جہیز اور بارات کا تصور : نقصانات اور حل

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

          شادیوں میں بارات کا رواج کب سے شروع ہوا؟یعنی پورے خاندان، برادری اور دوست احباب کا ایک جم غفیر اور انبوہ کثیر کو لے کر لڑکی والوں کے گھر جانا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ عہد رسالت وعہد صحابہ وتابعین یعنی دور خیر القرون میں اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔ صرف گھر کے چند افراد جاتے اور خاموشی اور سادگی کے ساتھ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر نکاح پڑھ کے لڑکی کو اپنے ہمراہ لے آتے۔ شرعاً نکاح میں اعلان ضروری ہے اور یہ اعلان طرفین کے گھر والوں کے سامنے ہو جاتا تھااور ولیمے میں مزید لوگوں کے علم میں آجاتا۔اب جو بارات کا عام رواج ہے جس کے بغیر شادی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اس کے بے شمار نقصانات ہیں۔

 چند بڑے نقصانات

          سارے دوست احباب اور خاندان اور برادری کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنا، اسراف (فضول خرچی) ہے۔پہلے خود لڑکے والوں کو تمام مہمانوں کے بیٹھنے اور خاطر تواضع کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ قریبی رشتے داروں کے لیے تو انتظام کئی کئی دن کے لیے کرناپڑتا ہے۔ پھر ان سب کو ساتھ لانے اور لے جانے کے لیے بسوں اور گاڑیوں کا انتظام اس پرمستزاد۔ اس سے بھی پہلے شادی کارڈوں کی اشاعت کا مسئلہ آتا ہے جو پہلے تو سادہ سے کارڈ چھپوا کر اطلاع کا اہتمام کرلیا جاتا تھا۔ اب اس میں بھی پیسے والوں نے بڑی جدتیں اختیار کر لی ہیں اور اتنے اتنے گراں کارڈ چھپنے لگے ہیں کہ ان کو دیکھ کر اس قوم کی فضول خرچی پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں زیادہ قریبی رشتے دار(بہنیں، بیٹیاں اور ان کی اولاد ) تو کئی کئی دن پہلے آ کر شادی والے گھرمیں ڈیرے ڈال لیتی ہیں اور مختلف رسموں (مایوں، مہندی وغیرہ) کے علاوہ کئی کئی راتیں مسلسل ڈھولکیاں بجاتیں اور اہل محلہ کی نیندیں خراب کرتی ہیں۔ پھر نکاح والے دن بقیہ خاندان اور احباب وغیرہ جمع ہو کر ایک لاؤ لشکر کی صورت میں لڑکی والوں کے گھر جاتے ہیں جس کی ضیافت اورٹھہراؤ کے لیے کسی شادی ہال یا کسی بڑیمکان کا انتظام لڑکی والوں کو کرنا پڑتا ہے۔اس طرح انکو ایک بڑا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جنکیپاس وسائل کی فراوانی ہوتی ہے ان کے لیے تو یہ بو جھ کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن جن کے پاس زیادہ وسائل نہیں ہوتے ان کو بھی خواہی نخواہی ہی سب کچھ کرنا پڑتا ہے چاہے وہ زیر بار ہوجائیں اور اس بوجھ کے اتارنے میں وہ سالہا سال پریشان ر ہیں۔

شریعت کی دھجیاں اُڑانا

          جب لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اور اللہ سے بے خوفی کے نتیجے میں یہ تصور بھی عام ہے کہ یہ خوشی کا موقع ہے اس وقت جو چاہیں کر لیں، اس کا جواز ہے۔ چنانچہ بڑی بڑی شیطانی حرکتیں کی جاتی ہیں اور باراتی ان سے خوب محظوظ ہوتے ہیں، اس طرح سب گناہ میں شریک ہوجاتے ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات لڑکی والوں کی طرف سے بھی ان کا مطالبہ اور اصرار ہوتا ہے۔ یوں دونوں خاندان اور ان کے سارے عزیز و اقارب اجتماعی طور پر نہایت دھڑلے سے اللہ کی نافرمانیاں کرتے اور شریعت اسلامی کی دھجیاں اڑاتے ہیں جب کہ اسلامی تعلیم کی رو سے انفرادی گنا? جو خفیہ اور چھپ کر کیا جائے، اگرچہ وہ بھی گناہ ہے لیکن اگر کوئی گناہ کا کام کھلم کھلا لوگوں کے سامنے کیا جائے، تو اس جرم کی شناعت و قباحت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ نرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’کل امتی معافی الا المجاہرین‘‘۔ترجمہ :’’میری امت کے سارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں سوائے ان گناہ گاروں کے جو کھلم کھلا گناہ کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔‘‘  ( صحیح بخاری : 6069 )

اجتماعی خرافات

          اجتماعی طور پرکیے جانے والے یہ گناہ جو باراتیوں کے ہجوم میں اور ان کی وجہ سے کیے جاتے ہیں۔ حسب ذیل ہیں بینڈ باجوں کا اہتمام جن کی شیطانی دھنوں سے لوگ محظوظ ہوتے ہیں حتیٰ کہ ان پر نوٹوں کی بارش کی جاتی ہے جس کا نام ’’ویل دینا‘‘رکھا ہوا ہے۔آتش بازی ’’جو گھر پھونک، تماشہ دیکھ‘‘ کی مصداق ہے۔ ہزاروں روپے اس پر اڑادیے جاتے ہیں۔ ہوائی فائرنگ، جس کی زد میں آئے بعض باراتی یا اڑوس پڑوس کے لوگ آجاتے ہیں اور موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بھنگڑا اور لڈیاں ڈالنا، اس کا رواج بھی بڑھتا جارہا ہے حتی کہ بعض باراتوں میں یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ خواتین بھی اس میں شریک ہوجاتی ہیں۔ پیسے لٹانا، پہلے تو ریزگاری کی شکل میں تھوڑی سی رقم ہی اس پر خرچ ہوتی تھی، اب یہ رسم نوٹوں تک پہنچ گئی ہے جس سے اس مد پر بھی ہزاروں روپے برباد کیے جاتے ہیں۔ قریبی رشتے دار اور دوست احباب دولہا کو نوٹوں والے اور دیگر انواع و اقسام کے ہاروں سے لا ددیتے ہیں جن کا بوجھ اس کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، یہ بھی فضول خرچی ہی کی ایک مد ہے۔

بے حیائی کی انتہاء

          یہ بارات جب لڑکی والوں کے ہاں (ہال یا گھر میں ) پہنچتی ہے تو نوجوان لڑکیاں اور یکسر بے پردہ عورتیں دونوں طرف ہاتھوں میں پھولوں کے تھال پکڑے ہوئے دولہا اور باراتیوں کا استقبال کرتی ہیں اور ان پر گل پاشی کرتی ہیں۔ یہ بھی بے پردگی کی ایک ایسی بے ہودہ رسم ہے جس کی توقع کسی مسلمان مردوعورت سے نہیں کی جاسکتی۔بارات کے ساتھ کرائے کے مووی فلم میکر ہوتے ہیں جوان ساری خرافات کو بھی اور ہال میں ہونے والی ساری کارروائی کو بھی نکاح کی تقریب سے لے کر دلہن کی رخصتی تک فلم بندی کرتے ہیں اور ایک ایک سین کو بالخصوص خواتین کے مختلف پوزوں کو اوردلہن کے ایک ایک پوز کو محفوظ کرتے ہیں اور بعد میں دونوں خاندانوں کے گھروں میں بے حیائی کے ان مظاہر کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے۔بارات میں خواتین کا بھی ایک ریلا شریک ہوتا ہے جو سب سے  بے پردہ، نہایت بھڑکیلے، زرق برق حتیٰ کہ عریاں اور نیم عریاں لباس میں ملبوس، نہایت بے ہودہ میک اپ اور سولہ سنگھار سے آراستہ اور زیورات میں لدی پھندی ہوتی ہیں۔ گویا وہ شادی کی ایک بابرکت تقریب میں نہیں بلکہ وہ مقابل حسن یا آرائش وزیبائش اور بے پردگی و بیحیائی کے مقابلے میں شریک ہونے کے لیے جاری ہیں۔

 مخلوط اجتماع

          اب بہت سی جگہوں پرمخلوط اجتماع بھی ہونے لگے ہیں لیکن مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حصے نہیں ہوتے، کھانے کا الگ الگ انتظام نہیں ہوتا، بلکہ بغیر کسی تفریق اور پردے کے مرد اور عورت کے لیے ایک ہی ہال اور کھانے کی میز میں بھی مشترکہ۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘آخر میں مراثیوں کا ایک غول آجاتا ہے جو الٹی سیدھی ہنسانے والی باتیں ہانک کر اور بڑکیں مارکر باراتیوں سے (ویلیں ) وصول کرتے ہیں۔ اور بعض جگہ اور بعض خاندانوں میں مجرے کا رواج ہے لیکن مخنث (ہیجڑے) نسوانی لباس اور نسوانی ناز و ادا اور ناچ گاکر باراتیوں کا دل لبھاتے ہیں اور ان سے خوب ویلیں وصول کرتے ہیں اور باراتی ان پربھی نوٹوں کی بارش برساتے ہیں۔

 کھانے کی بربادی

          کھانے کے موقعے پر بھی اکثر و بیشتر  عجیب ہڑبونگ مچ جاتی ہے۔ کھانے پرلوگ اس طرح ٹوٹ کر پڑتے ہیں، جیسے مویشیوں کو چارہ کھرلی میں ڈال کر چھوڑ دیا جا تا ہے اور وہ ’’اکلون کما تاکل الانعام* کے مصداق ہوتے ہیں یا جیسے بھوکے گدھ ہوتے ہیں یا جیسے ایسے وحشی اور گنوار قسم کی قوم کے افراد ہوں جن کو کبھی کھانا نصیب نہیں ہوا یا جن کا کوئی تعلق تہذیب و شائستگی سے نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ہر شخص اپنی اپنی پلیٹوں کو اس طرح بھر لیتا ہے کہ اکثر وہ اس سے کھایا ہی نہیں جاتا اور آدھی آدھی پلیٹیں بکھری ہوئی چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ سارا کھانا کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس صورت حال کے پیش نظر میزبان ضرورت سے زیادہ وافر مقدار میں کھانا تیار کرواتا ہے اور یہ اندیشہ قطعاً نہیں ہوتا کہ کسی کو کھانا نہیں ملے گا۔بعض دفعہ کسی میز پر بیرے کو دوبارہ کھانا لانے میں ذرا دیر ہو جاتی ہے تو لوگ معمولی سا انتظار کرنے کے بجائے ہوٹنگ شروع کر دیتے ہیں۔ بداخلاقی اور تہذیب و شائستگی سے عاری یہ مظاہر اتنے عام ہیں کہ ہم ان تقریبات میں غیر مسلم اشخاص کو بلانے کی جسارت نہیں کر سکتے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھ کر ہم مسلمانوں کے اخلاق و کردار کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے کہ یہ ایک مسلم قوم کے وارث ہیں جن کے اسلاف نے دنیا کو مکارم اخلاق اور تہذیب وشانگی کا درس دیا تھا اور جن کے پیغمبر بھی خلق عظیم کے مالک تھے اور اعلی اخلاق کی تعلیم ہی کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ جس کے بہترین نمونے ان کے پیروکاروں (صحابہ کرام و تابعین عظام) نے دنیا کے سامنے پیش کیے اور دنیائے انسانیت میں معلم اخلاق کے نام سے معروف ہوئے۔

بداخلاقی اور بدتہذیبی

          یہ تمام اعمال ایک تو سراسر اسراف تبذیر میں داخل ہے جن کے مرتکبین کو اللہ تبارک و تعالی نے اخوان الشیاطین (شیطانوں کے بھائی) قرار دیا ہے۔دوسرے قدم قدم پراللہ کی نافرمانی کا ارتکاب ہے۔تیسرے، ڈنکے کی چوٹ پر علانیہ بڑے بڑے گناہوں کی جسارت ہے جس کی کسی مسلمان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔چوتھے، بد اخلاقی اور بدتہذیبی کے مظاہر ہیں جن کی توقع کسی بھی مہذب اور شائستہ قوم سے نہیں کی جاسکتی، چہ جائیکہ اسلام کے ماننے والے ان کا ارتکاب کریں ؟تمام مذکورہ خرافات کے بعد آخر میں فوٹو سیشن ہوتا ہے جس میں مرد وعورت سب اسٹیج پر یا اور کسی نمایاں جگہ پر جمع ہوتے اور باری باری دولہا اور دلہن کے ساتھ فوٹو کھنچواتے ہیں۔ یہ سراسر بے پردہ اور مخلوط اجتماع ہوتا ہے۔

بارات کا سلسلہ ختم کریں

          ان تمام مفاسد اور خرابیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ اور ایک ہی حل ہے کہ بارات کا سلسلہ ختم کیا جائے اور مختصر چند لوگ لڑکی والوں کے گھر جائیں لڑکی والے بھی اپنا پورا خاندان جمع کرنیکے بجائے چند ضروری افراد کی اس تقریب میں شریک کریں اور گھر کے ایک کمرے ہی میں نکاح کر کے حسب استطاعت مہمانوں کی ضیافت کر کے اپنی بیٹی کے ہمراہ ان کو رخصت کردیں۔ اس طرح اس تقریب کے لیے نہ شادی ہال کی بکنگ کی ضرورت ہوگی۔ نہ مہمانوں کے لیے درجنوں کے حساب سے دیگوں مختلف ڈشوں اور دیگر اشیائے طعام کی۔ نہ عورتوں کی بے پردگی و بیحیائی کا فتنہ اور نہ بینڈ باجوں، آتش بازی اور نہ مودی فلموں کی حیاسوز فتنہ انگیزی اور نہ دیگر بیشمار خرابیوں کا ظہور، جس کی تفصیل گزشتہ سطور میں پیش کی گئی ہے۔

سادگی اختیار کریں

          فھل من مذکر (القرآن الحکیم ) کیا کوئی ہے ان نصیحتوں پر کان دھرنے والا ؟ سادگی اور اسلامی تعلیمات کو اختیار کرنے والا؟ اور لوگوں کی ناراضگی اور لومتہ لائم (ملامت گروں کی ملامت) سے بے خوف ہو کر صرف اللہ کوراضی کرنے والا؟بارات میں عورتوں کی شرکت کے مزید مفاسد کے پیش نظر لڑکی والوں کے گھر جاتے وقت سوائے گھر کی خواتین کے (بیٹے کی ماں اور بہنوں کے) خاندان کی عورتوں اور دوست احباب کی بیگمات کو قطعا ساتھ نہ لے جایا جائے اس لیے کہ شادیوں میں عورتوں کی شرکت بھی بے شمار مفاسد کا باعث ہیں۔

خواتین میں خرافات

          عورتوں میں سادگی کا تصور بالکل ختم ہوگیا ہے۔ حالانکہ حکم یہ ہے کہ عورتیں بالکل سادہ لباس میں باپردہ گھر سے باہرنکلیں۔ جبکہ ہوتا یہ ہے کہ خاندان میں کسی کی شادی کی اطلاع ملتے ہی گھر کی خواتین مردوں کو مجبور کرتی ہیں کہ گھر میں (بچیوں اور بیوی سمیت) تمام خواتین کے لیے کم ازکم دودوسوٹ اعلیٰ قسم کے تیار کیے جائیں۔ ایک نکاح والے دن اور دوسرا ولیمے والے دن کے لیے کیونکہ خاندان کی ساری عورتوں نے ان کو دیکھنا ہے۔ دونوں دن ایک ہی سوٹ میں اور ساد? لباس میں ملبوس ہونے کی صورت میں ان کی سبکی ہوگی۔ محدود آمدنی والے مرد کے لیے اپنے محدود بجٹ میں اس کے لیے گنجائش نکالنا بڑا مشکل ہوتاہے۔ علاوہ ازیں لباس اور اس کی سلائی کے علاوہ۔سادگی کا تصور ختم ہونے کی وجہ سے۔ میک اپ اور سولہ سنگھار کا سامان کا بھی مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے اور آنے جانے کے لیے کرائے کی گاڑی بھی ضروری ہے۔ جو صاحب حیثیت گھرانے ہیں ان کی بیگمات کا، مذکورہ اخراجات کے علاوہ۔زیورات کے نئے طلائی سیٹ کا مطالبہ ہوتا ہے۔ گھر میں پہلے جوسیٹ بعض کے ہاں کئی کئی سیٹ ہوتے ہیں، ان کا کہنا ہوتا ہے وہ پرانے ہیں یا فلاں کی شادی میں میں نے وہ پہنے تھے، اب وہی سیٹ اس شادی میں میں نے نہیں پہننا ہے۔ اور آج کل کے ’’زن مرید‘‘ قسم کے شوہر مطالبے بھی پورے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور اب بہت سی خواتین میک اپ کے لیے بیوٹی پارلروں کی خدمات بھی حاصل کرتی ہیں اور وہاں سے اپنے بال، چہرہ اور ہر چیز سیٹ کروا کر شادیوں میں شریک ہوتی ہیں تا کہ وہ لباس اور زیورات ہی میں نہیں بلکہ حسن و جمال اور آرائش و زیبائش میں بھی یکتا اور ممتاز نظر آئیں۔

