اللہ سے اپنا تعلق مضبوط بنائیں

محبوب عالم عبدالسلام

امام غزالی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ : “بندے کی اپنے رب سے دوری بندے کو بندے سے دور کر دیتی ہے۔” یعنی بندہ جب اللہ سے دوری اختیار کرلیتا ہے، اس کی یاد سے غفلت برتتا ہے، اس کے احکام و فرامین سے منہ موڑتا ہے، تو لامحالہ وہ اللہ کے بندوں سے بھی دور ہوجاتا ہے، ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کو پسِ پشت ڈال کر صرف اپنی ذات کے خول میں بند ہوجاتا ہے، اپنی ضرورتیں اور اپنے مفاد اس کے پیش نگاہ ہوتی ہیں۔ قرآن کریم میں بیشتر مقامات پر تعلق باللہ اور ذکر الہی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور اللہ کے ذکر سے اپنی زبان تر رکھنے والوں کی مدح و ستائش اور اُس سے منہ پھیرنے والوں کی زجر و توبیخ اور عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ انسان جب اللہ کو یاد کرتا ہے، صوم و صلاۃ کا پابند ہوتا ہے، اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالتا ہے، تو براہ راست اس کا تعلق اللہ سے مضبوط ہوجاتا ہے۔ وہ تنہائی میں ہو یا محفل میں ہر لمحہ اللہ کی یاد اُس کے دل میں موجود رہتی ہے، اُس کے خوف سے اُس کا دل لرزاں رہتا ہے۔ آدمی کے پاس اگر چہ سب کچھ میسر ہو، مال و دولت کی فراوانی ہو، رہنے کے لیے کشادہ و پُر سکون گھر ہو، خوب صورت بیوی ہو، فرماں بردار بچے ہوں؛ غرض دنیا کی ہر آسائش اُس کے پاس موجود ہو، لیکن اگر قلبی سکون اُسے میسر نہیں، بے چینی اور ڈپریشن کا شکار ہے تو تمام طرح کی آسائشیں اُس کے لیے بے معنی ہیں۔ قلبی سکون تو اللہ کی رضا و خوشنودی اور اُس کی یاد سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : “أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ.”  آگاہ ہوجاؤ! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (سورہ رعد : 28) چناں چہ جب بندے کا تعلق اللہ سے مضبوط ہوجاتا ہے تو اُسے سکون کی دولت نصیب ہوجاتی ہے، کم وسائل اور فراوانی کے باوجود بھی وہ سکون کی زندگی بسر کرتا ہے۔ چین کی نیند کے لیے وہ سکون آور ادویات کا استعمال نہیں کرتا ہے۔ اس کے برعکس جب بندہ اللہ سے غفلت برتتا ہے، اس کا دل اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے، شرعی معاملات میں مَن مانی کرتا ہے، نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا ہے، نماز کی ادائیگی اُسے گراں محسوس ہوتی ہے، روزہ کی حالت میں بھوک و پیاس کی شدت اُسے برداشت نہیں ہوتی ہے، بندوں پر رحمت و شفقت سے دور بھاگتا ہے، تو نتیجتاً اس کا دل ویران ہوجاتا ہے، شیطان کی آماجگاہ بن جاتا ہے، شیطان اُس کے دل و دماغ پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اللہ رب العالمین نے قرآن کریم کے اندر سورہ زخرف میں فرمایا : “وَمَن یَعْشُ عَن ذِکْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَیِّضْ لَهُ شَیْطَانًا فَھُوَ لَهُ قَرِینٌ.” اور جو کوئی رحمان کے ذکر سے منہ موڑتا ہے، اس پر ہم ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں، جو اس کا ساتھی بنا رہتا ہے۔ ( سورہ زخرف : 36)

مذکورہ آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ بندہ جب اللہ کی یاد سے اعراض کرتا ہے تو اس پر ایک شیطان مسلط کر دیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جس شخص پر شیطان مسلط ہوجائے گا تو اسے مختلف قسم کی برائیوں میں مبتلا کرے گا اور طرح طرح کی اذیتوں سے بھی دوچار کرے گا، کیوں کہ شیطان تو انسان کا ازلی دشمن ہے وہ تو ابتدائے آفرینش سے ہی چاہتا ہے کہ انسان راہِ حق سے بھٹک کر ضلالت و گمراہی کی عمیق دلدل میں چلا جائے اور جہنم کی ہولناکیاں اس کا مقدر بن جائیں۔ شیطان جس کا ساتھی بن جائے گا تو اسے مختلف قسم کے وسوسوں اور شبہات میں مبتلا کرے گا، نیکیوں کو معمولی اور برائیوں کو سجا سنوار کر اُس کے سامنے پیش کرے گا، اُسے اللہ سے بھی دور کرے گا اور بندوں کی خیر خواہی اور الفت و محبت سے بھی دور رکھے گا۔

ہم خود غور کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اللہ رب العالمین کا وفادار نہیں ہے، اس کے ساتھ بے وفائی کرتا ہے، اس کے حقوق کی پاسداری نہیں کرتا، انعاماتِ خداوندی پر شکر نہیں بجا لاتا، انواع و اقسام کی نعمتیں پاکر بار گاہِ صمدی میں سجدہ ریز نہیں ہوتا، اونچے عہدے و مناصب پاکر اِتراتا ہے، اپنے ماتحتوں کی معمولی فروگذاشت پر دھونس جماتا ہے۔ تو بھلا وہ شخص دوسروں کا کیا خیال رکھے گا؟ دوسروں کی ضروریات کو کیا سمجھے گا؟ دوسروں کے ساتھ ایثار و ہمدردی کا برتاؤ کیوں کر کرے گا؟ غریب و لاچار تڑپتے رہیں، یتیم و بیوہ سسکتے رہیں، ننگے بھوکے بلکتے رہیں، اُس سے اُس کو کیا سروکار!! اور یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ اللہ اور اس کے بندوں سے دوری ہی ذہنی انتشار کا سبب بنتی ہے۔ جہاں سے نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں، آدمی اضطراب و بے چینی کا شکار ہوجاتا ہے، ایک دوسرے سے بدزبانی کرتا ہے، بیوی بچوں کو زد و کوب کرتا ہے، ہمسایوں کو تکلیف پہنچاتا ہے، رشتے داروں سے قطع تعلقی کرتا ہے، معمولی معمولی بات پر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، رحم دلی و ہمدردی اس کے اندر سے عنقا ہوجاتی ہے، ہر قسم کی سہولتیں میسر ہونے کے باوجود بھی وہ بے کیف سی زندگی بسر کرتا ہے۔ اُلجھنیں، مایوسیاں، پریشانیاں، جی گھبرانا، بے خوابی کا شکار ہونا، دوسروں کو دیکھ کر جلنا، خود کشی کی طرف طبیعت کا مائل ہونا، غرض اس نوع کی بے شمار مصیبتیں اس کے اندر جڑ پکڑ کر اس کے چین و سکون کو غارت کرتی رہتی ہیں۔ اور پھر بہ تدریج اُسے جسمانی بیماریاں لاحق ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ نفسیات کے ماہرین کے بقول 80 فیصد جسمانی مریض دراصل نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

 ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، اس کے احکامات پر عمل کریں، اس کے ذکر و اذکار سے اپنی زبان تر رکھیں، بندوں کے حقوق کی مکمل رعایت کریں، مشکل و پریشانی کے لمحات میں بھی خوش و خرم رہنا سیکھیں، غم و الم کی چادر اوڑھ کر بیماریوں کو دعوت نہ دیں، ورنہ تندرست و توانا ہونے کے باوجود بھی ہسپتالوں کے چکر کاٹیں گے، فراغت و خوش حالی کے باوجود بھی قلبی راحت و سکون سے محروم ہوکر ذہنی و نفسیاتی اذیتیں ہمارا جینا دوبھر کر دیں گی۔ اللہ ہمیں سکون کی دولت سے مالا مال کرے۔۔آمین!

تبصرے بند ہیں۔