اخلاقی نظام کیسے ہے اسلام کا جواب یہ ہے کہ اس کائنات کا مالک خدا ہے اور اسی کی اطاعت پر یہ سارا نظام چل رہا ہے.

اُم الکتاب وہ کتاب ہے جس سے ہمیں ہر زمانے میں اخلاقی ہدایت ملتی ہے اور صاحبِ قرآن کے مسنون طریقے ہمیں  زندگی کے ہر نشیب و فراض  میں ہماری رہنمائی کرتے ہے  اسلام اپنا ایک تصور کائنات اپنا معیار خیر و شر،  اپنا ماخزِ علمِ اخلاق؛  اپنی قوتِ نافزہ؛  اپنی قوتِ محرکہ الگ رکھتا ہے   اور ان ہی کے زریع اخلاقیات کے مواد اپنی قدر دل کے مطابق ترتیب دے کر انسان کو زندگی کے تمام شعبوں میں جاری کرتا ہے”

اعلیٰ اخلاق ۔۔۔۔ کچھ عرصہ قبل حسب معمول میں صبح سویرے  کام پر جارہا تھا کہ ایک سِکوٹی اور ایک تویرا گاڑی میں تصادم ہوا کوٸی مالی و جانی نقصان نہ ہوا ۔ سکوٹی پر تین نوجوان سوار تھے ۔ سکوٹی سے گرتے ہی تینوں نوجوانوں  نے جب ہوش سنبھالا تو تویرا گاڑی کے ڈرائيور پر یہ تینوں نوجوان اس طرح حملہ آور ہوٸے کہ اگر ڈرائيور دانش مندی نہ دکھاتے تو پھر اللہ ہی حافظ تھا ۔ ڈرائيور نے تینوں نوجوانوں کو یہ کہہ کر چپ کروایا  کہ میری ہی غلطی تھی یا میری ہی غلطی ہے ۔ نوجوانوں نے جب یہ اعترافِ غلطی کے بول سنے  تو ان کی جوانی کا جوش ایک ہی لمحہ میں منہدم ہوا  ۔ اور تیزی سے جو  ان کی سانسے چل رہی تھی ایک دم تھم گٸی ۔اور وہ اپنی مٹھیوں کو زور سے دانتوں سمیت مضبوطی سے دبا کے اپنی شرارت کی بڑھاس نکال رہے تھے یا یوں کہے غصہ پی رہے تھے۔

یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ معمولی بات پر بگڑ جاتا ہے چاہے شعوری ہو یا غیر شعوری ۔ اگر آپ خود سے یہ جانتے ہے کہ آپ اکثر لا شعوری میں جیتے ہے آپ جوش کے وقت ہوش نہیں رکھ پاتے بعد ازاں اپنی عقل پر ہی ماتم کرتے ہے۔ ایسے لوگوں کو پیشگی طور  ہميشہ اس کے لٸے تیار رہنا چاہیے کہ اپنے اندر مثبت positive فکر والے انسان کو جگا کے رکھے تاکہ وہ منفی negative فکر کے اوپر غالب رہکر  منفیت کو مثبت میں تبدیل کرے۔۔ نتيجہ مذکورہ بالا ۔۔کہ مثبت سوچ کے تحت معافی مانگ کے ابتدائی مرحلہ میں ہی رفع دفع کردیا۔ شریعت اسلامی میں اس کو پست اخلاق کے مقابلہ میں برتر یا اعلیٰ اخلاق کہتے ہے اور اسے حُسنِ اخلاق سے بھی تعبير کیا جاتا ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں اس لٸے بیجا گیا ہوں کہ حُسنِ اخلاق کی تکمیل کروں ایک حدیث میں یہ آیا ہیں کہ تین چیزیں اللہ تعالی کے نزدیک اعلیٰ اخلاق سے ہے ۔ جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو ۔ جو تم کو دینے سے مرحوم رکھے تم اس کو دو ۔ اور جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو ۔ اختصار سے اگر سمجھا جاٸے تو مطلب یہ ہے کہ آپ دوسرے کو اپنے مقابلہ میں دوسرا فریق مت سمجٸے بلکہ یہ سمجٸے کہ وہ بھی میرے ہی طرح ایک انسان ہے آپ کی حسن اخلاق سے اس کے اندرون سے بھی آپ جیسا اخلاقی انسان جاگے گا ۔ اعلیٰ اخلاق وہ ہے جس میں آدمی فریق ثانی کے رویہ سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرتا ہے ۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کے اخلاق بغير لفظی تکرار کے مثبت والے ہوں نہ کہ منفی سوچ کے تحت جوابی اخلاق ۔۔

مثبت اخلاق کی نشو نما میں ہم پر  بہت سی زمہ داریاں عائد ہوتی ہے یہ زمداریاں اجتماعی بھی ہے اور انفرادی بھی،  انفرادی زمہ داریاں سب سے پہلے والدین کی ہوتی ہے جسے اولین دانشگاہ بھی کہتے ہے بچے جو کچھ اپنے والدین سے بلوغیت کی عُمر تک سیکھتے ہے وہ ان کے اخلاق میں بھی نمایاں نظر آتا ہے والدین کو اپنے بچوں کو مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ  اخلاقی تعلیم کے نور سے بھی آراستہ کرنا چاہیے تاکہ وہ  اخلاقی  شعور کے ساتھ آگے بڈھ کر  اولاد صالحین کی صفوں میں شامل ہوسکے. اجتماعی زمہ داری  میں ہمیں ایسے سماج کی ضرورت ہے جہاں  بے حیائی، بے شرمی،  ظلم  جبر، قتل ، خونِ ناحق،  رشوت خوری غرض غلط کاموں سے پاک ماحول کی بنیاد ڈالنی لاظمِ ملظوم ہے کیونکہ ماحول کا اثر اخلاق پر بھی پڈھتا ہے مولانا رومیؒ کا فارسی میں ایک قول بہت مشہور ہے

صحبتِ صالح ترا صالح کند

صحبتِ طالح ترا طالح کند

یعنی نیک انسانوں کی صُحبت میں انسان نیکی سیکھتا ہے اور برے لوگوں کی صحبت میں انسان بُرائی سیکھتا ہے اسلیے ہم پر یہ زمہ داری عائد ہے کہ ہم ایسے سماج کا انتخاب کرے یا ایسا سماج اپنے آنے والی نسلوں کو فراہم  کرے جو اعلیٰ اخلاق کی قدروں کا آئینہ ہو. اس کی مثال ہمیں   ضحابہ سے ملتی ہےجن پر آپ ﷺ نے کم وبیش ساڈھے١٣ سال تک محنت کی اور جب وہ ایمان اور اخلاق میں پختہ ہوگئے تو  تو اُنہوں نے دینِ اسلام کی سرفرازی میں جو کردار ادا کیا وہ قابلِ دید ہیں

افکارِ اقبال، نظریاتِ اقبال اور تصورات اقبال ۔ تصور خودی، تصور بے خودی، تصور انسان کامل، تصور شاہین اور تصور فقر کا حاصل تصور اخلاق اسلامی ہے.

قرآنِ مجید میں اللہ عزوجل فرماتے ہے

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ. (الحشر :١٩)

’’اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھلا بیٹھے پھر اللہ نے اُن کی جانوں کو ہی اُن سے بھلا دیا (کہ وہ اپنی جانوں کے لیے ہی کچھ بھلائی آگے بھیج دیتے)

خدا کو بھول جانے کا نتیجہ نسیانِ ذات ہے۔ یہ نسیانِ ذات تقاضا ہائے حیوانیہ کا نسیان ہے نہیں؟ یہ تقاضا ہائے جسمانیہ کا نسیان ہے نہیں؟ تو نسیان سے یہاں مراد کیا ہے؟ فرمایا : تقاضا ہائے روحانیہ، حقیقتِ باطنیہ اور اخلاقیہ کا نسیان ہے۔ مفہوم مخالف عرفان ذات ہوا۔ عرفان ذات، تشکیل ذات ہے، تشکیل ذات تعمیر اخلاق ہے۔

وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ. (آل عمران ، 3 : 164)

’’اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘۔اس آیت مبارکہ میں تزکیہ کو مقدم اور تعلیم کتاب کو موخر رکھا گیا ہے اس سے اخلاق و تزکیہ کی غیر معمولی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جو تعلیم، تزکیہ کے بغیر ہو وہ شجر بے ثمر کی طرح ہے۔ وہ سعی لاحاصل کی طرح ہے۔ وہ کاوش بے نتیجہ کی طرح ہے۔ صرف حرف شناسی کردار سازی نہیں۔ علم کا خُمار سر پر رکھ کر بھی انسان بدتمیز زمانہ ہی رہتا ہے۔ کتابوں کو دیمک کی طرح چاٹ کے بھی بدخلقِ دھر ہی رہتا ہے۔ جو علم، تغیر اخلاق و تطہیر کردار کا باعث نہیں وہ ذہنی عیاشی تو ضرور ہے لیکن نتیجہ خیزی نہیں۔ قرآنی موضوعات میں مرکزی موضوع تعلیم الاخلاق ہے۔ کثیر آیات مقدسہ کا موضوع تشکیل کردار اور تجسیم اخلاق ہے۔

یوں تو اُم الکتاب میں  6236 آیات مقدسہ ایجابی اقدار (Positive values) یا منفی اقدار (Negative Values) کے متعلق ہیں۔ مگر ہر دو صورتوں میں حاصلِ تعلیم اخلاق ہے۔ ’’اخلاق الانبیاء والصالحین‘‘ موضوعات قرآنیہ میں اہم ترین موضوع ہے۔

مثل حیواں، خوردن، آسودن چہ سود

گر بخود محکم نہ بودن چہ سود

’’حیوان کی طرح کھانے سونے میں کیا فائدہ گر تو محکم و مضبوط نہیں تو تیرے وجود کا کیا فائدہ؟‘‘

یہ محکم بودن (مضبوط و مستحکم کا ہونا) کیا ہے؟ محکم اخلاق عالیہ ہونا، مستحکم اخلاق عظیم ہونا ہے تب ہی زندگی با مقصد ہے ، با معنی ہے ، با مراد ہے۔

علامہ اقبال فرماتے ہے

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں

جس علم کا حاصل ہے دو کف جو!

تصور علم، تصور اخلاق کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ علم جو صرف شکم پری کے لیے ہو بلند معیار زندگی کے لیے نہ ہو یعنی علم برائے معاش ہو وہ زہر ھلاہل ہے، وہ سم قاتل ہے۔ آپ جس علم کے داعی ہیں وہ انسان ساز، اخلاق ساز، کردار ساز ہونا چاہیے ۔

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز

قرآن حکیم نے اسی کو فرمایا ہے :

وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا.(البقره : ٨٣)

’’عام لوگوں سے (بھی نرمی اور خوش خُلقی کے ساتھ) نیکی کی بات کہنا‘‘۔لوگوں سے احسن طرز تعلم اختیار کرو۔ ’’للناس‘‘ نے اس کے دائرہ کو کائنات پر پھیلادیا۔ اپنے بیگانے کے فرق مٹادیئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” لايدخل الجنة الجواظ” جنت میں سخت کلام، درشت بیان داخل نہ ہوگا اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا تحرم النار عليه علی کل هين لين یعنی نرم گفتگو کرنے والے پر دوزخ کی آگ حرام کردی گئی۔ ۔ ۔

اسلام کا اخلاقی نظام ہمیں تفرق discrimination  سے پاک  نظام فراہم کرتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا "لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاسود علی احمر ولا لاحمر علی اسود کلکم بنو آدم وآدم من تراب ” کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی، کسی کالے کو گورے پر کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں۔ سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تھے.

آپ ﷺ نے فرمایا انَّ أکْمَلَ الموٴمنینَ ایماناً أحسنُہم خُلقاً وألطفُہم کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو اور اپنےاہل وعیال کے لیے نرم خو ہو۔ خلق السلام الحياء ’’ اخلاق عالیہ اسلام میں حیا ہے‘‘۔ ۔ ۔ ان الحياء والايمان قرنا جميعا ’’ ایمان اور حیاء باہم متصل، پیوست ہیں‘‘۔   لیکن آج کا دور قدر مسمار دور ہے۔ اخلاق مسمار دور ہے۔ حیاء کو جھجھک کا نام دیتے، ہم ذرا نہیں جھجھکتے، شرم کا نام ہم کسی شرم کے بغیر لیتے ہیں۔ (Replacement of ethics) تبدیلی اخلاق کا یہ دور سیاہ ہے۔ آج علوم جدیدہ کا اثر طبیعت حیا کے پردے چاک کررہا ہے. آپ ﷺ نے فرمایا ” وَخَالِقِ ا لنَاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ” اور  لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ سے پیش آو ِ(ترمذی 1897) اخلاق انسان کا بہترین زیور ہے اس زیور کی حفاظت کر کےدینِ حق کی حقیقی معنوں میں نمائندگی کرے..

تبصرے بند ہیں۔