تقویٰ اختیار کیجیے!

فضا فانیہ

قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّـٰهَ حَقَّ تُقَاتِهٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُـمْ مُّسْلِمُوْنَ (آل عمران: ١٠٢)

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنا چاہیے اور نہ مرو مگر ایسے حال میں کہ تم مسلمان ہو۔‘‘

سورۃ النساء میں بھی اللہ رب العزت فرماتا ہے: "اے ایمان والوں ڈرو اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ہے” جس ذات نے اعلانیہ طور پر ڈرنے کو کہا وہ رب چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کی نافرمانی کرتے ہوئے ہمہ وقت ڈریں، ہم سے ہمارا رب کہیں "ناراض نہ ہو جائے” یہ فکر ہم بندوں پر لازم ہے۔

آئیے جانتے ہیں تقویٰ کسے کہتے ہیں؟

جن احکام و اعمال کو رب کائنات نے ہم اشرف المخلوقات پر حرام قرار دیا ہے اس سے کلّی پرہیز کرنا حتی کہ مشتبہات چیزوں سے بھی بچنا تقویٰ کہلاتا ہے، نیز تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے؛ خدا کو تقوی پسند ہے، علماء کرام نے تقویٰ کی مثال کچھ یوں دی ہے، جب بندہ کسی کانٹے دار جھاڑی سے گزرتا ہے تو اپنے لباس کا خیال کرتا ہے اور ڈرتا ہے کہیں کوئی کانٹا اس کے لباس میں نہ لگ جائے، بڑی احتیاط سے آگے بڑھتا ہے، ٹھیک اسی طرح حرام و مشتبہ چیزوں سے اپنے آپ کو محفوظ اور محتاط رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔

تقویٰ کا شرعی حکم

گناہ سے بچنے والی صورت میں تقویٰ فرض ہے اور اسے چھوڑنے والا عذابِ نار کا مستحق ہو گا، جبکہ دوسری صورت میں تقویٰ بھلائی وادب ہے، اور اسے چھوڑنے کی وجہ سے روزِ قیامت حساب ہوگا۔ لہٰذا جب بندہ اوپر بیان کردہ ہر قسم کا تقویٰ اختیار کرلیتا ہے تو وہ کامل متقی کہلاتا ہے اور یہیں سے درجۂ اولیت کی ابتدا ہوتی ہے۔

تقویٰ کے تین درجات

تقویٰ کا پہلا درجہ تو یہ ہے کہ "بندہ کفر اور شرک سے بچ جائے” یہ سب سے کم اور ادنیٰ درجہ ہے ،جو الحمدللہ! ہر مسلمان کو حاصل ہے، اور اگر زیادہ نہیں تو بندہ کم ازکم اتنا کر لے کہ کفر وشرک سے بچے تب بھی وہ آخرت کے دائمی عذاب سے محفوظ رہے گا، اسی لیے تقویٰ کا یہ درجہ فرض اور لازم قرار دیا گیا ہے، تقویٰ کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ ایک انسان جیسے کفر و شرک سے بچتا ہے، "تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے بھی بچ جائے” یہ درمیانی درجہ کا تقویٰ ہے ، جو ہر مسلمان پر واجب ہے ، اور محاورہ میں اسی کا نام تقویٰ ہے ، لیکن تقویٰ کا تیسرا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک انسان اپنے اللہ اور انجام کے خوف سے جملہ معاصی اور محرمات سے تو بچتا ہی ہو، اسی کے ساتھ "مکروہات اور  مشتبہات سے بھی بچ جائے، اور اپنے باطن کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر متیقن کرلیں” یہی حقیقی تقویٰ ہے۔

عظمت و شرافت اور برتری کا دارومدار تقویٰ پر ہے، کالے گورے عربی عجمی پر نہیں۔ سیدنا جابر رضى اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایام تشریق کے دن خطبۃ الوداع ارشاد فرمایا : ”لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ، جیسا کہ ارشاد باری تعالىٰ ہے: ”اللہ تعالىٰ کے ہاں تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے“، خبردار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ پھر فرمایا: ”حاضر لوگ یہ باتیں غائب لوگوں تک پہنچا دیں۔“ (شعب الإيمان ٤/٢٨٩، برقم: ٥١٣٧)

حدیث مبارکہ سے واضح ہے کہ اگر تقوی ہے تو سب کچھ ہے اور اگر تقوی نہیں تو کچھ بھی نہیں، خوامخواہ بے فائدہ بڑائی کا دعویٰ ہے، چونکہ دنیا کی شرافت اور سرمایہ داری مالدار ہونے پر اور آخرت کی شرافت و سرمایہ داری تقوی سے ہوتی ہے، اس میں خاندانی، نسبی، برادری ایک غیر اختیاری نعمت ہے، لہذا اس سے دوسروں کو حقیر نہ سمجھیں، بلکہ! اس نعمت کی قدر و قیمت لازم ہے۔

صلہ رحمی اور تقویٰ کی برکات

اعزہ و اقرباء سے صلہ رحمی بھی ایک عظیم عمل ہے،  کیونکہ! اس میں بندہ قطع رحمی و بدسلوکی سے بچتا ہے، دوسروں کو اذیت دینے سے پرہیز کرتا ہے، جب کوئی شخص قطع رحمی کے گناہ سے بچتا ہے تو خاندان میں محبت اور مال و دولت میں برکت ہوتی ہے،

لہذا بہترین انسان وہی ہے جو اللہ کو راضی کرنے کے لیے تقوی اور پرہیز گاری اختیار کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تقوی سے زیادہ کسی اور چیز سے خوشی نہیں ہوتی تھی، دنیا کی تمام نعمتوں میں سے بڑی نعمت تقویٰ کو سمجھتے تھے اور متقی لوگوں سے آپ بہت زیادہ خوش ہوا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قلبی سکون امت کے تقوی سے ہی حاصل ہوتا تھا، ماخوذ حديث (ترمذي شريف ١/ ٢٩٥ برقم: ١٦٦٠،)

امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ علیہ  کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ کوفہ میں کسی شخص کی بکری کا بچہ کھو گیا یہ سن کر امام اعظم رحمہ اللہ نے پورے سات سال بکرے کا گوشت نہیں کھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو وہ ناجائز گوشت ہی میرے پیٹ میں نہ چلا جائے۔

 یہ بھی سچ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے دنیا اس سے ڈرتی ہے، خوف خدا سے ہی انسانوں کو دارین میں ترقی ملتی ہے، اور جو تقوی اختیار نہیں کرتا اللہ اس کے دل میں مخلوق کا خوف ڈال دیتا ہے، اور اس کو ہر وقت دوسروں کی طرف سے خطرے اور نقصانات کی فکر  لگی رہتی ہے۔

تقویٰ ہر مشکل سے آسانی کا ذریعہ

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : جو کوئی اللہ سے ڈر کر تقویٰ کا راستہ اختیار کرتا ہے اور ہر طرح کی ناجائز و حرام اور مشتبہ چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تمام مشـکلات حل فرما دیتے ہیں، اور مختلف پریشانیوں سے نکلنے کا راستہ فراہم کر دیتے ہیں، اور ایسی جگہ سے رزق عطا کرتے ہیں جہاں سے اس کو وہم و گمان تک نہیں ہوتا؛ چنانچہ! ہمیں چاہیے کہ ہم خود میں پرہیز گاری پیدا کریں، ہر بڑے گناہ سے کلی اجتناب کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے گناہ سے بھی پرہیز کریں؛ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے محبوب ترین بندوں میں شامل ہوجائیں،،

تقویٰ کےحُصُول کا طریقہ یہ بھی ہے کہ اِنْسان غافل اور بُرے لوگوں کی صحبت میں اُٹھنا بیٹھنا ہمیشہ کے لیے ترک کردے اور مُتَّـقی و پرہیز گار اَفْراد کی صحبت اختیار کرے، تاکہ ان کی صحبت کے اثر سے دل میں بھی تقویٰ و پرہیزگاری پیدا ہوجائے ۔

یاد رکھئے! جس دن سے اشرف المخلوقات نے تقویٰ کو فروغ دیا اسی دن سے معاشرہ کامیابی کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز ہوگا ! کیونکہ! میں سمجھتی ہوں بیماری میں شفا پرہیز سے اور گناہوں سے ھدیٰ پرہیز گاری سے ملتی ہے!

کاش کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

اللہ رب العزت ہم تمام کو حرام و منکرات سے کلی پرہیز کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تقویٰ اختیار کرنے والا بنائے اللہ ہم سب کو راہ راست پر گامزن فرمائے، آمین ثم آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا