اوقاف اور اس کے احکام

مفتی محمد ریاض ارمان قاسمی

(نائب قاضی شریعت دارالقضاء ناگپاڑہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈممبئی)

مال ومتاع کے حقیقی کے مالک صرف اللہ تعالیٰ ہیں، انسان  صرف اس کاامین ہے، اور امین کو چاہیے کہ وہ اس کو اللہ کی رضاء کے مطابق خرچ کرے۔مالی نظام میں زکوۃ، عشر، خمس، جزیہ، صدقۃ الفطر کے ساتھ اوقاف کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے صدقہ وخیرات کا مکمل ومنظم نظام پیش کیا ہے۔ اورمسلمانوں کوفلاح دارین(دونوں جہاں کی کامیابی ) کا تصور دیا،جس میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا تصور  بھی پایا جاتا ہے۔اسی طرح آخرت سنوارنے کے ساتھ دنیا سنوارنے کی اجازت دی گئی ہے، اوراوقاف  کا نظام  دنیاسنوارنے کے ساتھ آخرت سنوارنے  کی ایک کڑی ہے۔جس سے معاشی کمزوریوں کو دور کیا جاسکتا ہے،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے  مالداروں کے مالمیں غریبوں کا بھی حق رکھا ہے، ارشاد ہے”وفی اموالھم حق للسائل والمحروم”(سورہ الذاریات ١٩)۔ اسلام نےانفاق فی سبیل اللہ (اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے ) کا حکم دیا  جس میں بے انتہاء وسعت ہے،انفاق فی سبیل اللہ میں صدقہ بھی شامل ہے۔ اور بعض صدقات مالک کی ملکیت  سے منتقل ہو جاتے ہیں اور دوسرا شخص ا س کا مالک ہو جاتا ہے، لیکن وقف ایسا صدقہ جاریہ ہے جومالک کی ملکیت سے نکل جاتاہے،لیکن دوسرے کی ملک میں داخل نہیں ہوتاہے۔ بلکہ وہ اللہ کی ملک میں  شمار ہوتا ہے۔اور یہی اوقاف کی  اہم خصوصیت۔اوقاف کا ادارہ زندہ قوموں کے حساس قومی اور ملی جذبوں کا عکاس ادارہ ہے، اس ادارہ سے معاشرے کے کمزور حصوں کو آب حیات ملتا ہے۔ایک دور تھا جب انسان تو انسان رہے، جانوروں کےلیے بھی مسلمانوں کے ہاں متعدد اوقاف موجود تھے، خود بغداد میں انسانی علاج ومعالجہ کے لیے قائم اداروں کے ساتھ ساتھ حیوانات کے لیے بھی شفا  ءخانے موجود تھے۔

وقف انبیاء علیھم السلام کی سنت ہے، وقف کی ابتداءحضرت ابراھیم علیہ السلام سے ہوئی، اور نبی آخر الزماں نے مسجد نبوی بنوا کر وقف کی۔اور ارشاد فرمایا”انا معاشر الانبیاءلانورث ماتر کنا ہ صدقۃ(متفق علیہ)۔ وقف کوعالمگیریت کا درجہ حاصل ہے، ہر مذہب میں اس کا سلسلہ ملتا ہے۔یہ ماضی اور حال کے درمیان پل کا کام کرتا ہے، اگلی نسلوں کو پچھلی نسلوں سے مربوط کرتاہے،یہ گذرنے والی نسل کی جانب سے آنے والی نسل کےلیے پیار ومحبت اور امن وآشتی کا پیغام ہے۔

وقف لغت میں ٹھرنے اور روکنے کو کہتے ہیں۔ وقف کی جگہ حبس، تحبیس،تسبیل،تحریم، اور تحریرکے الفاظ کا بھی استعمال ہوتا ہے۔شرعاوقف  اپنی کسی چیز کواپنی ملکیت سے نکال کر اللہ کی ملکیت میں دے دینا اور اس چیز سے ہونے والےنفع کو امیری یا غریبی کا لحاظ کئے بغیر ہمیشہ کے لیے اللہ کی رضا ءکی نیت سے افراد یا مساجد ومقابر یا دیگر کا رخیر کے لیے وقف کردینا ہے۔

خلاصہ یہ ہوا کہ وقف سے مراد ایسی چیز جو خود کو قائم رکھتے ہوئے بعض فوائد اور منافع کے حصول کا ذریعہ بنے جیسےزمین کی صورت میں غلہ،باغ کی صورت میں پھل، جانوروں کی صورت میں دودھ، مکان کی صورت میں کرایہ وغیرہ۔

وقف کی مشروعیت  کی حکمت یہ ہے کہ اوقاف سے انسان کی دینی ضرورتیں جیسے مساجد، مدارس، خانقاہیں، اسی طرح اوقاف سے انسان کی معاشی اور طبعی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں جیسے کنوئیں، چشمے، حوض، سڑکیں، وقف کی جاسکتی ہیں، اس کی منفعت زیادہ ہے کیوں کہ اوقاف میں مالک کی  ملکیت باقی  نہیں رہتی ہے اس لیے اس  کا نفع تادیر قائم رہتاہے۔

اوقاف  کو وہی فضیلت حاصل ہے، جوصدقہ وغیرہ  میں پائی جاتی ہیں مثلا دس گنا،سات سو گنا، کئی گنا ثواب کا حاصل ہونا،گناہوں کی معافی، مصیبتوں اور پریشانیوں کا موقوف ہونا، رضائےالہی کا ذریعہ ہونا۔صدقہ جاریہ  وغیرہ کا ثواب بھی ملتا ہے۔

وقف کی  چند صورتیں ہیں، وقف علی اللہ یعنی اللہ کے لیے دینی کاموں کے لیے وقف کرناجیسے مساجد، عیدگاہیں، جنازہ گاہیں، کفن دفن کا سامان، دینی مدارس، شفا خانے، سواری کا جانور، جائیداد، اراضی، پل، قبرستان، قرآ ن مجید وغیرہ۔اس کو وقف خیری بھی کہتے ہیں،یہ اعلی قسم کا وقف ہے۔اوقاف بیت المال:۔مفتوحہ اراضی،معاہدوں کی رو سے حاصل شدہ اراضی،بیت المال کے فنڈ سے خریدی ہوئی زمین کااوقاف بیت المال میں شمار ہوتا ہے۔وقف علی الاولاد:۔ یعنی اپنی اولاد  پر وقف کرنا جیسےحضرت زبیر بن العوام  رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں کے نام جو کسی وجہ سے اپنے گھروں سے نکال دی جائیں۔ وقف کی تھیں، حضرت علی اور فاطمہ ؓ نے بنی ہاشم پر وقف کیا تھا، حضرت عمرؓ نے خیبر کی زمین کو خاندان فاروقی کے محتاجوں کے لیے وقفکیا تھا۔

بسا اوقات وقف کرنے کا مقصد اپنے مال کو تقسیم وراثت سے بچانا، بادشاہوں کےتسلط سے محفوظ رکھنا ہوتاہے۔اور وقف میں سب اولاد کو برابر حصۃ ملتاہے، وراثت کی طرح کسی کو کم وبیش نہیں ملتا ہے، حتی کہ کوئی مال وقف کو بیچ بھی نہیں سکتاہے۔اسی طرح مالدار، غریب، لڑکا، لڑکی اور ان کی اولاد میں سےہر طرح کی اولاد کو حصہ ملتا ہے۔

دیگر اقسام کے اوقاف :

وقف کی یہ خصوصیت ہے کہ آدمی دوسرے فرد یا جماعت، ماں، باپ، رشتہ دار، کسی خاندان کےغرباء مساکین کے نام۔حکومت کے نام وقف کرسکتا ہے۔

وقف اسلامی  کا شعبہ:

بیت المال کا ایک شعبہ صنعت وتجارت،اور قرض حسنہ کاہے، کمزور آدمی کو اس سے قرضہ دیا جاتاتھا اور اصل مال کی واپسی لازم ہوتی تھی،تجارت کے لیے قرضہ دیا جاتا تھا، نفع کی صورت میں اصل مال اور آدھا نفع وصول کیا جاتا تھا،خسارہ کی صورت میں اصل مال کی واپسی لازم ہوتی تھی، اس سے سودی نظام پر ضرب پڑتا ہے۔سوس کی فتح  کے بعد مسلمانوں کو  حضرت دانیال کی قبر سے ایک  خزانہ ملا۔ جس میں ایک  رقعہ ملا۔ اس میں لکھا تھا کہ  کوئی بھی معینہ مدت تک  کے لیے قرضہ لے سکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس وصیت پر عمل کیا۔

اوقاف کے عناصر اربعہ، واقف، موقوف علیھم،وقف نامہ اور متولی ہیں۔ واقف کی شرائط:۔واقف کا عاقل وبالغ ہونا،آزاد ہونا،تصرف کے وقت اس کے اس عمل کا نیکی اور ثواب ہونا،مالک ہونا، محجور علیہ نہ ہو۔شئی موقوف کی شرائط :۔مال متقوم ہونا،جلد خراب ہونے والی نہ ہو،عدم جہالت کا ہونا،مفرز ہونا، ورنہ ایک سال پیدوار ہوگا، ایک سال نہیں، ایک وقت نماز ہوگی دوسرے وقت نہیں۔ جن پر وقف کیا جارہا ہے ان کی شرطیں :۔رضائے خداوندی کا ذریعہ ہو، صرف مالدار کو وقف  نہ کرنا، ورنہ چاپلوسی کا ذریعہ ہوگا۔الفاظ وقف کی شرطیں :۔الفاظ وقفمعلق اور مشروط نہ ہو،موت سے مشروط نہ ہو،شرط خیار سے مشروط نہ ہو،ایسی شرط نہ ہو، جو وقف کی اصلیت پر اثر اندازہو،مثلا بیچ دے گا، ہدیہ کر دے گا، کہنے سے وقف نہیں ہوگا، وقف کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیا جائے جس میں ہمیشگی کے معنی پائے جاتے ہوں۔

وقف کا لزوم :

۔قاضی کا فیصلہ وقف کے لزوم کے لیے ضروری ہے، مسجد میں اذان دے دی جائے،اور باجماعت یا فردا نماز ادا کی جائے،تو وہ زمین وقف شمار ہوگی،وقف کی وصیت کرے کہ میں مرجاؤں تو وقف ہے تو مرنے کے بعد ایک تہائی مال میں وقف ہوگا،البتہ ورثہ کی اجازت سے پورا مال وقف شمار ہوگا، بصورت دیگر وقف نہیں ہوگا۔

وقف کی حیثیت:

مباح، مستحب، واجب  کی ہوتی ہے۔غیر مسلم کا وقف رضائےخداوندی کے بغیر ہوگا، تو وہ وقف مباح ہوگا، اور مسلمان کا وقف رضائے خداوندی کے ساتھ وقف مستحب ہوگا، نذر مانا ہوا وقف واجب  شمارہوگا۔

حق تملیک :

پہلا قول اللہ تعالی وقف کے مالک ہیں۔ دوسرا قول  جن پر وقف کیا گیا ہو وہ مالک ہیں۔ تیسرا  قول جس نے وقف کیا ہے وہی مالک ہے،اس قاعدہ سے سب کے یہاں مساجد مستثنی ہیں ایک آدمی نے بھی نماز پڑھ لی تو واقف کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔

وقف کی تنسیخ:

اگر واقف مرتد ہوجائے تو وقف باطل ہوجائے گا۔ اور ورثہ کی طرف منتقل ہوجائے گا۔فقط

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا