ماں کی خدمت ہمارا فرض بھی ہے اور قرض بھی

محمد عمر فیاض قادری

16 جولائی 2019ء بروز منگل کا واقعہ ہے کہ لاہور کے ممتاز نامی ایک سنگ دل بیٹے نے اپنی ضعیف العمر ماں پر کلہاڑی سے پے در پے   وار کر کے اسے زخمی کردیا۔ زخمی ماں کی آہ و بکا سن کر ان کی پڑوسن انہیں بچانے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچیں اور پولیس کو اطلاع دی جس نے موقع پر پہنچ کر ممتاز کو حراست میں لے لیا۔ پولیس حکام کے مطابق زخمی ہونے  کے باوجود ماں نے علاج کروانے کے لیے ہسپتال جانے سے انکار کردیااور چہرے، بازو اور سینے پر موجود زخموں اور کپڑوں پر لگے خون کے دھبوں کے ساتھ سکینہ بی بی اپنے 35 سالہ بیٹے کو چھڑانےپولیس اسٹیشن جا پہنچی  اور بیٹے کو رہا کرنے پر اصرار کرتی رہی، اور  بار باریہ کہتی رہی کہ میرے بیٹے کو کچھ نہ کہنا، میرے بیتے کو کچھ نہ کہنا، اس منظر نے کئی دیکھنے والوں کو آبدیدہ کردیا۔ پولیس اہلکار کے مطابق ماں نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپنے بیٹے کو رہا کرنے پر اصرار کیا اور ضد کی کہ وہ اپنے بیٹے کے بغیر وہاں سے واپس نہیں جائیں گی۔ جس کے باعث حکام کے پاس ممتاز کی سرزنش کرنے کے بعد اسے رہا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ ماں جب اپنے بیٹے کو لے کر پولیس اسٹیشن سے نکلی تو اسے زخموں کی تکلیف سے زیادہ  بیٹے کی رہائی  کی خوشی کا احساس تھا۔

جب  سے یہ واقعہ سنا ہے تب سے دل اضطراب کی حالت میں ہے، کیا اولاد اتنی  سفاک بھی ہوسکتی ہے؟ ایک بیٹا اپنی ماں کو کس طرح کلہاڑی سے مار سکتا ہے؟کیا اس کی عقل اتنی بھی کام نہیں کرتی کہ یہ میری ماں ہے!!! لیکن اس کے باوجود ماں کی ممتا دیکھئے کہ ماں   کا چہرہ زخمی، بازو  زخمی، سینہ زخمی، کپڑے خون آلود مگر وہی بیٹا جس نے اپنی ماں کو کلہاڑی سے مارا، وہی ماں اسے چھڑانے پولیس اسٹیشن پہنچ گئی اور رہائی دلواکر ہی دم لیا۔

ماں کیا ہوتی ہے؟ 

”ماں “جنت کو پانے کا ایک آسان راستہ ہے، ”ماں “جس کا احساس انسان کی آخری سانس تک چلتا رہتا ہے، ”ماں “ایک پھول ہے کہ جس کی مہک کبھی ختم نہیں ہوتی، ”ماں “ایک سمندر ہے جس کا پانی اپنی سطح سے بڑھ تو سکتاہے مگر کبھی کم نہیں ہو سکتا، ”ماں “ایک ایسی دولت ہے جس کے پاس ہووہواقعی امیر ہے، ”ماں “ایک ایسی دوست ہے جو کبھی بیوفائی  نہیں ‌کرتی، ”ماں “ایک ایسا وعدہ جو کبھی ٹوٹتا نہیں، ”ماں “ایک ایسا خواب ہے جو ایک تعبیر بن کر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے، ”ماں “ایک ایسی محبت ہے  جو کبھی کم نہیں ہوتی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اور بڑھتی رہتی ہے، ”ماں “ایک ایسی پرچھائی ہےجو ہر مصیبت سے ‌بچانے کے لیے ہمارے ساتھ رہتی ہے، ”ماں “ایک ایسی محافظ جو ہمیں ہر ٹھوکر لگنے سے بچاتی ہے، ”ماں “ایک ایسی خوشیہے جو کبھی غم نہیں ‌دیتی، ”ماں “ایک ایسی دُعا ہے جو ہروقت ہمارے ساتھ رہتی ہے۔

”ماں۔ ۔ ۔ “یہ لفظ کس قدر مقدس اور شہد سے میٹھا ہے، جسے بولتے ہی منہ میٹھا میٹھا ہو جاتا ہے۔ یہ لفظ بہت سے معنی، مطلب  اور احساس اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ممتا، پیار، محبت، خلوص، لگن، سچائی، پاکیزگی، سکون، خدمت، محنت، عظمت، دعا، سایہ، دوست، ہمدرد، رہنما، استاد، بے غرض، معصومیت، دیانت، بردباری، برداشت، جذبہ، جنت یہ سب تو صرف ماں کی خوبیوں کی ایک جھلک ہے ورنہ اس عظیم ہستی کی خوبیاں تو اس قدر ہیں کہ لفظ ختم ہو جائیں مگر ماں کی تعریف ختم نہ ہو گی۔ ”ماں “ایک ایسا موضوع  ہےکہ قلم بھی جس کا احاطہ نہیں کر پاتا۔ اس موضوع پر کافی کتب تو لکھی جا سکتی ہیں مگر ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ تب بھی نہیں چکایا جاسکتا۔ ”ماں “محض ایک لفظ نہیں بلکہ محبتوں کا مجموعہ ہے۔ ”ماں “کا لفظ سنتے ہی ایک ٹھنڈی چھاؤں اور ایک تحفظ کا احساس اجاگر ہوتا ہے، عظمت کیایکنشانی اور سب کچھ قربان کر دینے والی ہستی کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ پیار و محبت کرنے والی ہستی ماں کیہے۔ ماں خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں افضل ترین نعمت ہے۔

ایک ہستی جس کا ایک ایک لفظ مٹھاس لیے ہو، جس کی بات ہی بے مثال ہو، جس کی دعا ہر چیز سے قیمتی ہو، جو سراپا محبت و افتخار ہو، جو قدرت کا شاہکارہو، جس کے آنسو موتی ہوں، جس کی نگاہ میں امید کے دیئے جلتے ہوں، جو تپتی دھوپ میں چھاؤں کا بیش قیمت احساس ہو، جس کا دل ہر غرض سے پاک ہو وہ ہے ”ماں “۔

 اپنی اولاد کی تکلیف کو اپنے اندر سمونے والا کتنا حسین احساس ہے، ہر دھوپ میں ایک ٹھنڈی چھاؤں جیسا احساس، تازہ پھولوں کی شگفتگی، نرم کلیوں کی تازگی، چودہویں کے چاند کی چاندنی اور دنیا بھر کے حسین رشتوں کی محبت کو جمع کر کے بھی اگر ایک اکیلی”ماں “سے اس کا مقابلہ کیا جائے تو ماں کا رتبہ سب سے بلند ہو گا اور کیوں نہ ہو، ماں نام ہی ایسے حسین رشتے کا ہے کہ اس کے آگے دنیا کی ہر شے ہیچ ہے۔ تمام تر پریشانیوں، مصیبتوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجود وہ اپنے بچوں کے لیے ایک کامل احساس ہے۔ ایک بے انتہا پر سکون اور آرام دہ شجر کی مانند، جس میں پناہ گزین ہو کر اولاد خود کو دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ تصور کرتی ہے۔ ماں ہمیں بچپن سے لے بڑے ہونے تک شفقت سے پالتی ہے۔ ماں ہی ہمیں زندگی گزارنے کی تربیت دیتی ہے۔ صحیح و غلط کی پہچان کر واتی ہے۔ زندگی کے تمام نشیب و فراز سے آگاہ کرتی ہے۔ ہماری زندگی صرف بناتی ہی نہیں بلکہ بہت احسن طریقے سے سنوارتی بھی ہے یعنی کہ ماں ایک بہترین معلمہ ہے۔ اسلام نے بھی ماں کی محبت، وقار اور احترا م کا اعتراف کیا ہے اس کی اطاعت اور خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، پاکیزہ شبنم، دعاؤں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، چاند کی رحمت، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت کے تمام رنگوں سے مزین کیایہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ محسنِ انسانیت نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی صاحبزادی خاتون جنت بی بی فاطمۃالزہرہ ماں کی حیثیت سے ایک زندہ  اور مثالی کردار ہیں۔

ہمیں  بالخصوص نوجوانوں  کو چاہیے کہ وہ اپنی ماں کی قدر کریں، اس سے عزت سے پیش آئیں، اس کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کریں، اس کی دل جوئی کریں، غرض بڑھاپے میں اس کا اسی طرح خیال رکھیں جیسے بچپن میں اس نے آپ کا رکھا تھا کیونکہ اسی میں آپ کی دنیا و آخرت کی فلاح پوشیدہ ہے۔

اس کی خدمت ہمارا فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ اگر یہ نعمت کھو جائےتو خواہ دنیا کی ساری دولت  ہی کیوں نہ خرچ کر ڈالو یہ دوبارہ کسی کو بھی نصیب نہیں ہوتی، یہ وہ عظیم ہستی ہے جس کے بغیر دنیا میں ہر چیزبے رونق ہے۔

ماں تیرے بعد بتا کون لبوں سے اپنے

وقت  رخصت مرے ماتھے پہ دعا لکھے گا

تبصرے بند ہیں۔