بدگمانی: ایک سماجی ناسور

بدگمانی  لوگوں کے مابین قربت و محبت کا جذبہ ختم کر دیتی ہے،

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

دین ِاسلام بلنداخلاق، اعلی کردار اور پاکیزہ اقدار پر مشتمل ایسے مثالی معاشرے کا  علم برداراورداعی ہے، جس کا ہرفرد امن و آشتی، عزت ومساوات اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے یکساں حیثیت کا حامل ہو۔ یہ بات اہل فکر و نظر پر مخفی نہیں کہ  امن وسلامتی دراصل باہمی مضبوط روابط اور آپسی الفت و محبت سے فروغ پاتی ہے، جس سماج میں محبت ورواداری کا جس قدر وجود ہوگا اسی قدر وہاں  امن وسلامتی کے آثار ملیں گے اور جس سر زمین پرجس قدر یہ چیزیں مفقود ہوں گی اسی قدر وہاں امن وسلامتی کا وجود خطرے میں دکھائی دےگا۔ یہی وجہ ہے کہ آپس میں سلام کو عام کرنا، ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا، بھلائی کے ساتھ لوگوں کا تذکرہ کرنا، خندہ پیشانی اورکشادہ جبینی کے ساتھ ایک دوسرے سے معاملہ کرنا۔ ۔ ۔ وغیرہ اسلام کی اولین ترجیحات میں ہے۔ اس کے برعکس تجسس و بدظنی، غیبت وچغل خوری، عداوت ودشمنی، حسد و قطع رحمی جیسی مہلک خصلتوں کی اسلام میں حد درجہ مذمت کی گئی ہے؛کیوں کہ یہ  مخلصانہ تعلقات کوختم کرنےاور اسلامی اخوت کو تباہ وبرباد کرنے کےبنیادی اسباب ومحرکات ہیں۔

اِمام ابن حجر ہیتمی المکیؒ (909۔ 973ھ) لکھتےہیں:بدگمانی کا شمار ان کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جن کا علاج  لازم وضروری ہے؛ کیونکہ جس شخص کے دل میں یہ  بیماری موجود ہوگی اس کی حق تعالی سے قلب سلیم کے ساتھ ملاقات نہ ہوسکےگی، اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے جس کے ارتکاب پر اتنی؛بل کہ اس سے زیادہ   مذمت کی جانی چاہیے، جتنی مذمت  چوری، زنا کاری اور شراب نوشی جیسے گناہوں کے ارتکاب پر کی جاتی ہے ؛ اس لیے کہ بدگمانی کا شر و فساد کئی گنا بڑھ کر ہے، اس  کے زہرناک اثرات دیرپا ہیں، برخلاف ان گناہوں کے جن کا صدور اعضاء و جوارح سے ہوتا ہے ؛اس لیے کہ  ان کے اثرات جلد زائل ہوجاتے ہیں اور توبہ و استغفار کے ذریعہ ان کا ازالہ ممکن ہے۔ (الزواجر:106)

بدگمانی  لوگوں کے مابین قربت و محبت کا جذبہ ختم کر دیتی ہے، اخوت ودوستی کو رقابت ونفرت میں بدل دیتی ہے، خوش گوار تعلقات کے آبگینے کو سنگ زنی کا نشانہ بنادیتی ہے، بدگمانی صرف ایک گناہ نہیں ؛بلکہ کئی ایک گناہوں کا پیش خیمہ ہے، اسی سے تجسس پیدا ہوتا ہے، تعلی و خود پسندی کا جذبہ انگڑائی لینے لگتا ہے، غیبت و بہتان تک کی نوبت آجاتی ہے ؛اس لیے  قرآن و حدیث میں صراحتاً و اشارتاً متعدد مقامات پر اس کی قباحت بیان کی گئی ہے۔

بدگمانی کی مذمت، قرآن و حدیث کی روشنی میں:

بدگمانی کی مذمت کرتے ہوئے اور بہت زیادہ گمان سے بچنے کا حکم دیتے ہوئےحق تعالی شانہ ارشادفرماتے ہیں : ”اے ایمان والو! بہت سےگمانوں سے بچو یقین مانو کہ بعض گمان گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹولا کرو، اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ ”(الحجرات)

ظن کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک ظن غالب ہے، جو کسی دلیل یا مضبوط علامت کے ساتھ قوی ہوجائے، اس پر عمل کرنا درست ہے۔ شریعت کے اکثر احکام اسی پر مبنی ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام کام اسی پر چلتے ہیں، مثلاً عدالتوں کے فیصلے، گواہوں کی گواہی، باہمی تجارت، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے سے اطلاعات اور خبر واحد کے راویوں کی روایات۔ ان سب چیزوں میں غور و فکر، جانچ پڑتال ا ور پوری کوشش سے حاصل ہونے والا علم بھی ظن غالب ہے، مگر اس پر عمل واجب ہے۔ اسے ظن اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی مخالف جانب کا یعنی اس کے درست نہ ہونے کا نہایت ادنیٰ سا امکان رہتا ہے۔ ظن کی ایک قسم یہ ہے کہ کسی وجہ سے دل میں ایک خیال آکر ٹھہر جاتا ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ دلیل نہ ہونے کی وجہ سے دل میں اس کے ہونے یا نہ ہونے کا امکان برابر ہوتا ہے، اسے شک بھی کہتے ہیں، یا اس کے ہونے کا امکان اس کے نہ ہونے کے امکان سے کم ہوتا ہے، یہ وہم کہلاتا ہے۔ ظن کی یہ صورتیں مذموم ہیں اور ان سے اجتناب واجب ہے۔ ” ان بعض الظن اثم “ (بےشک بعض گمان گناہ ہیں) سے یہی مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان:بےشک گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ (یونس : ٣٦)  اور اللہ کے فرمان :یہ لوگ صرف اپنے گمان کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ (النجم : ٢٣)  میں اسی ظن کا ذکر ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بدگمانی سے بچو کیوں کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ "(صحیح بخاری)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بدگمانی کو "اکذب الحدیث” فرمایا ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے خلاف زبان سے اگر جھوٹی بات کہی جائے تو اس کا سخت گناہ ہونا ہر مسلمان جانتا ہے؛لیکن کسی کے متعلق بدگمانی کو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ فرمایا کہ یہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، اور دل کا یہ گناہ زبان والے جھوٹ سے کم نہیں کہ اس سے دلوں میں کذب و عداوت کا بیج پڑتا ہے، اور ایمانی تعلق جس محبت و ہمدردی اور جس اخوت و یگانگت کو چاہتا ہے، اس کا امکان بھی باقی نہیں رہتا۔

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کوخطاب کرکے فرمایا: توکیا خوب ہے اورتیری خوشبو بھی کیسی پاکیزہ تر ہے، توکیسا عظیم ہے اورتیری حرمت کیسی عظیم تر ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے، ایک مومن کی حرمت تجھ سے بڑھ کر ہے، اس کا خون اوراس کا مال، اوریہ کہ اس کے بارے میں اچھا ہی گمان کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ)

ایک اور مقام پرسرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر مومن کے ساتھ نیک گمان رکھو۔ (معجم کبیر طبرانی) اس حدیث کی شرح میں علماء ربّانیّین لکھتے ہیں: اگر کسی شخص میں نناوے دلائل بدگمانی کے ہوں؛ لیکن ایک راستہ حسن ظن کا ہو تو عافیت اسی میں ہے کہ حسن ظن کے اس ایک راستےکو اختیار کرلیاجائے، کیوں کہ بدگمانی پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مقدمہ دائر فرمائیں گے اور بدگمانی کرنے والے سے پوچھیں گے کہ بدگمانی کے تمہارے پاس کیا دلائل تھے؟اس کے برعکس نیک گمان پر بلادلیل انعام عطا فرمائیں گے۔ حضرت شاہ عبدالغنی پھول پوریؒ فرمایاکرتے تھےکہ احمق ہے وہ شخص جو مفت میں ثواب لینے کے بجائے اپنی گردن پر مقدمات قائم کرنے کے انتظامات کررہا ہے اور اپنے لیے مصیبتیں تیار کررہا ہے۔ نیک گمان کرکے مفت میں ثواب لو اور بدگمانی کرکے دلائل پیش کرنے کے مقدمات میں اپنی جان کو نہ پھنساؤ۔

عام طور پر بدگمانی کے نتیجے میں بغض اور کینہ بھی پیدا ہوجاتا ہے اور دل صاف نہیں رہ جاتے، جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو خطاب کرکے فرمایا تھا کہ ” اے بیٹے! اگر تم کرسکو کہ صبح و شام اس حال میں کرو کہ تمھارے دل میں کسی کے لیے بھی میل نہ ہو تو ایسا کرلو اس لیے کہ یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت کو پسند کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ” کتنی بڑی بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو ہر طرح کی بدگمانی اور کینہ و کپٹ سے اپنے دلوں کو پاک رکھتے ہیں۔

بدگمانی کا علاج:

اگرکسی کے بارے میں برے خیالات پیدا ہوں اوربدگمانی کی صورت پیدا ہوجائے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا علاج بھی تجویز فرمایاہے، آپ ارشاد فرماتے ہیں :’’تین چیزیں میری امت کا پیچھا نہیں چھوڑسکتیں، فال، حسد اوربدگمانی۔ ‘‘ سوال کیاگیا کہ ان کے برے نتائج سے کیسے حفاظت ممکن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگرحسد پیدا ہوجائے تواللہ سے استغفار کرو، اگربدگمانی پیدا ہوتوعمل اس کے مطابق نہ کرو (اوراس کوذہن سے نکال دو)، اگرفال ہوتوبھی فال بد کی وجہ سے عمل ترک مت کرو۔ ‘‘(مصنف عبدالرزاق)

کسی کے بارے میں محض خیالات کاآجانا قابل مواخذہ نہیں ہے، ایک حدیث کا مضمون ہے: "اللہ تعالیٰ نے میری امت کے وسوسوں کومعاف کردیاجب تک وہ وسوسوں کی حد تک رہیں اوران کودورکیا جاتا رہے” (صحیح بخاری)لیکن اگراس پرعمل شروع ہوگیا اورگفتگو کی جانے لگی اورذہن میں وہ چیز بیٹھنے لگی تواس پر مواخذہ ہوگا؛ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا علاج یہ بتایا ہے کہ اگربرے گمان پیدا ہونے لگیں توان کو باقی نہ رکھاجائے۔

اکثرمواقع پر کسی کا کسی کے بارے میں سوء ظن قائم کرلینا تین خصلتوں کے سبب  ہوتا ہے، جن سے اجتناب کی ضرورت ہے :

1: عجلت پسندی اور بے صبری۔ 2:کسی کے عیوب تلاش کرنے کے لیے تجسس۔ 3:  یک طرفہ کسی کی برائی سننا اور طرفین سے تحقیق کیے بغیراس پر اعتماد کرلینا۔

بدگمانی کا موقعہ نہ دیں!

جس طرح کسی کے بارے میں بد گمانی کرنا گناہ ہے، اسی طرح بدگمانی کا موقعہ فراہم کرنا بھی جائز نہیں ؛ مگرآج لوگ صرف بد گمانی کرنے کو غلط سمجھتے ہیں، حال آں کہ بدگمانی کا موقعہ دینا اور زیادہ غلط بات ہے۔ ’’ بخاری شریف ‘‘ کی ایک حدیث میں ہے کہ ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ُ مسجد میں رمضان کے آخر عشرے میں اعتکاف میں تھے، آپ کی بیوی حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنھا آپ سے ملنے آئیں، کچھ دیر گفتگو کرنے کے بعد جانے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو چھوڑنے مسجد کے دروازے تک آئے، تو دو انصاری آدمی وہاں سے گزرے اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے فرمایا : خبردار ! یہ صفیہ ہے ! ( یعنی یہ گمان نہ کرو کہ کوئی دوسری عورت میرے پاس ہے ؛ بل کہ یہ میری ہی بیوی صفیہ ہے۔  ) ان دونوں نے کہا کہ سبحان اللہ ! یارسول اللہ ( یعنی ہم آپ کے بارے میں کیسے بد گمانی کرسکتے ہیں ؟ ) اور ان پر یہ بات شاق گزری، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے ؛ اس لیے مجھے خوف ہوا کہ وہ کہیں تمھارے دل میں بد گمانی نہ پیدا کردے۔  ( صحیح بخاري و مسلم)

خلاصۂ کلام :

اپنے گمان کو صاف رکھنے اور سوچ کو پاکیزہ بنانے کےلیے ضروری ہے کہ ہم ہمہ وقت اس احساس کو تازہ رکھیں کہ ہم امتحان میں ہیں، ہم سے نہ صرف اعضاء وجوارح سے صادر ہونے والے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا؛ بل کہ بدون تحقیق دل میں راسخ ہونے والے خیالات پر بھی باز پرس ہوگی۔ اگر ہم زندگی کےہر موڑ پر اس احساس کو تازہ رکھیں تو اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ ہماری سوچ مثبت اور درست ہوجائےگی اور ہمارے اعمال بھی صحیح رخ پر گامزن ہوں گے۔

تبصرے بند ہیں۔