بعد از موت

ڈاکٹرامتیازعبدالقادر

          موت ایک ایسی مسلّمہ حقیقت ہے جس سے کسی کومفرنہیں۔ یہ وعدہ خلافی بھی نہیں کرتی۔ انسان میدانِ جنگ میں ہویامحصورقلعے میں، زمین کی تہوں میں جاچھپے یاآسمان کی وسعتوں میں ڈیراجمالے، حالتِ امن میں ہویاحالتِ جنگ میں، صحت مندجوانِ رعناہو یا بڑھاپے کی سرحدکو پہنچا ہواکمزور ونحیف ہڑیوں کاڈھانچہ، مقربِ خدابندہ ہویاشیطان کاولی، غرض ہرایک کشاں کشاں  اپنے رب سے ملاقات کی اوربڑھ رہاہے:

’تم جہاں بھی ہوگے، موت تمہیں جاپکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ رہ رہے ہو۔ ‘‘(النساء:۷۸)

مولاناروم نے ’مثنوی‘میں کیاخوب لکھاہے  ؎

چوں قضاآمدطبیب ابلہ شود

آں دوادرنفع خودگمرہ شود

(جب وقت قضاآتاہے توطبیب(ڈاکٹر)بھی بے بس ہوجاتاہے۔ نفع دینے والی دوابھی تب بے اثرہوجاتی ہے۔)

          ہمیں  موت کاخوف نہیں بلکہ اس کاشعورپیداکرناچاہیے۔ اس دنیامیں انتخاب ہورہاہے اصل زندگی (جنت) کوآبادکرنے والوں کا۔ موت سے بڑھ کرہماراکوئی محافظ ہی نہیں اورزندگی وموت کی کشمکش میں فاتح ہمیشہ موت ہی رہی ہے۔ زندگی سے قبل موت ہی لکھی جاتی ہے۔ ہم ایسی شاہراہ پر محوِسفرہیں جس کی منزل ازل سے ہی طے ہے۔ یہ وہ تِیرہے جواپنے ہدف پرلگنے کے لئے نکل پڑاہے۔ موت اللہ کے رحم کاہی حصہ ہے اس لئے مرنے والے کو’مرحوم‘ کہا جاتا ہے۔ قبرکامرحلہ بالکل ایساہی ہے جیسے امتحان کے بعدایک سکوت اورخاموشی ہوتی ہے۔ روح فرشتوں کی تحویل اورنگرانی میں ابدی حیات کے انتظار میں  رہتی ہے اور جسم آہستہ آہستہ مٹی کی ’بھوک‘ مٹادیتاہے۔ جیساکہ رسالتمآب ﷺ نے فرمایاہے : ’ابن آدم کے بدن کوزمین کھاجاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڑی کو، اسی سے پیداہواہے اورحساب کے دن اسی سے پیداکیاجائے گا۔ ‘(موطاامام مالک ؛باب’ جامع الجنائز‘، رواہُ ابی ھریرہؓ)

          نتائج کے لئے محشرمیں ہماراقیام ہوگااوریہ وہ دن ہے جس دن کفارکوعلم ہوگاکہ اس قیام سے بدرجہابہتران کے لئے موت ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزقیامت جب ان کی روح کاوصال ان کے جسم سے ہوگااوراپنے اعمال کابدلہ جہنم کی صورت میں دیکھیں گے اورچکھیں گے تووہ پکاراٹھیں  گے، آہ و بکاکریں گے اورمالک(داروغہ جہنم)سے فریادکریں گے کہ اللہ سے ہمارے لئے موت کاہی سوال کر و تاکہ جہنم کی ان سختیوں سے خلاصی ہو:

          ’وہ پکاریں گے اے مالک!تیرارب ہماراکام ہی تمام کردے تواچھاہے۔ ‘(الزخرف ۷۷)

          قرآن نے زندگی اورموت کے سلسلے کوچارادوارمیں تقسیم کیاہے۔ عالمِ نفوس، عالمِ دنیا، عالمِ برزخ اورعالمِ حشر۔ اللہ فرماتاہے:

          ’لوگو!تم اللہ کے منکرکس طرح ہوتے ہو، دراں حالیکہ تم مردہ تھے، تواس نے تمہیں زندگی بخشی، پھروہی مارتاہے، اس کے بعدزندہ بھی وہی کرے گا۔ پھراسی کی طرف لوٹائے جائوگے۔ ‘(البقرہ ۲۸)

