رزق کی تلاش اور اسلام

سہیل بشیر کار

اللہ رب العزت نے یہ دنیا قانونِ اسباب پر قائم رکھی ہے۔ یہاں بندے کا کام جدوجہد کرنا ہے، دین اسلام فطرت پر قائم ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اسلام کی تعلیمات عقل اور فطرت سے ٹکراتی ہو۔ عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ انسانی معاشرہ دوڑ دھوپ کریں، تاکہ وہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرسکیں۔ لارَیب کہ  دین اسلام بندہ مومن کے اندر اعتدال پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف وہ حلال و حرام کی تمیز سکھاتا ہے؛ دوسری طرف وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ بندہ ہاتھ پر ہاتھ  دھرے نہ بیٹھے , دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں، ان کا مشترکہ کام ہے کہ بندہ کا تعلق اپنے رب سے جڑ جائے ، وہ لوگوں کو اپنے اپنے معبد خانوں کی اور بلاتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام کا امتیاز ہے کہ وہ اللہ کے ذکر کے لیے مسجد کی طرف بلاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اب جبکہ عبادات تکمیل ہو پہنچی تو نکلو اور اپنے معمولات نپٹاؤ۔  نماز جمعہ کو دین اسلام میں غیر معمولی اہمیت ہے، اس دن جہاں وہ لوگوں کو دوپہر میں مسجد میں بلاتا ہے؛ وہیں نماز ختم کرنے کے بعد کہتا ہے کہ اب منتشر ہو جاؤ، پھیل جاو اور اپنے اپنے کاموں میں لگ جاو، اور ضروریات سامان کے لیے جدوجہد کرو اتنا ہی نہیں رزق کی تلاش کو وہ اپنا فضل قرار دیتا ہے۔ (جمعہ 4) اور دوسری جگہ معاشی جدوجہد کو لفظِ ‘خیر’ سے مسموم کرتا ہے۔ (البقرہ 215)عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘حلال رزق کی تلاش فرض ہے باقی فرضوں کے بعد۔’ عام طور پر مذاہب کا یہی تصور ہے کہ ہمیں اپنا وقت دنیا کے معمولات میں کم سے کم گزارنا چاہیے۔ دور رسالت میں اس سلسلے میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی تربیت کیسے کی؛ چند مثالیں پیش خدمت ہے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ وہاں سے ایک شخص گزرا۔ وہ معاشی دوڑ میں خوب لگا ہوا تھا؛ تو صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کاش یہ اتنی محنت دین کے لیے کرتا۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ شخص اس وجہ سے محنت کر رہا ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑے یا اپنے گھر والوں کی دیکھ بھال کریں تو یہ بھی عبادت ہے۔ اتنا ہی نہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دو ہی انسانوں پر رشک کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ایک وہ جس کو خوب مال دیا گیا اور وہ اللہ کی راہ میں خوب خرچ کریں۔ اسلام کی تعلیمات اس سلسلے میں بہت واضح ہے اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں لوگوں کی رہنمائی کی۔ آپ نے جب مدینہ ہجرت کی تو جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کا قیام عمل میں لایا، وہیں مدینہ مارکیٹ کی بنیاد بھی رکھی۔  رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کاروبار کے لیے ترغیب دیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ؐ کے پاس ہاتھ پھیلائے ہوئے حاضر ہوا۔ آپ نے پوچھا: ‘کیا تمھارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟’ اس نے کہا کیوں نہیں،ایک چٹائی ہے جس کا کچھ حصہ بچھاتے اور کچھ حصہ اوڑھ لیتے ہیں، اور پیالہ ہے جس میں پانی پیتے ہیں، آپ نے کہا: دونوں میرے پاس لے آؤ۔ وہ لے آیا۔ آپ نے دونوں چیزیں لیں اور کہا:

ان دونوں کو کون خریدے گا۔ ایک صحابی نے کہا:

‘ میں ایک درہم میں لوں گا’، آپ نے دو یاتین بار کہا ایک درہم سے زیادہ میں کون لے گا، ایک آدمی نے کہا میں دو درہم میں لے لوں گا، آپ نے وہ دونوں چیزیں اسے دیں اور دونوں درہم اس شخص کو دے دیے اور اسے کہا؛ ایک درہم سے کھانے کی چیزیں خرید کر اپنے گھر دے آؤ اور ایک درہم سے کلہاڑی کا پھل خرید کر میرے پاس لاؤ، وہ لے آیا تو آپ صلعم نے اپنے ہاتھ سے اس میں دستہ لگایا، پھر اس سے کہا۔ ‘جاؤ لکڑی کاٹ کر بیچو، اور میں تمھیں پندرہ دن تک نہ دیکھوں۔’ وہ آدمی گیا اور لکڑی کاٹ کر بیچنے لگا، پھر جب وہ آیا تو دس درہم کماچکا تھا، جس سے کپڑے اور کھانے کی اشیا خرید لی تھیں، تب اللہ کے رسولؐ نے کہا:

‘یہ اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ بھیک مانگنے کا نشان تمھارے چہرے پر ہو۔ بھیک مانگنا ان تین کے علاوہ کسی کے لیے درست نہیں ہے:

جو فاقے سےبدحال ہو، یا قرضے میں دبا ہوا ہو یا خوں بہا ادا کرنے کے لیے پریشان ہو۔’ (ترمذی)رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال کمائی نیک بندوں کا بہترین سرمایہ ہے۔ (احمد، طبرانی) اتنا ہی نہیں قرآن مجید میں زکوٰۃ وانفاق کا مقام اتنا بلند بتایا گیا ہے اور اس کا اتنی کثرت سے ذکر ہے کہ ہر مسلم کے دل میں مال دار بن کر زکوٰۃ دینے اور زیادہ سے زیادہ انفاق کرنے کی خواہش کا پیدا ہونا یقینی بات ہے۔اتنا ہی نہیں آپ کا ارشاد ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے اسلام کے نزدیک اگر کوئی شخص بیوی بچوں پر مال خرچ کرے تو وہ بھی صدقہ میں شمار ہوتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کچھ لوگ مسجد کے ایک گوشہ میں اس خیال سے بیٹھے تھے کہ حصولِ رزق کے لیے انھوں نے ابھی ابھی دعا کی ہے۔ اس صلے میں اللہ ان کی روزی وہیں پہچائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب انھیں دیکھا اور ان کی سرگزشت سنی تو اپنا کوڑا تان کر فرمایا کہ تم میں سے کوئی روزی روٹی کے لیے غافل نہ ہو  آسمان سے سونا چاندی نہیں برستا۔ پھر انہوں نے سورہ جمعہ آیت 10 کی تلاوت کی۔ امام احمد ابن حنبل نے اس شخص کو پرلے درجے کا جاہل کہا ہے جو گھر یا مسجد میں اس خیال سے بیٹھا کہ مجھے میرا رزق مل جائے گا۔ یہ دنیا دارامتحان ہے۔ خودمحنت کرکے کمانے کو سراہا گیا ہے؛ چناں چہ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے :تم میں کوئی اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہترکوئی چیزنہیں کھاتا،اوراللہ کے نبی داؤدعلیہ السلام اپنے ہاتھ سے کماکرکھاتے تھے۔ اسلام اس بات کی کبھی ہمت افزائی نہیں کرتا کہ انسان بیکار بیٹھا رہے۔ وہ چاہتا ہے کہ امت مسلمہ کا ہر فرد معاشرہ کے لیے potential ہو، اس سلسلے میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ہمت افزائی کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "تم میں سے کوئی اپنی رسیاں لیں، پہاڑ پر جائے، اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا بوجھ لاد کر لائے، اسے بیچے، اور اس کی قیمت سے اپنی ضروریات پوری کرے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، وہ اسے دیں یا منع کردیں۔‘‘(بخاری)۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آپ کی دعا میں یہ بھی شامل تھا کہ آپ فقر و فاقہ سے نجات کی دعا کرتے۔ ‘اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔’ (ابوداؤد) آپ نے فرمایا کہ فقر؛ کفر تک پہچاتا ہے۔ حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا، ‘بے صبرے اور فاقہ کش بدترین کافر ثابت ہوتے ہیں۔’ امام ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا "جس کے گھر میں کھانے کو نہ ہو اس سے مشورہ نہ لو۔ ” ظاہر ہے اس کے خیالات پراگندہ ہونگے اور وہ صحیح مشورہ نہیں دے سکتا ہے،  یتیم کے مال کی حفاظت کی سخت تاکید کی گئی ہے، اس کے باوجود ولی کو ہی حکم دیا گیا کہ وہ یتیم کے مال کو invest کریں تاکہ اس کو زکوۃ نہ کھائے، اب جو دین یتیم کے مال کو بھی invest کی ترغیب دیتا ہو؛ وہ کیسے سرمایہ دار کو ترغیب نہ دے۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف معاشی وسائل کی تعریف کی ہے۔ سچے تاجر کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’ ایماندار، امانتدار و راستباز تاجر کا حشر انبیاء، صدیقین، شہداء کے ساتھ ہوگا۔ ‘(ترمذی)، زراعت کے بارے میں کہا "جب مسلمان کاشتکاری کرتا ہے، یا کوئی پودا لگاتا ہے اور پھر اس سے کوئی پرندہ، چوپایہ یا انسان مستفید ہوتا ہے تو اس کی طرف سے یہ عمل صدقہ تصور کیا جاتا ہے۔” (بخاری) دستکاری کے بارے میں فرمایا’ کسی آدمی نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے زیادہ لذیذ کھانا نہیں کھایا ہوگا۔۔’ (بخاری) حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مشہور قول ہے کہ مجھے خدا کی راہ میں لڑتے ہوئے جان دینے کے بعد جس دوسری موت کی تمنا ہے وہ یہ کہ حصولِ رزق اور فارغ البالی کی تلاش میں میری موت واقع ہو۔ مشہور تابعی ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ میرے نزدیک امانت دار تاجر عبادت گزار صوفی سے بہتر ہے۔ (اسلام میں غریبی کا علاج از علامہ یوسف القرضاوی؛ ص 82)علامہ یوسف القرضاوی کہتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ میں شریک حکام سے لے کر ادنیٰ سے ادنیٰ فرد تک ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھوک اور افلاس کا مقابلہ کریں اور اس مقصد کے لیے سرمائے، یا ہمہ قسم کی مادی اور اخلاقی قوتوں کا استعمال کریں۔ "

بدقسمتی سے امت مسلمہ میں توکل کے غلط مفہوم کی وجہ سے معاشی تگ دو کو مستحسن نہیں سمجھا جاتا۔ عشرہ مبشرہ میں 2 اصحاب ایسے تھے جن کی مالیت بہت زیادہ تھی، مالدار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور عبدالرحمن بن عوف کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی، امام اعظم امام ابو حنیفہ کی مالی حیثیت بہت اونچی تھی لیکن بدقسمتی سے دین کے محدود تصور کی وجہ سے ہمارے ہاں بگاڑ آیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ مل کر پلان بنائیں تاکہ تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں، اتنا ہی نہیں گھر میں بیٹھی خواتین کے لیے بھی؛ باہر یا گھروں میں ہی روزگار کے مواقع ڈھونڈنا ہماری ترجیحات میں ہونا چاہیے، تاکہ مسلمان دینے والے بن سکیں نہ کہ ہاتھ پھیلانے والے؛ قرنِ اول کا معاشی ماڈل یہی تھا۔۔۔!

تبصرے بند ہیں۔