قرآن دنیا کے لیے بہار ہے 

رمضان کا مہینہ موسم بہار ہے 

ہر مسلمان کو شعبان المعظم کے مہینہ سے ہی ماہ رمضان کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ عبادت و ریاضت کیلیے کمر کس لینا چاہیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے، رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ’’رمضان اور سال کے دیگر مہینے میں اتنا ہی فرق ہے جتنا سمندر اور پانی کے ایک قطرہ میں فرق ہوتا ہے‘‘۔ یہ فرق اس لیے ہے کہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں انسانوں کیلیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت نازل ہوئی۔
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کیلیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں‘‘ (سورہ بقرہ:110)۔
یہی وجہ ہے کہ رمضان کو شہر القرآن یعنی قرآن کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔مسلمان ہر سال نزول قرآن کی سالگرہ عید الفطر کا جشن مناکر کرتا ہے۔ اس سے پہلے وہ تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کیلیے روزہ کو رکھ کر اللہ کی سب سے بڑی نعمت کی شکر گزاری کا فریضہ ادا کرتا ہے۔ رمضان کے روزے تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کیلیے فرض کئے گئے ہیں۔
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کر دیئے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی‘‘ (بقرہ:183)۔
تقویٰ اور بھی چیزوں سے پیدا ہوتا ہے لیکن روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا سب سے کارگر ذریعہ ہے۔ تقویٰ کیا چیز ہے ؟ تقویٰ یہ ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی سے بچے اور اس کی فرماں برداری اختیار کرے۔ روزہ مسلسل ایک مہینہ تک اسی کی مشق کراتا ہے۔ پانی جیسی طیب اور حلال چیز کے پینے بھی انسانی تھوڑی دیر تک محض اللہ کے حکم سے رک جاتا ہے اور جیسے ہی اس کا حکم ہوتا ہے پھر پینے لگتا ہے۔ گویا کھانے، پینے، مباشرت وغیرہ سے آدمی رکا رہتا ہے اور یہ اس وقت تک جب تک کہ خدا کا حکم نہیں ہوتا، خدا کی اجازت نہیں ملتی۔ ایک روزہ دار دنیا کو دکھانے کیلیے سب کچھ چاہے تو کرسکتا ہے، مگر وہ ایسا نہیں کرتا۔ محض خدا کے حکم سے ہی روزہ رکھتا ہے اور خدا کے حکم سے ہی روزہ کھولتا ہے۔ اس طرح خدا جس چیز کا حکم دیتا ہے اس کو بجا لانے کی عادت ہوتی ہے۔ گویا آدمی اپنے نفس پر اتنا قابو پالے کہ وہ اس کے بے جا مطالبات اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف نہ منوا سکے۔ یہی غرض و غایت ہے جس کیلیے روزہ فرض کئے گئے ہیں جو لوگ روزے کی تکمیل کرتے ہیں اور قرآن مجید کو سرچشمۂ ہدایت مان کر ان احکامات اور ان اصولوں کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے خلاف جو چیز بھی ہو اس کو رد کر دیتے ہیں خواہ وہ کہیں سے بھی آرہی ہو۔ رمضان المبارک کے زمانے میں قرآن مجید کو جس نے اس نظر سے دیکھا اور سمجھا تو اس نے حقیقت میں اللہ کی نعمت کا صحیح شکر ادا کیا اور وہی سب سے زیادہ مبارکباد کا مستحق ہے اور وہ اسی نئے جذبے اور نئے انقلاب کے ساتھ عید کے دن خدا کے سامنے جھک جاتا ہے کہ رمضان المبارک کا ایک حق جو اس پر تھا، اس نے اسے ٹھیک ٹھیک ادا کیا۔
اس تصور زندگی کے ساتھ اگر ہم روزہ رکھتے ہیں اور زندگی کو واقعی اللہ تعالیٰ نے جو دین اپنی وحی اور اپنے رسول کے ذریعہ بھیجا ہے اس کی سربلندی کیلیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں تو سمجھنا چاہیے کہ ہم رضائے الٰہی کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ قرآن نے واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’’کہہ دو کہ میری نماز، میری تمام عبادت، میرا مرنا جینا جو کچھ ہے اللہ کیلیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے‘‘۔
نزول قرآن کی وجہ سے رمضان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ فرض کا ثواب ستر گنا سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے اور نفل کا ثواب فرض کے برابر ملتا ہے۔ قرآن مجید اس دنیا کیلیے بہار ہے اور رمضان کا مہینہ موسم بہار ہے اور یہ موسم بہار جس فصل کو نشو و نما بخشتا ہے وہ تقویٰ کی فصل ہے۔

تبصرے بند ہیں۔