          قرآن نے ایک اورمقام پرواضح کیاہے کہ دوزندگیاں اوردوموت ہیں۔ جس سے معلوم پڑتاہے کہ قبرمیں اس طرح کی زندگی نہیں دی جاتی جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ اگرموت کے متصل بعدہی قبرکے اندرجسم کوروح لوٹادی جاتی ہے تب یہ تین زندگیاں اورتین موت ہوئیں جوکہ قرآن کے بیان سے صاف ٹکراتاہے۔ مجرمین کوروزحساب جب ان کے اعمال دکھائے جائیں گے اللہ اس لمحے کی عکاسی کرتے ہوئے فرماتاہے:

          ’وہ کہیں گے، اے ہمارے رب!تونے ہمیں دومرتبہ موت دی اوردومرتبہ زندہ کیا۔ تواب ہم نے اپنے گناہوں کااقرارکرلیاہے، توکیانکلنے کاکوئی راستہ ہے؟‘(غافر ۱۱)

          دنیامیں  بھیجاجانے والاانسان درحقیقت آخرت کامسافرہے۔ انسان کی اصل شخصیت کوجسے قرآن میں ’نفس‘سے تعبیرکیاگیاہے اورجوانسان کے جسمانی وجودسے بالکل الگ ایک مستقل وجودہے، اسے جب جسم سے الگ کردیاجاتاہے، اسی کانام موت ہے۔ اس کے لئے ایک خاص فرشتہ مقررہے جس کے ماتحت فرشتوں کاایک پوراعملہ ہے۔ جسم خاکی ہے، ایک ’لباس‘جسے ’نفس‘نے پہناہے۔ یہ لباس موت کے وقت اتاراجاتاہے اوراپنی اصل یعنی خاک کولوٹایاجاتاجہاں یہ جسم خاک میں پنہاں ہوجاتاہے۔ اس موت کے بعدسفرآخرت میں جس مرحلے سے انسان کاگزرہوتاہے، اسے برزخ سے تعبیر کیا جاتاہے۔ یہ فارسی لفظ’پردہ‘کامعرب ہے اوراس حدِفاصل کے لئے استعمال ہواہے، جہاں مرنے والے قیامت تک کے لئے رہیں گے۔ یہ گویاایک روک ہے جوانہیں واپس آنے نہیں دیتی۔ عالمِ برزخ کی اصطلاح اسی سے وجودمیں آئی ہے۔ اس میں انسان زندہ ہوگالیکن یہ زندگی جسم کے بغیرہوگی البتہ روح کے مشاہدات، تجربات، احساسات اورشعورکی کیفیت ایک خواب کی سی ہوگی اورقیامت کے صورسے اس کیفیت سے تمام مردے نکل اٹھیں گے اورمیدانِ حشرمیں جسم وروح کے ساتھ دوبارہ کھڑے ہونگے۔ مرنے کے بعدجب کچھ لوگ اِس دنیامیں واپس لوٹنے کی تمناکریں گے توانہیں کہاجائے گا:

 ’ہرگزنہیں، (یہ نہیں ہوسکتا)یہ توایک( حسرت بھرا)کلمہ ہے جسے وہ کہے گا، وگرنہ ان کے آگے ایک پردہ ہے، اُس دن تک کے لئے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔ ‘(المومنون ۱۰۰)

          موت کے بعدجوسفرشروع ہوگا، اس میں روح پرکیاگزرتی ہے؟قرآن وحدیث کے غائرمطالعہ سے جوتصویرسامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ روح کواُس وقت تک کے لئے ایک خاص دنیامیں رکھاجاتاہے جب تک کہ پوری انسانیت کی زندگی اوران کی جزاوسزاکامرحلہ نہیں آجاتا۔

          شہدائے احدکی ارواح کے بارے میں قرآن ہمیں مطلع کرتاہے کہ:

          ولاتحسبنِّ الّذینَ قُتلوافی سبیلِ اللہِ امواتابَل احیائُُ عندَ ربّھم یُرزقون

          ’راہِ خدامیں قتل ہونے والوں کومردہ خیال نہ کرنا، وہ زندہ ہیں اوراللہ کے ہاں رزق پارہے ہیں۔ ‘(اٰل عمران۔ ۱۶۹)

          سورۃ المومنون میں روح اللہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہتی ہے، ’رَبِّ ارجعُون‘ اے میرے رب مجھے لوٹادے۔ ‘ اس کے جواب میں ’کلّا‘ (ہرگزنہیں )اسی روح کوکہاجاتاہے۔ نیزعذابِ قبرکے حوالے سے قرآن میں جواشارہ ملتاہے اس کے لئے فرعون و اٰل فرعون کی مثال بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتاہے کہ ان کی ارواح کوصبح وشام آگ پرپیش کیاجاتاہے:

          النّارُیعرضونَ علیھاغُدوََّاوعشِیّاوَیَومَ تقومُ السّاعۃاَدخلوااٰلَ فرعونَ اشدّالعذاب

          ’دوزخ کی آگ ہے جس پرصبح وشام وہ پیش کئے جاتے ہیں اورقیامت کے دن فرشتوں کوحکم ہوگاکہ آل فرعون کوجہنم کے بدترین عذاب میں داخل کردو۔ ‘(غافر۴۶)

          عالمِ برزخ (قبر)میں  نیک ارواح پرجوحالات واردہوتے ہیں، اس کے بارے میں  احادیث میں بھی اشارے ملتے ہیں۔  کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’مومن کی روح ایک پرندہ کی شکل بن کرجنت کے درخت سے لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ روزِجزاکے دن پھر اس کولوٹادے گااورکھڑاکرے گا۔ ‘(مئوطاامام مالک؛ باب’ جامع الجنائز‘)

          ثواب وعذابِ قبرکی یہ دومثالیں ہیں جوقرآن وحدیث نے واضح کی ہیں۔ قرآن میں عالمِ برزخ کے حوالے سے انہی اشارات پراکتفاکیاگیاہے البتہ معادیعنی زندگی بعدموت یاجزاوسزاکے دن کے بارے میں قرآن کاہرصفحہ مملوہے۔ قیامت کاوقوع اورحشرمیں  تمام بنی نوع انسان کاحساب وکتاب، قرآن کاغالب موضوع ہے۔ عالمِ برزخ (قبر)کے احوال کے بارے میں ’دارالافتاء جامعہ العلوم الاسلامیہ‘، بنوری ٹاون کراچی پاکستان کے ایک مفتی صاحب ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :

          ’اس بارے میں روایات بھی مختلف ہیں اورعلماء کے اقوال بھی مختلف ہیں۔ مگرتمام نصوص کوجمع کرنے سے جوبات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نیک ارواح کااصل مستقر’علیّین‘ ہے(مگراس کے درجات بھی مختلف ہیں )، بدارواح کااصل ٹھکانا’سجّین‘ ہے اورہرروح کاایک خاص تعلق اس کے جسم کے ساتھ کردیاجاتاہے، خواہ جسم قبرمیں مدفون ہویادریامیں غرق ہویاکسی درندے کے پیٹ میں۔ الغرض جسم کے اجزاء جہاں جہاں ہوں گے روح کاایک خاص تعلق ان کے ساتھ قائم رہے گااوراس خاص تعلق کانام ’برزخی زندگی‘ہے۔ جس طرح نورِآفتاب سے زمین کاذرہ چمکتاہے، اسی طرح روح کے تعلق سے جسم کاہرذرہ’زندگی‘سے منورہوجاتاہے۔ ۔ ۔ ‘‘(www.banuri.edu.pk)

          کچھ اذہان سوچتے ہیں کہ کیاہم محشرمیں اسی شکل وصورت کے ساتھ اٹھائے جائیں گے؟کیاہم ایک دوسرے کوپہچانیں گے؟قرآن بتاتاہے کہ ہاں یہی شکل وصورت، یہی قالب ہوگا، جو’شخصیت‘(روح)بطورِامانت فرشتوں کی تحویل میں تھی، وہ اسی قالب میں لوٹادی جائے گی۔ یہی خاندان اور برادریاں  ہونگے۔ ہم ایک دوسرے کوایسے ہی پہچانیں گے۔ ایسانہ ہواتوپھرسوال وجواب، جزاوسزاچہ معنی دارد؟انسان اس دنیامیں لامحدودخواہشات لے کرآتا ہے، جواس محدوددنیامیں پورے ہوناناممکن۔ اس کے لئے لامحدوددنیاہی درکارہے جوکہ محشرکے بعدہی عطاہوگی، وہاں وقت اورعمرکی رفتار’رُک‘ جائے گی۔ زمین وآسمان نئے نوامیس وقوانین سے بدل دئے جائیں  گے۔ (ابراھیم:۴۸) وہاں کوئی بوڑھاہوگااورنہ ہی موت ہی آئے گی۔ لامحدود دنیا میں  لامحدودخواہشات کاسامان فراہم کیاجائے گا۔ حقیقت آشکارا ہوجائے گی، اس لئے غم ہوگانہ کوئی خوف   ؎

خیرے کُن اے فلاں وغنیمت شمارعمر 

 زاں پیشترکہ بانگ برآیدفلاں نماند

(شیخ شیرازی)

 ٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا