ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

ہر قسم کی عبادت کا اجتماع

          ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہی وہ ایام ہیں جن میں ہر قسم کی عبادات جمع ہیں۔ اِن دس دنوں کی خاص بات یہ ہے کہ اِن دنوں میں ہر عبادت کو کیا جاسکتا ہے یعنی ہر عبادت کا اجتماع ہے۔ اِن دس دنوں میں مسلمان ہر نیک عمل کے ساتھ ساتھ قربانی اور حج بھی کرسکتا ہے جو سال کے بقیہ دنوں میں نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ سال کے بقیہ دنوں میں مسلمان نہ تو حج کرسکتا ہے اور نہ ہی قربانی کرسکتا ہے۔ ان دنوں میں کلمہ شہادت کے اقرار، تجدید ایمان اور کلمہ کے تقاضوں کی تکمیل کا بھر پور موقع ہے۔ ان دنوں میں صلاۃ پنجگانہ اور دیگر نفلی صلوات بھی ہیں، ان دنوں میں صدقہ و زکوٰۃ کی ادائیگی کا موقع بھی ہے۔ ان دنوں میں صوم(روزہ) کی عبادت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ یہ ذکر و دعا اور تلبیہ پکارنے کے بھی یہ ایام ہیں۔ ہر قسم کی عبادت کا ان دنوں میں اکٹھا ہو جانا یہ وہ شرف و اعزاز ہے جو ان دس دنوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس اعزاز میں اس کا کوئی اور شریک نہیں۔ یہی وہ ایام ہیں جن میں اللہ تعالی نے اپنی نعمتوں کا اتمام کیا ہے یعنی ان دنوں میں ہر قسم کی عبادت کو جمع کرکے روح کی غذا اور اس کی لذت کا سامان کردیا ہے۔ اتمام نعمت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ اللہ نے اسلام کے لیے اپنے بندوں کے سینے کھول دیئے۔ وہی سرزمین عرب جہاں یہودیت و نصرانیت اور مجوسیت وثنیت کا غلبہ تھا اسلام کا پرچم سر بلند ہوا۔ سورہ الفتح میں  ارشاد ہے (ترجمہ) :’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اور اللہ تعالی کافی ہے گواہی دینے والا۔ ‘‘(28)۔ اسی اتمام نعمت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ حرم کا داخلہ مسلمانوں کے لیے مخصوص کردیا گیا اور کفار و مشرکین کو حرم میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

 افضل ترین ایام

           ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک اہم فضیلت یہ ہے کہ یہ وہ ایام ہیں جن کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک منٹ اور سیکنڈ انتہائی قیمتی ہے۔ ان دنوں میں اللہ رب العزت کی طرف سے اعمال صالحہ کی شدید محبوبیت کا اعلان عام ہے، یہ وہ خصوصی پیشکش (اسپیشل آفر) ہے جو سال کے بقیہ دنوں میں حاصل نہیں ہے، یہ نفع کمالینے کا موسم ہے، یہ نیکیوں میں مقابلہ کرنے کا وسیع میدان اور سنہرا وقت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عشرۃ ذوالحجہ میں کئے گئے عمل صالح اللہ کو جس قدر زیادہ محبوب ہیں اتنا کسی اور دن میں نہیں ہیں۔ ‘‘ صحابہ اور مومنین نے دریافت کیا: حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنا جان ومال لے کر نکلا لیکن کچھ بھی لے کر واپس نہیں ہوا۔ ‘‘( صحیح بخاری (969 ) حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں کے نیک اعمال سے بقیہ دنوں کے کسی عمل کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ جہاد سے بھی نہیں جس کے فضائل معروف و مشہور ہیں، نہ جانی جہاد سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور نہ مالی جہاد سے اور نہ بیک وقت دونوں جہاد سے اگر آدمی کی جان یا مال کچھ بھی سلامت رہ گئے۔ البتہ جو شخص جان و مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلے اور پھر کچھ بھی لے کر واپس نہ ہو، سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور اپنی قیمتی جان اللہ کی راہ میں قربان کرکے شہید ہو جائے۔ یہی تنہا وہ شخص ہے جو ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں نیک اعمال سے اپنا خزانہ معمور کرنے والے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ذرا غور کریں کہ اس کی ہمت اور ایسا موقع کس میں ہے کہ سارا جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دے؟ اس کے مقابلہ میں یہ کس قدر آسان ہے کہ اللہ کی طرف سے دیئے گئے اس خصوصی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عشرہ ذوالحجہ میں اعمال صالحہ کے ذریعہ اپنادامن مراد بھر لیاجائے۔ !!ایک اور حدیث میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دنیا کے ایام میں افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ (صحیح الجامع الصغیر ( 1133 )

دین کی تکمیل کا دن

           ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک یہ بھی فضیلت یہ ہے کہ یہی وہ ایام ہیں جن میں اللہ تعالی نے اپنے دین کی تکمیل کی ہے اور ان دنوں میں ہر نوع کی عبادت کو اکٹھا کر دیا ہے۔ تکمیل دین وہ گراں قدر عطیہ ہے جس سے اہل دین کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے اعمال و کردار اور اجر و ثواب کی تکمیل ہوتی ہے۔ حیات کاملہ نصیب ہوتی ہے۔ اطاعت و فرماں برداری میں لذت ملتی ہے، گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے۔ مخلوقات کی محبت ملتی ہے۔ سنتوں کو فتح سے ہمکنار اور بدعتوں کو شکست سے دوچار ہونا ہوتا ہے۔ ایمان اور اہل ایمان کو طاقت و قوت ملتی ہے۔ نفاق اور اہل نفاق ذلت و پستی میں گرجاتے ہیں۔ تشکیل دین سے نفس امارہ پر، شیطان لعین پر اور ناروا خواہشات پر غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ اللہ کی عبادت میں نفس پر سکون ہوتا ہے۔ قرآن مجید کے اندر تکمیل دین کا اعلان بھی اسی عشرہ میں ہوا ہے جس کی بنا پر یہودی ہم سے حسد کا شکار ہو گئے۔ ایک بار ایک یہودی عالم نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا:’’آپ کی کتاب قرآن مجید میں ایک ایسی آیت ہے کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم یوم نزول کو یوم عید بنالیتے وہ (سورہ المائدہ کی) آیت ہے (ترجمہ) :’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کردیااور تم پر اپنا انعام بھر پور کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا۔ ‘‘ حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کب اور کہاں نازل ہوئی ہے؟ جمعہ کے دن میدان عرفات میں نازل ہوئی ہے۔ ‘‘( صحیح مسلم ( 7525 )یہاں قابل غور یہ ہے کہ دین کامل میں اضافہ کی گنجائش نہیں۔ وہ خود فطری تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اس واقعہ میں بھی اس آیت کا نزول جس اعتبار سے ہوا ہے وہ خود ’’یوم عید‘‘ بھی ہے اور ’’مقام عید‘‘ بھی۔ جمعہ کے دن ہفتہ کی عید ہے اور میدان عرفات کا اجتماع عظیم الشان سالانہ عید ہے۔

عرفہ کا دن

          ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ایک خاص فضیلت یہ ہے کہ انھیں میں سے ایک دن عرفہ کا بھی دن ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :’’عرفہ کے دن سے زیادہ اللہ تعالی کسی اور دن جہنم سے آزادی نہیں عطا فرماتا، اللہ تعالی قریب ہوتا ہے پھر ان (عرفہ میں ٹھہرے ہوئے) لوگوں کے ذریعہ اپنے فرشتوں سے فخر کرتا ہے اور کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟‘‘( صحیح مسلم ( 3288 ) ایک اور روایت میں ہے :’’صوم عرفہ سے متعلق مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ سال گذشتہ اور آئندہ کا کفارہ ہو جائے گا۔ ‘‘ (صحیح مسلم (2754 )واضح رہے کہ حدیث میں مذکور فضیلت حاجیوں کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے ہے۔ جو حاجی میدان عرفات میں موجود ہوں انھیں افطار سے (یعنی بغیر روزہ) رہنا چاہیے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے (متفق علیہ) تاکہ ان میں ذکر و دعا کے لیے قوت رہے۔ حاجیوں کے لیے عرفہ میں ٹھہرنا ہی حج کا ’’رکن اعظم‘‘ ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :’’حج عرفہ ہی ہے۔ ‘‘(سنن ابی داؤد ( 1949 ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :’’عرفہ کے دن کی دعا تمام دعاؤں سے بہتر ہے اور سب سے افضل کلمہ جو میں نے اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء نے کہا ہے وہ یہ ہے: ’’اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے، تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘(جامع ترمذی (3585 )

اِن دنوں کی اللہ نے قسم کھائی

          ذوالحجہ کا پہلا عشرہ یعنی اس کے ابتدائی دس دن سال کے سارے دنوں میں سب سے زیادہ برکت والے دن ہیں اور ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ ان میں نیکیاں کمانے کے متعدد مواقع ہیں، ان کی فضیلت کے بہت سے دلائل ہیں۔ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی پہلی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان دنوں کی قسم کھائی ہے۔ سورہ الفجر میں ارشاد ہے:’’ قسم ہے فجر کی! (1) اور دس راتوں کی! (2) اور جفت اور طاق کی! (3) اور رات کی جب وہ چلنے لگے (4) کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے (5)۔ دس راتوں سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں۔ ملاحظہ کیجئے تفسیر ابن کثیر، طبری و آلوسی وغیرہ۔ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی قسم کھاتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ کئی دیگر اہم چیزوں کی بھی قسم کھائی ہے۔ ان اہم چیزوں کی عظیم الشان اہمیت کو دیکھتے ہوئے ان کے ساتھی عشرہ کی بھی اہمیت و عظمت واضح ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ فجر کی قسم کھائی گئی جو ایک قیمتی وقت ہے جس وقت اندھیرے کے بعد اجالا ابھرتا ہے۔ سکون کے بعد حرکت واپس آتی ہے، نیند جو چھوٹی موت ہے ختم ہوکر بیداری اور زندگی شروع ہوتی ہے۔ اس وقت دن اور رات کے فرشتے اکٹھا ہوتے ہیں۔ یہ رات کی آخری تہائی سے بہت قریبی وقت ہے جب کہ رب ذوالجلال آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فجر کے وقت کی صلاۃ ہی وہ صلاۃ ہے جس سے مومن و منافق کی پہچان ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ جفت اور طاق کی قسم کھائی، جفت اور طاق میں ساری مخلوق آجاتی ہے۔ مخلوق یا تو جفت ہے یا طاق، اس سے ہٹ کر نہیں، ذوالحجہ کے دس دنوں میں بھی ایک اہم طاق موجود ہے جو عرفہ کا دن ہے۔ نو تاریخ کو ہے اور ایک اہم جفت موجود ہے اور وہ قربانی کا دن ہے جو دس تاریخ کو ہے۔ اس کے ساتھ میں رات کی قسم کھائی گئی جو دن سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ قرآن پاک میں رات کا ذکر دن سے زیادہ ہے اور رات ہی نفلی صلاۃ اور تہجد کا وقت ہے۔ رات ہی رب کے ساتھ تنہائی کا وقت ہے جس میں اخلاص کی اور ریاء و نمود سے سلامتی کی زیادہ امید ہے۔ رات ہی کی ایک گھڑی میں وہ مبارک لمحہ بھی آتا ہے جب رب کریم اپنے بندوں سے قریب ہو کر دنیا کے آسمان پر اتر کر ان کو مخاطب کرتا ہے اور کہتا ہے:’’کیا ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کروں ؟کیا ہے کوئی سوال کرنے والا جسے میں دوں ؟کیا ہے کوئی مغفرت کا طلبگار جس کو مغفرت عطا کروں ؟‘‘ رات کو بستروں سے پہلو الگ رکھنا، شب بیداری کرنا اہل جنت کا امتیاز ہے۔ سورہ السجدہ میں ارشاد ہے (ترجمہ):’’ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں (16)۔ سورہ الذاریات میں ارشاد ہے (ترجمہ):’’رات کو بہت کم سویا کرتے تھے (17)

’’یوم النحر‘‘قربانی کا دن

          ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی اخری فضیلت یہ ہے کہ ان کا دسواں اورآخری دن ’’یوم النحر‘‘ ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’بے شک اللہ تعالی کے یہاں تمام دنوں سے عظیم ترین دن ’’یوم النحر‘‘ (قربانی کا دن) ہے، پھر اس کے بعد والا دن۔ ‘‘ ( سنن ابوداؤد ( 1765 )’’یوم النحر‘‘ وہ دن ہے جس میں حج کے بیشتر اعمال انجام دیئے جاتے ہیں۔ اس دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا ہے، قربانی کرنا ہے۔ سر کے بال کٹوانا یا منڈانا ہے، طواف زیارت اور سعی کرنی ہے۔ ایسے ہی اس دن سارے مسلمان بقر عید مناتے ہیں۔ عید کی دورکعتیں پڑھتے ہیں۔ قربانی کرتے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔ بہر کیف عشرہ ذوالحجہ کے فضائل بہت ہیں، ایک مسلمان کو چاہیے کہ ان مبارک دنوں کو غنیمت سمجھے، انھیں یوں ہی ضائع ہونے سے بچائے، ان میں ہر نیکی میں سبقت لے جانے کی تگ و دو کرے۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