پردے سے کوسوں دوری

          پھر ان تکلفات وتصنعات میں پردے کا اور نماز پڑھنے کا اہتمام کیوں کر ممکن ہے؟اِسی لیے ہماری شادیوں میں ان سب کا تصور ختم ہوگیا ہے۔ پردہ کریں گی تو آرائش و زیبائش کے ہی مناظر لوگوں کوکب نظر آئیں گے اور نماز کے لیے وضو کریں گی تو میک اپ کا سارا مصنوعی حسن بہہ جائے گا اور چہرے کی اصل رنگت اور اصل خدوخال نمایاں ہو جائیں گے۔یہ عورتیں جب شادی والے گھر یا شادی ہال میں اکٹھی ہوتی ہیں تو ان کی نظر میں دیگر تمام عورتوں کے لباس، زیورات اور میک اپ کا جائزہ لیتی ہیں۔ اگر وہ ان سب میں ممتاز ہوتی ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے، شیطان ان کے اندر تفاخر اور تکبر کا احساس اور اپنے سے کمتر عورتوں کی تحقیر کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ توسادہ مزاج قسم کی عورتوں کی بابت اس قسم کے تبصرے بھی ان کے نوک زباں پر آجاتے ہیں کہ فلاں کو دیکھو! اللہ نے ان کو سب کچھ دیا ہے لیکن یتیموں اورفقیروں کے سے لباس میں یہاں آئی ہیں۔ یعنی یہ سادگی، جو ان کو پسند ہے، شیطان صفت ان عورتوں کو بری لگتی ہے۔کئی عورتیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو اکثر وبیشتر ان کی باہم گفتگو کا موضوع ایک دوسرے کی غیبت اور ایک دوسرے پرلعن طعن ہوتا ہے۔ اللہ کا ذکر شاز و نادر ہی ان کی زبانوں پر آتا ہے۔

بازاری عورتوں کی طرح ویڈیو مووی بنوانا

          مووی فلم میں، جو آج کل شادیوں کا (بارات میں بھی اورولیمے میں بھی) ایک لازمی حصہ بن گیا ہے۔ ان سے پردہ اور فیشن پرست عورتوں کے ایک ایک سین کو محفوظ کر کے ان کے حسن و جمال اور بناؤ سنگھار اور لباسوں کی تراش خراش بلکہ عریانی و نیم عریانی کو عام کر کے دونوں خاندانوں میں ان کی نمائش کا اہتمام اور ان کا چرچا ہوتا ہے حالانکہ عورتوں کی یہ ساری خوبیاں اور آرائش و زیبائش کی ساری صورتیں صرف خاوند کے لیے جائز اور اس کے مخصوص ہیں۔ لیکن بے چارہ مرد تو اپنی بیوی کو اپنے گھر میں بالعموم اس کے برعکس حالت میں دیکھتا ہے کیونکہ عورتیں اپنے خاوند کے لیے اس طرح کی آرائش و زیبائش کا اہتمام نہیں کرتیں جب کہ ان کو اس کے سامنے بناؤ سنگھار کرنے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ حکم ہے لیکن جب ان کو باہر جانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس طرح بن سنور کر گئی ہیں کہ اللہ کی پناہ، بالخصوص شادیوں میں تو اسکی بے پردگی، اس کا نیم عریاں لباس، میک اپ، غازہ لپ سٹک، اس کی ایک ایک حرکت وادا ایک غارت گر دین و ایمان اورر ہزن تمکین و ہوش، کسی الھٹر حسینہ، دل ربا چنچل بازاری عورت سے کم نہیں ہوتی حالانکہ اس کو حکم یہ ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلے تو باپردہ اور سادگی سے نکلے حتی کہ اس کی خوشبو کی مہک بھی کسی مرد کیوں نہ ہو۔

زناکار عورت

          ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو عورت خوشبولگا کر (باہر نکلتی ہے اور) لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھ لیں تو وہ زناکار ہے۔‘‘احادیث میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک عورت حضرت ابوہریرہ کے پاس سے گزری تو انہوں نے اس سے خوشبو مہکتی ہوئی سونگی انہوں نے پوچھا: ’’اے اللہ کی بندی! کیا تو مسجد میں آئی ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں۔ ‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اور مسجد میں آنے کے لیے تو نے خوشبو لگائی ہے؟‘‘ اس نے کہا:’’ ہاں۔ ‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں نے اپنے محبوب پیغمبر ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’اس عورت کی نماز قبول نہیں جو خوشبو لگا کر مسجد میں آتی ہے جب تک کہ وہ واپس جا کر اس طرح غسل نہ کرے جو جنابت کاغسل ہوتا ہے۔‘‘( سنن ابی داؤد ( 4174 )اس سے اسلامی تعلیمات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عورت کو مسجد میں جانے کے لیے بھی خوشبو لگا کر جانے کی اجازت نہیں ہے تو دوسری کسی بھی جگہ معطر اور مزین ہو کر جانے کی اجازت کس طرح ہوسکتی ہے؟اور جو اس طرح جاتی ہے اس کے دل میں اسلامی تعلیمات کا احترام اور ان پرعمل کاجذبہ کتنا ہے؟

ایک قبیح رسم

          نکاح کے بعد عورتوں کے اجتماع اور حصے میں ایک اور رسم کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے اور وہ ہے کہ دولہا میاں اپنے دوستوں کے ہمراہ اس حصے میں جاتے ہیں اور وہاں دولہا دلہن کو ایک ساتھ بٹھا کر تمام خواتین کے سامنے دودھ پلائی کی رسم ادا کی جاتی ہے اس کے علاوہ دولہا دلہن سب کے سامنے ایک دوسرے کے منہ میں مٹھائی ڈالتے ہیں۔ اس موقعے پر دونوں خاندانوں کی خواتین کے علاوہ دولہا کے قریبی دوست بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔ ستم ظریفی کی حد یہ ہے کہ دیندار خاندانوں میں بھی اس رسم کو معیوب نہیں سمجھا جاتا اور اسے بلا تکلف ادا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دولہا بھی۔ سوائے ماں، بہنوں اور ساس کے تمام عورتوں کے لیے غیر محرم اور اس کے ساتھ اس کے دوست بھی غیر محرم ہوتے ہیں بلکہ دوست تو دلہن کے لیے بھی غیر محرم ہیں۔ لیکن سب کے سامنے بے حیائی کی رسم ادا کی جاتی ہے اور ویڈیو والے یہاں بھی تمام مناظر فلمانے کا کام جاری رکھتے ہیں۔

رخصتی کی عجیب عجیب رسمیں

          دلہن کی رخصتی کے وقت بھی عجیب عجیب مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ خاندانوں میں قرآن پکڑ کر اسے دلہن کے سر پر چھتری کی طرح تان کر قرآن کا اس پر سایہ کیا جاتا ہے۔ گویا قدم قدم پر ہر کام میں اللہ کی نافرمانی اور قرآنی تعلیمات کی مٹی پلید کرنے کے باوجود ہم قرآن سے اس جذباتی تعلق کا اظہار کر کے اللہ تعالی سے کہتے ہیں :یا اللہ! دیکھ لے اس سب خود فراموشی اور خدا فراموشی کے بعد بھی بطور تبرک تیرے قرآن کریم ہی کو استعمال کر رہے ہیں۔ قرآن کریم کے ساتھ کتنا بھونڈا مذاق ہے۔ (نعوذ باللہ)کیا روز حشر اللہ تعالی ہم مسلمانوں سے نہیں پوچھے گا کہ کیا قرآن کریم میں نے صرف اس لیے نازل کیا تھا کہ تم اس کو حریر و ریشم کے غلافوں میں لپیٹ کرگل دستہ طاق نسیاں بنا کر رکھ دینا اوراپنے کاروبار میں معاملات زندگی میں اور اپنی معاشرتی تقریبات ( شادی بیاہ وغیرہ) میں اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھنابلکہ اس کو کبھی کبھی تبرک کے طور پر یا مردے بخشوانے اور کھانے پرفاتحہ پڑھنے کے لیے استعمال کر لیا کرنا۔ تاکہ تم اللہ کو اور اپنے نفسوں کو یہ دھوکہ دیتے رہو کہ تم قرآن کریم کو ماننے والے ہو۔ سچ فرمایا اللہ تبارک وتعالی نے (سورہ البقرہ میں )ترجمہ: یہ اللہ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ دیتے ہیں اور ان کو یہ پتہ ہی نہیں کہ دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ‘‘

 اختتامیہ پر بے غیرتی کے مناظر

          شادی کے اختتام پر مرد حضرات اپنی اپنی خواتین کو لینے کے لیے ہال کے گیٹ پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ماشاء اللہ سب خواتین چونکہ بے پردہ، ہرطرح کے فیشن سے آراستہ نیم عریاں لباسوں میں ملبوس اور الٹے سیدھے میک اپ سے اپنے چہروں کو اور پلکوں کو بزعم خویش سجایا بھڑکایا ہوتا ہے تو کیا باہر نکلتے ہوئے یہ عورتیں مردوں کے سامنے سے بلاجھجھک نہیں گزرتی ہیں ؟اور کیا مرد رنگ ونور کے اس سیلاب سے، یا حسن و جمال کے اس جلوہ ہائے بے تاب سے یا بکھرتے اور دھنکتے اس قوس قزح سے محظوظ نہیں ہوتے؟کیا بے حیائی و بے پردگی کے ان مناظر اور مظاہروں کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے؟ اور جن مسلمان کہلانے والے مردوں نے اپنی بیگمات، بیٹیوں اور بہنوں کو اس بے حیائی کا مظہر ہونے کی اور ’’بے حیاباش و ہرچہ خواہی کن۔‘‘ کا مصداق بنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ کیا وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟ اگر وہ واقعی مسلمان ہیں تو کیا اس بے غیرتی کا ان کے پاس کوئی جواز ہے؟ کیا انہوں نے بھی سوچا ہے اسلام کی اس طرح مٹی پلید کرنے پر وہ اللہ کو کیا جواب دیں گے؟ بارگاہ الہی میں کسی طرح سرخرو ہوں گے؟کیا اس جواب سے ان کا چھٹکار ہو جائے گا کہ بیوی یا بیٹی نہیں مانتی تھی؟ یا ہمارے معاشرے کا رواج ہی یہ تھا کہ شادی بیاہ کے موقع پر شریعت کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا تھا؟ یا اگر ہم اپنی خواتین کو سادہ لباس اور باپردہ لے جاتے تو لوگ ہمیں دقیانوسی خیال کرتے اور یہ پھبتی کستے۔

قوم کی مجموعی حیثیت بے حیائی کی

          شادی یا نکاح میں یہ صورت حال نہایت المناک ہے اور اہل دین کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سب شادیوں میں تو ایسا نہیں ہوتا، بلاشبہ یہ بات صحیح  ہے لیکن بات تو چند افراد یا چند شادیوں کی نہیں بلکہ قوم کی حیثیت مجموعی کی ہے۔ رسم و رواج اور بے حیائی کا طوفان اور دینی اقدار و روایات سے یکسر انحراف کا سیلاب اتنا عام اور تیز ہوگیا ہے کہ بڑے بڑے دین دار گھرانے اور خاندان بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں اور دولت اور وسائل کی فراوانی کی وجہ سے ان کے اندر بھی دین کی پابندی کے بجائے شان وشوکت کے اظہار کا جذبہ بڑھتا جارہا ہے۔اس کی وجہ سے بہت سی مذکورہ خرابیاں دینداروں کی خواتین میں بھی عام ہوتی جارہی ہیں۔ امیرانہ شان و شوکت کا اظہار۔ ان کی خواتین نے ظاہری طور پر تو پردہ کیا ہوا ہوتا ہے لیکن پردے کے پیچھے وہی زرق برق لباس کی نمائش، زیورات کی نمائش، میک اپ اور آرائش کی نمائش، تفاخر اور برتری کا احساس وغیرہ۔

یہ چیزیں کمتر حیثیت کی خواتین کے اندر احساس محرومی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ فضول خرچی کے علاوہ معاشرے کے محروم طبقات کے اندر احساس محرومی کے جذبات پیدا کرنا بھی شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے۔پھر مائیں تو پردے کا بھی اہتمام کرلیتی ہیں لیکن ان کے ساتھ ان کی نوجوان یا قریب البلوغت بچیاں ہوتی ہیں، وہ اکثر بے پردہ بھی ہوتی ہیں اور مذکور فیشنی مظاہر سے آراستہ بھی۔علاوہ ازیں دین دار خاندانوں کے سارے رشتے دار بھی یا تو دین دار نہیں ہوتے یا دینی اقدار و روایات کے زیادہ پابند نہیں ہوتے۔ نیز ان کے قریبی احباب میں بھی بہت سے دین سے بہت دور ہوتے ہیں۔ ان کی خواتین بھی جب بارات اور ولیمے میں شرکت کرتی ہیں تو وہ اسی بے پردگی اور اس کے لوازمات کا مظہر ہوتی ہیں جس کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔

غیر مسلموں کی مشرکانہ رسمیں اپنانا

          بڑی باراتوں اور ان کی ضیافت کے لیے دین داروں کو بھی وسیع پیمانے پر انتظامات کرنے پڑتے ہیں شادی ہال کا اور انواع و اقسام کے کھانوں کا۔ جوفضول خرچی ہی کے ذیل میں آتاہے۔لڑکی کی شادی ہو یا لڑکے کی۔ شادی والے گھر ہی میں کئی کئی دن چراغاں ضروری نہیں ہوتا بلکہ گلی، چوراہوں میں بھی اس کا اہتمام ہوتا ہے اور دیندار ہوں یا غیر دین دار، سب ہی اس کا اہتمام کرتے ہیں حالانکہ خوشی کے موقعے پر چراغاں کرنا مسلمانوں کا شیوہ بھی نہیں رہا۔ یہ آتش پرستوں کی رسم ہے جسے ہندؤں نے اختیار کیا اور ہندووں سے میل جول کی وجہ سے یہ مشرکانہ رسم مسلمانوں میں بھی آگئی۔یہ چند مفاسد وہ ہیں جو دین دار گھرانوں اور خاندانوں میں بھی عام ہوتے جارہے ہیں اور ان سے بچنے کا داعیہ اور جذبہ کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہاہے۔

سب ملکر ’’بیمار قوم کا اپریشن‘‘ کریں

          جب بیماری شدید اور ناسور خطرناک ہو جائے تو بیماری اور ناسور کے خاتمے اور بیمار کی زندگی کو بچانے کے لیے آپریشن ناگزیر ہو جاتا ہے اور یہ ناگوار اقدام مریض سے ہمدردی اور محبت کا تقاضا ہوتا ہے۔شادی بیاہ کی رسمیں، جن میں بارات بھی ایک مرحلہ ہے۔ خطرناک ناسور کی صورت اختیار کرگئی ہیں۔ اس مریض قوم اور اس ناسور بھرے معاشرے کے معاج اور ہمدرد صرف اور صرف اہل دین ہیں۔ اس لیے معاشرے کے ان پھوڑوں (ناسوروں ) کی نشتر زنی انہی کی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنی ذمے داری کو محسوس کریں۔ لوگوں کی باتوں سے نہ ڈریں، طعن وتشنیع کی پرواہ نہ کریں اور بغیر ’’لومتہ لائم‘‘ کے خوف کے اس ’’بیمار قوم‘‘ کے ’’آپریشن‘‘ کا آغاز کریں اور اس کے لیے ابتدائی قدم یہ ہے کہ اپنے گھر سے اسے شروع کریں۔ بالخصوص جو اصحاب حیثیت دینی خاندان اور افراد ہیں۔ وہ ہمت کریں اور فوری طور پر بارات کا سلسلہ ختم کریں۔ بے شک اللہ نے ان کو سب کو کچھ دیا ہے۔ وہ سینکڑوں نہیں، ہزاروں افراد پر مشتمل باراتوں یا ان کی ضیافت کا اہتمام کر سکتے ہیں لیکن اللہ نے یہ دولت فضول خرچی کے لیے نہیں دی ہے، اس پر تو آپ سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔ اس دولت کو مصارف پر خرچ کریں جس کی ہمارے معاشرے میں سخت ضرورت ہے۔ اس کی مزید وضاحت ان شاء اللہ ہم جہیز پر گفتگو کے ضمن میں کریں گے۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے جسے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔یہ کام صرف ایک تنظیم یا اس سے وابستہ افرادکا کام نہیں ہے، یہ ایک دین کا تقاضا ہے جو سارے اہل دین کے مل کر کرنے کا کام ہے۔ صرف ایک تنظیم کے چند افراد کا کردار قابل تعریف ہونے کے باوجود معاشرے میں اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی حیثیت کی صحرا میں پکار یا نقارخانے میں طوطی کی صدا سے زیادہ نہیں ہے۔

ایمانی غیرت و حمیت کا نمونہ پیش کریں

          ملک میں اہل دین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو دینی شعور اور اس کی تعلیمات سے بہرہ ور بھی ہے۔ دینی اقدار و روایات سے وابستگی کا جذبہ بھی اس کے اندر ہے اور بے دینی و بے حیائی کے بڑھتے ہوئے سیلاب سے پریشان اور اس کا رخ موڑنے کی خواہاں بھی ہے لیکن ہے بے عملی، ایمانی دینی غیرت وحمیت کے فقدان اور ہوا کے رخ پر ہی بغیر کسی مزاحمت کے چلتے جانے کی روش نے اتنی بڑی تعداد کو بے حیثیت بنایا ہوا ہے۔ بنابریں ضرورت عملی اقدامات کی ہے۔ ایمانی غیرت وحمیت کے مظاہرے کی ہے۔ایک مضبوط تحریک برپا کرنے کی ہے اور تمام دینی جماعتوں سے وابستہ دین دار افراد کے یہ عہد کرنے کی ہے کہ وہ باراتوں میں شریک نہیں ہوں گے اور خود بھی بارات کے بغیر شادی کریں گے تاکہ مذکورہ خرافات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور قوم کے سامنے دین کا ایک عملی سچا نمونہ پیش کریں

بھاری بھرکم بارات کا بوجھ

           آج کل شادیوں میں کئی کئی سو افراد کی بارات لیکر جانا عام بات ہے جس کا رہنے اور کھانے کا پورا انتظام لڑکی والوں کو کرنا ہوتا ہے۔بھاری بھرکم بارات کا تصور لڑکی والوں کے لیے خواہ مخواہ کا وہ ناروا بوجھ ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ معاشرے کا وہ ناجائز رواج ہے جو لڑکی والوں کے لیے ایسا تصور ہے جس نے زمانہ جاہلیت کی طرح لڑکی کی پیدائش کو غم و اندوہ اور ماتم و شیون والی چیز بنادیا ہے جس کو اسلام نے آکر مٹایا تھا اور لڑکی کی پیدائش کو بھی اللہ کی نعمت قرار دیا تھا۔ بارات کے ناروا بوجھ اور دیگر رسم ورواج کے اغلال و سلاسل نے ایک اسلامی معاشرے کو دوبارہ قبل از اسلام کے جاہلی معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اور قرآن کریم نے(سورہ النحل میں ) اسلام کی نعمت سے محروم جاہلی معاشرے کی جو یہ کیفیت بیان کی ہے۔ ترجمہ:’’جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وغم و غصے سے بھرا ہوتا ہے۔‘‘

غیر ضروری رسموں کی بیڑیاں

          یہی کیفیت ہمارے پاک و ہند کے مسلمان معاشروں کی ہوگئی ہے۔ اور اس کی وجہ صرف وہی رسوم ورواج ہیں جو شادیوں کا جزو لاینفک بن گئے ہیں۔ جن میں بارات، جہیز، بری اور زیورات وغیرہ کی وہ غیرضروری رسمیں ہیں جن کی بیڑیاں خود ہم نے اپنے پیروں میں ڈالی ہوئی ہیں اور جن کو اتار پھینکنے کے لیے کوئی تیار ہیں۔ نیز اس میں دونوں خاندان برابر کے ملوث ہیں لڑکے والے بھی اور لڑکی والے بھی اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ کہ اس سے نہ کوئی دین دار خاندان مستشنی ہے اور غیر دین دار خاندان۔مسلمان معاشروں سے اس جاہلی کیفیت کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شادی بیاہوں کے ان تکلفات کی بیڑیوں کو کاٹ کر نہیں پھینک دیا جائے گا جن میں ایک بھاری جرم بارات کا کروفر کے ساتھ آنا اور پھر شاہان انداز میں اس کی ضیافت کرنا شامل ہے۔

مروجہ جہیز کی قسمیں

          شادی کی رسومات میں ایک رسم جہیز بھی ہے۔ یہ رسم ایسی ہے کہ اس کی اصل حیثیت میں اختلاف ہے کہ یہ واقعی دیگر غیر ضروری رسومات کی طرح ایک رسم محض ہے یا کسی لحاظ سے اس کا شرعی جواز  بھی ہے؟ اس رسم کے دو پہلو یا دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت میں اس کا جواز ہے اور دوسری صورتوں میں ناجائز۔ اس کو سمجھنے کے لیے ان صورتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے جن کے پیش نظر جہیز کا اہتمام کیا جاتاہے۔ یہ حسب ذیل ہیں :

شان وشوکت یا امارت کا اظہار۔

نمود و نمائش، شہرت اور تفاخر کا اظہار۔

اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام۔

وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ۔

محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی رسم کے طور پر۔

عدم استطاعت کے باوجو قرض لے کر اس کا اہتمام کرنا۔

تعاون، ہدیہ اورصلح رحمی کے طور پر

مشرکوں کی رسم کی نقل

           اول الذکر ساری چھ کی چھ صورتوں میں یہ ایک محض رسم ہے اس لیے ناجائز ہے۔ اور اس ناجائز صورت میں اکثر و بیشتر مذکورہ ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ جہیز کی رسم تمام مذکورہ و خرابیوں کا مجموعہ ہے۔ اسے کس طرح جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟اس میں شان وشوکت کا اظہار بھی ہوتا ہے نمودونمائش کا جذبہ بھی۔ اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہر چیز دینے کی کوشش کی جاتی ہے چاہے ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو اور لڑکے والوں کے پاس اتنا غیرضروری سامان رکھنے کی جگہ بھی ہو یا نہ ہو۔جس کے پاس استطاعت نہیں ہوتی، وہ قرض لے کر حتیٰ کہ قرض حسنہ نہ ملے تو سود پر قرض لے کر یہ رسم پوری کرتا ہے۔ بھر پور جہیز دینے میں وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے۔ بالخصوص اصحاب حیثیت اس نیت سے لاکھوں روپے جہیز کی نذر کر دیتے ہیں اور پھر واقعی ان کے بیٹے اپنے صاحب جائیداد باپ کی وفات کی بعد اپنی بہنوں کو وراثت سے ان کا شرعی حق نہیں دیتے اور یہی کہتے اور سمجھتے ہیں کہ باپ نے جہیز کی صورت میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دے دیا۔اب یہ ساری جائیداد صرف بیٹوں کی ہے۔ اس طرح یہ رسم ہندووں کی نقل ہے۔ ہندو مذہب میں وراثت میں لڑکیوں کا حصہ نہیں ہے اس لیے وہ شادی کے موقعے پر لڑکی کو ’’دان‘‘ دے دیتے ہیں۔ یہی ’’دان‘‘ کا تصور ( وراثت سے محروی کا بدل) مسلمانوں میں جہیز کے نام سے اختیار کرلیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ خالص ہندوانہ رسم ہے۔ اگر جہیز میں مذکورہ تصورات کارفرما ہوں تو جہیز کی یہ رسم سراسر ناجائز ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے اس کے خلاف بھی جہاد ضروری ہے کیونکہ جہیز دینے والے بالعموم ایسے ہی تصوارت کے تحت جہیز دیتے ہیں اور اس رسم کو بھی پورا کرنا ناگزیر سمجھتے ہیں۔

جہیز نہیں صلہ رحمی

           لوگوں کے مظابق جہیز کی ایک جائز صورت بھی ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اور وہ ہے تعاون، صلہ رحمی اور ہدیے( تحفے، عطیے ) کے طور پر اپنی لڑکی کو شادی کے موقعے پر کچھ دینا۔اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بڑی فضیلت ہے۔اس طرح ایک دوسرے کو ہدیہ، تحفہ دینے کی بھی ترغیب ہے۔ اور اگر تعاون یا ہدیے کا معاملہ اپنے قریبی رشتے داروں کے ساتھ کیا جائے تو اس کو صلہ رحمی بھی کہا جاتا ہے اور اس کی بھی بڑی تاکید ہے اور اس کو دگنے اجر کا باعث بتلایا گیا ہے۔اس اعتبار سے اپنی بچی کو۔ اگر وہ واقعی ضرورت مند ہے بطور تحفہ کچھ دینا۔ بالکل جائز، بلکہ مستحن اور پسندیدہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی طاقت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کریں۔ اس کے لیے قرض لے کر زیر بار نہ ہوں۔ نمائش اور رسم کے طور پر ایسا نہ کریں۔ ضروریات زندگی کی اس فراہمی میں شادی کے موقع پر ضروریات کا جائزہ لیے بغیر تعاون کرنا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ شادی کے بعد دیکھا جائے کہ اس گھر میں کن چیزوں کی ضرورت ہے اور لڑکے والے ان کو مہیا کرنے سے واقعی قاصر ہیں۔ تو ان کو وہ اشیاء مہیا کرنے میں حسب استطاعت ان سے تعاون کیا جائے۔لیکن حسب ذیل شرائط کے ساتھ۔

اس تعاون کو برداشت کا بدل سمجھ کر اسے وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ نہ ہو۔

بیک وقت تعاون کی استطاعت نہ ہو تو مختلف اوقات میں تعاون کردیا جائے۔

اگر بچی کو گھریلو اشیائے ضرورت کی ضرورت نہ ہو اور والدین صاحب استطاعت ہوں اور وہ بچی کو تحفہ دینا چاہتے ہوں تو داماد کی مالی پوزیشن کے مطابق اس کو ایسا تحفہ دیں جس سے اس کا مستقبل بہتر ہو سکے۔ مثلا: اس کے پاس سرمائے کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ کاروباری مشکلات کا شکار ہے، اس کو نقد رقم کی صورت میں ہدیہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار بہتر کر سکے یا اس کو پلاٹ لے دیا جائے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنا مکان بناسکے۔ اگر اس کے پاس مکان نہیں ہے یا وہ مشترکہ خاندان میں رہائش پذیر ہے اور وہاں جگہ کی تنگی ہے ان دونوں صورتوں میں یہ پلاٹ، یا گھر کی تعمیر، یا کاروبار میں مالی تعاون میاں بیوی (بچی اور داماد) کے لیے ایسا بہترین تحفہ ہے۔ جو صرف انہی کے نہیں بلکہ آئندہ نسل کے بھی کام آئے گا۔نیز تعاون کی ایسی صورت ہے جس میں رسم نمود و نمائش، بلاضرورت زیر بار ہونے کی کارفرمائی نہیں بلکہ خیر خواہی اور تعاون کاصحیح  جذبہ ہے جوعند اللہ نہایت پسندیدہ ہے۔یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اس صورت کو جہیز نہیں کہنا چاہیے بلکہ یہ تعاون اور صلہ رحمی یا ہدیہ ہے۔

جہیز کا تصور اسلام میں نہیں ہے

           احادیث میں اس مروجہ جہیز کا ذکر نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی اپنے ساتھ جہیز لے کے نہیں آئی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی چار بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کو بھی قبل از نبوت اور بعد از نبوت، جہیز نہیں دیا۔صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بابت مشہور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو چار چیزیں بطور ’’جہیز‘‘ دی تھیں۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے اس کا کوئی تعلق مروجہ رسم جہیز سے نہیں ہے۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