مسلم لڑکیوں کے عقید ہ و عفت پر حملہ اور ہماری ذمہ داریاں

مفتی نعمت اللہ ناظم قاسمی

’’اولاد‘‘ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، جس کی خواہش ہر انسان کو ہوتی ہے، انسانوں کی مقدس ترین ہستی انبیاء کرام نے بھی اس کی خواہش کی ہے، اور اولاد صالح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کی ہیں، اولاد ہی کے ذریعہ نسل انسان کا تسلسل قائم ہے اور اسی میں اس کے بقاء کا راز مضمر ہے، قرآن کریم نے انسان کے دلی کیفیت کے احساس کا اظہار کرتے ہوئے اسے وجہ زینت وسبب تفاخر بھی بتایاہے۔

   ظاہر ہے ’’اولاد‘‘ جتنی بڑی نعمت ہے، اس قدرا ہم ان کے تئیں والدین کی ذمہ داریاں بھی ہیں، کیوں کہ اولاد اگرصالح اور نیک نہ بن سکے تو پھر ایسی اولاد باعث رحمت نہیں بلکہ سبب زحمت بن جاتے ہیں، اس لیے قرآن وحدیث میں اولاد صالح کی دعاء کا حکم ملتا ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو واضح طور پر اولاد کی دینی تربیت کا حکم دیا ہے، ارشاد باری ہے:  یآیہا الذین آمنو اقواَنفسکم واہلیکم نارا(التحریم:۶)، کہ اے مسلمانوں تم اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ، اس آیت کی تفسیر میں تمام ہی مفسرین نے اپنی اولاد کی صحیح اسلامی تربیت کے حکم کو اس آیت سے ثابت کیاہے۔

     اہل علم بخوبی واقف ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے احادیث مبارکہ میں بچوں کی اسلامی تربیت کے واضح طریقہ کار سے ہمیں واقف کرایاہے، اور والدین پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ صحیح طور پر اسلامی آداب واحکام کابچوں کو شروع سے ہی پابند بنائیں تاکہ بڑے ہوکر ان پر عمل کرناان کے کے لیے آسان ہو، اس پس منظر پہ اگر ہم  غور کریں تو بہت سی مثالیں ہمیں حدیث پاک میں ملتی ہیں، چنانچہ سب سے پہلے مرحلہ میں  پیدائش کے بعد بچوں کے کان  میں اذان واقامت کے کلمات کاکہاجانا، پھر اچھے نام کی تلقین، عقیقہ کا انتظام، سات سال کی عمر سے نماز کی تربیت اور دس سال کی عمر میں بھی نماز نہ پڑھنے پر تادیب وسرزنش، ، ظاہر ہے کہ ان سب کا مقصد یہی ہے کہ بچوں اور بچیوں میں اسلامی شعور پیدا ہو اور وہ شرعی احکام کے مطابق اپنی زندگی گذارنے کے اہل ہوجائیں جس سے ان کی دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی کامیا ب ہوجائے۔

    اولاد کی تربیت میں سب سے پہلا مرحلہ بچوں میں اسلامی عقائد کی ترسیخ کا ہے، اسلام کا بنیادی عقیدہ، توحید، رسالت اور آخرت کاہے، اگر خدانخواستہ یہ بنیادی عقائد ہی متزلزل ہوگئے اورہم اپنے بچوں کی ایسی تربیت نہیں کرسکے جس سے ان کا ایمان محفوظ رہ سکے تو یقینا ہم خداکے سامنے جواب دہ ہوں گے۔

  عصر حاضرمیں اسلام مخالف طاقتیں اس بات کے لیے بہت سرگرم ہیں کہ امت مسلمہ کی نئی نسل سے اسلام کا صفایاکردیں، اور خاص طور پر ہندوستان  میں بہت سی تنظیمیں منظم اندازمیں اس جہت پر کام کررہی ہیں کہ مسلم لڑکیوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا جائے اور انہیں کفروشرک کی تاریکیوں  میں دھکیل دیاجائے، اور اسلام جیسی عظیم نعمت سے انہیں محروم کرکے ارتدادکے دلدل میں انہیں پھنسادیاجائے، پچھلے چند سالوں سے یہ کوشش بہت منظم انداز سے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں بھی چل رہی ہے اور بہت سی مسلم لڑکیاں اس گندے کھیل کا شکار ہوکر اپنی دنیا وآخرت برباد کررہی ہیں۔ آئے دن اخبارات میں ایسی خبر یں گردش کررہی ہیں جس میں مسلم لڑکی کسی غیر مسلم سے اسلامی احکام کو روندتے ہوئے کورٹ میں شادی کرلیتی ہے۔ اور پھر اپنا مذہب تبدیل کرکے اسلام کی نعمت کو ٹھکراکر کفر کی ذلت ورسوائی کو قبول کرلیتی ہیں،

                اللہ تعالیٰ نے مسلم والدین پر سب سے اہم ذمہ داری اپنے بچوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی  عائد ہے جیساکہ آیت کریمہ میں اوپر مذکور ہوا ہے، اس پس منظر پر ہمارا یہ بنیادی فریضہ ہے ہم اپنے بچوں بچیوں کے ایمان کی حفاظت اور کفر وشرک وارتداد کی کھائی میں گرنے سے پہلے ان کو بچائیں، ورنہ قیامت کے دن ہم بھی قصوروار قرار پائیں گے۔

                اگر ہم  جائزہ لیں اور ارتدادکی اس لہر کے اسباب پر غور کریں تو چند باتیں کھل کر ہمارے سامنے آتی ہیں، کہ جن کی وجہ سے آج ہماری لڑکیاں  اپنے ایمان وعقیدہ کا خطرناک  سودہ  بھی اپنے جذبات میں بہہ کر کرلیتی ہیں :

                ۱۔     ایمان کی کمزوری، خوف خداکی کمی، اور دینی آداب واحکام سے ناواقفیت

                ۲۔    گھروں میں دینی ماحول کا فقدان۔

                ۳۔    موبائل اور انٹر نیٹ کا بے جا استعمال

                ۴۔    اسکول، کالجوں کوچنگ سینٹر میں لڑکوں اورلڑکیوں کاباہمی اختلاط

                ۵۔    بے پردگی اور لباس کے سلسلہ میں اسلامی آداب کی عدم رعایت۔

                یہ وہ چند بنیادی اسباب ہیں جن میں ہماری کوتاہیوں نے آج ہمیں اس منزل پر کھڑا کردیاہے کہ جس کی وجہ سے ہماری لڑکیاں اسلام پر عمل تو درکنار خود اسلام سے ہی ہاتھ دھونے کے درپے ہیں، تو آئیے آج ہم یہ عہد کریں کہ :

 ۱۔            ہم مسلم قوم ہیں ہمارے لیے ایمان وعقیدہ سے بڑھ کر کوئی بھی چیز قیمتی نہیں ہے، ہم اپنی جان قربان دیں گے مگر اپنے عقیدہ کا لمحہ کے لیے بھی سودہ نہیں کریں گے۔

 ۲۔            اسلام ہی ایسا مذہب ہے جوہمارے لیے دنیا وآخرت کی کامیابی کاضامن ہے، اسلام کو چھوڑ کرہم دنیا وآخرت کی سعادت کو حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔

 ۳۔            ہم خود بھی دین اسلام کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنی اولاد کو بھی سمجھائیں۔

 ۴۔            خوف خدا، آخرت کا یقین ہم اپنی زندگی میں ہر لمحہ اپنے سامنے رکھیں اور بچوں کی بھی تربیت اسی نہج پر کریں۔

    ۵۔            خود بھی اپنے اندر دینی شعور پیدا کریں اور اپنے بچیوں میں بھی دینی شعور بیداراکریں، انہیں صحابہ وصحابیات کی جدو جہد سے واقف کرائیں۔

   ۶۔            ہم اپنے گھروں کو نماز، تلاوت قرآن اور ذکر الٰہی سے روشن کریں، اگر ہم نے یہ نہیں کیا تو پھر آہستہ آہستہ شرک وکفر کی نحوست وتاریکی ہمارے گھروں تک آجائے گی۔

  ۷۔            ہم اپنے بچوں، بچیوں کے دل میں اس بات کو مکمل طور پر راسخ کریں کہ ہم کسی بھی حال میں اپنے عقیدہ سے منحرف نہیں ہوں گے، او ر کسی بھی دنیاوی لالچ او رمفاد کے خاطر اسلام کا سودا نہیں کریں گے۔

  ۸۔            آج انٹرنیٹ او ر موبائل کی دنیا نے ہمارے گھروں میں بے حیائی، فکری ارتداد کا دروازہ کھول دیاہے، آئیں ہم عہد کریں کہ ضرورت کے مطابق ہی ہم موبائل اورانٹر نیٹ کا استعمال کریں اور اپنے بچوں اور بچیوں کو اگر موبائل کی ضرورت کے لیے دیں بھی تو اس پر مکمل نگاہ رکھیں اور ان کی ذہن سازی بھی کرتے رہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے، اس لیے رات کی تاریکی یا دن کی تنہائی میں وہ کوئی خلاف شریعت کام نہ کریں۔

 ۹۔            سوشل میڈیا، یوٹیوب، فیس بک وغیرہ تو آج ہمارے معاشرہ میں عام ہے، اگرہم نے اپنے نئی نسل میں اسلامی شعور بیدار نہیں کیا تو وہ اس جال میں پھنس کر کہاں چلے جائیں گے ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہیں، اس لیے سب سے اہم کام بچوں او ر بچیوں کو نگرانی اور انہیں آخرت کا خوف دلاناہے۔

   ۱۰۔         اسکولوں، کالجوں میں ہم ایسے اداروں کا انتخاب کریں جہاں پر لڑکیوں اور اورلڑکیوں کے لیے علاحدہ تعلیمی انتظام ہو ا، اسی طرح کوچنگ سینٹر اور امتحانات کی تیاری کے لیے قائم کردہ اداروں میں وہاں ہم اپنی لڑکیوں کو بھیجیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ پڑھائی کا انتظام ہو، نیز ان کی خبر گیری بھی کرتے رہیں اور انہیں ہمیشہ عفت وعصمت کی تعلیم اور اجنبی لڑکوں سے بات چیت سے بالکلیہ منع کرتے رہیں، نیز ان میں اللہ اوررسول اور آخرت کا خوف ہمیشہ پیدا کرتے رہیں،

 یاد رکھیں ایسی تعلیم اور ایسا ماحول جو اجنبی اور غیر مسلم لڑکوں سے مسلم لڑکیوں کے درمیان میں باہمی ربط  اور فتنہ  وفساد کا سبب بنے، اس سے وہ جہالت ہی زیادہ قابل قبول ہے، جہاں مسلم لڑکیاں اپنے دین وایمان اور اسلامی احکام پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوسکیں۔

    اگر ہم نے نوشتر دیوار کونہیں پڑھا اور اپنی لڑکیوں کی صحیح تعلیم وتربیت، ان کی ذہنی وفکری اسلامی نشو ونما کی ترقی نہیں کی تو یقین جانیں ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہوں گے اور رب کے دربارمیں اس سلسلہ میں ہم سے پوچھ گچھ ہوگی۔

  آج اسکول، کالجوں، بازاروں اور آفسوں میں مسلم لڑکیوں کو پیار ومحبت کے جال میں پھنسا کر ہند و لڑکے انہیں منظم سازش کے طور پر مرتد وکافر بنارہے ہیں، یہ منظم سازش ہے جس کا اظہار ہندوستان کی بعض فرقہ پرست طاقتوں اور قوتوں نے مختلف اخبارات میں کیاہے، بعض بے شعور اور اسلامی تہذیب وثقافت  سے عار ی مسلم لڑکیاں جذبات میں آکرغیر مسلم لڑکوں کے جال میں پھنس جاتی ہیں، بعض دفعہ چند پیسوں، نوکریوں کے لالچ  میں وہ ایسا کربیٹھتی ہیں اور غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرکے تا حیات زنا کاری میں ملوث رہتی ہیں کیوں کہ ایک مسلمان عورت کے لیے غیر مسلم سے شادی کرنے  کی اسلام میں بالکل ہی اجازت نہیں اور یہ کار حرام ہے۔

  ایسی لڑکی زنا کی جیسی حرام کاری  کے مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ایمان بھی گنوادیتی ہیں اور ہندورسم ورواج کے مطابق اپنی زندگی گذارنے کے لیے پیار کے جھوٹے نشہ میں تیار ہوجاتی ہیں، جس کا انجام آخرت میں بد سے بدتر  توہوگا ہی، دنیا میں بھی ایسے واقعات ہمارے سامنے پیش آتے ہیں جوہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں، نہ جانے دسیوں بھٹکی ہوئی  اس طرح کی لڑکیوں  نے  میڈیا کے سامنے آکر کھل اپنے ساتھ ان غیر مسلم لڑکوں کی ہوس پرستی، ظلم وزیادتی کی روداد کو بیان کیاہے، اور اس بات کو واضح کردیاہے کہ ان غیر مسلم لڑکوں کا صرف اور صرف مقصد وقتی طور پر جنسی تسکین اور مسلم لڑکیوں کے دین اسلام سے کھلوار کرکے  انہیں کافر ومشرک بنانا ہے۔

   ان حالات میں بھی اگر مسلم لڑکیاں ہوش کے ناخن نہ لیں، اور اپنے اندرتبدیلی  نہ پیداکریں، اسلامی احکام کے مطابق عفت وپاکدامنی، پردہ وحیاء کا دامن  نہ تھامیں  تو اس سے بڑی بے حسی او ر کیاہوگی؟

  ایسے موقع پر والدین، خاندان، مسلم معاشرہ کی ذمہ داریاں، بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں، کہ اجتماعی طورپر مسلم لڑکیوں کے ایمان واخلاق کی حفاظت کے لیے محلہ کی سطح پر کوشش کی جائے، ہر محلہ میں لڑکیوں اور عورتوں کے لیے دینی بیداری پروگرام چلایا جائے، اسلامی احکامات سے انہیں واقف کرایا جائے، اور ان کے اندر اسلامی غیرت کوبیدار کیا جائے، ان ہی مثبت کوششوں سے اس منظم سازش کا مقابلہ کیا جاسکتاہے۔ واللہ ہو الموفق والمعین۔

تبصرے بند ہیں۔