اشہر الحرم کی حکمت اور حرمت

امام علی مقصود فلاحی

اللہ رب العزت نے اس کائنات میں بےشمار مخلوقات کو پیدا کیا اور پیدا کرنے کے بعد یوں ہی آوارہ نہیں چھوڑا بلکہ انہیں میں سے کسی کو چن کر بقیہ تمام لوگوں کا سربراہ بنایا تاکہ وہ قوم کی رہبری کرے، جیسے کہ ہم خود اپنے آپ کو دیکھ لیں اللہ نے ہمیں پیدا کرنے کے بعد یوں ہی نہیں چھوڑا بلکہ ہم انسانوں میں سے ہی ایک شخص کو چنا، جسکا نام محمد صلی االلہ علیہ السلام رکھا اور اسے ہم تمام لوگوں کا رہبر بنا دیا۔

 معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی ہمیشہ سے یہ سنت رہی ہے کہ جب بھی اس نے کسی چیز کو پیدا کیا تو اسی میں سے کسی ایک کو بقیہ تمام لوگوں کا رہبر بنایا ہے، بقیہ تمام لوگوں پر فوقیت بخشی ہے۔

چنانچہ اللہ نے اس کائنات میں بےشمار راتوں کی پیدا کیا لیکن انہیں راتوں میں سے ایک رات یعنی لیلة القدر کو بقیہ راتوں پر فضیلت بخشی، اسی طرح اللہ نے اس کائنات میں بےشمار دنوں کو پیدا کیا لیکن انہیں دنوں میں سے ایک دن یعنی جمعہ المبارک کو بقیہ دنوں سے افضل بنادیا۔ اسی طرح اللہ نے اس کائنات میں بے شمار شہروں کو پیدا کیا لیکن انہیں شہروں میں سے ایک شہر یعنی مکہ المکرمہ کو افضل اور اشرف بنادیا، اسی طرح اللہ نے اس کائنات میں بےشمار کتابوں اور صحیفوں کو نازل کیا لیکن انہیں کتابوں میں سے ایک کتاب یعنی قرآن مجید کو باقی تمام کتابوں سے معزز و محترم بنادیا۔ اسی طرح اللہ نے اس کائنات میں بےشمار مہینوں کو پیدا کیا لیکن انہیں مہینوں میں سے چند مہینوں کو معزز و محترم بنادیا۔

قارئین کرام! اسلام نے چار مہینوں (رجب، ذوالقعدہ، ذو الحجہ اور محرم) کو معزز و محترم قرار دیا ہے، جسے قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:

بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتہ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھے) ہیں جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار مہینے (رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے سو تم ان مہینوں میں (ازخود جنگ و قتال میں ملوث ہو کر) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا اور تم (بھی) تمام مشرکین سے اسی طرح (جوابی) جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب کے سب (اکٹھے ہو کر) تم سے جنگ کرتے ہیں، اور جان لو کہ بیشک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔(التوبہ، 9 : 36)

ان مہینوں کی عظمت و برتری اسلام کے آغاز سے پہلے بھی تھی اور اسلام سے پہلے دوسری آسمانی مذاہب میں تسلیم کی گئی تھی، یہاں تک کہ مکہ کے مشرکین کفر و شرک کی حالت میں بھی ان مہینوں کی عظمت و فضیلت کے قائل تھے۔ اسلام کے آغاز تک ان مہینوں میں جہاد و قتال بھی منع تھا اور ساتھ ہی ان مہینوں میں عبادات و اتحاد کی خاص فضیلت رکھی گئی تھی۔ اور اب بھی ان مہینوں میں عبادت کی فضیلت برقرار ہے۔

حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا:

’’سال بارہ مہینوں کا ہے، جن میں چار حرمت والے ہیں، تین پے در پے ہیں اور وہ ذوالقعدۃ، ذوالحجہ اور محرم ہیں اور چوتھا مہینہ رجب مضر ہے جو کہ جمادی الثانیہ اورشعبان کے درمیان آتا ہے‘‘۔(بخاری)۔

جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ حرمت والے مہینے چار ہیں تین تو اس میں سے مسلسل ہیں اور ایک الگ ہے،اسکی وجہ یہ ہے کہ حج و عمرہ کے مناسک کو ادا کیا جا سکے۔

حج سے پہلے ایک مہینے یعنی ذی القعدہ کو اس لیے حرمت والا قرار دیا گیا تاکہ وہ اس مہینے میں جنگ و جدال سے باز رہیں۔ ذی الحجہ کو اس لیے حرمت والا مہینہ قرار دیا تاکہ وہ مناسک حج ادا کر سکیں اور اس کے بعد ماہ محرم کو اس لیے حرمت والا قرار دیا تاکہ امن و سکون سے اپنے اپنے علاقوں میں لوٹ جائیں۔

 اور سال کے درمیان میں ماہ رجب کو اس لیے حرمت والا قرار دیا تاکہ جزیرۃ العرب کے دور دراز کے علاقوں میں سے آکر اگر کوئی عمره کرنا چاہے تو اس سے فارغ ہو کر اپنے وطن بآسانی لوٹ جائے۔اسی بات کو حافظ ابن کثیر ؒ نے بھی بیان کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ ذوالقعدہ میں جو کہ حج والے مہینے سے پہلے آتا ہے، وہ لوگ قتال بند کر دیا کرتے تھے اور ذوالحجہ کے مہینے میں وہ حج ادا کیا کرتے تھے، پھر اس کے بعد ایک اور مہینہ بھی حرمت والا قرار دے دیا تاکہ وہ امن و امان سے اپنے وطن کو لوٹ سکیں، پھر سال کے درمیان ایک اور مہینہ حرمت والا قرار دیا تاکہ وہ عمرہ اور زیارتِ بیت اللہ کے لیے امن سے آ جا سکیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اشہر حرم کو کیوں محترم بنایا گیا، اسکی کیا حکمت ہے؟

حکمت عملی یہ ہے کہ جو اللہ تعالی کو ماننے والے غلط فہمی کی وجہ سے آپس میں لڑ رہے ہوں گے وہ جب لڑائی بند کریں گے ان کو سوچنے، بات چیت کرنے اور معاملہ کو سمجھنے کا موقع مل جائے گا۔

چونکہ زمانہ جاہلیت میں لوگ مسلسل جنگ و جدال کیا کرتے تھے، انکو صلح کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔

اس لیے ہو سکتا ہے وقفے کے دوران مذاکرات ہو جائیں اور امن وامان قائم ہو جائے، قتل وغارت سے بچت ہو جائے۔

صاحب معارف القرآن لکھتے ہیں کہ‌ ان مہینوں کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا، ایک تو اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں کہ ان میں عبادات کا ثواب (دیگر ایام کے بالمقابل) زیادہ ملتا ہے، ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہوگیا، مگر دوسرا حکم احترام وادب اور ان میں عبادت گزاری کا (خصوصی) اہتمام، اسلام میں بھی باقی ہے۔

بعض محققین کے مطابق اسلام نے ان چار مہینوں کو اس لیے حرام کیا تاکہ اسکے ذریعے یہ ثابت کر سکے کہ اسلا چین و سکون اور امن و امان کا مذہب ہے، اسلام تشدد کو پسند نہیں کرتا بلکہ امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔

اشہر حرم میں نیکیوں کے اجر اور گناہ کی سزا میں اضافہ۔:

محققین کے مطابق ان مہینوں میں گناہوں سے بطور خاص بچنا اور ترک معاصی کا اہتمام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک ہے اور اوقات و ایام بھی اس کی ملکیت ہیں۔ اس نے جس طرح بعض ایام کو یہ خاصیت بخشی ہے کہ ان میں نیکی کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے جیسے عشرہ ذی الحجہ، رمضان المبارک، یوم عاشور وغیرہ۔ اسی طرح اس کا فیصلہ ہے کہ بعض ایام میں گناہوں کے وبال اور شناعت کو بھی بڑھا دیا ہے۔ جس طرح بندے فضیلت والے ایام میں نیکیوں پر کمر بستہ ہوتے ہیں اور خوب محنت، رغبت اور تن دہی کے ساتھ انہیں کمانے کی فکر کرتے ہیں، اسی طرح انہیں تاکید کی گئی ہے کہ یہ چار مہینے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص عزت و حرمت والے ہیں ،ان میں اگر کوئی گناہ کیا جائے تو وہ سال کے دیگر ایام کی بنسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ بُرا شمار کیا جاتا ہے اور اس پر زیادہ ناراضگی کا خطرہ ہے لہٰذا ان میں خاص محنت کے ساتھ گناہوں سے بچا جائے۔

 علامہ قرطبی رحمہ اللہ علیہ نے لکھا ہے:

تم ان مہینوں میں گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو کیوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب ایک جہت سے کسی شئے کو عظیم بنا دیتا ہے تو اس کے لیے ایک حرمت ہو جاتی ہے اور جب وہ اُسے دو جہتوں سے یا کئی جہتوں سے عظیم بنا دے تو پھر اس کی حرمت بھی متعدد ہوتی ہے۔

 پس اس میں بُرے عمل کے سبب سزا دو گنا کر دی جاتی ہے اور اسی طرح عمل صالح کے سبب ثواب بھی دو گنا کر دیا جاتا ہے کیوں کہ جس نے حرمت والے مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو اس کا ثواب اس آدمی کے ثواب کی مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حرام میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے حلال مہینے میں شہر حرام میں اس کی اطاعت کی تو اس کا ثواب بھی اس ثواب کا مثل نہیں ہوگا جس نے حلال مہینے میں بلد حلال میں اس کی اطاعت کی۔

 افسوس جس مہینہ کو عصر جہالت میں بھی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور جنگجویانہ جاہلی مزاج بھی ان مہینوں میں جنگ و جدال کو ترک کر دیتا تھا متمدن دنیا کا مسلمان اس مہینہ میں بھی ایک دوسرے کے خون کا پیاسہ ہے ، یمن پر مسلسل سعودی عرب کی جانب سے تباہ کن حملے ہو رہے ہیں ،شام کی سرزمین پر دہشت گردوں کو پیچھے کھدیڑ دینے کے کے باجود عالمی طاقتوں کی جانب سے درپردہ انکی پشت پناہی جاری ہے جس کے نتیجہ میں نہ جانے کتنے بے گناہوں کا قتل عام ہو رہا ہے ، اوران طاقتوں کے ساتھ بعض مسلم ممالک کھڑے نظر آ رہے ہیں جو خاص حرمت رکھنے والے مہینوں میں بھی نہ صرف اس مہینہ کی حرمت کے قائل نہیں بلکہ انسانی حرمت کابھی انہیں پاس و لحاظ نہیں ، کیا یہ ایک مارڈن و جدید جہالت نہیں کہ جہاں جاہلیت بھی مسلمانوں کے طرز عمل کو دیکھ کر شرمندہ ہے کہ جو قرآن انسانوں کی حرمت کی بات کرتا ہے جو شہر حرام کی اہمیت کے پیش نظر انہیں اسلام میں اعتبار دیتے ہوئے انکی قداست کا احترام کرتا ہے اسی قرآن کے ماننے والے قرآنی احکامات و آیات کو بھلا کر استعمار کی چالوں میں یوں پھنسے نظر آتے ہیں عالمی سامراج انکی حماقتوں پر خندہ زن ہے اور وہ ایک ہر ایک پیغام امن کو بھلا کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں

کاش ان مسلمانوں کو اتنی ہی عقل آجاتی جتنی دور جاہلیت کے بدووں کو تھی کہ ان چار مہینوں پر تمام تر جھگڑوں کو بھلا کر وہ جنگ و خونریزی سے ہاتھ کھینچ لیتے تھے ، کیا آج کے دور کے نام نہاد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے مسلمانوں کو دور جاہلیت سے زیادہ گیا گزرا کہا جائے تو کچھ غلط ہوگا ؟

آج دیکھ لیں فلسطین کا کیا حال بنایا دیا ، ملک شام کیا کیا حال بنادیا، انہیں جو نشانہ بنایا جارہا ہے، اسمیں یہ دیکھا نہیں جارہا کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ایا حرمت کا مہینہ ہے یا کوئی اور مہینہ، ان پر تو حرمت والے مہینے پرواہ کئے بغیر سال کے بارہوں مہینے میں بم باری ہوتی رہتی ہے۔

 کیا سعودیہ عرب، اور دوسرے مسلم ممالک انکی تباہ کاری میں ملوث نہیں ہیں؟ کیا مسلم ممالک میں اب حرمت والے مہینے بھی ختم ہو گئے، کیا انکے یہاں اشہر حرم کوئی قدر نہیں رہی ؟ کیا اقوام متحدہ میں انکا شمار نہیں ہے؟ اگر ہے تو سعودیہ عرب اور دوسرے مسلم ممالک فلسطین کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے ہیں؟

سعودیہ عرب امریکہ کی چاپلوسی کیوں کر رہا ہے؟ امریکہ سے بغاوت کیوں نہیں کر رہا ہے؟ مسلمانوں کا ساتھ کیوں نہیں دے رہا ہے؟

کیا تمام مسلم ممالک یک جٹ ہوکر مسئلہ فلسطین کو حل نہیں کر سکتے؟ ضرور کر سکتے ہیں، لیکن کرنا نہیں چاہتے۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم ممالک یک جٹ ہوکر مسئلہ فلسطین کو حل کریں۔

تبصرے بند ہیں۔