عیدالفطر کا پیغام

مولانا محمد طاہر مدنی 

رمضان کا مبارک مھینہ ختم ھوا اور عید الفطر کی آمد ھے. خوشی اور مسرت کا موقع ھے. اللہ نے توفیق دی، رمضان میں عبادات کی اور ھمت بخشی بطور خاص گرمی میں روزے رکھنے کی . اسی توفیق پر عید کی خوشی منائی جاتی ھے اور رب کا شکر ادا کیا جاتا ھے. ایک دوسرے کو مبارکباد دی جاتی ھے اور عبادتوں کی قبولیت کی دعا کی جاتی ھے.
برادران ملت! دل کی گھرائیوں سے عید کی مبارکباد پیش کرتا ھوں، تقبل الله منا ومنكم الصيام والقيام و صالح الاعمال و وفقنا لما یحبە و یرضاە. آمین
اس موقع پر چند باتوں کی یاد دھانی ضروری سمجھتا ھوں :
1- رمضان کا مھینہ تربیت کیلیے آتا ھے. تقوی اور فرمانبرداری کی تربیت، ضبط نفس اور اخلاقی تربیت، قوت ارادی اور قربانی کی تربیت. … رمضان کے بعد اس ھمہ گیر تربیت کے اثرات کا ثبوت ھماری زندگی سے ضرور ملنا چاھئے.
2- رمضان اور قرآن میں بڑا ربط ھے. یہ نزول قرآن کا مھینہ ھے اور نعمت قرآن کی اھمیت کا احساس دلاتا ھے. ھمیں صحیح معنوں میں حامل قرآن بنانے کیلیے آتا ھے. ھم نے کس حد تک اس پیغام کو سمجھا اور قرآن سے ھمارے شغف کا کیا حال ھے، اس کے پیغام انسانیت کو عام کرنے کی کتنی تڑپ ھم میں پائی جاتی ھے؟ یہ جائزہ بھت ضروری ھے.
3- رمضان ھمیں اجتماعیت کا سبق دیتا ھے اور ایک امت ھونے کا احساس دلاتا ھے. ھمیں افتراق و انتشار سے بچنے کی تاکید کرتا ھے. کیا ھم ذات برادری اور مسلکی تعصبات کی دیوار گرا کر امت واحدہ بننے کیلیے تیار ھیں؟
4- رمضان مرحمت و مواسات کا جذبہ پیدا کرتا ھے اور سماج کے کمزور طبقات کی مدد پر ابھارتا ھے، کیا ھمارے اندر انفاق کا جذبہ پیدا ھوا، کیا ھم یتیموں کا آنسو پوچھنے کیلیے تیار ھیں؟ نادار ؤں کی مدد کرکے خوشی محسوس کرتے ھیں؟
5- رمضان ھمیں اپنا مشن یاد دلاتا ھے. ھم خیر امت ھیں. ساری انسانیت کی بھلائی کیلیے برپا کئے گئے ھیں. ھمیں سب کی فلاح کیلیے کام کرنا ھے اور اس عظیم مقصد کے لحاظ سے ھمیں ایمانی، روحانی، تعلیمی، سماجی اور اخلاقی لحاظ سے اپنے آپ کو تیار کرنا ھے.
کیا ھمارے انداز فکر و نظر اور حرکت و عمل میں یہ وسیع النظری پیدا ھوئی اور ھم نے ساری انسانیت کیلیے سوچنا شروع کیا؟
6- رمضان ظلم و ستم کے خلاف اٹھنے کا حوصلہ پیدا کرتا ھے. ظالموں سے لوھا لینے اور مظلوموں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ھے. عدل کے قیام کیلیے جان و مال کی قربانی پیش کرنے پر ابھارتا ھے. اسی مھینے میں غزوہ بدر اور فتح مکہ جیسے تاریخی واقعات پیش آئے. کیا ھمارے دلوں میں اللہ کی راہ میں قربانی کا داعیہ پیدا ھوا، الله کے راستے میں جان و مال پیش کرنے کیلیے تیار ھیں؟
7- تجدید عھد بندگی کیلیے یہ ماہ مبارک آتا ھے. ھم نفس کی بندگی، رسم و رواج کی پیروی اور شیطان کی عبادت چھوڑ کر مکمل طور سے اللہ کی بندگی کیلیے تیار ھیں؟
میرے بھائیو! اگر ھم نے ان دروس کو سمجھا، ان پیغامات پر کان دھرا اور اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کیلیے تیار ھوئے تب تو عید ھمارے لیے مبارک ھے اور عید کا دن ھمارے لیے انعام کا دن ھے، ورنہ عید آکر چلی جائے گی اور ھمارا دامن خالی رھے گا.
اللہ ھمیں احتساب کی توفیق دے، استقامت کے ساتھ ایمان کے تقاضوں کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے، ھماری عبادتوں کو قبول کرے اور مقصد زندگی کے مطابق زندگی گذارنے کی نعمت سے نوازے آمین۔

تبصرے بند ہیں۔