عید الفطر اقوام عالم کے لیے تہوار کا عمدہ نمونہ ہے

عمیر کوٹی ندوی

 عیدالفطر خوشی کادن اور جشن ، فرحت و شادمانی کا تہوارہے۔ خوشی اس بات کی کہ ایک ماہ صیام رمضان میں بسر ہوا۔فرحت و شادمانی کا تہوار اس لئے کہ انعام میں آخرت کی رضا اور دنیا کی بھلائی کا حصول ہورہا ہے۔یہ دن اور یہ تہوار ہر سال  آتا ہے اور ہر سال خوشیوں کا سماں بندھتا ہے۔لیکن عید کا چاند نظر آتے ہی وہ کون سا احساس ہے جو فوری طور پر اپنا اثر دکھاتا ہے اور وہ کون سا عمل ہے جو فوری طور پر صادر ہوتا  ہے۔ ماہ صیام کے گزرجانے پر اطمینان کی سانس لی جاتی ہے،روزوں  کی سختیوں اور کلفتوں سے چھٹکارا ملنے پر دل کو سکون ملتا ہے۔ایک خوشی کی لہر بدن میں دوڑجاتی ہے اور  روزے دار کو آزادی کے احسا س سے ہمکنار کر جاتی ہے۔ یہ احساس جس کے اندر جس قدر قوی ہوتا  ہے وہ خود کو اسی قدر زیادہ آزاد محسوس کرتا ہے۔ مسجدیں ویران اور سڑکیں آباد ہوجاتی ہیں ۔ بازار چاند رات میں  مرد وزن سے اٹے پڑتے ہیں ، کندھے سے کندھا چھلتا ہے اور کان پڑے آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔ساری کی ساری رات اسی گہما گہما میں کب گزرجاتی ہے لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ ڈھول ، تاشے، ڈیجے اور ڈیگ گلی چوراہوں میں سُر بکھیرنے لگتے ہیں ۔ احساس آزادی  اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ ایک ماہ تک منشیات کو ہاتھ نہ لگانے والےمطلوبہ شئی کے لئے بے قرار ہوجاتے ہیں ۔ گیارہ ماہ کے لئے آزادی کایہ احساس لوگوں کو فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات کے اجتناب  سے غافل کردیتا ہے۔

ابھی ایک ماہ پہلے کی بات ہے جب ماہ رمضان کا چاند نمودار ہواتھا ۔ اس کے نظر آتے ہی جن لوگوں نے اسے دیکھا اور جن لوگوں نے نہیں دیکھا سب کے دلوں میں فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب  کا احساس پیدا ہوگیا تھا۔ حالانکہ نہ منادی کی گئی تھی اور نہ ہی دنیاکی کسی طاقت نے لوگوں کو  اپنی غلط عادات کو ترک کرنے اور اچھی عادات کو اختیار کرنے کا حکم دیا تھا اور نہ ہی کسی طرف سے اعلان ہوا تھا کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے گی ۔ اس کے باوجود تصویر یک لخت بدل گئی تھی۔  نیک لوگوں کی نیکی میں اضافہ ہوگیا تھا اور برائی کے شکار لوگوں نے بھی برائی کو ترک کردیا تھا اور جو پورے طور پر برائی کو ترک نہ کرسکے تھے وہ بھی اچھائیوں کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔  منشیات کے عادی اور اس کے شیدائی جو  سال کے گیارہ ماہ ہرسو یہ صدا لگاتے  پھرتے  تھے کہ “چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی“وہ بھی زبان حال سے اس دعا کو دہراتے ہوئے کہ “آيِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَائِبُونَ عَابِدُونَ حَامِدُونَ لِرَبِّنَا سَاجِدُونَ”(صحیح بخاری، كتاب الجهاد والسير-3084)۔

“انشاءاللہ ہم اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ ہم توبہ کرنے والے ہیں ۔ اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں ۔ اس کی تعریف کرنے والے اور اس کے لئے سجدہ کرنے والے ہیں “اپنے اصلی پناہ گاہ ، ملجا وماوا، حقیقی ٹھکانے کی طرف واپس آگئے تھے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے تھے۔ اس پورے ماہ انہوں نے  منشیات کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا بلکہ بار بار وہ خود کے تائب ہونےکا اقرار کرتے رہے، اللہ کی حمد وثنا کی اور اس کے سامنے سجدہ ریز رہے۔

اس نظارہ کو دیکھنے والے کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں ، فرط حیرت سے اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے۔اس کی سمجھ سے یہ بات بالاتر  ہے کہ گیارہ ماہ کے گنہگار یک لخط کیسے بدل گئے، جو علی الاعلان گناہ کرتے نہ تھکتے تھے، سر راہ برائیاں کرنے میں نہ شرماتے تھے، انہیں کسی کا بھی پاس ولحاظ نہ ہوتا تھا آخر  ایسا کیا ہوگیا ہے کہ وہ بدل گئے ہیں ۔ اب وہ اپنے حلیہ اور برتاؤ سے شریف معلوم ہوتے ہیں ۔ ان کی زبان بیہودہ گو نہیں رہی ہے بلکہ کم گو ہوگئے ہیں اور بہت سوں کی زبان تو ذکر واذکار میں مشغول ہوگئی ہے۔ وہ اس احساس سے نا آشنا  ہیں جو ماہ رمضان میں ہر مومن کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ اللہ کی اس رحمت سے ناواقف ہیں جو سخت دلوں کو بھی پھیر دیتی ہے۔ اس جذبۂ داد ودہشت سے بے خبر ہیں جو اس ماہ خاص طور پر مسلمانوں کے دلوں میں موجزن ہوتا ہے اور بے سہارا لوگوں ، مسکینوں، محتاجوں ، یتیموں اور  بے واؤں کی خبر گیری کرتا ہے۔ صرف کلمہ گو لوگوں کی ہی نہیں بلکہ بلا استثنا سب کی مدد کرتا ہے اور سائل کی آواز پر متوجہ ہوتا ہے۔اس ماہ کی باران رحمت سے وہ لوگ فیضاب ہوتے ہیں جو اللہ کو نہیں مانتے اور اگر اسے کسی اور نام سے پکارتے ہیں تو اس کے ساتھ انگنت معبودوں کو بھی پوجتے ہیں ۔ اس ماہ خیر کا عمل کثرت سے جاری ہوتا ہے اور صدقات وخیرات بڑی تعداد میں لوگوں کے درمیان تقسیم کی جاتی ہیں ۔

یہ وہ کیفیت ہے جو قلب مومن کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور یہ وہ معمولات ہیں جو رمضان میں پورے ماہ جاری رہتے ہیں ۔یہ کیفیت اور معمولات قلب مومن کو مسرور کرتے ہیں ۔یہ مسرت وشادمانی ماہ رمضان کے آخرمیں پہنچتی ہے تو رضائے الٰہی کی امید کی کرن نمودار ہوتی ہے ۔رمضان المبارک کی آخری رات جسے چاند رات کہتے ہیں اس رات کوآسمانوں میں “لیلة الجائزة”انعام کی رات کہاجاتا ہے۔ اور اس کے اگلی صبح جشن، مسرت، شادمانی، خوشی،  میل ملاپ اور چہل پہل کا جو سماں بندھتا ہے اس کا نام عیدالفطر ہے۔عید الفطر کے دن روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے۔ اس روز اللہ تعالٰیٰ بندوں کو روزہ اور عباداتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں ۔ “جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ رب العزت فرشتوں کو تمام شہروں کی طرف بھیجتے ہیں ، وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں (راستوں )کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آوازسے، جس کوجن و انس کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے، پُکارتے ہیں کہ اے امتِ محمدیہ ! اُس ربِ کریم کی(بارگاہ کی) طرف چلو، جو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے،پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالی شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں :کیا بدلہ ہے اُس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو؟وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے معبود اور مالک ! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کو اس کی مزدوری پوری پوری ادا کر دی جائے،تو اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں : ”فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی”۔

پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے:اے میرے بندو ! مانگو کیا مانگتے ہو ؟ میری عزت و جلال کی قسم ! آج کے دن اس (نماز عید) کے اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے وہ پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مانگو گے اس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرماؤں گا (یعنی اس معاملہ میں وہ کروں گا جس میں تمہاری بہتری ہو) میری عزت کی قسم ! جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے میں بھی تمہاری خطاؤں پر پردہ پوشی فرماتا رہوں گا، میری عزت و جلال کی قسم ! میں تمہیں حد سے بڑھنے والوں (یعنی مجرموں ) کے ساتھ رسوا نہ کروں گا، بس اپنے گھروں کی طرف مغفرت پاکرلوٹ جاؤ ، تم نے مجھے راضی کردیا اور میں بھی تم سے راضی ہوگیا” ( الترغیب و الترہیب)۔

جب اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہو کہ وہ عیدالفطر کے دن ماہ رمضان میں اس کی طرف متوجہ ہونے والوں کی مغفرت کا اعلان کررہا ہو، ان سے اپنی رضامندی ظاہر کرہا ہو،  یہ فرما رہا ہو کہ ” آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے وہ پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مانگو گے اس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرماؤں گا “تو اگر کوئی پورے سال اللہ کی طرف متوجہ ہو، اس کی رضاکا طلبگار ہو، اپنے معمولات  کو اللہ کی ہدایات کے مطابق طے کرتا ہو،منہیات و ممنوعات سے خود کو دور رکھتا ہو،  پورے سال بے سہارا لوگوں ، مسکینوں ، محتاجوں ، یتیموں اور بے واؤں کی خبر گیری کرتا ہو تو اس کی طرف اللہ کی توجہ کس قدر ہوگی اور اس کا تعلق اللہ سے کتنا مضبوط ہوگا۔لہذا امت مسلمہ کوخود کو”رمضانی مسلمان”کہلائےجانا پسند نہ کرکےپورے طور پر اللہ کی رضا اور خوشنودی کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور خود کو دائمی طور پر مسلمان بنانے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اگرایسا ہوتا ہے تو عیدالفطرکا دن حقیقی طور پر  خوشی کادن ہوگا  اور یہ تہوار حقیقی معنوں میں جشن ، فرحت و شادمانی کا تہوارہوگا۔ یہی وہ پیغام ہے جو عید الفطر امت مسلمہ کو دینا چاہتی ہے اوریہ تہوار کا وہ عمدہ نمونہ ہے جو اقوام عالم کے سامنےوہ پیش کرنا چاہتی ہے۔

تبصرے بند ہیں۔