زکوٰۃ دینے والوں کی خدمت میں

عبدالرشیدطلحہ نعمانی

          مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لیے اسے کلی اختیار ہے کہ وہ انسان کو اس بات کا پابند بنائے کہ کہاں سے کس طرح کما یا جائے اور کہاں کس طرح خرچ کیا جائے۔ زکوۃ ایک اہم ترین مالی عبادت اور اسلام کا بنیادی فریضہ ہے، جسے ہم دردی و غم خواری کے جذبے کو پروان چڑھانے، دولت کی منصفانہ تقسیم کو رواج دینے اور حب مال و دولت پرستی  کے زہریلے اثرات سے نفس کوپاک کرنے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ انسانی معیشت کے استحکام و مضبوطی اور فرد و معاشرے کی ظاہری ترقی میں مال ودولت کا کلیدی کردار رہاہے، جس طرح  انسان کے دوران خون میں ذرہ برابر فرق آجائے توزندگی کو خطرہ لاحق ہوتاہے، ایسے ہی اگر گردشِ دولت منصفانہ وعادلانہ نہ ہوتومعاشرتی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔ اسی خطرہ کو زائل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوۃ وصدقات کا نظام قائم فرمایا ہے۔ چناں چہ شرعی اعتبار سے ہر اس مسلمان مردوعورت پر زکوۃ فرض ہے، جو صاحب نصاب ہو یعنی 613 گرام چاندی یا ساڑھے ستاسی (87.5)گرام سونے کا مالک ہو اور اگردونوں چیزیں اس مقدار سے کم ہوں تو ان دونوں کی قیمت 613 گرام چاندی کے برابرہوجائے یا نقد روپے یا تجارت کا سامان 613 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو اور اگرسب چیز یں تھوڑی تھوڑی ہوں تو ان سب کی قیمت ملاکر 613 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے تو اس پر پورا ایک سال گذرجانے کے بعد (2.5%) ڈھائی فیصد زکاۃ اداکرنا واجب ہوتا ہے۔

          فقہاء کرام کے مطابق زکوۃ کے فرض ہونے کے لیے دس شرائط ہیں :۱: مسلمان ہونا، کافر پر زکوۃ فر ض نہیں۔ ۲: آزاد ہونا، غلام پر زکوۃ فرض نہیں۔ ۳: بالغ ہونا، بچے پر زکوۃ فرض نہیں۔ ۴: عاقل ہونا، مجنون اور دیوانے پر بھی زکوۃ فرض نہیں۔ ۵: مکمل ملکیت کا ہونا، غیرمقبوض مال پر بھی زکوۃ فرض نہیں۔ ۶:صاحب نصاب ہونا(جس کا ابھی ذکرہوا)۔ ۷: مال کا حاجت اصلیہ (روٹی کپڑا اورمکان وغیرہ) سے زائد ہونا۔ ۸:اتنا مقروض نہ ہو ناکہ اگر قرض اداکیا جائے تو آدمی صاحب نصاب ہی نہ رہے۔ ۹:’’مال نامی‘‘ یعنی بڑھنے والا مال ہونا، جس کی قیمت بڑھتی رہتی ہو جیسے سونا چاندی غیرہ۔ ۰ ۱: نصاب پر پورے سال کا گزرنا۔

زکوۃ کے صحیح ہونے کی تین شرطیں :

           زکوۃ کے صحیح ہونے کے لیے علماء کرام نے تین شرطیں بتلائی ہیں۔ اگر یہ شرطیں اکٹھی پائی جائیں گی تو زکوۃ ادا ہوگی ورنہ نہیں۔

          پہلی شرط نیت کرنا: نیت کے بغیر زکوۃ ادا نہیں ہوتی، نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے زکوۃ کہہ کردیناضروری نہیں، زکاۃکی ادائیگی کے لیے رقم دیتے وقت یا رقم کو جدا کرکے رکھتے وقت نیت کرناضروری ہے۔ اگر رقم دینے کے بعد زکاۃکی نیت کی گئی تو ایسی نیت شرعاً معتبر نہیں، اور نہ ہی اس طرح سے زکاۃادا ہوتی ہے۔

          دوسری شرط ضرورت مند کو ددینا:سورۃالتوبہ کی آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے آٹھ (8) ایسے لوگ بتائے ہیں جن کوزکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ یہ مصارف زکوٰۃ کہلاتے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1: فقیریعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ مال ہے، مگر اتنا نہیں کہ نصاب کوپہنچ جائے یا مال تو بقدرِ نصاب ہے، مگر ضروریات اصلیہ کے علاوہ نہیں ہے، اور ضروریات میں رہنے کا مکان، پہننے کے کپڑے، استعمال کے برتن وغیرہ سب داخل ہیں۔

2:مسکین یعنی وہ شخص جس کے پاس کچھ نہ ہو، یہاں تک کہ وہ کھانے اوربدن چھپانے کے لیے اس کا محتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے۔

3:عامل یعنی وہ شخص جو اسلامی حکومت کی طرف سے صدقات، زکوٰۃ اور عشرلوگوں سے وصول کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو، واضح رہے کہ عامل کے لیے فقیر ہوناشرط نہیں ہے۔

4:مؤلفۃالقلوب یعنی وہ لوگ جن کی دل جوئی کے لیے ان کو صدقات دیئے جاتے تھے، ان میں مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے لوگ تھے، غیرمسلموں کی دل جوئی اور اسلام کی ترغیب کے لیے اور نومسلموں کی دل جوئی اور اسلام پر پختہ کرنے کے لیے زکوۃ دی جاتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب اسلام کو مادی قوت بھی حاصل ہوگئی اور کفار کے شر سے بچنے اور نومسلموں کو اسلام پر پختہ کرنے کے لیے اس طرح کی تدبیروں کی ضرورت نہ رہی تو وہ علت اور مصلحت بھی ختم ہوگئی، اس لیے اب ان کا حصہ بھی ختم ہوگیا۔

5:رِقاب سے مراد وہ غلام ہے، جس کو آقا نے مال کی کوئی مقدار مقرر کرکے کہہ دیا کہ اتنامال کماکر ہمیں دو تو تم آزد ہو، اس کو فقہاء کی اصطلاح میں مکاتب غلام کہا جاتا ہے؛ لیکن واضح رہے کہ اب نہ غلام ہیں اور نہ اس مدّ میں اس رقم کے صرف کرنے کی نوبت آتی ہے۔

6:غارم سے مراد مَدیون (مقروض) ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ اسے نکالنے کے بعد صاحب نصاب باقی نہ رہے۔

7:فی سبیل اللہ کے معنی ہیں راہِ خدا میں خرچ کرنا، یہ ایک و سیع ا لمعنیٰ لفظ ہے، دین کی خا طر اور اللہ تعا لیٰ کی ر ضا کے لیے جو محنت و مشقت کی جا ئے وہ اس کے مفہوم میں دا خل ہے، لہذا دین کے تما م شعبوں میں کا م کر نے وا لے ضرورت مند افر اد (غازی، حاجی، طالبعلم)اس کا مصد اق ہیں۔

8:ابن سبیل سے مراد وہ مسافر شخص ہے، جس کے پاس چاہے اپنے وطن میں نصاب کے برابرمال موجود ہو؛ لیکن سفر میں اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں، جن سے وہ اپنی سفر کی ضروریات پوری کر کے واپس وطن جاسکے۔ (مستفاد از معارف القرآن)

          احناف کے نزدیک ان میں سے کسی بھی مصرف میں زکوٰۃ دینے سے ادائیگی ہوجائے گی اور دینے والا دینی فریضہ سے سبک دوش ہوجائے گا، خواہ ایک پر صرف کرے خواہ دو پر خواہ زیادہ پر یہ اس کے اپنے اختیار میں ہے۔

          تیسری شرط  مالک بنانا: مستحق کو مالک بنانا بھی ضروری ہے، مالک نہیں بنایا، صرف اباحت کردی تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی مثلاً کسی غریب کو گھرپہ بلا کر کہا جتنا چاہے کھانا کھالو تو یہ مالک بنانا نہیں ہے؛ بلکہ اباحت ہے اس سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔

حقیقی مستحق تک زکوۃ پہنچائیے!

          زکوٰۃ دینے والوں کو ادائیگی زکوٰۃسے قبل اچھی طرح تحقیق کرلینی چاہیے کہ کیایہ شخص واقعی زکوٰۃ کا مستحق ہے؟ کیا یہ ادارہ اپنا خارجی وجودد رکھتاہے؟ ان کے یہاں زکوٰۃ کے مصارف ہیں بھی یا نہیں ؟ اگر کسی وجہ سے خود تحقیق نہ کرسکیں تو معتبرعلماء اور اداروں کی تحقیق پر اعتماد کرسکتے ہیں ؛ لیکن بہتر یہی ہے کہ خود تحقیق کرکے مطمئن ہوجائیں، اگر بلا تحقیق زکوٰۃ دے دی؛ حالاں کہ وہ شخص یا ادارہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ اسی طرح پیشہ ور گداگروں کو زکوۃدینے سے بچنا چاہیے؛کیوں کہ جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کے لیے کپڑا ہو اس کے لیے لوگوں سے مانگناجائز نہیں ہے، اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی آدمی پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت پیش آگئی ہو جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کرے تو اس کی گنجائش ہے؛ لیکن مانگنے کو عادت اور پیشہ بنالیناحرام ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص بلا ضرورت مانگتا ہے تو قیامت کے دن اس کا یہ مانگنا اس کے چہرے پر زخم بن کر ظاہر ہوگا۔ لہذاجن کے بارے میں علم ہو کہ یہ پیشہ ور بھکاری ہیں تو ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، تاہم اس میں متکبرانہ انداز اختیار نہ کیا جائے، انہیں جھڑکا نہ جائے، بلکہ طریقے سے معذرت کرلی جائے۔ اسی طرح کسی خاتون کا بیوہ ہونا اس کو مصارف زکوۃ کی فہرست میں نہیں داخل کرتا۔ بہت سی بیوائیں سونے چاندی کے زیورات کی مالک ہونے کے سبب خود صاحب نصاب ہوتی ہیں، ان کو زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

رشتے داروں کا حق مقدم ہے!

          عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مال وثروت رکھنے والے احباب ملی اور رفاہی اداروں کے تعاون میں تو بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں، جو اچھی بات ہے؛مگر اپنے ہی خاندان اور قریبی رشتہ داروں کی خبرگیری نہیں کرتے، جب کہ تعاون و امداد کے اولین حق دار یہی لوگ ہیں۔ ارشاد باری ہے: بے شک اللہ تعالی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کو دینے کاحکم دیتا ہے۔ (النحل)آیت کریمہ سے پتہ چلتاہے کہ رشتے داروں کے ساتھ امداد وتعاون کا معاملہ کرنا ان پراحسان نہیں ہے؛ بلکہ یہ وہ حق ہے جو اللہ نے اصحاب حیثیت پر ان کے رشتے داروں کے سلسلے میں عائد کیا ہے۔ اکثرلوگ یہاں کوتاہی کاارتکاب کرتے ہیں : یاتو رشتے داروں کا بالکل تعاون نہیں کرتے یا رشتے داروں کا حق ادا کرکے ان پر احسان جتاتے اور ان کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں، ا س طرح اپنی نیکی کو بھی برباد کرلیتے ہیں۔ اسی لیے ایک رشتے دار باوجود غریب اور ضرورتمند ہونے کے اپنے کسی مالدار رشتے دار کا مالی تعاون لینے سے بالعموم گریز کرتا ہے۔ یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج کل خاندان کے بعض افراد توعیاشی سے زندگی بسر کرتے ہیں اور انہی کے کئی رشتہ دار روٹی، کپڑے اور چھت کو ترستے ہیں۔ لہذاسب سے پہلے رشتہ داروں مثلاًبھائی، بہن، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں، ساس، سسر، داماد وغیرہ میں سے جو حاجت مند اور مستحق زکوٰۃ ہوں، انہیں زکوٰۃ دینا چاہیے؛اس لیے کہ ان کو دینے میں دوہرا ثواب ملتاہے، ایک ثواب زکوٰۃ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا، جیساکہ اس مفہوم کی متعدد روایتیں حضور اکرم ﷺسے منقول ہیں۔ نیز کسی تحفے یا ہدیے کے شکل میں بھی مذکورہ رشتہ داروں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، بس ادائیگی کے وقت زکوٰۃ کی نیت ہونی چاہیے۔

حاجت مندوں کی حاجت کا خیال کیجیے!

          زکوۃ کے حوالے سے ایک کوتاہی یہ بھی چلی آرہی ہے کہ کچھ زکوۃ ادا کرنے والے ضرورت مندوں کی ضرورت کوپیش نظر رکھنے کے بجائے اپنی خواہش کو ترجیح دیتے ہیں اور بڑی مقدار میں بازار سے سستے کپڑے اور دیگر(کم ضروری)چیزیں ہول سیل میں خریدلاتے ہیں، پھر انہیں اعلان کے ذریعہ مستحقین اور غیرمستحقین سب کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں اور بہ زعم خویش فریضۂ زکوۃ سے عہدہ بر آہوجاتے ہیں۔ حالانکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق زکوۃ و صدقات کے سلسلے میں فقرا ء ومساکین کی منفعت ملحوظ رکھنی چاہیے۔ نیزقرآن کریم میں عمدہ مال سے صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور گھٹیا مال سے صدقہ کرنے کو ناپسندکیاگیاہے، چنانچہ ایک جگہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : ”تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے، جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو، جو تمہیں محبوب ہیں۔ ”(آل عمران)اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ”اے ایمان والو! جو کچھ تم نے کمایا ہو اورجو پیداوار ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہو اس کی اچھی چیزوں کا ایک حصہ (اللہ کے راستے میں ) خرچ کیا کرو، اور یہ نیت نہ رکھو کہ بس ایسی خراب قسم کی چیزیں (اللہ کے نام پر) دیا کرو گے، جو (اگر کوئی دوسرا تمہیں دے، تو نفرت کے مارے) تم اسے آنکھیں میچے بغیر نہ لے سکو۔ ”(بقرۃ)

خلاصۂ کلام:

          الغرض ہر صاحب نصاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوش دلی سے سال بہ سال اپنی زکاۃادا کرے، زکاۃ ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرے، اپنے مستحق رشتے داروں سے تعاون کا آغاز کرے اور اچھے سے اچھا مال راہ خدامیں صرف کرے۔ شہرت و ریا کاری اور احسان جتلانے کے ذریعہ اپنی اس عبادت کو باطل نہ کرے؛بل کہ لینے والے کو اپنا محسن سمجھے اور نبی پاک ﷺکا یہ فرمان ملحوظ خاطررکھے: صدقہ دیا کرو !ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبو ل کرنے والا نہیں پائے گا۔ (جس کے پاس صدقہ لے کر جائے گا) وہ یہ جواب دے گاکہ اگرتم کل اسے لائے ہو تے تو میں اسے قبول کرلیتا آج تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ (بخاری)

تبصرے بند ہیں۔