بدعت کو پہچانیے

مقبول احمد سلفی

الحمد للہ اسلام ایک واضح اور صاف ستھرا دین ہے جس کی تعلیمات اور احکام ومسائل روشن دن کی طرح عیاں وبیاں ہیں مگر اسلام کے نام لیواؤں میں سے صوفیوں اوربدعتیوں نے اس صاف ستھرے دین کو جہاں غیرمسلموں کی نظر میں بدنام کیا ہے ،وہیں عام مسلمانوں پر بھی اسے مشکل بنادیا ہے۔ جو اصل دین ہے اس کو چھوڑکر،ان بدعتیوں نے دین میں نئی نئی بدعات وخرافات گھڑ لیے اوران پر سختی سے عمل کیااور عوام کو باور کرایا کہ یہی اصل دین ہے، جو اس پر عمل کرتا ہے وہ اصل سنی ہے اور جو عمل نہیں کرتا ہے وہ بدعقیدہ ، مرتد اور نبی کا گستاخ ہے۔ العیاذ باللہ

کس قدر حیرانی وتعجب کی بات ہے کہ اصل دین کو پس پشت ڈال دیا گیا بلکہ اصل دین پر عمل کرنے والوں کو باغی، مرتد،گستاخ اور بدعقیدہ کہاجاتا ہے اور دین کے نام پر نئی نئی بدعات کو اصل دین سمجھاجاتا اور بدعتی خود کو اصل سنی کہتا ہے۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

اسلام کے لیے خطرات، خدشات اور نقصانات کی بات جائے تو جو یہودونصاری نہیں کرسکے وہ ان بدعتیوں نے اسلام کے لیے خطرات پیداکئےاور دین میں نت نئے بدعات رواج کر دین اسلام کے اصل چہرے کومسخ کیا۔کفار ومشرکین مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بدعتی اصل اسلام کو نقصان پہنچارہے ہیں اس لحاظ سے بدعتی اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اسی خطرے کا احساس کرکے آج سادہ مسلمانوں کو سلیس انداز میں بدعت سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں تاکہ ان پر بدعت کی حقیقت منکشف رہے اور شاید کسی بدعتی کو بھی سمجھ آجائے اور اسلام کو نقصان پہنچانے سے باز آجائے یا کم از کم خود کو نقصان سے بچائے۔

بدعات کی ایک لمبی فہرست ہے،ان سب کا نام گنانا مشکل ہے ، چند بدعات بہت مشہور ومعروف ہیں جن سے بدعتیوں کی اصل پہچان ہوتی ہےان کو بتاکر ان کی حقیقت بتانے کی کوشش کروں گا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بعض مسلمان نبی کا نام آنے پر انگوٹھاچومتے ہیں، اذان سے قبل خودساختہ درود پڑھتے ہیں، فاتحہ خوانی کرتےہیں، میلاد مناتے ہیں، مزارات پرعرس ومیلے لگاتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، جھنڈیاں لگاتے ہیں ، قبروں پر پھول و چادر چڑھاتے ہیں، وہاں اذان دیتے ہیں،ان کا طواف کرتے ، سجدہ کرتے اور وہاں نماز وقرآن پڑھتے ہیں۔اسی طرح تعزیہ منانا، مردوں کو پکارنا، غیراللہ کا وسیلہ لگانا،غیراللہ کی نذرماننا،قل،تیجہ ،ساتا، دسواں، اکیسواں، چہلم ، گیارہویں منانا، لکھی روزے، ہزاری روزے، ام داود کی نماز، صلاۃ الرغائب، نمازغوثیہ، ختم قادریہ، جعفرصادق کے کونڈے، شب معراج کا جشن ، پیروں کی بیعت،امام ضامن وتعویذات عطاریہ،نوحہ خوانی وسوگ، بدشگونی و نحوست اور خودساختہ اورادووظائف (درود غوثیہ، درود تاج، درود تنجینا، درود لکھی وغیرہ)ان بدعتیوں کے امتیازی اعمال وافعال ہیں۔ یہ سب اعمال اور ان جیسے سیکڑوں اعمال دین کے نام پر بدعتیوں کی طرف سے ایجاد کرلیے گئے ہیں ، انہی کو دین سمجھا جاتا ہے، اسی کے گردان کی زندگی گھومتی ہے اور یہی سب کچھ کرتےکرتے بدعتیوں کی موت آجاتی ہے۔

مذکورہ چند بدعات کے بعد اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ، وہ یہ ہے کہ ہم کو کیسے پتہ چلے گا کہ مذکورہ سارے اعمال بدعتی ہیں اور ایک بدعتی کو کیسے سمجھائیں گے کہ ان اعمال سے دور رہو، یہ جہنم میں لے جانے والے ہیں؟ چنانچہ پہلے ہم بدعت کی صحیح تعریف دیکھیں گے اور تعریف بھی شارع شریعت یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کریں گے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَن أَحْدَثَ في أَمْرِنَا هذا ما ليسَ فِيهِ، فَهو رَدٌّ(صحيح البخاري:2697،صحيح مسلم:1718،سنن أبي داود4606, سنن ابن ماجه:14,مشكوة المصابيح:140 )

ترجمہ: جس نے ہمارے دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسا کام ایجادکیا جو دین میں نہیں تو وہ رد ہے۔ یہی حدیث صحیح مسلم میں اس طرح مروی ہے،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)

ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔

اس حدیث کے متعلق امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ حدیث اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ ہےاور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جامع الکلم میں سے ہےاور یہ بدعات و نئی ایجادات کی تردید میں صریح حدیث ہے ۔شرح مسلم للنووي(2/15 ح 1718)

بدعتیوں کی بدعات حدیث رسول کی کسوٹی پر:

حدیث رسول کے مکمل الفاظ پر نظر رکھتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ کے کلام کے اعتبار سے غور کرتے ہیں کہ یہ حدیث کس طرح بدعات کی صریح تردید کرتی ہے؟

مَن أَحْدَثَ: جو اپنی خواہش اور مرضی سے کوئی کام ایجاد کرے۔

في أَمْرِنَا هذا: یہاں امرسے مراد دین ہے یعنی دین میں کوئی نیا کام اپنی طرف سے ایجاد کرے۔

ما ليسَ فِيهِ:جو دین میں سے نہیں ہو۔ بریلوی عالم مفتی احمد یارخاں نعیمی ” ما ليسَ فِيهِ” کی شرح میں لکھتے ہیں جو قرآن وحدیث کے مخالف ہو۔(دعوت اسلامی کی ویب سائٹ:بدعت کی اقسام)

فَهو رَدّ: تو وہ عمل بدعتی کے لیے مردود وباطل ہے۔

حدیث کی شرح کے ساتھ اب ان بدعات میں سے ایک نمونہ لیکر دین کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں مثلا نبی کا نام آنے پر انگوٹھوں کو آنکھوں سے لگاکر چوما جاتا ہے اور یہ اعتقاد رکھا جاتا ہے کہ یہ دینی عمل ہے ایسا کرنا چاہیے ، اس سے ثواب ملتا ہے ۔ جب دین کی کتاب قرآن وحدیث میں اس عمل کو تلاش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل نہ قرآن میں مذکور ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں مذکور ہے ، اس کا مطلب ہے کہ کسی آدمی نے اپنی طرف سے اس عمل کودین سمجھ کر ایجاد کرلیا ہے ۔اسی کا نام بدعت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں مردود ہے۔

اب آئیے بدعتیوں کے کچھ شبہات کا بھی جائزہ لیتے ہیں تاکہ مزید بہتر طریقے سے بدعت کی حقیقت کو سمجھ سکیں ۔ میں بدعتیوں کے تین بڑے شبہات اور ایک اہم مغالطے کا ذکر کروں گا ۔

پہلا شبہ : جب ہم بدعتیوں کو بتاتے ہیں کہ انگوٹھا چومنا بدعت ہے، میلاد منانا بدعت ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں ان باتوں کا کہیں پر حکم نہیں دیا گیا ہے تو آگے سے بدعتی جواب دیتا ہے کہ رسول کے زمانے میں گاڑی نہیں تھی، بس نہیں تھی، ٹرین نہیں تھی ، جہاز نہیں تھاتم ان پر کیوں سواری کرتے ہو؟کیا یہ بدعت نہیں ہے ؟ تم خودبھی رسول کے زمانے میں نہیں تھے لہذا تم بھی بدعت ہو۔

جواب: اس شبہ کو جاننے کے لیےمندرجہ بالا حدیث رسول پر پھر سے نظر ڈالیں۔ اس حدیث کی شرح میں چار باتوں کا میں نے خلاصہ کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہروہ کام جو اپنی طرف سے ایجاد کرلیے جائیں جیساکہ الفاظ "من عمل عملا” سے بالکل واضح ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ نئے کام دین میں ایجاد کئے جائیں یعنی دنیاوی معاملے میں نہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہ نئی ایجاد قرآن یا حدیث میں سے نہیں ہو۔ تو وہ نیا عمل بدعت ہے جو کہ مردود ہے اور یہ چوتھی بات ہے۔ بدعتی جب یہ کہے کہ رسول کے زمانے میں ٹرین نہیں تھی تم اس پر سواری کیوں کرتے ہو کیا یہ بدعت نہیں ہے تو ہم اس سے کہیں گے کہ ہم نے کب کہا کہ جو چیز رسول کے زمانے میں نہیں تھی اس کا استعمال بدعت ہے، یہ تو ہم نے کبھی کہا ہی نہیں ، یہ تو تم کہتے ہو ۔ ہم تو بدعت کی وہی تعریف کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے وہ یہ ہے کہ جو کوئی اپنی طرف سے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرلے جو قرآن وحدیث میں سے نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے۔ اب ذرا تم ہی بتاؤ کہ کیا ٹرین کوئی عمل یا کام ہے ؟ یہ تو ایک سامان ہے ۔ بدعت کا تعلق سامان سے تو نہیں ہے بلکہ عمل سے ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا ٹرین کی ایجاد دین کے معاملے میں ہے یا دنیاوی معاملہ ہے ؟ ظاہر سی بات ہے ایک کم عقل بھی کہے گا یہ دنیاوی معاملہ ہے جبکہ رسول نے بدعت کی تعریف میں فرمایا ہے جو دین کے معاملے میں کوئی نیا کام ایجاد کرے وہ عمل بدعت ہے ۔

دوسرا شبہ: لوگوں میں ایک شبہ یہ بھی عام ہے کہ آپ کہتے ہیں فلاں کام بدعت ہے جبکہ فلاں مولوی کہتا ہے یہ کام دین ہے اس کے کرنے سے ثواب ملے گا۔ تو ہم کس کی بات صحیح مانیں ۔ آپ بھی مولوی ، وہ بھی مولوی ۔ہم کس مولوی کو درست مانیں ۔

جواب: اس شبہ کو دینی اعمال کی روشنی میں مثال دے کر سمجھا تا ہوں ۔ آپ ذرا غور کریں ، جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو سب سے پہلے نماز کی نیت کرتےہیں، پھر تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھتے ہیں،قیام کرتے ہیں، پھر رکوع کرتے ہیں، پھر سجدہ کرتے ہیں، اس طرح ایک رکعت ہوتی ہے پھر اسی طرح دوسری رکعت پڑھتے ہیں۔ دورکعت والی نماز میں قعدہ کرکے سلام پھیرتے ہیں ، مغرب کی نماز میں دو رکعت پہ قعدہ کرکے پھر تیسری رکعت کے لیے اٹھتے ہیں، پھر تیسری رکعت مکمل کرکے دوسرا قعدہ کرکے سلام پھیرتے ہیں۔ ظہر ، عصر اور عشاء میں چار چار رکعت پڑھتے ہیں۔ نماز کو اس شکل میں کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا اس لیے نہیں پڑھتے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز کی تعلیم دی ہے۔ اوربخاری میں آپ کا یہ فرمان ہے : تم لوگ اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔

اسی طرح جب آپ بیت اللہ کا حج کرتے ہیں تو یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے حج کا کام شروع کرتے ہیں، اس دن منی جاتے ہیں، یوم عرفہ کو عرفات جاتے ہیں، اسی دن سورج ڈوبنے کے بعد مزدلفہ آتے ہیں، یہاں رات بسر کرتے ہیں۔یوم النحر کو فجر کے بعد جمرات پر جاتے ہیں اور وہاں تین جمرات ہیں مگر آج کے دن صرف ایک جمرہ کو جو مکہ سے متصل ہے سات کنکری مارتے ہیں۔ پھر قربانی کرتے ہیں ، حلق کرواتے ہیں اور حرم شریف پہنچ کر طواف افاضہ اور سعی کرتے ہیں ۔ اس کے بعد واپس منی آجاتے ہیں ،یہاں ایام تشریق گزارتے ہیں اور تینوں دن تینوں جمرات کو سات سات کنکری مارتے ہیں. آخر میں طواف دواع کرکے وطن واپس لوٹ آتے ہیں۔ آپ سے سوال ہے کہ آپ کیوں ایسا کرتے ہیں ، کیا کسی پیر نے کہا ایسا کرو، کسی ولی کے کہنے سے ایسا کرتے ہیں ؟ یا آپ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے ؟ بلاشبہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہےاور ہم حج اس طرح اس لیے کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے اس طرح حج کیا ہے اور کرنے کا حکم دیا ہے جیساکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يا أَيُّها الناسُ خُذُوا عَنِّي مناسكَكم (صحيح الجامع:7882)

ترجمہ: اے لوگو! تم مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔

میں نے صرف دو چیز نمازاور حج کی مثال دی ہے جبکہ پورے دین کا یہی حکم ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دین کے تمام معاملات میں ہم وہی کریں گے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب:21)

ترجمہ: یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:

أطيعوا الله وأطيعوا الرسول (النساء:59)

ترجمہ: الله کی اطاعت کرو اور رسول الله ﷺ کی اطاعت کرو۔

اس لیے اگر کوئی مولوی آپ کو بدعت کی تعلیم دے یا وہ بات بتائے جس کی دلیل نہیں ہے تو اس مولوی کی بات نہیں ماننی ہے کیونکہ رسول اللہ نے بدعت سے منع کیا ہے اور صرف اسی عالم کی بات ماننی ہے جو قرآن اور حدیث کے مطابق بتائے کیونکہ دین قرآن اور حدیث کا نام ہے ۔

تیسرا شبہ: عوام کی طرف سے ایک تیسرا شبہ پیدا کیا جاتا ہے کہ اجر ثواب کی نیت سے اگر کوئی کام کرتا ہے تو اس میں حرج کیا ہے ، نیت تو اچھی ہے ۔

جواب: اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ صرف اچھی نیت ہونا کافی نہیں ہے بلکہ عمل بھی سنت کے مطابق ہونا ضروری ہے ورنہ وہی عمل بدعت کہلائے گا جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مردودوباطل ہے ۔ اس شبہ کو ایک حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ بدعت کا ارتکاب کرنے میں کیا حرج ہے؟

صحیح بخاری (5063) میں انس بن مالک سے روایت ہے،انہوں نے بیان کیا کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔

اس حدیث پہ اچھی طرح غور کریں، ایک طرف تین جلیل القدر صحابہ، دوسری طرف ان سب کی نیت بھی اچھی پھر کیوں رسول اللہ نے انہیں اچھی نیت سے منع کیا؟ ان سب کے عمل میں حرج کیا ہے؟ حرج یہی ہے کہ ان سب کاعمل سنت کے خلاف تھا ، اس لیے ان سے آپ نے فرمایا جو سنت کے خلاف عمل کرے وہ ہم میں سے ہی نہیں ہے ۔ آپ نے دیکھ لیا کہ اچھی نیت کے باوجود سنت کی خلاف ورزی کی وجہ سے عمل مردود ہورہا ہے یہی حال ہر قسم کی بدعت کا ہے یعنی ہر بدعت مردود ہے۔

بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی تقسیم کا مغالطہ:

بدعتی لوگ عوام میں ایک مغالطہ پھیلاتے ہیں وہ مغالطہ یہ ہے کہ ہر قسم کی بدعت سے اسلام نے منع نہیں کیا بلکہ کچھ بدعت اچھی ہوتی ہیں ان پر عمل کرسکتے ہیں اور کچھ بدعت بری ہوتی ہیں جن سے بچنا ہے گو یا ان بدعتیوں نے اپنی بدعات کی حمایت میں بدعت کی دوقسمیں کی ہیں ایک بدعت حسنہ اور دوسری بدعت سیئہ ۔اس تقسیم سے بدعتیوں کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے دین میں جوبھی بدعات وخرافات ایجاد رکھے ہیں ان کو جواز فراہم کرنا تاکہ عوام کو یہ بتلایا جاسکے کہ ہم جو بدعت کرتے ہیں وہ بدعت حسنہ ہے اس کے کرنے سے گناہ نہیں، اجر ملتا ہےاور جس بدعت پر گناہ ملتا ہے وہ دوسری بدعت ہے، بدعت سیئہ ۔

حقیقت میں بدعت کی یہ تقسیم اسی طرح سے فرضی اور بناوٹی ہے جیسے ان کی تمام بدعات فرضی وبناوٹی ہیں۔ اگر کہیں بدعت حسنہ کا ذکر ملتا ہے تو وہاں لغوی معنی کا اعتبار کیا گیا ہے جبکہ شرعی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقسم کی بدعت کو ضلالت وگمراہی قرار دیا ہے ۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرماتے:

إن اصدق الحديث كتاب الله , واحسن الهدي هدي محمد , وشر الامور محدثاتها , وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار(صحيح سنن النسائي:1579)

ترجمہ: سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

اس حدیث سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دین میں نیا کام کوئی بھی ہو وہ بدعت میں شمار ہوگااس لیے یہ کہنا کہ بدعت اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی غلط ہے اور حدیث رسول کے خلاف ہے ۔

آخر میں بدعتیوں کا حکم بھی جانتے چلیں ۔ یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم ہی سب سے زیادہ رسول سے محبت کرتے ہیں، ہم ہی زیادہ آپ پر درود پڑھتے ہیں لہذا ہم لوگ ہی آخرت میں رسول کے ساتھ ہوں گے ، ہم لوگوں کو آپ کی شفاعت نصیب ہوگی اور جنت میں داخل ہوں گے ۔ کچھ اسی قسم کی باتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک بریلوی شاعر جمیل الرحمن رضوی قادری اپنے نعتیہ کلام کے مقطع میں کہتا ہے ۔

میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد

میرا لاشہ بھی کہے گا الصلاۃ والسلام

ان بدعتیوں کے دعوی کی حقیقت مذکورہ بالا آخری حدیث سے لگائیں کہ ایک طرف رسول اللہ کی تعلیم یہ ہے کہ سب سے سچی کتاب قرآن ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاہے مگر یہ لوگ نام تو نبی کا لیتے ہیں مگر کام سب بدعت والا کرتے ہیں ۔ جو لوگ قرآن اور طریقہ محمد سے ہٹ کر دین میں بدعات ایجاد کرتے اور ان پر عمل کرتے ہیں کیا وہ لوگ محب رسول ہوسکتے ہیں ؟ ہرگزہرگز بدعتی محب رسول نہیں ہوسکتا بلکہ بدعتی جو خود کو سچا محب رسول کہتا ہے اس کا دعوی کھوکھلا اور جھوٹا ہے ۔ یہی وجہ ہے رسول اللہ نے ان بدعتیوں کے بارے میں آگاہ کردیا کہ ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔ بھلا جو عمل جہنم میں لے جانے والا ہو اس عمل کی بنیاد پر رسول اللہ کی شفاعت کیسے ملے گی ؟ اتنا ہی نہیں اللہ تعالی آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان بدعتیوں کی بدعات کے بارے میں آگاہ بھی کرے گا اور جب بدعتی لوگ حوض کوثر کے پاس آئیں گے تو بھگادئے جائیں گے ۔ صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ ناسٌ مِن أصْحابِي الحَوْضَ، حتَّى عَرَفْتُهُمُ، اخْتُلِجُوا دُونِي، فأقُولُ: أصْحابِي! فيَقولُ: لا تَدْرِي ما أحْدَثُوا بَعْدَكَ(صحيح البخاري:6582)

ترجمہ:میرے کچھ ساتھی حوض پر میرے سامنے لائے جائیں گے اور میں انہیں پہچان لوں گا لیکن پھر وہ میرے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں گے۔ میں اس پر کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔

کتنا عجیب حال ہے بدعتیوں کا ؟ زندگی بھر یارسول اللہ کا نعرہ لگاتے رہے، میلاد مناتے رہے، جلوس نکالتے رہے، جھنڈیاں لگاتے رہے،تعظیم رسول میں قیام کرتے رہے، کھڑے ہوہوکر اجتماعی درود پڑھتے رہے اور انگوٹھا چومتے رہے نتیجہ یہ ہوا کہ آخرت میں رسول اور حوض کوثر سے دور کردئے گئے ۔

؎ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے۔

جو لوگ جانے انجانے کسی طرح سے بھٹک گئے ہیں ان سبھی سے درخواست ہے کہ ابھی بھی وقت ہے ، سابقہ گناہوں سے توبہ کرلیں اور سچے محب رسول بننے اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے حوض کوثر پینے کے لیے اللہ کی کتاب قرآن کریم اور رسول اللہ کی پیاری سنت احادیث طیبہ کے مطابق عمل کریں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس مضمون کو بھٹکے ہوئے لوگوں کے لیے راہ راست پر آنے کا ذریعہ بنائے ۔

نوٹ:جو لوگ اس مضمون کا ویڈیوبیان سننا چاہتے ہیں وہ محرر کے یوٹیوب چینل پہ پانچ فروری ۲۰۲۲ کو اپ لوڈ کیا گیا بیان بعنوان "بدعت کو پہچانئے” سن سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