مسلمان معاشرہ اور حجاب

الطاف جمیل شاہ

حجاب  اسلامی شعائر میں سے ایک اہم جز ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ خواتین اسلام کوئی تماشہ کی چیز نہیں لذت دید کا کوئی تماشہ نہیں بازاروں کی زینت نہیں یہ ایک باوقار طبقہ ہے جن کی عزت و تکریم حد درجہ لازم ہے اسلامی تعلیمات میں خواتین پردے کی چادر میں ہوں تو غلیظ نظروں کا نشانہ نہیں بنتی یہ ان غلیظ قسم کی مخلوق کی ہوس بھری نگاہوں کے لیے تسکین نہیں بنتی اسلام نے اسے ماں بہن بیٹی اور بیوی جیسے رشتے کی ڈور میں باندھ کر اسے عزت و وقار کے ساتھ جینے کی تعلیم دی اور مرد  باپ بھائی شوہر بیٹا ان کے ذمہ اس کی خدمت رکھ دی کہ تمہیں اپنے مال سے اپنی کمائی سے ماں بہن بیٹی بیوی کو بھی حصہ دینا ہی دینا ہے خواتین آرام و آسائش سے اپنے گھروں کی دیکھ بھال کرتی رہیں گئیں ان کے چہرے پر مارنے سے اس کے جسم پر زور کی مار مارنے سے منع کیا ان کی خوشنودی ان کی محبت ان کا ساتھ پانے کے لیے تعلیمات دیں۔

خواتین کی حالت قبل اسلام کے کیا تھی دنیا کے اہل علم یا تاریخ سے واقف لوگ بخوبی واقف ہیں مختلف مذاہب نے عورت کو کیا کیا سہولتیں مراعات دی ہیں وہ تاریخ کے طالب علم کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے پر اسلام کے اصول و ضوابط میں جو حقوق اسے تفویض کئے گئے ہیں وہ آشکارا ہیں۔

یہ عام مسلمانوں نے جب سے مغرب کہ آغوش میں پڑنا سیکھ لیا انہیں اپنے عظمت ذلت دیکھائی دی انہیں اپنے وقار سے عناد پیدا ہونے لگا اور یوں جہاں یہ مختلف شعائر سے باغی ہوئے وہیں مائیں بہنیں اور بیٹیاں بازار کی رونق بننے کو ترجیح دینے لگیں اور ایک ایسا ماحول بنتا گیا جس نے حیاء کی چادر چھین لی اور عفت و پاکیزہ مزاجی سے متنفر کردیا اسے اور اب حال کچھ یوں ہے۔

مثال

کل جب بازار سے گزرا اور اچانک نظر جو پاس سے گزر رہی بنت حوا پر پڑی تو حجاب یاد آیا۔

میں نے جب سیرو فی الارض پر عمل کی خاطر پارک اور قدرتی نظاروں کو دیکھنا چاہا تو وہاں حجاب یاد آیا۔

شادی بیاہ یا نجی تقریبات میں جب مرد و خواتین کا ملن دیکھا تب مجھے حجاب یاد آیا۔

میں گھر میں ہوں بہن بیٹیاں سامنے گھوم رہی تھیں کچھ غیر محرم بھی تھے میرے پاس تو میں نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ حجاب اور عفت کی بات کروں کیوں کہ میرے گھر کی پڑی لکھی خواتین کہتی ہیں کہ پردہ دل کا ہونا چاہیے اور ان کی منطق کو میں نے مان بھی لیا کہ یہ بھی تو کچھ اچھا ہی سوچتی ہیں اور یوں اس پاکیزہ سوچ اور فکر کا دامن سکڑتا رہا اور امت اپنے تہذیبی ورثے کو معاشرے اور سماج میں مضبوطی سے پکڑنے اور ماننے سے عار محسوس کرنے لگی ہم اخلاقی دیوالیہ پن اور فکری پستیوں کی ایسی اندھیری راہ پر بہت اگئے نکل چکے ہیں جہاں سے واپسی کا سفر گرچہ نا ممکن نہیں پر آسان بھی نہیں ہے ہم فکری دیوالیہ پن کے شکار ہوگئے ہیں ہم نے اسلامی افکار و نظریات کو مساجد تک سے نکال دیا ہے، میری گزارشات کڑوی ہیں پر میں وہ آئینہ لے کر آیا ہوں جس نے ہمیں وہ دن دیکھائے جن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا قرون اولی میں پردے کی بات کریں تو ہم نے اپنے افعال اور سماجی سطح پر یہ چیز بتا دی ہے کہ یہ اسلامی اصولوں کا لازمی جز نہیں ہے ہم نے روز مرہ معاملات میں اسے دقیانوسی تہذیب بتایا ہے پردہ اسلامی اصول ہے کون بتائے گا کیا یہ بات عیاں نہیں کہ اب مسلم دنیا کی اکثریت اس کی رعایت نہیں کرتی تو کیا پوچھا جاسکتا ہے اہل علم سے کہ غیروں کو کیا ضرورت ہے  کہ اسلامی تعلیمات افکار و نظریات کو پڑھیں گئے اور پھر مسلمانوں کے اصولوں کی رعایت کریں گئے۔

