خدارا! قرآن کریم اور تراویح کا مذاق نہ بنائیں

سید فاروق احمد سید علی

محترم قارئین کرام:رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ نازل ہوچکا ہے۔ میری جانب سے آپ تمام اہل اسلام کو رمضان المبارک کی پرخلوص مبارکباد ۔میرے عزیزو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ماہ رمضان برکتوں والا مہینہ ہے اور اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا ۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔

جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔حضرت جبرائیل علیہ سلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، جس پر حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین! حضرت جبرائیل علیہ سلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ﷺ کا آمین کہنا اس دعا سے ہمیں رمضان کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہیے۔روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب ذوالجلال نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن رب تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے۔خداوند کریم نے اپنے بندوں کے لیے عبادات کے جتنے بھی طریقے بتائے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ ہے۔ نماز خدا کے وصال کا ذریعہ ہے۔ اس میں بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے گفتگو کرتا ہے۔ بعینہٖ روزہ بھی خدا تعالیٰ سے لَو لگانے کا ایک ذریعہ ہے۔حدیث مبارک میں ہے کہ رمضان شہر ﷲ“ رمضان ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے۔حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں۔پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’میرے (نیک) بندوں کے لیے مزین ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔رمضان کے اس مبارک ماہ کی ان تمام فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس مہینہ میں عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور کوئی لمحہ ضائع اور بے کار جانے نہیں دینا چاہیے۔

بہر کیف میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر بار کی طرح رمضان المبارک شروع ہونے سے دو تین دن قبل سوشل میڈیا پر اس طرح کے مسیج وائرل ہونا شروع ہوجاتے ہیں کہ فلاں مسجد میں فلاں حافظ صاحب تراویح میں ۶ پارے سنائیں گے ۔۔۔کوئی دو تو کوئی تین پارے سنائیں گے اور حد تو یہ ہے کہ کبھی کبھی اس طرح کے مسیجیس بھی دیکھنے اور سننے ملے کہ فلاں حافظ صاحب روزآنہ ۱۰ پارے تراویح میں سنائیںگے۔۔۔۔اور نیچے وجہہ بھی لکھی ہوتی ہے کہ وہ حضرات جو اپنے کاروبار کی وجہ سے مکمل قرآن سن نہیں پاتے ان کے لیے رات ۱۲ بجے عشاء ہوگی اور ساڑھے بارے بجے سے تراویح میں ۱۰ پارے سنائیں جائیں گے تاکہ وہ تین دن میں مکمل قرآن کریم سن لیں۔۔۔۔اور ایسی جگہوں پر لوگوں کا ہجوم دیکھا جاتا ہے۔ جگہ ناکافی ہوجاتی ہیں۔ پوری مسجد بھری ہونے کے باوجود مسجد کے باہر بھی نمازیوں کے لیے انتظام کیا جاتا ہے۔ لوگ آس پاس کے مکانوں کی چھت پر بھی جانماز بچھاکر تراویح میں قرآن سن رہے ہوتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیے جہاں ۳ پارے ۶ پارے اور دس پاروں کا اہتمام کیا جارہا ہے یا کیا جاتا رہا ہے کیا وہ واقعی قرآن کو پڑھنے اور سننے کا حق ادا کررہے ہیں۔۔۔بڑی معافی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ’’یعلمون،،،تعلمون کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا ہوگا۔۔۔اتنی سوپر فاسٹ اسپیڈ سے قرآن کریم سنا کر آخر یہ حفاظ کرام کرنا کیا چاہتے ہیں۔۔کیا یہی طریقہ قرآن کریم کا سننے اور سنانے کا حق ہے۔۔۔الفاظ کی ادائیگی حروف کی ادائیگی ۔۔۔مد۔۔سکتہ۔۔اور تمام قواعد کیا مکمل ادا ہوتے ہیں۔۔۔ہوسکتا ہے میری ان تمام باتوں سے کچھ حفاظ کرام ضرور ناراض ہوںگے۔۔۔لیکن  میں معافی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ خود ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ آپ کیا کررہے ہیں۔ یہ آپ حفاظ کرام کا کام ہے کہ لوگوں کو ورتل القرآن ترتیلا کے مطابق پڑھنے اور سننے کا عادی بنائیں۔لوگوں میں قرآن کو سکون سے پڑھنے اور سننے کا شوق پیدا کریں۔روح کو سکون ملے ایسا کچھ کام کریں۔۔۔ خدا کی قسم اللہ کے کلام میں وہ تاثیر ہے کہ اگر کسی کو کچھ سمجھ میں نہ بھی آئیں تو وہ کچھ ایسا اثر کر جاتا ہے کہ دل کی دنیا ہی بدل جاتی ہیں۔ ۔۔شرط یہ ہے کہ پڑھنےوالا پورے حق کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرے۔

اللہ کی وحدانیت سے لے کر دین کی ہر بات حضور اکرمؐ نے سکھائی ہے اور حضور اکرؐم کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل ؑ نے سکھائی ہے۔ ایک صحابیؓ نے حضرت اُمّ سلمہ(اُمّ المومنین) سے دریافت کیا کہ آپؐ قرآن شریف کس طرح پڑھتے تھے۔ انہوں نے بتایا بھی کہ ایسے پڑھتے تھے کہ ہر حرف الگ الگ ہوتا تھا اور پڑھ کر بھی بتایا کہ ہر آیت پر رکتے تھے۔ جیسے الحمد لللہ رب العالمین، پھر الرحمن الرحیم، پھر مالک یوم الدین۔ حضرت انسؓ سے حضرت قتاوہ ؓ نے معلوم کیا کہ حضور اکرؐم کیسے تلاوت فرماتے تھے انہوں نے کہا کہ حضور اکرمؐ مد والے حروف کو کھینچ کر پڑھنے کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔
اگر قرآن کو اس طرح پڑھا جائے کہ سننے والوں کو اس کے حروف سمجھ میں آئیں تو نماز سے باہر ایک پارہ پڑھنے میں 20  منٹ لگتے ہیں اور تراویح میں ایک گھنٹہ میں 20  بار سورہ فاتحہ 20  بار التحیات 20  رکوع 40  سجدے ہر تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد وقفہ ہوگا تو آپ بتائیے کتنا وقت لگے گا۔اگر ۸ بجے نماز شروع ہوتی ہے تو ۱۱ یا بارہ تو بجے گے ہی۔
یہ تو ایک پارہ کی بات میں نے کہی ہے۔۔۔آپ سوچئے اور غور وفکر کیجئے کہ ۳ پارے ۶ پارے اور ۱۰ پارے والوں کا کیا ہوتا ہوگا۔۔۔رات رات بھر جاگ کر آدھی نیند اور آدھی غنودگی میں قرآن کو سنا جارہا ہے وہ بھی اتنی اسپیڈ اور تیز رفتاری کے ساتھ کہ پڑھنے والے کو بھی خود پتہ نہیں کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ ۔۔۔اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ پیچھے کی صف والے لوگ جو ہوتے ہیں وہ پانی پیتے پیتے اور چائے کا لطف لیتے ہوئے قرآن سنتے ہیں اور جیسے ہی حافظ صاحب رکوع میں جاتے ہیں وہ حضرات دوڑتے ہوئے آتے ہیں اور رکوع میں شامل ہوجاتے ہیں۔

اور اچھا مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ یہ ۱۰ پارے اور ۶پارے اور تین پارے سننے والے آخر کرنا کیا چاہ رہے ہیں کیا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ۱۰ دن میں مکمل قرآن کریم سن لینے سے وہ قرآن کا حق ادا کررہے ہیں یا پھر کہیں احادیث وغیرہ میں انھوں نے سن رکھا ہے کہ رمضان میں ایک بار قرآن سن لو اور پھر سارے رمضان میں ان کو چھٹی مل جائے گی۔۔۔ایسا تو نہیں ہیں نا۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ عبادت کے ساتھ بدعت حسنہ کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے کہ لوگ تراویح میں ۱۰ پاروں ۶ پاروں اور تین پاروں کا سننے کا اہتمام کررہے ہیں۔

میرے عزیزو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں لوگوں کو مسجدوںسے پورے مہینہ کے لیے باندھ کر رکھا جاتا۔ایک ایک نیکی کے فضائل پر ابھارا جاتا۔۔لوگوں کو بار بار مسجد وں میں آنے کا عادی بنایا جاتا تاکہ وہ رمضان ختم ہونے کے بعد بھی مستقل مسجدوں میں آنے کے لیے تڑپ رہے ہوتے۔۔۔لیکن یہاں تو اس کا الٹ ہی ہورہا ہے۔ ۱۰پارے ۶ پارے اور ۳ پاروں کو سنا کر اور جلدی عوام کو مسجدوں سے دور کردیا جارہا ہے۔

میں بڑے ادب واحترام او رمعافی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ تحفے تحائف اور ہدیہ جات کے لیے دیگر مہینوں کواستعمال کیا جاسکتا ہے لیکن براہ کرام اس بابرکت مہینے کو دھندے کا مہینہ نہ بنائیں۔ اسے نیکیو ںکے فصل بہار کا کا ہی مہینہ رہنے دیں۔۔خوب سے خوب اور نیکیوں کے حصول کا مہینہ بنانے کی فکر کریں۔رمضان المبارک کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ نفل پڑھنے اور زیادہ سے زیادہ قرآن عظیم کی تلاوت کرنے  اور رمضان المبارک کی اس تقسیم کو جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے بتائی ہے کہ پہلا عشرہ رحمت ہے دوسرا عشرہ مغفرت ہے اور تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات ہے اس پر توجہ دی جائے۔اس کو تو ایک کنارے رکھ دیا اور سارا زور اس پر دے دیا کہ رمضان کی راتوں میں جیسے بھی ہوسکے پورا قرآن کرایہ کے حافظ سے پڑھوا لیا جائے وہ چاہے سوا پارہ روز ہو یا دو پارے روز ہو یا تین پورے روز ہو یا پانچ پارے روز ہو یا شبینہ کے نام سے ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا جائے اور یہ بھی چھوٹ دے دی کہ سننے والا سن پائے یا نہ سن پائے سمجھنے والا سمجھ پائے یا نہ سمجھے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آخری عشرہ جس کی ایک رات لیلۃ القدر ہے جس میں عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت یعنی 83  برس اور 4 مہینے کی عبادت کے ثواب سے بھی زیادہ ثواب کا وعدہ پروردگار نے خود کیا ہے۔ اور یہ بھی حضور اکرؐم نے فرما دیا ہے کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرہ میں اور غالباً طاق راتوں 21 ، 23 ، 25 ، 27  اور 29  میں سے کوئی ایک رات ہوگی۔ یعنی اگر صرف پانچ راتیں ہم نے اس طرح گذاریں کہ نفل پڑھے تلاوت کی درود شریف پڑھا دعائیں مانگیں اور جو کلمہ زبان پر چڑھا ہے اس کی تسبیح پڑھی غرض کہ شب قدر کی تلاش میں گذاریں تو یہ تھا وہ موقع کہ مسجدوں کے باہر شامیانے لگتے اور چھتوں پر پارکوں میں سڑک پر غرض کہ ہر پاک جگہ جہاں جگہ ملے یہ سودا کرتے تو بیڑا پار تھا۔لیکن ہم نے تو ۳ دن میں ۱۰ دن میں اور ۱۲ دن میں قرآن کریم سن کر مسجدیں خالی کردیںاور اس فضیلت سے محروم رہ گئے جوباقی کے دو عشروں کی بتائی گئی تھی۔

میں مسجدوں کے کمیٹی وذمہ داران سے یہ دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ جو تین رات پانچ رات یا دس رات کی تراویح کا اہتمام کرتے ہیں وہ خدارا ایسا نہ کریں۔وہ ائمہ و حفاظ حضرات جو اس طرح کی امامت کراتے ہیں وہ ایسی امامت نہ کرائیںاور وہ احباب جو اس طرح کی تراویح میں شریک ہوتے ہیں وہ کبھی سوا پارہ سکون سے پڑھنے اور سننے کا روحانی مزہ لیں۔خدا کے لیے اللہ کی کتاب کے ساتھ نماز کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔۔۔میں اپنے تاجر بھائیوں کو ڈاکٹرز حضرات کواور دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے حضرات کو کہتا ہوں کہ رمضان کی حد تک اپنے معمول کو بدلنے کی کوشش کریں۔۔یا پھر ایسا ممکن نہ ہوںتو سب حضرات مل کر ایک ایسے حافظ کا انتخاب کریں جو آپ کو آپ کی فراغت کے بعد سکون سے تراویح میں قرآن سنا سکے۔یاد رکھے کہ اگر آپ کچھ دیر بھی امام کے ساتھ سکون واطمینان کی نماز پڑھیں گے تو ان شاء اللہ پوری رات عبادت کا ثواب ملے گا۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں رمضان کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔ایک ایک نیکی کوسمیٹ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔اور اس بابرکت مہینے کے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ بولا چالا معاف کرا زندگی باقی تو بات باقی رہے نام اللہ کا۔

تبصرے بند ہیں۔