زائرین حرم طریقۂ  حج کے مقاصد پر بھی نظر رکھیں

سراج الدین ندوی

اللہ کا شکرہے کہ تین سال بعد حج کے مناسک سابقہ شان کے ساتھ ادا کرنے کا موقع نصیب ہورہا ہے۔جو لوگ امسال فریضہ ٔ حج ادا کررہے ہیں میں ان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں اور بسلامت واپسی کی دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کا حج قبول فرمائے۔کسی بھی عبادت کے قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو وہ مل جائے جس کے لیے اس نے وہ عبادت کی ہے،ہم بہت سی عبادات اور دینی مناسک ادا کرتے ہیںجن کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں۔جو مقاصد اللہ اور اس کے رسول نے طے کیے ہیں۔مثلاًنماز کے بارے میں کہا گیا کہ ’’بے شک نماز برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے‘‘(سورہ العنکبوت 45)یعنی نماز پڑھنے والے سے فحش اور منکرصادر نہیں ہوتا۔زکاۃ کے بارے میں کہا گیا کہ ’’مال پاک ہوجاتا ہے۔معاشرہ خوش حال ہوتاہے‘‘(حدیث)روزے کے بارے میں فرمایا گیا کہ ’’یہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے‘‘(البقرہ 183)حج کے بارے میں ارشاد ہوا۔’’جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) کوئی فحش کلامی اور گناہ نہیں کیا تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اپنے گھر اس طرح) لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا‘‘۔  (متفق علیہ)

اے زائرین حرم!یہ مقصد تبھی حاصل ہوگا جب آپ کی اس مقصد پر نظر ہوگی،اس کو پانے کی طلب ہوگی، اس لیے کہ لفظ مقصدبنا ہی قصد سیہے۔ عبادتوں کے مقاصد اسی وقت حاصل ہوں گے جب ان کو حاصل کرنے کا آپ عزم اور ارادہ کریں گے،ہر وقت آپ کو ان مقاصد کا شعور ہوگا اوران کو حاصل کرنے کی آپ تگ و دو کریں گے۔اگر آپ نے مقصدحج پر نظر نہیں رکھی اور اس کے حصول کی کوئی کوشش نہیں کی تو آپ جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آجائیں گے،آپ نے جو وقت اور پیسہ خرچ کیا ہے وہ فضول خرچی میں شمار کیا جائے گا جس کا آپ کو حساب دینا ہوگا۔

ہم مسلم امت میں دیکھتے ہیں کہ ایک بڑی تعداد الحمد للہ نماز پڑھ رہی ہے لیکن فحش اور منکرات کی بھرمار ہے۔ایسا نہیں کہ بے نمازیوں میں بے حیائی ہے بلکہ نمازیوں کی شادی بیاہ کی تقریبات بھی کسی بے نمازی سے کم نہیں ہوتیں،ان کے معاملات بھی بددیانتی پر مبنی ہیں۔ہر سال اربوں روپے زکاۃ کی مد میں نکالے جانے کے باوجود ہاتھ پھیلانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے،روزہ کے اثرات تو رمضان میں بھی نظر نہیں آتے رمضان کے بعد کیا نظرآئیں گے۔ہٹے کٹے نوجوان جن کے سامنے کوئی مجبوری نہیں وہ بھی روزہ نہیں رکھتے،جو رکھتے ہیں ان میں سے بھی بہت کم اپنے روزے کی حفاظت کرتے ہیں اسی لیے رمضان کے بعد مسلم معاشرے میں تقویٰ کی جو بہار آنی چاہیے تھی نہیں آتی۔حج پر جانے والے بھی جب واپس آتے ہیں تو بظاہر ان میں کئی تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔سر گنجا ہوتا ہے۔ہاتھوں میں تسبیح ہوتی ہے،مخصوص عربی رومال کاندھے پر ہوتا ہے،ساتھ میں اس قدر سامان ہوتا ہے کہ کسٹم کے کائونٹر پر جرمانہ دینا پڑتا ہے۔لیکن باطن میں معمولی سا بھی فرق نظر نہیں آتا۔عبادات کے یہ اثرات ہیں جو ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں الا ماشاء اللہ۔انفرادی طور پر تو ان عبادتوں کے اثرات خال خال محسوس ہوتے ہیں لیکن جس تعداد میں لوگ ان عبادتوں کو انجام دے رہے ہیں اور ایک طویل عرصے سے دے رہے اس کے نتیجے میں اب تک مسلم معاشرہ اسلام کی چلتی پھرتی تصویر بن جانا چاہیے تھا۔