وہ کیوں کر اسلامی تہذیب و تمدن کے اصول و ضوابط کی پاسداری کریں ہم نے تو اپنے حرکات و سکنات سے واضح کردیا ہے کہ یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔اوپر سے ایک اور ستم یہ بھی کہ اصل اہل علم مصلحت کی چادر کے سایہ میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں اور انتہائی بد دیانت لاعلم جاہل و گنوار لوگ مسلم نام کے ساتھ اسلام کی نمائندگی کرنے کے لیے ہانپ رہے ہوتے ہیں اور جہاں مختلف باتوں کو تروڑ مروڑ رہے ہیں وہیں اسلامی پردے کے بھی مخالف ہیں۔

ان میں سے کچھ خواتین بھی لمبی زبان نکال نکال کر اپنی اپنی بیہودہ اور غلیظ افکار کو بیان کرتی ہیں ان کے لیے عرض ہے پردہ شعائر اسلامی ہے پر اس کے احکام عام نہیں ہیں بلکہ خواص کے لیے ہی ہیں وہ خواتین جنہوں نے اپنی شرم و حیاء کی چادر پھینک دی ہے حق یہی ہے کہ پردے کی تعلیم ان کے لیے ہے ہی نہیں بلکہ اس کے لیے لازم ہے کہ جو پردے کی آغوش میں رہنا چاہتی ہیں وہ اپنے کردار اپنے اخلاقیات کے لحاظ سے  حضرت فاطمہ اور اماں  عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی عظیم خواتین کی پیروکار ہوں ان کی بیٹیاں ہونے پر انہیں فخر ہو گر اخلاقی دیوالیہ پن کی شکار خواتین چادر حیاء کو غیر ضروری کہتی ہیں تو اس میں غلط کچھ بھی نہیں۔

اب جو مرد پردے کی آڑ میں اونچی چھلانگ لگانے کے لیے اچھل کود کر رہے ہیں ان سے التماس ہے کہ پردہ بتانے کی چیز نہیں ہے کرنے کے چیز ہے آؤ عہد کرتے ہیں ہم اس پردے کا اہتمام اپنے گھر کی خواتین  سے کرتے ہیں اور اسے فروغ دینے کی ہر کاوش کا ساتھ دینے کا عہد کرتے ہیں۔

یاد رکھیں یہ زمانہ تہذیبی تصادم آرائی اور افکار کی جنگ کا زمانہ ہے جہاں جذبات و احساسات کی کوئی قدر و قیمت نہیں جہاں آپ کے افکار و نظریات کی تب تک کوئی حیثیت ہی نہیں جب تک آپ اپنے معاشرے اور سماج میں ان افکار و نظریات کی پاسداری عمل آوری اور تحفظ کی طرف توجہ نہیں دیں گئے یہاں میڈیا سے لیکر نجی مجالس تک اسلامی شعائر پر ضربیں لگائی جاتی ہیں اور ہمارا مذہبی طبقہ ابھی جمود کا شکار ہے وہ نئی امنگوں اور نئی راہوں پر چلنے کے لیے یا تو آمادہ ہی نہیں ہے یا اس قدر بے بس  کہ وہ اسلامی علوم و نظریات کی ترویج کو پیش کرنے سے عاجز آچکا ہے اور شکست خوردہ ذہنیت کا غماز ایسے میں کیا کیا جاسکتا ہے ہماری پستیوں اور پسپائیوں کا حل یہی آج بھی ہے کہ شرح صدر اور پورے اخلاقی اقدار  کے ساتھ اپنی تہذیبی روایات اور سماجی افکار کی آبیاری کرنے کی راہ پر چل پڑیں اور فخریہ کہیں کہ ہم مسلمان ہے اور ہمارا تعلق اس نظریے سے ہے جس کی بنیاد الہی تعلیمات کے ساتھ موجود ہے پر اس کیلیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم نیم ملائیت کے خول سے آگئے بڑھ جائیں جو آج بھی ایسے مباحثے میں مصروف ہیں جن کا دین سے کم اور مسلکی افکار سے زیادہ تعلق ہے گر ان نیم خواندہ ارباب مناظرہ سے امت اپنی گردن آزاد کرتی ہے تو یہ ابتدائی سطح کی بہت بڑی کامیابی ہوگی دوسری بات کہ جاہل دانشوروں اور فرسودہ ذہنیت کے دانشوروں کے خول سے نکلنا ہوگا اور انہیں پیچھے دھکیل کر نئے جذبہ سے سرشار ہوکر چلنا ہوگا مغربی افکار سے مرعوب ذہنیت کے دانشور بھی سم قاتل ہیں یہ سب سمجھ جائیں ہم تو بہت حد تک تحفظ اسلامی علوم کی راہ بن سکتی ہے، ورنہ دو دن کے آنسو اور اچھل کود ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔

تبصرے بند ہیں۔