‘ نیند’: اللہ کی نعمت اور رحمت

حافظ محمد ہا شم قادری مصباحی

          اللہ رب العزت ساری کائنات کاپیدا فر مانے والا ہے۔ اپنی تمام مخلوق کو اُن کی ضرورتوں کے اعتبار سے نعمتیں عطا فر مائی ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 وَآتَاکُم مِّن کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوہُ وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَتَ اللّہِ لاَ تُحْصُوہَا إِنَّ الإِنسَانَ لَظَلُومٌ کَفَّا رٌ ۔ تر جمہ:اور اس نے تمہیں ہر وہ چیز عطا فرما دی جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو (تو) پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی ناشکرگزار ہے، ( القرآن،سورہ اِبرا ھیم:14آیت34)

 اللہ کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں میں”  نیند ” بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ،یقینا ”  نیند” اللہ کے فضل ورحمت کی کھلی نشا نیوں میں ہے۔صحت مند زندگی گزار نے کے لیے اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں ” نیند”   بھی ضروری ہے۔ ” نیند "پوری ہو نے سے انسان تازہ دم ہوجاتا ہے، اگر ” نیند "پوری نہیں ہوتی تو دماغ صحیح کام نہیں کرتا نہ ہی جسم۔

 وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتاً ۔  تر جمہ:اور ہم نے تمہاری نیند کو (جسمانی) راحت (کا سبب) بنایا (ہے)َ۔  انسان کو جب نعمتیں ملتی ہیںتو اس کی بے قدری کرنے لگتا ہے، جیسے آج کل دیر سے سونا اور صبح دیر سے اُٹھنا عام بات ہوگئی۔ انسان کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے،اِنہیں ضروری چیزوں میں” نیند”  بھی بہت ضروری ہے۔رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں ”  نیند”  کی اہمیت کو بتایاہے۔  وَہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ الرِّیَاحَ بُشْراً بَیْْنَ یَدَیْْ رَحْمَتِہِ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً طَہُوراً ۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پوشاک (کی طرح ڈھانک لینے والا) بنایا اور نیند کو (تمہارے لیے) آرام (کا باعث) بنایا اور دن کو (کام کاج کے لیے) اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا۔

اس آیت کریمہ میںاللہ تعالیٰ کی قدرت دلالت کرتی ہے اور اس آیت میں مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اِظہار ہے۔ آج ”  نیند ” کی اہمیت کا ذرا بھی احساس نہیں،ہم بے دردی سے اس کی بے قدری کر رہے ہیں، ” نیند”  اللہ کے فضل و رحمت ونعمت میں سے ہے جو اُس نے اپنی مخلوق کو عطا فر مایا نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی نصیحت ہے۔ نیند انسان کی دن بھر کی تھکن اور ذہنی پریشانی وکوفت(کبید گی خاطر، رنجید گی) کو راحت میں بدل دیتی ہے،اللہ اللہ اِس راحت بھرے احساس کو کون نہیں جانتا کون نہیں چاہتا۔ایک مسافر ”  نید” کے باعث سفر کی تھکا وٹ سے سکون پاتاہے اور مریض کو سونے سے چین ملتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

دن لہو میں کھونا تجھے، شب صبح تک سونا تجھے:

آج نوجوان نسل کے ساتھ بچے، بوڑھے بھی رات دیر سے سونے کے عادی ہوگئے ہیں،دیررات تک گھروں میں موبائل، ٹی وی میں لگے رہتے۔نوجوان نسل کلبوں ،محلہ کی چنڈال چوکڑی کی بیٹھک میں موج ومستی میں مگن رہتی ہے اور جورات سونے کے لیے رب تعالیٰ نے عظیم نعمت کے طور پر عطا کی ہے اُس کی قدر نہیں۔ ” نیند” بھر سونے سے بندہ اپنی تھکان اور ذہنی پریشانیوں سے نجات پاتا ہے اور پھر دوبارَہ چاک وچوبند ہوجاتا ہے قر آن مجید اور احادیث پاک میں جابجا اس کا ذکر موجود ہے۔ بد قسمتی سے آج کل ہمارے معاشرے میں رات جیسی قیمتی نعمت کی بے قدری عام بات ہے۔رات دیر تک جاگنے اور پھر دوپہر تک سونے کا معمول عام ہو گیا ہے۔ جوکہ بے شمار نقصانات کا باعث ہے،شرعی لحاظ سے بھی نقصان دہ ہے،اور زندگی کے ہر شعبے پر اس کا  بُرااثر ہو رہا ہے۔طبی لحاظ سے اس کے بہت نقصانات ہیں لمبی فہرست ہے اگر آپ صحت مند زندگی گزار نے کی خواہش رکھتے ہیں تو رات کی قیمت کو ملحوظِ خاطر رکھیں ،رات کو تمام کام سے جلد فارغ ہو جائیں دینی مشاغل نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر جلد سوجائیے کہ رات کا آرام دن کے آرام کے مقابلے میں سیکڑوں گُنا بہتر اور صحت بخش ہے اور عینِ فطرت nature  بھی ہے ۔

 وَمِن رَّحْمَتِہِ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِہِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ۔ترجمہ: اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور (دن میں) اس کا فضل (روزی) تلاش کرسکو اور تاکہ تم شکر گزار بنو، (القرآن سورہ القصص،:28 آیت73)

وَمِن رَّحْمَتِہِ جَعَلَ لَکُمُ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ : (اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے۔) ارشاد فر مایا کہ اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اوردن بنائے تاکہ تم رات میں آرام کرو،اپنے بدنوں کو راحت پہنچائو اور دن بھر کی محنت ومشقت سے ہونے والی تھکن دور کرو اور دن میں روزی تلاش کرو جو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔

دیر تک سونے کی نحوستیں:

نظامِ قدرت کے خلاف کوئی عمل اور حکمِ خدا کی پامالی پر کوئی فلاح (سرفرازی، سُرخروئی بھلائی، بہتری) نہیں پا سکتا دیر تک سونے کی نحوستیں اُسے گھیر لیتی ہیں چہرے کا نور ختم ہوجاتا ہے، رزق میں کمی واقع ہو جاتی ہے برکتیں چھین لی جاتی ہیں۔پھر مولانا صاحب، امام صاحب مسجدوں میں دعائوں کی درخواست کی پر چیاں،تعویذگنڈے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔جو عمل خود کرنا ہے وہ کرتے نہیں اُس کی بھر پائی کے لیے دوسری جانب دوڑتے ہیں اسی لیے حضرت مولانا احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں

  دن لہو میں کھونا تجھے، صبح تک سونا تجھے

شرمِ نبی خو فِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

           دیر تک سونے کی نحوست یہ بھی کہ سو نے والے کو ”  نیند  "سے جو راحت و سکون ملتا ہے وہ اُسے نصیب نہیں ہوتا!۔ پورے دن سستی، ” نیند ” کا خمار،کاہلی کا خمار اُس پر چڑھا رہتا ہے، اوراس کی وجہ سے ہر کام متاثر ہوتا ہے خواہ اسے سفر پر جانا ہو،اسکول جانا ہو یا آفس جا ناہو سب کام متاثر ہوتا ہے اور جو اس کا عادی ہوجائے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کی کاہلی سستی والا شخص زندگی کے میدان میں کتنا کامیاب ہو گا۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:  یُسَبِّحُونَ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ لَا یَفْتُرُونَ ۔ تر جمہ:وہ رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور معمولی سی بھی سستی نہیں کرتے۔(القرآن،سورہ،الانبیا:21 آیت20)

         یعنی فرشتے ہروقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور اس میں وہ کسی طرح کی سستی نہیں کرتے ہیں۔(تفسیر خازن:ص،273 ج:3) انسانوں کے علاوہ تمام مخلوق اس کے بنائے ہوئے نظام پر چل رہے ہیں۔سوا انسان کے جو اُس کی نافر مانی اور نظام قدرت کے خلاف چلتا ہے اور ڈِھٹائی بھی کر تا ہے،استغفر!اللہ استغفراللہ!اللہ خیر فر مائے معاف فر مائے آمین۔

محنت سے بھاگنا! آرام پسندی زہرِ ہلاہل:

کاہلی اور آرام پسندی مسلمانوں میں سرایت کر گئی ہے،اس کی بہت سی صورتیں ہیں کیا کیا لکھی جائیں؟ کاہلی انسان کو بہت نقصان پہنچاتی ہے،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کاہل انسان وقت کی قدرو قیمت نہیں سمجھتا،وقت کو برباد کرتا ہے،اب کر لیں گے تب کر لیں گے۔ وغیرہ وغیرہ کاہل شخص دل ودماغ کا کمزور ہوتا ہے،کم ہمت ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کوئی کام وقت پر نہیں کرتا،جوکام وقت پر نہیں ہوگا اُس کام میں ضرور کوئی کمی رہ جاتی ہے۔ دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقتtime, ہے اور جس نے وقت کی قدر نہیں کی اس نے اپنی زندگی کی قدر نہیں کی!۔ مشہور قول ہے کہ’’ گیا وقت پھر واپس نہیں آتا‘‘ لیکن یہ بات کاہل انسان کو سمجھ میں نہیں آتی۔ ہمیں چاہیے کہ دیر تک سوکر اپنے قیمتی وقت کو برباد نہ کریں، کسی نہ کسی بات کی فکر اور کام کی کوشش میں رہنا ضروری ہے۔اپنی قوم کی بہتری کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے۔ بیکار مباش کچھ کیا کر- گر کر نہ سکے تو کچھ کہا کر۔   ؎ ٹلنا تھا میرے پاس سے اے کاہلی٭ کمبخت تو  تو آکے یہیں ڈھیر ہو گئی۔اللہ ہمیں  ” نیند” کی قدرو قیمت سمجھنے،دیر تک سونے کے نقصانات کو سمجھ کر اس سے بچنے کی تو فیق عطا فر اما ئے؛

تبصرے بند ہیں۔