غور و فکر 

اللہ رب العزت کو وہ عمل زیادہ پسند ہے جو غور و فکر کے بعد کیا جائے۔

سہیل بشیر کار

انسان کا اعزاز اسکی غور و فکر کی صلاحیت ہے، زندگی کی ارتقاء کا راز غور و فکر میں مضمر ہے۔ یہ ارتقاء نفس انسانی وجود کا ہو یا کسی قوم کا۔ انسان کی اگر یہ فیکلٹی کام کرنا چھوڈ دے تو انسان اپنی تعریف اور تعارف کھو دیتا ہے۔ انسان کا کوئی کام بنا سوچے یا بنا غور کئے اگر انجام پاتا ہے تو نتائج کے اعتبار سے بے حد منفی کام ثابت ہوتا ہے، اللہ رب العزت نے انسان کو عقل سے نوازا ہے اس کا تقاضا ہے کہ انسان بہت زیادہ غور کرے۔ ہر کام کو انجام دینے سے پہلے خوب سوچے، اللہ رب العزت کو بھی وہ کام زیادہ پسند ہے جو غور و فکر کے بعد کیا جائے۔  وہ شخص محسن کہلاتا ہے جو اپنے معاشرے اور اپنی قوم کی ترقی کے بارے میں غور کرتا رہتا ہے۔ غور و فکر کا محور اور مرکز  عقل ہے اور اللہ تعالٰی اس عقل کو قرآن میں بار بار ایڈرس کرتا ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ صدیوں پر محیط تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا اس عقل کے ساتھ کچھ زیادہ تعامل نہیں رہا ہے  باوجود اسکے کہ قرآن مجید میں عقل اور ایمان  (عقل سے کام لینے والے اور ایمان لانے والے) کو ایک جیسے سیاق میں بار بار استعمال کیا گیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ گویا دونوں ایک ہی قبیل کے امر ہیں.

قرآن نے عقل  و فکر کے صیغے کم سے کم 500 مرتبہ استعمال کیے ہیں۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ غور و فکر کی صلاحیت خدا کی ایک عظیم الشان نعمت ہے. قرآن میں تفکر اور تدبر  کے الفاظ‌ آئے ہیں جن کے لغوی معنیٰ سوچ، بچار اور غور و فکر کرنے کے ہیں۔ تفکر و تدبر ایک ذہنی عمل ہے جس میں انسان اپنے تمام تر توہمات اور خیالات کو جھٹک کر کسی ایک خیال، نکتہ یا کسی مشاہدے کی گہرائی میں سفر کرتا اور اسی پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے۔”

غور و فکر مشکل ترین کام ہے اس میں انتہائی وقت اور صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں، ہم بدقسمتی سے سطحی اور جذباتی کام کرنے کے عادی ہیں، ساتھ ہی ہم وہ کام کرنا چاہتے ہیں جس کے نتائج جلد ظاہر ہوں، ظاہر ہے غور و فکر سے یہ نتائج ناممکن ہیں۔ فوری نتائج کی خواہش ہی اک وجہ ہے کہ امت مسلمہ میں غور و فکر سب سے کم ہوتا ہے، ہم نے غور و فکر کو اپنے ایجنڈا میں کبھی شامل ہی نہیں کیا ہے ہمیں کبھی اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی اور کبھی ہم نے اس کو دین سمجھا ہی نہیں، حالانکہ قرآن کریم میں اہل ایمان کی جو صفات بیان ہوئی ہیں ان میں  ایک صفت یہ بتائ گئ ہے کہ وہ کائنات پر غور و فکر کرتے ہیں، جہاں ان کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں اس سے پہلے کہا گیا ہے کہ وہ کائنات پر غور و فکر کرتے ہیں

 إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِO

بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردِش میں عقلِ سلیم والوں کیلیے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیںo

مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے قرآنِ مجید نے بندۂ مومن کی بنیادی صفات و شرائط کے ضمن میں جو اَوصاف ذِکر کئے ہیں اُن میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں تفکر (علمِ تخلیقیات (Cosmology) کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے. اِن آیاتِ طیبات میں بندۂ مومن کی جو شرائط پیش کی گئی ہیں اُن میں جہاں کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے زِندگی کے ہر حال میں اپنے مولا کی یاد اور اُس کے حضور حاضری کے تصوّر کو جاگزیں کرنا مطلوب ہے، وہاں اِس برابر کی دُوسری شرط یہ رکھی گئی ہے کہ بندۂ مومن آسمانوں اور زمین کی خِلقت کے باب میں غور و فکر کرے اور یہ جاننے میں کوشاں ہو کہ اِس وُسعتِ اَفلاک کا نظام کن اُصول و ضوابط کے تحت کارفرما ہے اور پھر پلٹ کر اپنی بے وُقعتی کا اَندازہ کرے۔ جب وہ اِس وسیع و عریض کائنات میں اپنے مقام و مرتبہ کا تعین کرلے گا تو خودہی پکار اُٹھے گا: کہ اے اللہ تو کتنا عظیم ہے، اس سے اس کے اندر مظبوط ایمان پیدا ہوگا،انسان کو  دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش وُقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات اور حوادثِ عالم سے باخبر رہنے کے لیے غور و فکر اور تدبر و تفکر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ شعور اور قوتِ مُشاہدہ کو بروئے کار لائے تاکہ کائنات کے مخفی و سربستہ راز اُس پر آشکار ہوسکیں۔ جہاں اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اپنے انفس اور اپنے آفاق پر غور کریں وہی انسان کو چاہیے کہ وہ معاشرے کے بارے میں بھی بار بار سوچے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم غور و فکر کرنا پسند فرماتے تھے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "وَالعَقْلُ اَصْلُ دِیْنیِ , اور عقل میرے دین کی بنیاد ہے” مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے ’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عبدالقیس کے سردار سے فرمایا تم میں دو باتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ ایک بردباری اور دوسرے غوروفکر کے بعد کام کرنا.  قرآن غور و فکر نہ کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا تمہارے دلوں پر قفل ہے.

جب غور و فکر کی بات آتی ہے تو ذہن میں عقل کا آنا لازمی ہے مگر بدقسمتی سے جب جب عقل کی بازیافت کی بات ہوتی ہے فوراً کچھ لوگ عقل کو وحی کے parallel ڈالتے ہیں حالانکہ عقل اور وحی کبھی بھی متصادم نہیں ہو سکتے، ماہنامہ زندگی نو کے ایڈیٹر ڈاکٹر محی الدین غازی زندگی نو کے مئی کے شمارے میں لکھتے ہیں

” امت کی نمایاں خصوصیت عقل اور وحی ہے، اور ایمان کا احیاء اور عقل کی بازیافت ایک ہی مشن ہے”. اس کے بعد عقل کے مختلف پہلو پر بات کرتے ہیں اور جو امت مسلمہ میں ایک اشکال پایا جاتا ہے کہ اگر عقل اور وحی میں ٹکراؤ ہو جائے تو کس کا مانا جائے گا لکھتے ہیں ” وحی اور عقل میں ٹکراؤ نہیں ہو سکتا ہے، اگر ٹکراؤ محسوس ہو تو  سمجھا جائے یا تو وحی کے فہم میں غلطی ہوئی ہے یا عقل کے برتنے میں کوتاہی ہوئی ہے. ظاہر ہے عقل کو برتنا اور وحی کو سمجھنا یہ دونوں انسانی عمل ہیں اور انسانی عمل میں غلطی کا بہرحال امکان رہتا ہے اور اس امکان کو کم سے کم کرنے کے لیے ہر انسانی عمل کی طرح اس انسانی عمل کا بھی مسلسل جائزہ لیتے رہنا اور اس سے بہتر کرنے کی کوشش کرنا ناگزیر ہے۔ امام ابن تیمیہ کی یہ بات قابل توجہ ہے کہ عقل صریح سے جو بات معلوم ہوتی ہو وہ شریعت سے متعارض ہو جائے اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا…. ” صفحہ 22) مزید لکھتے ہیں ” جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عقل اور وحی میں ٹکراؤ کی صورت میں ہم وحی کو ترجیح دیں گے تو ہم غیر محتاط طور بیان دیتے ہیں کیونکہ عقل اور وحی کا حقیقی ٹکراؤ وحی کی پوزیشن کم زور کرتا ہے، خواہ ہم ذاتی طور پر وحی کی صفت میں کھڑے ہو جائیں اور اس کو ترجیح دے دیں، محتاط بیان یہ ہے کہ عقل اور وحی کے بظاہر ٹکراؤ کی صورت میں ہم جستجو جاری  رکھیں گے. تا آں کہ ٹکراؤ دور ہو جائے کیونکہ ٹکراؤ ہماری کسی غلطی اور کوتاہی کی وجہ سے ہی نظر آتا ہے ” (صفحہ 33) مضمون کے آخر میں وہ امت میں عقل کی بازیافت کی رکاوٹیں اور عملی اقدام بیان کرتے ہیں، مذکورہ مضمون سے. جہاں بہت سے اشکالات دور ہوجاتے ہیں وہی عقل کی بازیافت کی اہمیت، ضرورت اور عملی اقدام کا پتہ چلتا ہے لکھتے ہیں ".عقل کا مقام بہت بلند ہے، انسانی جسم میں اسے سب سے اونچے مقام پر رکھا گیا ہے، قوموں کو بھی اس سے اتنے ہی اونچے ہی مقام پر رکھنا چاہیے، جو قومیں عقل کو صحیح مقام نہیں دیتی ہیں وہ ترقی نہیں کرتی ہیں، اور ترقی کرتی بھی ہے تو انجام کار ترقی کے نام پر تباہی کی طرف سفر کرتی ہیں”(صفحہ 35)

ہم زندگی کے ہر شعبہ میں بچھڑے ہیں۔  چاہے شعبہ علم و تحقیق کا ہو ، معیشت کا ہو یا سیاست کا ہو۔  اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے غور و فکر کو وہ مقام نہیں دیا ہے، جو دینا چاہیے تھا، ہماری ہر سرگرمی، ہر کام یا تو بغیر غور و فکر کے ہوتا ہے یا بہت کم غور و فکر کے نتیجے میں ہوتا ہے، اس روش کو ہم جتنا جلدی بدل سکیں گے اتنا جلدی ہمارا معاشرہ ترقی کرے گا۔

1 تبصرہ
  1. سلمیٰ نسرین، آکولہ کہتے ہیں

    بہترین مضمون
    حکمت مومن‌کا گمشدہ سرمایا ہے پس جہاں پائے لے لے۔غور ‌و
    فکر کے بعد جو فیصلے لیے جاتے ہیں وہ ان سے بہتر ہوتے ہیں جو بے سوچے سمجھے کیے جاتے ہیں ۔ تدبر حکمت، غور وفکر ، تحقیق یہ بحیثیت قوم بھی ہماری میراث اور ہمارے ہی کرنے کے کام ہیں۔یہ مضمون بوسٹر ہے ہمارے لیے ۔جزاک الله خیرا

تبصرے بند ہیں۔