داڑھی کی اہمیت

شمشیر عالم مظاہری

(امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا، ویشالی بہار)

داڑھی سنت ہے اور داڑھی منڈانا کترانا جب کہ ایک مشت سے کم ہو تمام فقہاء کے نزدیک حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور داڑھی منڈانے یا کترانے والا فاسق اور گناہ گار ہے۔ فاسق کی اذان و اقامت اور امامت مکروہ تحریمی ہے یہ مسئلہ فقہ حنفی کی تقریباً تمام کتابوں میں درج ہے۔

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دس چیزیں فطرت میں داخل ہیں مونچھوں کا کٹوانا اور داڑھی کا بڑھانا۔ ۔ الخ۔ ۔ (صحیح مسلم)

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مونچھوں کو کٹواؤ اور داڑھی بڑھاؤ (صحیح مسلم)

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا مشرکوں کی مخالفت کرو داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کٹاؤ (متفق علیہ، مشکوٰۃ شریف)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مونچھیں کٹواؤ، اور داڑھیاں بڑھاؤ، اور مجوسیوں کی مخالفت کرو (صحیح مسلم)

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مونچھیں نہ کٹوائے وہ ہم میں سے نہیں (ترمذی، نسائی، مشکوٰۃ)

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہو ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں اور اللہ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں (بخاری، مشکوٰۃ)

پہلی  حدیث سے معلوم ہوا کہ مونچھیں کٹوانا اور داڑھی بڑھانا انسان کی فطرت سلیمہ کا تقاضہ ہے اور مونچھیں بڑھانا اور داڑھی کٹانا خلاف فطرت ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ فطرۃ اللہ کو بگاڑتے ہیں قرآن مجید میں ہے شیطان لعین نے خدا تعالی سے کہا تھا کہ میں اولاد آدم کو گمراہ کروں گا اور میں ان کو حکم دوں گا کہ وہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بگاڑ ا کریں۔  تفسیر حقانی اور بیان القرآن میں ہے کہ داڑھی منڈانا بھی تخلیق خداوندی کو بگاڑنے میں داخل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مردانہ چہرے کو فطرۃ داڑھی کی زینت و وجاہت عطا فرمائی ہے پس جو لوگ داڑھی منڈاتے ہیں وہ اغواۓ شیطان کی وجہ سے نہ صرف اپنے چہرے کو بلکہ اپنی فطرت کو مسخ کرتے ہیں۔ چونکہ حضراتِ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہی صحیح فطرت انسانی کا معیار ہے اس لیے فطرت سے مراد انبیاء کرام علیہم السلام کا طریقہ اور ان کی سنت بھی ہو سکتی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ مونچھیں کٹوانا اور داڑھی بڑھانا ایک لاکھ چوبیس ہزار (یاکم و بیش) انبیاء کرام علیہم السلام کی متفقہ سنت ہے اور یہ وہ مقدس جماعت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اقتداء کا حکم دیا گیا ہے، ، اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، ، (سورہ انعام) اس لیے جو لوگ داڑھی منڈاتے ہیں وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے طریقے کی مخالفت کرتے ہیں گویا اس حدیث میں تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ داڑھی منڈانا تین گناہوں کا مجموعہ ہے (1) انسانی فطرت کی خلاف ورزی (2) اغواء شیطان سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑنا (3) انبیاء کرام علیہم السلام کی مخالفت۔ ان تین وجوہ سے داڑھی منڈانا حرام ہے۔

دوسری حدیث میں مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے اور حکم نبی کی تعمیل ہر مسلمان پر واجب اور اس کی مخالفت حرام ہے  اس وجہ سے بھی داڑھی رکھنا واجب اور اس کا منڈانا حرام ہوا۔

تیسری اور چوتھی حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ مونچھیں کٹوانا اور داڑھی رکھنا مسلمانوں کا شعار ہے اس کے برعکس مونچھیں بڑھانا اور داڑھی منڈانا مجوسیوں اور مشرکوں کا شعار ہے اور آپ صلی اللہ وسلم نے اپنی امت کو مسلمانوں کا شعار اپنانے اور مجوسیوں کے شعار کی مخالفت کرنے کی تاکید فرمائی ہے اسلامی شعار کو چھوڑ کسی گمراہ قوم کا شعار اختیار کرنا حرام ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ، من تشبہ بقوم فھو منھم، ، (جامع صغیر) جو شخص کسی قوم کی مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہوگا۔ جو لوگ داڑھی منڈاتے ہیں وہ مسلمانوں کا شعار ترک کرکے اہل کفر کا شعار اپناتے ہیں جس کی مخالفت کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے اس لیے ان کو وعید نبوی سے ڈرنا چاہیے کہ ان کا حشر بھی قیامت کے دن ان ہی غیر قوموں میں نہ ہو۔

پانچویں حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ مونچھیں نہیں کٹواتے وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں ظاہر ہے کہ یہی حکم داڑھی منڈانے کا بھی ہے یہ ان لوگوں کے لیے بہت ہی سخت وعید ہے جو محض نفسانی خواہش یا شیطانی اغوا کی وجہ سے داڑھی منڈاتے ہیں اور اس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے اپنی جماعت سے خارج ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں کیا کوئی مسلمان جس کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے ذرا بھی تعلق ہے اس دھمکی کو برداشت کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داڑھی منڈانے کے گناہ سے اس قدر نفرت تھی کہ جب شاہ ایران کے قاصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی اور مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں۔  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر کرنا بھی پسند نہیں کیا اور فرمایا تمہاری ہلاکت ہو تمہیں یہ  شکل بگاڑنے کا کس نے حکم دیا ہے وہ بولے کہ یہ ہمارے رب یعنی شاہ ایران کا حکم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میرے رب نے تو مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم فرمایا ہے۔ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کے حکم کی خلاف ورزی کرکے مجوسیوں کے خدا کے حکم کی پیروی کرتے ہیں ان کو سو بار سوچنا چاہیے کہ وہ قیامت کے دن رسول اللہ کی بارگاہ میں کیا منہ دکھائیں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی شکل بگاڑ نے کی وجہ سے ہماری جماعت سے خارج ہو تو شفاعت کی امید کس سے رکھیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کریں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت کریں۔  اس حدیث کی شرح میں ملاعلی قاری صاحب مرقاۃ لکھتے ہیں کہ، لعن اللہ، کا فقرہ جملہ بطور بدعا بھی ہوسکتا یعنی ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ اور جملہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے یعنی ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ لعنت فرماتے ہیں۔ داڑھی منڈانے میں گزشتہ بالا ان تمام قباحتوں کے علاوہ ایک قباحت عورتوں سے مشابہت کی بھی ہے کیونکہ عورتوں اور مردوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے داڑھی کا امتاز رکھا ہے اور داڑھی منڈانے والا اس امتیاز کو مٹا کر عورتوں سے مشابہت کرتا ہے جو خدا اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی لعنت کا موجب ہے۔ ان تمام نصوص کے پیش نظر فقہاء امت اس پر متفق ہیں کہ داڑھی بڑھانا واجب ہے اور یہ اسلام کا شعار ہے اور اس کا منڈانا یا کترانا (جب کہ حد شرعی سے کم ہو) حرام اور گناہ کبیرہ ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعیدیں فرمائی ہیں۔

لیکن افسوس آج برصغیر پاک وہند ہی میں نہیں بلکہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے مسلمانوں نے محض یورپ کی اندھی تقلید میں اپنی داڑھی مونچھ کا صفایا کرڈالا ہے اور جب کبھی علماء حق ان لوگوں کو اس شعار دین اور اسلامی نشان کی اہمیت بتاتے ہیں تو بعض مسلمان انتہائی بے باکی اور بے ادبی بلکہ کمال بے حیائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ کیا داڑھی میں اسلام لٹکا ہوا ہے یاد رکھیں  داڑھی میں تو اسلام نہیں ہے مگر اسلام میں داڑھی ہے۔ حضور صلی اللہ وسلم کا فرمان ہدایت کا نشان بن کر آج بھی احادیث کی کتابوں میں چمک رہا ہے اور قیامت تک چمکتا رہے گا یعنی مونچھوں کو کاٹو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مشرکین کی مخالفت کرو پھر کون مسلمان نہیں جانتا کہ تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے اور کسی نے بھی نہ داڑھی منڈوائ نہ داڑھی کٹائی۔ حضور صلی اللہ وسلم کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد صحابہ میں سے کوئی بھی داڑھی منڈانے والا نہیں تھا پھر کڑوروں سلف صالحین علماء کاملین اور اولیاء عارفین میں سے کون ایسا ہوا ہے جس نے داڑھی مونچھ کا صفایا کرایا ہو کیا یہ سب کچھ جانتے ہوئے داڑھیاں منڈانا یا بڑی بڑی مونچھیں رکھنا یا داڑھیوں کی ایسی درگت بنانا کہ کچھ کٹی ہوئ کچھ منڈی ہوئی کچھ نوچی ہوئی نظر آنے لگے یہ شعار اسلام اور فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی مخالفت اور قانون شریعت سے بغاوت نہیں ہے اور مراسم کفر کی طرف رغبت کی نشانی نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس فعل حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

تبصرے بند ہیں۔