اے حرم کو جانے والو!یہ احرام کا لباس بے مقصد نہیں پہنوایا جاتا۔اللہ کو سلے ہوئیکپڑوں سے کوئی نفرت نہیں ہے، اور نہ اس نے سلے ہوئیکپڑیحرام کیے ہیں۔سفید رنگ کے بغیر سلے دو کپڑے پہننے لازمی کرنا کوئی فضول کی رسم نہیں ہے بلکہ یک رنگی پیدا کرکے یہ احساس دلانا مقصودہے کہ تمہارا رنگ ایک ہی ہے۔تم سب صبغۃ اللہ کے رنگ میں ہو۔دنیا کے تمام رنگ اللہ کے رنگ کے مقابلے میںکوئی اہمیت نہیں رکھتے۔تم ان کپڑوں میںہو جو تمہارے ساتھ قبر میں جائیں گے۔یہ کفن ہے گویا تم نے اعلان کردیا ہے کہ ہم اللہ کے حضور حرم میں ہی نہیں میدان حشر میں بھی حاضر ہونے کو تیار ہیں۔یہ دو کپڑے فقیرانہ لباس ہیں اور اعلان کررہے ہیں کہ ہم اللہ کے در پر فقیر ہیں۔یہ بتا رہے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں مال و اسباب کی کثرت کی کوئی اہمیت نہیں ہے صرف دو کپڑوں میں گذار ہ ہوسکتاہے۔یہ لباس حجاج کے اندرقناعت اور کفایت شعاری کی صفت پیدا کرنا چاہتا ہے۔

لبیک اللہم لبیک کی صدائیں یوں ہی نہیں لگوائی جاتیں۔بلکہ یہ شعور پیدا کرانے کے لیے لگوائی جاتی ہیں کہ جس طرح اللہ کی پکار پر ہم نے آج لبیک کہا ہے ساری زندگی اسی طرح لبیک کہیں گے۔اب کبھی حی علی الصلوٰۃ کی آواز کو نظر انداز نہیں کریں گے۔اب اللہ کے دین کے لیے جب ضرورت ہوگی تب اپنی جان کے ساتھ حاضر ہوجائیں گے۔یہ طواف کعبہ اسی محبوب کے گھر کا طواف ہے جسے آپ سجدے کرتے رہے ہیں۔اب اس کے گھر کا چکر لگاکر زبان حال سے کہہ رہے کہ تیرے گھر کے علاوہ کسی کے گھر کا چکر نہیں کاٹیں گے۔تیرے در کے علاوہ کہیں نہیں جائیں گے۔صفا اورمروہ کی دوڑ اللہ کے راستے میں تگ و دو کے جذبے کو مہمیز دیتی ہے۔یہ کسی کی پریشانی پر تڑپ جانے اور اس کی پریشانی دور کرنے کے لییسعی کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔یہ غلاف کعبہ سے چمٹ کر رونا اس کے سوا کیا ہے کہ ہمارے اشکوں کی جائے پناہ اللہ کے دامن کے سوا کہیں نہیں ہے۔یہ مقام عرفات کا اجتماع جہاں عالمی اخوت کا پیغام دیتا ہے وہیں روز حشر کا منظر یاد دلاتا ہے۔یہ مزدلفہ میں ایک شب کا قیام دنیا کی زندگی کی مہلت عمر کا مظہر ہے یعنی انسان کی زندگی بس ایک رات ہی ہے۔شیطان نما ستونوں پر سنگ باری بچوں کا کوئی کھیل نہیں ہے بلکہ شیطان سے عملی اظہار برأت ہے۔اس پر پتھر مار کر ساری دنیا کو بتاتے ہیں کہ اللہ کے باغیوں سے یہی ہمارا رشتہ ہے۔جانور کے گلے پر چھری چلانا اور اپنے سر منڈوانا اپنی جان کا نذرانہ اللہ کے حضور پیش کرنا ہے۔مجھے سچ بتائیے کہ اگر ہر حاجی مناسک حج ادا کرتے ہوئے ان احساسات،جذبات اور مقاصد کو پیش نظر رکھے تو وہ واپس آکر کس طرح لوگوں کے مال مار سکتا ہے۔کس طرح وہ غیر اسلامی رسوم کو انجام دے سکتا ہے۔کس طرح وہ مئوذن کی پکار کو نظر انداز کرسکتا ہے۔حرمین میں نمازیں ادا کرنے کے بعد بھی کیا اس سے کسی فحاشی اور منکرات کی توقع کی جاسکتی ہے؟

میں ایک بار پھر تمام زائرین کو مبارکباد دیتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ آپ اس شہر میں جا رہے ہیں جہاں ہر قدم پر محبوبؐ خدا کے نقوش تابندہ نظر آئیں گے،وہ گلیاں بھی وہیں ہیں جن میں حضرت بلال کو گھسیٹا گیا،وہیں آل یاسر رہتے تھے جن پر ستم کے پہاڑ توڑے گئے،دار ارقم بھی وہیں ہے جس میں صحابہ نے تربیت پائی،وہاں غار حرا بھی ہے جہاں سے دنیا کو نور ملا۔آپ تصور کی آنکھوں سے دیکھیں گے تو آپ کو سب کچھ نظر آجائے گا۔اس سفر میںآپ شہر نبی ؐ کی زیارت بھی کریں گے۔ریاض الجنۃ میں نماز کی سعادت پائیں گے،بدر و احد کی وادیوں سے بھی گذریں گے۔یہ تمام مقامات آپ کے لیے محض تفریحی مقامات نہیں ہیں جہاں آپ سیلفی لینے اور ویڈیو بنانے میں وقت گزار دیں۔ان میں سے ہر مقام آپ کی تربیت کا  بہترین ذریعہ ہے۔اپنا وقت لایعنی باتوں اور خوش گپیوں یا بازار میں خریداری میں ہی مت گنوا دیجیے گا بلکہ اللہ سے وہ سب کچھ حاصل کرنے میں صرف کیجیے گا جس کے لیے آپ نے یہ طویل سفر طے کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا