دعوتِ دین

مرزا انور بیگ

دعوتِ دین کے لیے یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ حدیث کی رو سے اگرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو اسے دوسرے تک پہنچا دیں۔ یہ دعوتِ دین کی اصل حقیقت ہے۔ اس حدیث میں دعوت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ یہ کتنا بڑا اور اہم فریضہ ہے کہ اس بات کا انتظار نہ کیا جائے کہ بہت سا علم حاصل ہو جائے تو دعوت کا کام شروع ہو بلکہ تھوڑی سی بات بھی پتہ چلے لیکن وہ بات مستند ہو اسی لیے لفظ آیت کا استعمال ہوا ہے تو اسے دوسرے تک پہنچا دیا جائے۔

دعوتِ دین اپنے اندر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ چونکہ اسلام کی دعوت اصل میں ایک اصلاحی دعوت تحریک ہے۔ مثبت دعوت ہے اور آج کا دور علمی دور ہے اس لیے ہمیں علم کی اصلاح علم کے ذریعے ہی کرنی ہوگی۔ ہمیں ان تمام مذاہب و نظریات و افکار پر نظر رکھنی ہوگی جو آج رائج ہیں۔ مختلف ممالک میں مختلف سماجی معاشی اور معاشرتی دستور و طریقہ حکمرانی پر نظر ڈالنی ہوگی۔ یہ دور مقابلہ جاتی دور ہے اس لیے ہمیں تمام مذاہب و نظریات عقائد، ازم کا تقابلی مطالعہ کرنا ہوگا اور دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا کہ دنیا میں یہ رائج تھا جس کی اسلام نے اس طرح اصلاح کی۔ یہ رائج ہے اور اس میں یہ یہ خرابیاں کمزوریاں اور نقص ہیں اور اس کا علاج اور درست طریقہ یہ اور یہ ہے۔ مثلاً

حکمرانی کے کیا کیا طریقے رائج تھے۔ بادشاہت، آمریت، قبائلی نظام حکومت، سرداری، نوابی، امراء، وغیرہ۔ ان میں اسلام نے کس طرح اصلاح کا کام کیا اور کس کو باقی رکھا کسے ختم کیا اور کس کو قائم کیا۔ حکمران اور عوام کی جوابدہی طے کی۔

نظام سیاست کی اساس کیا ہو مقصد کیا ہو ، عوامی فلاح و ضرورت کا کس طرح خیال رکھا جائے کیسے پوری کی جائے جس کا آج کے دور میں فقدان ہے۔ کس طرح سارے نظام سیاست عوامی فلاح میں ناکام ہوۓ اور کیا وجوہات رہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام میں اس کے لیے یہ رہنمائی موجود ہے۔

معاشرت میں حسن اخلاق کس طرح پروان چڑھے۔ ہر فرد کے حقوق کس طرح محفوظ رہیں ۔ جان مال عزت آبرو کی کس طرح حفاظت ہو اور جرائم کے در آنے کے دروازے کس طرح بند کیے جائیں اس سلسلے میں دیگر افکار نظریات اور مذاہب کی کیا کوششیں رہی ہیں وہ کہاں کامیابی ملی اور کہاں کہاں ناکام ہوۓ اور اسلام نے ماضی میں کس طرح ان کی بھرپائی کی نیز آج کیسے ان خامیوں کو اسلام دور کر سکتا ہے۔

مخلوط معاشرہ میں کیا حد بندیاں ہوں۔ بے لگام آزادی کے نقصانات، عورتوں مردوں کا آزادانہ اختلاط کتنا قابل قبول اور کتنا ناقبول اور کیوں ؟ جن ممالک اور معاشرے میں مخلوط نظام رائج ہے ان میں اخلاقی گراوٹ کا کیا حال ہے۔ وہاں جرائم کی کتنی بھرمار ہے۔ خصوصاََ عورتوں اور بچوں کا کس طرح استحصال ہو رہا ہے وغیرہ اور اسلام نے اس پر کس طرح قابو حاصل کیا۔

معیشت کے اصول و استحکام کے لیے قابل غور طریقے۔ سودی نظام سے پاک حلال و حرام کی قیود۔ ذخیرہ اندوزی کی ممانعت۔ مصنوعی اشتہارات کی ممانعت جو کہ جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔

سودی نظام کا تجزیہ۔ اس کے نقصانات معاشی بھی اور معاشرتی بھی۔ کیونکہ یہ ظالمانہ نظام کی دین ہے اور اس سے سماج میں نفرت ظلم خودغرضی پروان چڑھتے ہیں۔ جن مذاہب میں سودی لین دین جائز ہے وہاں کا کیا حال ہے اور جن مذاہب میں جائز نہیں ہے وہ بھی اس میں ملوث ہیں۔ اسلام نے اس نظام کو ختم کر کے کس طرح معاشرے میں امن قائم کیا۔

جنگ و صلح اور معاہدے کے قدیم طور طریقے کیا تھے۔ جنگ کس اعلی مقصد کے تحت لڑی جانے۔ اسلام نے ان میں کس طرح کی اصلاحات کیں۔

تعلیمی نظام کو کس طرح تمام انسانوں سے جوڑا اور اخلاقی اقدار کا ذریعہ بنایا۔تجارت میں ایمانداری کو ملحوظ رکھا جائے اور ناپ تول میں کمی بیشی نہ کی جائے۔ خراب مال کو اچھا بتا کر نہ بیچا جائے۔ وغیرہ سرمایہ دارانہ اور مادہ پرستانہ نظام کے بجائے خدا پرستی کی تعلیم صرف اسلام دیتا ہے اور ہر فرد کو خدا کے سامنے جوابدہی کا احساس دلاتا ہے اس سے معاشرے سے جرائم کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔کارخانہ دار مزدوروں کو ان کی محنت کی پوری اجرت دیے جانے کی تلقین کرتا ہے وغیرہ ۔بین الاقوامی تعلقات و معاملات کو اسلام نے دوسروں کی بہ نسبت کس حسن و خوبی سے استوار کیا۔غلام اور باندیوں کا نظام قدیم زمانے سے رائج تھا۔ طاقت ور قومیں غریب اور کمزور قوموں کو پکڑ لے جاتی تھیں اور انہیں غلام اور لونڈیاں بنا لیتے تھے اور ان سے غیر انسانی سلوک کیا کرتے تھے۔ اسی طرح دو حکومتوں کے درمیان جنگ میں پکڑے گئے مرد و عورت انہیں بھی غلام بنا لیا جاتا تھا اور آج مہذب کہلانے والی یورپی قومیں تو نصف صدی پہلے تک غریب ممالک پر دھاوا بول کر ان کے افراد کو پکڑ لے جاتے رہے ہیں اور ان سے غلامی کروائی ہے۔ لونڈیوں کے ساتھ تو اور بھی برا سلوک کیا جاتا تھا۔ ان کے ساتھ آزادانہ جنسی تعلقات قائم کیے جاتے ۔ اسلام نے اس کو ختم تو نہیں کیا کیونکہ یہ دوطرفہ معاملہ تھا لیکن اس میں جو اصلاحات کیں اس نے رفتہ رفتہ غلامی کا خاتمہ کر دیا۔ غلام اور باندیوں کو لے کر اسلام پر بہت زیادہ نشانہ سادھا جاتا ہے اس لیے اس موضوع پر تقابلی جائزہ پیش کرنا دعوت کے کام میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ غلامی کا نظام ، غلاموں کے حقوق ، مزدوروں کے حقوق ، عورتوں کے حقوق ، بیوہ کے حقوق ، یتیموں کے حقوق ، اصلاح معاشرہ کے طریقے اور قانون ، رہن سہن ، حرام حلال ، کھانا پینا ، لباس، بود و باش شراب و منشیات ، فوجداری قانون اور ضرورت ،عدلیہ ، جزا و سزا کا نظام عمل اور نفاذ، مساوات ، عدل ، رواداری ، اخوت ، انسانیت ، اخلاقیات ، روحانیت ، بازار ، فلاح انسانیت ، لاوارث لوگوں کے حقوق ، عقائد اور ان سے زندگی پر پڑنے والے اثرات ، پڑوسی کے حقوق ، والدین کے حقوق ، بیوی کے حقوق، شادی بیاہ طلاق حلالہ اس کو لے کر بھی غیر مسلموں میں کافی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اس کا تقابلی جائزہ اور وضاحت بھی ضروری ہے۔ آزادی نسواں کا فسوں ، کثرت ازواج یہ بھی ایک بڑا موضوع رہا ہے اگرچہ اس کے پس پشت فسطائیت کارفرما رہی ہے لیکن عام ذہن بھی آلودہ ہوئے ہیں۔ ہندو دھرم میں کثرت ازواج اور اسلام سے پہلے رائج نظام میں ازواج کی تعداد پر مفصل بحث پیش کرنا بھی دعوت دین میں شامل ہے۔

وراثت میں اسلام اور دیگر مذاہب میں کیا فرق ہے اور کون سا قانون مبنی بر عدل ہے۔ اسلام نے اول روز سے وراثت میں بیٹی کو حق دیا ہے جب کہ مہذب کہلانے والی قومیں ایک عرصہ تک عورت کو انسان کہلانے کی مستحق بھی نہیں سمجھتی رہی ہیں اور ہندو دھرم میں بھی بیٹی کو وراثت میں کچھ نہیں ملتا تھا اب جا کر سیکولر حکومت نے ان کو وراثت میں حصہ دیا ہے اگرچہ وہ بھی مبنی بر انصاف نہیں ہے لیکن کم از کم تسلیم تو کیا۔

جان مال عزت کی حفاظت کی ضمانت

مدرس کے فرائض، ڈاکٹر ، جج ، وکیل ، پولیس ، فوج ان سب کے فرائض کیا ہیں اور ان پر عمل کیسے ہو رہا ہے اور اکثر افراد اور شعبے ناکام کیوں ہیں۔ ان تمام شعبوں میں قدیم اور موجودہ ملکی رائج قوانین، دیگر مذاہب کے قانون، دیگر ازمس کے قانون و ضابطے، عقائد کی کمزوریاں، قوانین کی خامیاں، اور زمانۂ قدیم میں کس طرح سے اسلام نے ان خامیوں اور خرابیوں کی اصلاح کی اور آج کس طرح ان میں اصلاح کی ضرورت ہے ان کا بے لاگ تجزیہ کیا جائے اور بغیر کسی تعصب کے فائدے اور نقصانات سامنے رکھ کر بتایا جائے۔

جب تک یہ تجزیے عوام تک پوری شدومد سے نہیں پہنچیں گے اس وقت تک نہ دعوت کا حق ادا ہوگا نہ اس کے اثرات نظر آئیں گے۔ مشکل یہ ہے کہ ایک عرصہ سے بحیثیتِ مسلم امت مجموعی طور پر دعوت کا کام ترک ہو چکا ہے۔ انفرادی طور پر کچھ افراد ضرور کرتے رہے ہیں ورنہ امت تو یہ جانتی بھی نہیں ہے کہ دعوت دین بھی دیگر فرائض کی طرح ہی ایک فرض ہے قطعہ نظر اس سے کہ فرض عین ہے یا کفایہ۔ دوسری بات یہ کہ دعوت دین کا طریقہ کار بھی لگا بندھا کر لیا گیا ہے اور تیسری بات یہ کہ اگر دعوت دی جائے تو مخالف کے سوالوں کا ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا۔

دعوتِ دین ہم نے سینکڑوں سال سے ترک کر رکھا ہے۔ جہاں بانی کے شوق نے دور دراز کے علاقوں کو فتح تو کیا لیکن ان فتوحات سے انسانی زندگی میں جو مثبت تبدیلیاں آنی چاہیے تھیں وہ عنقا رہیں۔ ان ممالک کی عوام کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں بدلا کہ پہلے کسی راجہ یا کنگ کو خراج دیتے تھے اب کسی بادشاہ یا ظل الہی کو دیں گے۔ زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تو وہ ظلم میں کمی پائی گئی اور شاید اسی ایک بات سے متاثر ہو کر ایک قلیل تعداد نے اسلام قبول بھی کیا۔ ہم اس کام کو بھی دعوت کا ایک حصہ مان سکتے ہیں جو عقبی راستے سے ادا ہوئی ورنہ چہرے سے چہرہ اور در سے در والی دعوت سے ہمارا دامن سینکڑوں سال سے خالی ہے۔

آج ہمیں ہمارے ناکردہ گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے۔ ہم نے دعوت دینے کا جرم کیا ہی نہیں۔ اگر دعوت کے نتیجے میں ہم سے لوگ دشمنی کرتے اذیتیں دیتے تو بات سمجھ میں آتی۔ آج ہم اس بات کو لے کر بھی پریشان ہیں کہ ہماری قوم کی بیٹیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کر رہی ہیں اور بعض مرتد بھی ہو رہی ہیں۔ وجہ اس کی یہ بھی ہے کہ ہم داعی نہ ہو کر مدعو ہو چکے ہیں۔ داعیانہ مزاج من حیث القوم ہم میں سے ختم ہو چکا ہے اور اسلام کی حیثیت ہماری نظروں میں نہایت معمولی سی رہ گئی ہے کہ اس کو چھوڑنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ بالکل کپڑوں کی سی کہ جب چاہا بدل لیا۔ نہ اسلام کو حاصل کرنے میں ہمیں کوئی محنت کرنی پڑی تھی نہ قائم رکھنے کے لیے اور نہ دوسروں تک پہنچانے میں ہم نے کوئی محنت کی تو اس کی قیمت کا اس کی اہمیت کا احساس کہاں ہوگا۔ اور جب پورا معاشرہ اسی بے حسی کا شکار ہو گا تو گھر کب محفوظ رہے گا۔ اولاد کے لیے کہاں سے فکر پیدا ہوگی کہ اس کے اندر حقیقی اسلامی دین داری آۓ۔ شور تو بعد میں اٹھتا ہے کہ بیٹی غیر کے ساتھ چلی گئی یا محلے کے چند افراد کے اندر تشویش پیدا ہوتی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے عجب غضب قسم کے پروگرام ترتیب پاتے ہیں۔ معاشرے سے زنگ کھرچنے کے بجائے رنگ و روغن سے کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بہرحال ہمیں اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دعوت دین کو پورے کینوس پر سمجھنے کی ضرورت ہے اس کے بغیر تبدیلی ممکن نظر نہیں آتی۔

تبصرے بند ہیں۔