کورونا کے ماحول میں قربانی کے مسائل

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

                کورونا کی وبا نے دینی شعائر اور معمولات پر عمل میں طرح طرح کی دشواریاں پیدا کر دی ہیں اور ایسے مسائل کھڑے کر دیے ہیں جن کا کوئی معقول حل سجھائی نہیں دیتا۔ اس صورت حال میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہو رہے ہیں ، جن کے مختلف    جوابات دیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ عوام کنفیوژن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ نئے پیش آمدہ مسائل کو دین کی بنیادی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں حل کیا جائے۔

                 ہر سال قربانی کا زمانہ آنے سے کچھ عرصہ پہلے بعض حضرات کی طرف سے ایسی باتیں کی جاتی ہیں جن سے قربانی کا عمل ہی لایعنی اور بے مصرف ٹھہرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حج کے موقع پر حاجی بڑے پیمانے پر قربانی کرتے ہیں اور عید الاضحٰی کی مناسبت سے غیر حاجی بھی قربانی کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس طرح لاکھوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ جانوروں کے قتل میں جو بے رحمی اور وحشیانہ پن پایا جاتا ہے اسے نظر انداز کر دیا جائے تو بھی گوشت بہت بڑی مقدار میںضائع ہوتا ہے اور لذّتِ کام و دہن کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ قربانی میں صرف ہونے والے اربوں روپے رفاہی کاموں میں خرچ کیے جائیں،اسپتال کھولے جائیں اور علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جائیں،اسکول اور کالج کھولے جائیں اوراعلیٰ کورسز میںداخلہ کے لیے معیاری کوچنگ سینٹرز قائم کیے جائیں ،تاکہ اس سے ہزاروں لاکھوں غریب انسانوں کا بھلا ہو اور تعلیمی اور معاشی میدانوں میں وہ ترقی کرسکیں؟ اب اسی طرح کے سوالات کورونا اور لاک ڈاؤن کے پس منظر میں کیے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کئی مہینے کے لاک ڈاؤن نے ملکی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ لاکھوں انسانوں کے روز گار ختم ہوگئے ہیں اور وہ بھکمری کا شکار ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کی مالی امداد کی جائے اوران کی بنیادی ضروریات پوری کی جائیں۔ کیا امسال قربانی نہ کرکے انسانی بنیاد پر ان غریبوں کی مدد نہیں کی جاسکتی؟

                 غریبوں کا تذکرہ اور رفاہی کاموں کی تلقین اس انداز میں کی جاتی ہے کہ لگتا ہے، قربانی کو موقوف کیے بغیر غریبوں کی کچھ بھی امداد نہیں کی جاسکتی، حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کرکے بھی غریب انسانوں کی امداد ہوسکتی ہے اور ان کی ضرورتیں پوری  کی جاسکتی ہیں۔ کتنے مال دار اور صاحبِ حیثیت لوگ ہیں جو عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی کرتے ہیں اور پورے سال بڑھ چڑھ کر غریبوں کی مدد بھی کرتے ہیںاور کتنے مال دار اور صاحبِ حیثیت لوگ ایسے ہیں جو مال و دولت کی حرص اور بخل کی وجہ سے نہ قربانی کرتے ہیں اور نہ کبھی غریبوں پر پھوٹی کوڑی خرچ کرتے ہیں۔ اس لیے قربانی کی عبادت کو موقوف کرکے غریبوں کی امداد کی بات کرنا دانش مندی نہیں ہے۔

                 دینی اعتبار سے دیکھا جائے تو قربانی مسلمانوں کا ایک شعار ہے۔ اس کاثبوت قرآن و سنت سے ملتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کا تاکیدی حکم دیا ہے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ دس برس برابر قربانی کرتے رہے۔ اس لیے شرعی طور پر قربانی کرنا ہر صاحبِ حیثیت مسلمان کے لیے واجب ہے۔ کوئی عمل قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا۔ ایامِ قربانی میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جانور کی قربانی سے زیادہ محبوب عمل اور کوئی عمل نہیں۔ دین میں جس عمل کا جیسے حکم دیا گیا ہے اس پر جوں کا توں عمل مطلوب ہے۔ کسی اور شکل میں اس کی انجام دہی کی اجازت نہیں ہے۔

                 قربانی کے عمل کو موقوف کرنے کی بات کرنا غریبوں کے ساتھ ہم دردی نہیں ہے، بلکہ دیکھا جائے تو یہ غریبوں کے حقوق کی پامالی ہے۔ قربانی کے ساتھ ہزاروں غریبوں کا کاروبار وابستہ ہے۔ وہ پورے سال جانوروں کی پرورش کرتے ہیں اور قربانی کے موقع پر اچھے داموں میں انہیں فروخت کرتے ہیں۔ جانوروں کو ذبح کرنے کے لیے قصائیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں،چنانچہ وہ ذبح کرکے اچھے پیسے کماتے ہیں۔ چرم قربانی کی خاصی بڑی مارکیٹ ہے، جسے ایک سازش کے تحت گزشتہ چند برسوں سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خلاصہ یہ کہ قربانی سے ہزاروں غریبوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔

کورونا کی شدّت اور خطرناکی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس کا مقابلہ صرف یوں ممکن ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے، اور صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی جائے۔  قربانی کی صورت میں جانوروں کو ذبح کرنے سے قبل انہیں باندھنے رکھنے میں اور ذبح کرنے کے بعد ان کی آلائشیں ٹھکانے لگانے میں بڑی زحمتیں پیش آتی ہیں اور گندگی ہوتی ہے۔  کیا کورونا سے تحفظ کے پیش نظر ایسا نہیں کیا جاسکتا کہ قربانی نہ کی جائے اور اس کے بہ قدر رقم کا صدقہ کردیا جائے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا