اسلام میں ‘جمعہ’ کی اہمیت

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ساری کائنات پیدا فرمائی اور ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ سات دن بنائے اور جمعہ کے دن کو دیگر ایام پر فوقیت دی۔ جمعہ کے فضائل میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے تمام ایام میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورہ نازل ہوئی ہے جس کی رہتی دنیا تک تلاوت ہوتی رہے گی ان شاء اللہ۔ سورۂ جمعہ مدنی سورہ ہے، اس سورہ میں ۱۱ آیات اور ۲ رکوع ہیں۔ اس سورہ کی آخری ۳ آیات میں نمازجمعہ کا تذکرہ ہے، جن کا مفہوم یہ ہے: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے، یعنی نماز کی اذان ہوجائے تو اللہ کی یاد کے لیے جلدی کرو، اور خرید وفروخت چھوڑدو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ {آیت ۹} اور جب نماز ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو یعنی رزق حلال تلاش کرو۔ اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ یعنی نماز تو صرف اسی جگہ ادا کرسکتے ہو لیکن ذکر ہر جگہ کرسکتے ہو۔ دیکھو مجھے بھول نہ جانا، کام کرتے ہوئے، محنت مزدوری وملازمت کرتے ہوئے ہر جگہ مجھے یاد رکھنا۔ {آیت ۱۰} جب لوگ سودا بکتا دیکھتے ہیں یا تماشہ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو فرمادیجئے جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے تماشے سے اور سودے سے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں۔ {آیت ۱۱}

جمعہ کا نام جمعہ کیوں رکھا گیا:

اس کے مختلف اسباب ذکر کئے جاتے ہیں: (۱) جمعہ جمع سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں جمع ہونا۔ کیونکہ مسلمان اس دن بڑی مساجد میں جمع ہوتے ہیںاور امت مسلمہ کے اجتماعات ہوتے ہیں، اس لیے اس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۲) چھ دن میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور تمام مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جمعہ کے دن مخلوقات کی تخلیق مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہوگئی اس لیے اس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۳) اس دن یعنی جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، یعنی ان کو اس دن جمع کیا گیا۔

اسلام کا پہلا جمعہ:

یوم الجمعہ کو پہلے یوم العروبہ کہا جاتا تھا۔ نبی اکرمﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے اور سورۂ جمعہ کے نزول سے قبل انصار صحابہ نے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ یہودی ہفتہ کے دن اور نصاریٰ اتوار کے دن جمع ہوکر عبادت کرتے ہیں۔ لہٰذا سب نے طے کیا کہ ہم بھی ایک دن اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے جمع ہوں۔ چنانچہ حضرت ابوامامہؓ کے پاس جمعہ کے دن لوگ جمع ہوئے، حضرت اسعد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ نے دو رکعات نماز پڑھائی۔ لوگوں نے اپنے اس اجتماع کی بنیاد پر اس دن کا نام یوم الجمعہ رکھا ۔ اس طرح سے یہ اسلام کا پہلا جمعہ ہے۔ (تفسیر قرطبی)

نبی اکرمﷺ کا پہلا جمعہ:

نبی اکرمﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے قریب بنو عمروبن عوف کی بستی قبا میں چند روز کے لیے قیام فرمایا۔ قبا سے روانہ ہونے سے ایک روز قبل جمعرات کے دن آپ ﷺ نے مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ جمعہ کے دن صبح کو نبی اکرمﷺ قبا سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ جب بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہونچے تو جمعہ کا وقت ہوگیا، تو آپﷺ نے بطن وادی میں اس مقام پر جمعہ پڑھایا جہاں اب مسجد (مسجد جمعہ) بنی ہوئی ہے۔ یہ نبی اکرمﷺ کا پہلا جمعہ ہے۔ (تفسیر قرطبی)

جمعہ کے دن کی اہمیت کے متعلق دو حدیثیں:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں، یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے۔ (صحیح ابن حبان) رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا: مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے لہذا اس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو۔ (طبرانی، مجمع الزوائد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہفتہ کی عید ہے۔

جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی:

رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: اس میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے۔ (بخاری) احادیث کی روشنی میں جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کے متعلق علماء نے دو وقتوں کی تحدید کی ہے: (۱) دونوں خطبوں کا درمیانی وقت، جب امام منبر پر کچھ لمحات کے لیے بیٹھتا ہے۔ (۲) غروب آفتاب سے کچھ وقت قبل۔

نماز ِجمعہ کی فضیلت:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ (مسلم) یعنی چھوٹے گناہوں کی معافی ہوجاتی ہے۔

جمعہ کی نماز کے لیے مسجد جلدی پہونچنا:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پہلے آنے والے کا نام پہلے، اس کے بعد آنے والے کا نام اس کے بعد لکھتے ہیں(اسی طرح آنے والوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب سے لکھتے رہتے ہیں)۔ جب امام خطبہ دینے کے لیے آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر (جن میں آنے والوں کے نام لکھے گئے ہیں) بند کردیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ (مسلم) خطبہ ٔجمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد پہونچنے والے حضرات کی نماز جمعہ تو ادا ہوجاتی ہے، مگر نماز جمعہ کی فضیلت ان کو حاصل نہیں ہوتی۔

خطبۂ جمعہ:

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ نماز سے قبل دو خطبے دئے جائیں۔ کیونکہ نبی اکرمﷺ نے ہمیشہ جمعہ کے دن دو خطبے دئے۔ دونوں خطبوں کے درمیان خطیب کا بیٹھنا بھی سنت ہے۔ (مسلم) منبرپر کھڑے ہوکر ہاتھ میں عصا لے کر خطبہ دینا سنت ہے۔

دوران خطبہ کسی طرح کی بات کرنا حتی کہ نصیحت کرنا بھی منع ہے: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے روز دوران خطبہ اپنے ساتھی سے کہا (خاموش رہو ) اس نے بھی لغو کام کیا۔ (مسلم) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا یعنی دوران خطبہ ان سے کھیلتا رہا (یا ہاتھ ، چٹائی، کپڑے وغیرہ سے کھیلتا رہا) تو اس نے فضول کام کیا (اور اس کی وجہ سے جمعہ کا خاص ثواب ضائع کردیا)۔ (مسلم) حضرت عبد اللہ بن بسرؓ  فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آیا جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بیٹھ جا، تونے تکلیف دی اور تاخیر کی۔ (صحیح ابن حبان) نوٹ: جب امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا منع ہے، بلکہ پیچھے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔

جمعہ کی نماز کا حکم:

جمعہ کی نماز ہر اُس مسلمان، صحت مند، بالغ، مرد کے لیے ضروری ہے جو کسی شہر یا ایسے علاقے میں مقیم ہو جہاں روز مرہ کی ضروریات مہیّا ہوں۔ معلوم ہوا کہ عورتوں، بچوں، مسافر اور مریض کے لیے جمعہ کی نماز ضروری نہیں ہے۔ البتہ عورتیں، بچے، مسافر اور مریض اگر جمعہ کی نماز میں حاضر ہوجائیں تو نماز ادا ہوجائے گی۔ ورنہ ان حضرات کو جمعہ کی نماز کی جگہ ظہر کی نماز ادا کرنی ہوگی۔ اگر آپ صحراء میں ہیں جہاں کوئی نہیں، یا ہوائی جہاز میں سوار ہیں تو آپ ظہر کی نماز ادا فرمالیں۔ نماز جمعہ کی دو رکعات فرض ہیں، جس کے لیے جماعت کی نماز شرط ہے۔ جمعہ کی دونوں رکعات میں جہری قراء ت ضروری ہے۔

جمعہ کی چند سنتیں:

جمعہ کے دن غسل کرنا واحب یا سنت مؤکدہ ہے،یعنی عذر شرعی کے بغیر جمعہ کے دن کے غسل کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ پاکی کا اہتمام کرنا، تیل لگانا، خوشبو استعمال کرنا اور حسب استطاعت اچھے کپڑے پہننا سنت ہے۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل گناہوں کو بالوں کی جڑوں تک سے نکال دیتا ہے، یعنی چھوٹے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، بڑے گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ اگر چھوٹے گناہ نہیں ہیں تو نیکیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ (طبرانی، مجمع الزوائد) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، جتنا ہوسکے پاکی کا اہتمام کرتا ہے اور تیل لگاتا ہے یا خوشبو استعمال کرتا ہے، پھر مسجد جاتا ہے، مسجد پہنچ کر جو دو آدمی پہلے سے بیٹھے ہوں ان کے درمیان میں نہیں بیٹھتا، اور جتنی توفیق ہو جمعہ سے پہلے نماز پڑھتا ہے، پھر جب امام خطبہ دیتا ہے اس کو توجہ اور خاموشی سے سنتا ہے تو اس شخص کے اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک کے گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔ (بخاری) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، پھر مسجد میں آیا، اور جتنی نماز اس کے مقدر میں تھی ادا کی، پھرخطبہ ہونے تک خاموش رہا اور امام کے ساتھ فرض نماز ادا کی، اس کے جمعہ سے جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔ (مسلم)

نمازِ جمعہ چھوڑنے پر وعیدیں:

نبی اکرم ﷺ نے نماز جمعہ نہ پڑھنے والوں کے بارے میں فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں پھر جمعہ نہ پڑھنے والوں کو ان کے گھروں سمیت جلا ڈالوں۔ (مسلم) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے رک جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا، پھر یہ لوگ غافلین میں سے ہوجائیں گے۔ (مسلم) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے تین جمعہ غفلت کی وجـہ سے چھوڑ دئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ (نسائی، ابن ماجہ، ترمذی، ابوداود)

جمعہ کے دن یا رات میں سورۂ کہف کی تلاوت:

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورۂ کہف کی تلاوت جمعہ کے دن کرے گا، آئندہ جمعہ تک اس کے لیے ایک خاص نور کی روشنی رہے گی۔ (نسائی، بیہقی، حاکم) سورۂ کہف کے پڑھنے سے گھر میں سکینت وبرکت نازل ہوتی ہے۔ حضرت براء بن عازبؓ  فرماتے ہیںکہ ایک مرتبہ ایک صحابیؓ نے سورۂ کہف پڑھی، گھر میں ایک جانور تھا، وہ بدکنا شروع ہوگیا، انہوں نے غور سے دیکھا کہ کیا بات ہے؟ تو انہیں ایک بادل نظر آیا جس نے انہیں ڈھانپ رکھا تھا۔ صحابی نے اس واقعہ کا ذکر جب نبی اکرمﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سورۂ کہف پڑھا کرو۔ قرآن کریم پڑھتے وقت سکینت نازل ہوتی ہے۔ (بخاری ومسلم)

جمعہ کے دن درود  شریف پڑھنے کی خاص فضیلت:

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے۔ اس دن کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود پڑھنا مجھے پہونچایا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ابوداود، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے درود پڑھا کرو، جو ایسا کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا۔ (بیہقی)

جمعہ کے دن یا رات میں انتقال کرجانے والے کی خاص فضیلت:

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں انتقال کرجائے، اللہ تعالیٰ اس کو قبر کے فتنہ سے محفوظ فرمادیتے ہیں۔ (مسند احمد ، ترمذی) اس نوعیت کی حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ جو شخص بھی جمعہ کے دن انتقال کرجائے اسے یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی۔

تبصرے بند ہیں۔