سر پر انگریزی بال اور مسلم نوجوان 

شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

 (امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار)

مانگتے پھر تے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ

اپنے خورشید پہ پھیلا دئیے ساۓ ہم نے

 آج کا مسلم معاشرہ جس تیزی کے ساتھ یورپ کے رنگینیوں کا شیدائی ہوا جا رہا ہے اور جس سرعت کے ساتھ اس کی ہر چمکدار شئ کو قبول کرنے کے لیے کوشش میں لگا ہوا ہے اتنی ہی تیزی سے سنت رسول صلی اللہ وسلم کو چھوڑتا نظر آ رہا ہے مسلم قوم کا موجودہ منظر نامہ یہ ہے کہ فلمی دنیا کے سیکڑوں اداکاروں کے نام تو اسے یاد ہیں مگر اپنے نبی کے والدین اور ان کے اصحاب کے دس نام بھی اسے یاد نہیں اداکاروں کی بدلتی ہوئی ہر ادا تو اسے بھاتی اور پسند آتی ہے مگر نبی کا طریقہ اپنانے سے وہ کوسوں دور رہتا ہے۔ رب ذوالجلال والاکرام نے قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا۔

مفہوم۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ صاف صاف بتا دیں کہ اے لوگو اگر تم خدا کو چاہتے ہو اس کی رضا اور رحمت اور اس کے پیار کے طلبگار ہو تو اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ تم میری پیروی کرو اور میری بتائی ہوئی راہ پر چلو صرف اسی طرح تم اس کی بخشش اور اس کے پیار سے حصّہ پا سکو گے۔ اے رسول صلی اللہ وسلم آپ کہہ دیں کہ اے لوگو اللہ اور اس کے رسول کی یعنی میری فرمانبرداری کرو اگر وہ نہ مانیں تو اللہ کی محبت اور اس کا پیار کبھی حاصل نہیں ہوگا نہ ماننے والوں کو۔ (سورہ آل عمران)

امام شافعی رحمہ اللہ کے بڑے پیارے اشعار ہیں ، تعصی ا لا له وأ نت تظھر حبه ، ھذا لعمری فی القیاس بدیع ،لوکان حبک صادقا لأ طعته ، ان المحب لمن یحب مطیع۔ تم اللہ تعالی کی محبت کا اظہار بھی کرتے ہو اور اس کی نافرمانی بھی کرتے ہو، سچی بات یہ ہے کہ یہ عقل میں آنے والی بات نہیں، اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم اس کی ضرور اطاعت کرتے اس لیے کہ محب اپنے محبوب کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ (نظرۃ النعیم:5006)

ہم فانی بلکہ شہوانی محبت کرنے والوں کو دیکھتے ہیں وہ اپنے محبوب کی کیسی اتباع کرتے ہیں اور ہر کام میں اس کی نقالی کی کوشش کرتے ہیں تو ایمانی محبت میں تو یہ تاثیر اور زیادہ ہونی چاہیے تھی۔

سہل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا پیارا قول ہے ، اللہ تعالی سے محبت کی علامت یہ ہے کہ قرآن سے محبت ہوگی، اور قرآن سے محبت کی علامت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو گی،اور نبی کریم سے محبت کی علامت یہ ہے کہ سنت سے محبت ہوگی،  اور اللہ تعالٰی، قرآن، نبی اور سنت کی محبت کی علامت یہ ہے کہ آخرت سے محبت ہو گی،  آخرت سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اپنی ذات سے محبت ہوگی، اور اپنی ذات سے محبت کی علامت یہ ہے کہ دین سے دور کرنے والی دنیا سے نفرت ہوگی،  اور دنیا سے بغض اور نفرت کی علامت یہ ہے کہ انسان دنیا سے قدر ضرورت پر اکتفاء کرے گا،  دنیا کی چمک دمک اور عیش و عشرت کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بنائے گا۔

قرآن کریم کی طرح حدیث رسول میں بھی اتباع رسول کی بڑی تاکید وارد ہوئی ہے۔

 صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل امتی یدخلون الجنۃ الا من ابی،، قالوا: یا رسول اللہ! ومن یابی؟قال ،، من اطاعنی دخل الجنۃ ومن عصانی فقد ابی۔ میری امت کے سارے لوگ جنت میں داخل ہوں گے سوائے اس کے جو انکار کرے گا صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا یارسول اللہ! انکار کرنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی وہ ہے انکار کرنے والا۔  کتنی بڑی بات ہے آقا کی اتباع دخول جنت کی ضمانت ہے جبکہ آپ کی سنت کے نافرمان اور تارک کے لیے کوئی ضمانت نہیں ہے۔

دنیا میں زبانی محبت کرنے والے تو بہت ہیں مگر خالی خولی محبت مقصود نہیں اگرچہ یہ بھی فائدے سے خالی نہیں لیکن اصل مقصود وہ محبت ہے جو دل میں بھی ہو زبان سے بھی اس کا اثر ظاہر ہو اور بدن کا ایک ایک عمل اس بات کی گواہی دے کہ اس شخص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔ دیکھنے والے دیکھ کر کہہ دیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا محب اور عاشق جا رہا ہے یہ نہ ہو کہ زبان سے بھی آپ کا نام خوب لیا جا رہا ہے آپ کے نام پر مال بھی خوب حاصل کیا جا رہا ہے لیکن نہ تو زندگی کے مسائل میں آپ کی اتباع ہے نہ دین کے لیے کوئی قربانی ہے نہ سیرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہے نہ صورت حضور جیسی اور عاشق رسول! بلکہ عشق رسول کے واحد رجسٹرڈ ٹھکیدار۔ آج کے دور کے محب تیار شدہ جنت چاہتے ہیں کرنا کرانا کچھ نہ پڑے بس جنت مل جائے حضور صلی اللہ وسلم کی اتباع نہ کرنی پڑے اور عشقِ رسول کی سند حاصل ہوجائے یہ دودھ پینے والے مجنوں ہیں خون دینے والے نہیں۔ حضور صلی اللہ وسلم کا لایا ہوا دین مٹتا ہے تو مٹتا رہے سنتین مردہ ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں اسلام کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو اڑایا جاتا رہے صحابہ کو گالیاں دی جاتی ہیں تو دی جاتی رہیں انسان دوزخ کے رخ پر چلتا ہے تو چلتا ر ہے ان کی بلا سے ان کو کوئی پرواہ نہیں۔ محب تو وہ ہوتا ہے جسے محبوب کی ایک ایک ادا سے محبت ہو اس کی صورت سے محبت ہو اس کی سیرت سے محبت ہو اس کی عادتوں اور گفتار و رفتار سے محبت ہو تم کیسے محب ہو کہ تمھیں نبی کے دشمنوں کی شکل و صورت سے محبت ہے اور خدا کے لاڈلے نبی کی شکل و صورت سے محبت نہیں اور کہتے ہو اپنے آپ کو محب اور عاشق۔

 سر پر انگریزی بال اور لب پر پیارے نبی نام،  سر کے بالوں کے بارے میں شرعی ہدایات واضح طور پر موجود ہیں جن کا لحاظ رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر سر مبارک پر پنٹھے بال رکھتے تھے جو  اکثر کان کی لو تک رہتے اور کبھی اس سے نیچے تک بھی ہو جاتے اور حج و عمرہ کے موقع پر آپ کا سارے بالوں کو منڈانا بھی ثابت ہے آپ کے طرز عمل سے اتنی بات ثابت ہوئی کہ بال رکھے جائیں تو سب رکھے جائیں اور کاٹے جائیں تو سب برابر کاٹے جائیں یہ نہ ہو کے کہیں سے تو منڈا لیا اور کہیں سے چھوڑ دیا چنانچہ آپ نے ،،قزع،، (یعنی بال کہیں سے مونڈ دینا اور کہیں چھوڑ دینا) سے منع فرمایا ہے (بخاری شریف باب القزع)

علماء نے اسی حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ بیک وقت بال چھوٹے بڑے رکھنا جائز نہیں ہے جیسا کہ آج کل انگریزی بال رکھے جاتے ہیں کہ  پیچھے سے چھوٹے کر کے آگے کے حصہ میں بڑے چھوڑ دیے جاتے ہیں تو اس طریقہ میں ایک تو ،، قزع ،،  جیسی خرابی پائی جاتی ہے اور دوسرے اس میں غیر قوموں کی مشابہت بھی ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں وعید فرمائی ہے کہ: من تشبہ بقوم فھو منھم ، جو شخص کسی قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں شمار ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)

مگر افسوس کہ یہی غیر قوموں کا طریقہ آج ہمیں سب سے زیادہ پسند ہے شاید گنتی کے دوچار فیصد لوگ ہوں گے جو بالوں کے بارے میں ہدایات پر کاربند ہیں ورنہ اب تو بس انگریزی بالوں کا چلن ہے ٹوپیاں غائب ہیں اور سروں پر انگریزیت چھائی ہوئی ہے بچوں سے لے کر نوجوانوں حتی کہ بڑے بوڑھے لوگ بھی چھوٹے بڑے بے ہنگم بال رکھنے کے شوقین نظر آتے ہیں اور اتباع سنت کا خیال تک دل میں نہیں آتا۔

عورتوں کے بال 

شریعت میں سر کے بالوں کو عورت کی زینت قرار دیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ سر کے بالوں کو نہ منڈاۓ ایک حدیث میں وارد ہے کہ: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن تحلق المرأۃ رأسھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنا سر منڈانے سے منع فرمایا ہے (نسائی شریف)

اور فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار میں لکھا کہ : قطعت شعر رأسھا اثمت ولعنت وان باذن الزوج لانه لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔  عورت نے اپنے سر کے بال کاٹ لیے تو گناہ گار اور ملعون ہوئی اگرچہ شوہر کی اجازت سے ایسا کرے اس لیے کہ خالق ( اللہ تعالٰی) کی نافرمانی والے کام میں کسی مخلوق کی اطاعت روا نہیں ہے۔ (درمختار)

عورتوں کے لیے بال کاٹنے کی ممانعت کی بنیاد یہ ہے کہ اس عمل کی وجہ سے عورت مردوں سے تشبہ کرنے والی بن جاتی ہے اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے آج کے دور میں عورتوں میں جو بال کاٹنے کا رواج ہو گیا ہے یہ شریعت اسلامی کی رو سے قطعاً ناجائز ہے جس طرح مرد کے لیے داڑھی کاٹنا حرام ہے اسی طرح عورتوں کے لیے سر کے بال مردوں کی طرح کاٹنا حرام ہے اور اسے چاہے دنیا بے شرمی نہ کہے مگر اللہ تعالی کی نظر میں یہ حرکت بہر حال بے شرمی اور بے حیائی میں داخل ہے۔ اس سے بہر حال بچنا ضروری ہے اور گھر والوں کو بھی بچانا چاہیے۔

ایک حبشی صحابی اور اتباع سنت 

ایک صحابی حبشہ کے رہنے والے تھے وہ جب بھی نہا کر نکلتے تو ان کا جی چاہتا کہ میں بھی اپنے سر میں اسی طرح درمیان میں مانگ نکالوں جس طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام  نکالا کرتے ہیں لیکن حبشی نژاد ہونے کی وجہ سے ان کے بال گھنگھریالے  چھوٹے اور سخت تھے اس لیے ان کی مانگ نہیں نکل سکتی تھی وہ  اس بات کو سوچ کر بڑے اداس سے رہتے تھے کہ میرے سر کو میرے محبوب صلی اللہ وسلم کے مبارک سر کے ساتھ مشابہت نہیں ہے ایک دن چولہا جل رہا تھا انہوں نے لوہے کی ایک سلاخ لے کر اس آگ میں گرم کی اور اپنے سر کے درمیان میں اس سلاخ کو پھیر لیا گرم سلاخ کے پھرنے سے ان کے بال بھی جلے اور جلد بھی جلی اس سے زخم بن گیا جب زخم درست ہوا تو ان کو اپنے سر کے درمیان میں ایک لکیر نظر آتی تھی لوگوں نے کہا تم نے اتنی تکلیف کیوں اٹھائ وہ فرمانے لگے کہ میں نے تکلیف تو برداشت کر لی ہے لیکن مجھے اس بات کی اب بہت زیادہ خوشی ہے کہ میرے سر کو اب محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک سر کے ساتھ مشابہت نصیب ہو گئی ہے

سر پر انگریزی بال رکھنے والو کم سے کم اس واقعہ سے سبق حاصل کرو اور سر کو انگریزی بال سے پاک کرلو۔ اللہ مسلم قوم کو اغیار کے طور طریقے سے حفاظت فرمائے اور سنت رسول پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا