قرب قیامت اور اپنا محاسبہ

اس لیے اپنی زندگی کے مقصد کو پہچاننے اور اللہ کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔

0

ذوالقرنین احمد

 گزشتہ تین چار مہینوں میں بڑے بڑے علمائے کرام ملی قائدین کا انتقال ہوا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے علماء اکرام کا دنیا سے اٹھ جانے سے‌مراد علم کا اٹھا لیا جانا ہے۔ علماء کے نہ ہونے پر لوگ جاھلوں کو اپنا سردار بنا لے گے۔ اور وہ پھر اپنے من مانی طور پر باتیں کرنے لگے گے۔ جو خود بھی گمراہ ہوگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ علم کا علماء اکرام کی صورت میں اٹھا لیا جانا ہے۔

متعلقہ مضامین

دنیا مخلص ،جرات مند، بباک، موثر نیک با اخلاق افراد سے خالی ہورہی ہے۔ شراب، کا عام ہوجانا، زنا کا پھیلنا، آج کل زنا کا نیا طریقہ ایجاد ہوچکا ہے، جو کالج یونیورسٹی مزید یہ کہ اسکولوں میں بھی گرل فرینڈ بویے فرینڈ کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔ جس میں بغیر نکاح کے جسمانی تعلقات قائم کیے جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں اسلامی شریعت کے مطابق چار شادیوں کی سنت کو عیب دار امر بنادیا گیا ہے اور اسکے برخلاف شادی شدہ ہونے کے باوجود غیر ازدواجی جسمانی تعلقات بھی قائم کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے نئی نئی بیماریاں وجود میں آرہی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے مہینے ہفتوں کی طرح گزر رہے ہیں۔ عصری تعلیم کے عروج پر ہونے کی باوجود جہالت کا بازار گرم ہے۔ انسانیت دم توڑ رہی ہے مادہ پرستی عام ہوچکی ہے۔ اچھے بھلے نیک سیرت لوگ دنیا سے رخصت ہورہے ہیں۔

 دنیا ایک بڑی تبدیلی کی طرف روا دوا ہے۔ ہم سنتے آئے ہیں کہ قیامت میں نفسا نفسی کا عالم ہوگا لیکن یہ سلسلہ ابھی سے عروج پر ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے چار مہینے ہونے والے ہیں اور ان حالات پر نظر ڈالی جائیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں مادی اسباب صرف ضرورت زندگی کیلے ہی حاصل کرنا اہم ہے ناکہ عیش و عشرت اور شہرت حاصل کرنے کیلے کیونکہ اس لاک ڈاؤن میں ہر شخص نے دیکھا ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب ہر کوئی پریشان ہے۔ لوگ صرف دو وقت کی روٹی کا مل جانا اور صحت مند رہنا ہی سب سے بڑا چین سکون سمجھ رہے ہیں۔ اور یہی حقیقت ہے کہ انسان صحت مند رہے اور دو وقت کی روٹی کا انتظام ہوجائے باقی تمام بوجھ خواہشات کا ہے بڑا بنے اور دوسروں کو دیکھ کر حسد کرنے کا ہے۔ ورنہ زندگی گزارنے کیلے ضرورت کے مطابق مل جانا ہے کافی ہے‌۔

انسان خواہشات کی تکمیل کی فکر میں اپنے رب کو ہی فراموش کر بیٹھا ہے۔جبکہ دلوں کا اصل سکون اور راحت صرف اللہ تعالیٰ کے زکر میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بھلا کر اور دنیا کی رنگینیوں میں سکون کو تلاش کرنا سراب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ غریب امیر کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ امیر لوگ بہت سکون اور عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن ہر کوئی کہی نہ کہی حالات کا شکار ہے۔ ہر کوئی اپنے حصہ کے مسائل سے دوچار ہے۔ کوئی پریشانیوں مصیبتوں سے آزاد نہیں ہے۔ بلکہ حالات کا شکار ہے۔ وہی لوگ اصل راحت و سکون میں جیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں اور اسکی یاد میں لگے رہتے ہیں ضرورت کے مطابق رزق حلال کما کر کھاتے ہیں۔ کسی کا مال غضب نہیں کرتے ہیں سود نہیں کھاتے ہیں۔ رشوت نہیں لیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی  حرام کردہ حدود کو پار نہیں کرتے ہیں۔

 بلکہ اپنے زندگی کا مقصد اللہ اور رسول ﷺ کی رضا حاصل کرنا بنا لیتے ہیں ‌۔ یہی اصل زندگی ہے اسکے سوا تمام تر آسائشیں اور دنیا کی رنگینیاں عیش و عشرت سب کچھ فانی ہے اور وقتی سکون کا زریعہ ہے۔ جس کی وجہ انسان آخرت کی فکر سے محروم ہوجاتا ہے ۔ جو لا محدود زندگی ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے یہیں اصل زندگی ہے دنیا فانی ہے۔ اور ہر شئے کو فنا ہے باقی رہنے والی ذات اللہ کی ہے۔ اور دنیا میں کیے گئے اعمال کا حساب ہر کسی کو اپنے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے سامنے دینا ہے۔ اس لیے اپنی زندگی کے مقصد کو پہچاننے اور اللہ کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ ہر ایک کو اپنے آپ کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جس نے خودی کو پالیا اسی نے سراغ زندگی کو پالیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا