پردہ کی اہمیت وفضیلت: قرآن وحدیث کی روشنی میں

نرگس خان رضویہ

(سیوان،بہار)

بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جب کہ ظلم وستم عروج پر تھا، انسان تھے، انسانیت نہیں تھی، نوشت وخواند سے معرا عرب ماحول میں بےحیائی اور بدکاری کوئی ننگ وعار کی بات نہ تھی، خواتین فحاشی و عریانیت کے سیلاب میں بہتی جارہی تھیں۔ عورت شہوت کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی، بدکاری اور بے پردگی اپنے شباب کی حدیں پار کرچکی تھی۔ عورتیں اپنے جسم کا نشیب و فراز ظاہر کرکے بازاروں اور گلی کوچوں میں پھرا کرتی تھیں، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ اسلام نے اسی عریانی وفحاشی پر حرمت کی ایسی میخیں گاڑدی کہ دنیا کی کوئی طاقت ان میخوں کو اکھاڑ نہیں سکتی۔

چناں چہ باری تعالیٰ پردہ کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:”اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اوربے پردہ نہ ہو، جیسے اگلی جاہلیت کی بےپردگی”(کنزالایمان، الاحزاب،۳۳)

امام بغوی علیہ الرحمہ  اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ” نمرود کے زمانے میں عورتیں موتی دار چادریں اوڑھتی تھیں، اور بیچ سڑک پر چلتی تھیں اور اس سے(مردوں)کو لبھاتی تھیں۔ "اگر ہم مذکورہ آیت کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام نے صنف نازک کو قید وبند میں نہیں رکھا ہے بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ بلاضرورت گھر سے نہ نکلیں، اور جب ضرورت کے تحت نکلیں تو پردے کا اہتمام کریں تاکہ نگاہ ودل کی حفاظت ہوسکیں اور فاسقین کی بدنگاہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اسی طرح دوسری جگہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے:”اے نبی!اپنی بیویوں،صاحبزادیوں اورمسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں،یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ اس کی پہچان ہو، تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔”(کنزالایمان،الاحزاب:۵۹)

اسلام تو اتنا پاکیزہ اور صاف ستھرا مذہب کہ یہ اپنے ماننے والوں کو نظر تک نیچے رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے:”مسلمان مردوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے، بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے، اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ظاہر ہو اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر الخ”(کنزالایمان، النور)

مذکورہ آیت اس امر کی نشاندہی کررہی ہے کہ بدنگاہی اور بدنظری ہی زناکی پہلی سیڑھی ہے۔ اسی کی بدولت فحش کاریوں کے دروازے کھلے چلے جاتے ہیں، بدنگاہی اور بےپردگی کے سبب اپنی دنیا وآخرت دونوں اکارت کرلیتے ہیں۔اسی بدکاری کی روک تھام کے لیے قرآن کریم نے بدنظری پر حرمت کی مہر لگادی۔

اسی طرح حجاب کی اہمیت وافادیت پر بے شمار احادیث کریمہ موجود ہیں۔ چناں چہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ عنہا باریک دوپٹہ اوڑھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے ان کے دوپٹہ کو چاک کردیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ "نور”میں کیا فرمایا ہے اور اس تنبیہ کے بعد ایک دبیز چادر منگواکر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو عنایت فرمائی۔

اسی طرح ایک دفعہ حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سید عالم نور مجسم صلی الله عليه وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھیں کہ حضرت عبد الرحمن ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا آگئے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ کا حکم دیا تو انھوں نے کہا وہ تو نابینا ہیں، (یعنی وہ نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ پہچان سکتے ہیں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم تو نابینا نہیں ہونا۔(ترمذی شریف)

اسی طرح پردے کی اہمیت پر ایک روایت "ابوداؤد شریف”میں یوں مذکور ہے۔ جس سے اسلامی خواتین کا پردے سے متعلق اہتمام کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ چناں چہ حضرت ام خلاد رضی اللہ تعالیٰ عنہا (جن کا بیٹا جنگ میں شہید ہو گیا تھا)آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے شہید بیٹے کی خبر لینے کے لیے چہرے پر نقاب ڈالے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں، وہاں کسی نے حیرت سے پوچھا! آپ نے ابھی بھی نقاب ڈال رکھا ہے! تو حضرت خلاد نے کہا:میں نے بیٹا ضرور کھویا ہے لیکن حیا نہیں کھوئی ہے۔

مذکورہ احادیث کریمہ سے پردہ کی اہمیت و افادیت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حجاب خواتین کے لیے کس حد تک ضروری ہے، بلکہ ایک صالح اور مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے پردے کا ماحول از حد ضروری ہے۔ یہ پردہ اور حیاہی انسان کو معزز بناتا ہے، ان کا فقدان عزت وعظمت کا کچومر نکال دیتاہے۔ اور آج کے اس پر فتن دور میں مغربی تہذیب و تمدن نے نازوانداز اور لباس ایسے گھناؤنے وضع کیا ہے کہ لباس کا مقصد ہی فوت ہوکر رہ گیا ہے۔ بہت سی خواتین لباس پہن کر بھی ننگی معلوم ہوتی ہیں۔ آج جس قدر برائیوں، معاشرتی خرابیوں اور بدکاریوں کے سیاہ بادل معاشرہ انسانی اور تمدنی زندگی چھائے ہوئے ہیں یہ سب بے پردگی اور فیشن زدہ عریانی کی دین ہے۔مسلمانوں کی پستی اور تنزلی کے اسباب میں سے ایک سبب مسلم خواتین کا فحاشی و عریانی کو رواج دینا ہے۔

چناں چہ ایک مشہور مؤرخ آرنلڈ ٹوئمبی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ انسانی  معاشروں کی تباہی میں عورت کا آزادانہ رویہ اور بے پردگی کو بڑا دخل ہے۔(عورت اور پردہ) مؤرخ موصوف نے عالمی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد اس راے کا اظہار کیا ہے، اس لیے اس کو کسی تعصب یا تنگ دلی پر محمول نہیں کیاجانا چاہیے بلکہ اس تاریخی حقیقت پر ٹھنڈے دل سے غور و فکرکرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے معاشرے کی بنیاد پاکیزگی پر رکھی ہے۔

لیکن  افسوس صد افسوس! آج کے اس پرفتن دور میں مسلم عورتوں کی فحاشی وعریانیت قابل بیان نہیں ہے۔ بن سنور کر نکلنا، لباس وانداز سے بے خیالی کا مظاہرہ کرنا، مصنوعی خوشبوؤں کی دبیز پردوں میں فحاشی کا تعفن پھیلانا، فیشن ایبل انگریزی وضع کے چست وباریک لباس پہن کر گلیوں، کلبوں، بازاروں، ہوٹلوں، پارکوں، اسکولوں اور کالجوں میں آزاد وبے حجاب غیر محرموں کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر گردوپیش سے بے خبر نہ شرمِ نبی نہ خوفِ خدا،بلکہ اس فیشن زدہ عریانیت کو عروج و ارتقا کا نام دیا جارہا ہے جب کہ اس انسانیت سوز بے پردگی نے انسانی وقار پر ایسا شب خون مارا ہے کہ عفت وپاکدامنی جیسے الفاظ بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن عصمت دری کے دلخراش وکربناک واقعات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ ایک امریکی محقق کی تحقیق کے مطابق( امریکہ جسے ترقی یافتہ ملک گرداناجاتا ہے)ہرپانچ منٹ کے بعد ایک عورت کا دامن عصمت تارتار کیا جاتا ہے یعنی چوبیس گھنٹے میں عصمت دری کے ۲۸۸حادثات رونما ہوتے ہیں۔ بنت حوا کی عزت داغدار کی جاتی ہے۔

میں اذعان کے ساتھ کہہ رہی ہوں کہ آج کے اس پرفتن دور میں اسلامی طرز زندگی اپنالی جائے، ستر وحجاب کا ایسا التزام کیا جائے جیسا اسلام کا نظریہ ہے تو آج بھی خواتین کی عزت وآبرو پامال ہونے بچ سکتی ہے، کیوں کہ جب بنت حوا شرم حیا کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کرلیں گی تو ان کی عفت وپارسائی پر بدنگاہی کی سیاہی نہیں پوت سکتی ہے۔

لیکن فی الوقت تو طاغوتی طاقتیں عورتوں کے سروں سے چادر اتارکر انھیں بے حجاب کرنے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں۔ ستر وحجاب پہ پابندی لگاکر انھیں عریانیت کے دلدل میں ڈھکیلنے کی ناپاک سازشیں رچائی جارہی ہیں۔ مخالفین ستر وحجاب پر کچوکے لگارہے ہیں۔ حجاب سے متعلق کرناٹک کے کوٹ کافیصلہ اس کی واضح مثال ہے۔ لیکن یاد رکھنا جو حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی حقیقی کنیز ہوگی اسے دنیا کی کوئی طاقت ہے پردہ نہیں کر سکتی، بلکہ پردے کی بنیاد پر اس کا مقام ومرتبہ بلند ہوجائے گا۔ مسکان نامی لڑکی اس کی واضح مثال ہے کہ اپنی عفت وپارسائی کی چادر اوڑھ کر شرپسندوں کو للکارتے ہوئے اللہ اکبر کی صدا بلند کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کا مقام ومرتبہ اتنا بلندوبالا فرمادیا کہ اکثر محافل میں ان کا ذکر خیر کیا جاتا ہے، اس لیے شرپسندوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ کفروشرک کی چھاتی پر چڑھ کر شرم وحیا کی تلوار سے اس کا گلاگھونٹنا ہے۔ تاکہ پھر اسلامی اصول قوانین کیچڑ اچھالنے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑے۔

باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں پردہ کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

تبصرے بند ہیں۔