کیا قرآن کا واقعہ ہامان بائبل سے لیا گیا ہے؟

احیدحسن

مغربی مستشرقین و ملحدین کہتے ہیں کہ ہامان کا نام قدیم مصری تاریخ میں موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ بات مکمل غلط اور جھوٹ پہ مبنی ہے۔ ہم پچھلے مضمون میں ثابت کر چکے ہیں کہ قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان تاریخ کی فرضی شخصیت نہیں بلکہ حقیقی شخصیت ہے۔ لیکن اپنی ضد پہ قائم رہتے ہوئے اور ہامان کی تاریخی حقیقت اور اس حوالے سے سب تاریخی دلائل نظر انداز کرتے ہوئے ملحدین کہتے ہیں کہ قرآن کا واقعہ ہامان نعوذ بااللہ بائبل کی کتاب ایستھر( Book Of Esther) سے لیا گیا ہے جو کہ فرعون موسی رعمسس دوم کے ایک ہزار سال بعد لکھی گئی ہے۔ مستشرقین و ملحدین کے نزدیک ہامان ایک مصری نام نہیں بلکہ بابلی نام ہے۔ یہ بات بھی جھوٹ اور بالکل غلط ہے۔ پچھلے مضمون میں ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ہامان کا نام قدیم مصری تاریخ کی دریافت ہونے والی کئ تحریروں میں موجود ہے۔ لہذا اس نام کے مصری نام ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

بائبل کی کتاب ایستھر کے مطابق ہامان مصری نہیں تھا بلکہ ایرانی بادشاہ کا ایک وزیر تھا جس کا اصل نام آیگا گائیٹ ہامان( Haman The Agagite) تھا۔ اس کے مطابق یہ ایران کے بادشاہ آہاسوئیرس( Ahasareus) کا وزیر اور مشیر تھا۔ اس کے مطابق یہ ہامان یہودیوں کا دشمن تھا۔ اس فرضی ایرانی  ہامان کو بنیاد بناتے ہوئے اور قدیم مصری تحریروں سے ثابت شدہ اصل مصری ہامان کا انکار کرتے ہوئے ملحدین و مستشرقین نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ نعوذ بااللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  شَنار کے ایک قَدیم شہَر بابُل کے برج بابل( The Tower Of Babel)  کی یہودی کہانی اور بائبل کی کتاب ایستھر کی کہانی کو ملا کر نعوذ بااللہ قرآن کا واقعہ ہامان گھڑ لیا۔ آرتھر جیفری کے مطابق ہامان کا قرآن میں قارون کے ساتھ مذکور ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآنی مصری  ہامان بائبل میں مذکور ایرانی ہامان سے اخذ کیا گیا۔ سلور سٹائین کے مطابق قرآن کے نزدیک ہامان اور قارون ہم عصر ہیں۔ اگرچہ قرآن مجید میں ہامان اور قارون کا تذکرہ ایک ساتھ کیا گیا ہے لیکن ایک ساتھ دو افراد کے تذکرے سے دنیا کی کسی کہانی یا کتاب پہ یہ الزام عائد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دو افراد اس کتاب کے نزدیک ہم عصر یعنی ایک ہی زمانے کےہیں۔ اسی طرح قرآن نے ہامان اور قارون کا ایک ساتھ تذکرہ کیا لیکن کہیں پہ نہیں کہا کہ ہامان اور قارون ہم عصر ہیں۔

ملحدین و مستشرقین کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں بیان کردہ مصری ہامان نعوذ بااللہ بائبل کی کتاب ایستھر میں مذکور ایرانی ہامان سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہاں ہم ایک سوال اٹھائیں گے۔ کیا تاریخ میں دو مختلف وقتوں میں موجود ایک ہی نام کے دو افراد کیا لازمی طور پہ ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں ؟ کیا محض نام مشترک ہونے سے یہ بات ثبوت کے درجے میں کی جا سکتی ہے کہ ایک سے منسلک واقعہ لازمی طور پہ دوسرے سے منسلک واقعے سے اخذ کیا گیا ہے؟

ملحدین و مستشرقین سوچتے ہیں کہ بائبل کی کتاب ایستھر ایک مستند کتاب ہے اور ہامان فرعون کا وزیر نہیں بلکہ ایران کے بادشاہ آہاسوئیرس کا وزیر ہے۔ لیکن جس کتاب سے مستشرقین و ملحدین قرآن کو یہ واقعہ اخذ کرنے کا الزام دیتے ہیں وہ کتاب خود تاریخی طور پہ ناقابل اعتبار اور بالکل غیر مستند ہے اور یہاں تک کہ اس بات پہ کئ مغربی مورخین متفق ہیں۔ ہارورڈ ڈوائینیٹی سکول میں یہودی مطالعہ جات کے پروفیسر جان لیونسن البرٹ اے کے مطابق

“بائبل کی کتاب ایستھر کے ساتھ تاریخی مسائل اتنے زیادہ ہیں اس کو تاریخی طور پہ قابل اعتماد سمجھنا ہر اس شخص کے لیے مشکل ہے جو اسے ( یہودی و عیسائی) مذہبی جانبداری سے بالاتر ہوکر پڑھے۔ “

یونیورسٹی آف وسکانسن میڈی سن کے عبرانی مطالعہ جات کے  پروفیسر یعنی پروفیسر آف ہربریو مائکل فاکس کے مطابق  جنہوں نے مصری ادب اور اس کے بائبلی ادب سے تعلق میں بھی تخصص یعنی اسپیشلائزیشن کر رکھی ہے، بائبل کی کتاب ایستھر کے بارے میں کہتے ہیں

“اس کتاب کی کئی افسانوی خصوصیات، غلطیوں اور غیر معقولیت کی وجہ سے اس کتاب کی تاریخی حیثیت بہت مشکوک ہے اور اس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کتاب کا مصنف ایک نامکمل یاد ماضی کا تذکرہ کر رہا ہے۔ “

جیوش یعنی یہودی سٹڈی بائبل کے ایڈیٹرز میں سے ایک ایڈیلی برلن نے کہا

“بیسویں صدی کے بہت کم اہل علم بائبل کی کتاب ایستھر کی تاریخی سند پہ یقین رکھتے تھے لیکن ساتھ ہی اس کو درست قرار دینے کی کوشش کرتے رہے۔ 1908ء میں لیوس بیلز پیٹن نے اس کتاب کے حق میں اور اس کے خلاف چودہ صفحات پہ مشتمل ایک مضمون لکھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کتاب تاریخی طور پہ غیر مستند ہے۔ 1971ء میں کاری اے مور نے اس پہ گیارہ صفحات لکھے اور اس نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا۔ “

لہذا اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بائبل کی کتاب ایستھر جس کو مستند مان کر مستشرقین و ملحدین قرآن کو اس سے واقعہ ہامان نقل کرنے کا الزام دیتے ہیں، وہ کتاب خود ناقابل اعتماد اور تاریخی طور پہ غیر مستند ہے۔ لہذا اب کس طرح اس کتاب میں مذکور ایک فرضی ایرانی ہامان پہ یقین رکھتے ہوئے قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان کا انکار کر سکتے ہیں جسے تاریخ ثابت کر چکی ہے۔ چونکہ کتاب ایستھر تاریخی طور پہ غیر مستند ہے لہذا اس میں موجود ایرانی ہامان کو کسی صورت تاریخی اور حقیقی ہامان نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ قرآن مجید میں بیان کردہ مصری ہامان قدیم مصری زبان اور تاریخ سے ثابت جب کہ یہ ایرانی ہامان بالکل غیر تصدیق شدہ اور ایک غیر مستند تاریخی کتاب ایستھر سے مذکور ہے۔ لہذا اس ایرانی ہامان کو بنیاد بنا کر قرآن مجید میں بیان کردہ مصری ہامان کا کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایک ہی وقت یا مختلف وقتوں میں مختلف علاقوں میں ایک ہی نام کے کئی افراد موجود ہوسکتے ہیں اور یہ وہ حقیقت ہے جس کو اعتراض کرنے والے قرآن کے تعصب میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔  دوسری بات یہ کہ قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان ایران سے تعلق رکھتا تھا۔ لہذا جب قرآن نے یہ کہا ہی نہیں تو پھر کس طرح قرآن مجید میں بیان کردہ مصری ہامان کو زبردستی ایرانی ہامان قرار دے کر قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ لہذا قرآن پہ ملحدین و مستشرقین کا یہ الزام بالکل غلط اور جھوٹ پہ مبنی ہے۔ مزید یہ کہ بائبل کے فرضی ایرانی ہامان اور قرآن مجید میں بیان کردہ مصری ہامان میں بہت فرق ہے۔ بائبل میں مذکور فرضی ایرانی ہامان مصر سے ایک ہزار میل دور اور فرعون کے دور سے ایک ہزار سال بعد کا ہے اور کتاب ایستھر میں مذکور کسی بھی شخصیت یا واقعہ کا ذکر قرآن مجید میں نہیں۔ لہذا قرآن مجید پہ کتاب ایستھر سے چوری کا الزام بالکل غلط ہے۔ بائبل نے فرعون کے مشیروں کا تذکرہ کیا ہے لیکن اس نے کہیں فرعون کے اس خاص مشیر کا تذکرہ نہیں کیا جس کا نام ہامان تھا اور جسے آج قدیم مصری زبان اور تاریخ ثابت کر چکی ہے۔ اس کی جگہ بائبل نے ایرانی بادشاہ آہا سوئیرس کے دربار سے منسلک ایک ایسے فرضی ایرانی ہامان کا تذکرہ کیا جسے تاریخ غلط اور فرضی ثابت کر چکی ہے۔ لہذا قرآن کا بیان تاریخی طور پہ زیادہ مستند اور قابل اعتماد ہے۔

بائبل کی کتاب ایستھر اور بائبل میں مذکور فرعون کے واقعہ کا آپس میں کچھ تعلق ہے اور فرعون سے منسوب کچھ واقعات کو بائبل نے ایرانی بادشاہ آہا سوئیرس کے دربار سے منسوب کرنے کی تاریخی غلطی کی جسے قرآن نے اپنے نازل ہونے کے بعد درست کیا اور بائبل کی غلطیوں کی نشاندہی کی جو نازل شدہ بائبل میں یہودی اور عیسائی ربیوں نے کردی تھیں اور تاریخ یہ بات ثابت کر چکی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بائبل کی کتاب ایستھر کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہ چوتھی صدی قبل مسیح سے تیسری صدی قبل مسیح کے درمیان لکھی گئی۔ آج یہ  تین مختلف عبارتی صورتوں میں میسر ہے جو کہ Hebrew Masoretic Text Or MT,Greek LXX OR B-Text,Second Greek Text or A-Text ہیں۔ موجود قدیم ترین نسخہ جو کتاب ایستھر کی  کسی صورت کی تصدیق یا تردید کرنے کے لیے استمعال ہوتا ہے وہ ایک درخت کی چھال پہ لکھا ہوا یونانی نسخہ ہے جو ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے مطابق پہلی یا دوسری صدی عیسوی کا ہے اور آج موجود کتاب ایستھر کے بی ٹیسٹ کے عمومی طور پہ مطابق ہے۔
بائبلی تلمود کے ساتھ کتاب ایستھر کی پہلی تفسیر اور ترجمے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اسلام سے پہلے کی ہے جب کہ جدید مورخین ثابت کر چکے ہیں کہ یہ جلد سے جلد بھی اگر تصور کیا جائے تو ساتویں یا آٹھویں صدی عیسوی کی ہے لہذا کس طرح کیا جا سکتا ہے کہ قرآن نے اس سے ہامان کا واقعہ نقل کیا جب کہ خود یہ کتاب مورخین کے نزدیک اسلام کی آمد کے بعد کی ہے(Esther”, The Jewish Encyclopedia, 1905, Volume V, Funk & Wagnalls Company, p. 234; “Targum Sheni”, Encyclopaedia Judaica (CD-ROM Edition), 1997, Judaica Multimedia (Israel) Limited۔

کتاب ایستھر کے ابتدائی ترین ترجموں میں سے ایک کیمبرج گینیزہ مجموعے میں پایا گیا اور یہ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے مطابق دسویں سے گیارہویں صدی عیسوی کا ہے جب کہ اس کا کوئی یونانی یا عربی نسخہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں میسر نہیں تھا کیونکہ قرآن کی سورہ القصص جس میں ہامان کا بیان ہے، وہ مکی سورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح ایک کتاب سے یہ واقعہ نقل کر سکتے تھے جب کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یونانی یا عبرانی زبان جانتے تھے اور نہ ہی اس کا کوئی عربی یا یونانی نسخہ مکہ میں موجود تھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبرانی زبان جانتے تھے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی یہودی یا عیسائی سے اس کی تعلیم حاصل کی۔ اور دوسری طرف ہامان کا تذکرہ کتاب ایستھر کے جن ترجموں سے ثابت ہے وہ سارے کے سارے اسلام کے بعد کے ہیں جب کہ قرآن پہلے ہی نازل ہوچکا تھا اور پہلے کی اصل کتاب ایستھر میں اس بات کی تصدیق ہی نہیں ہے کہ اس میں کسی ہامان کا تذکرہ موجود تھا۔ لہذا تاریخ کو نظر انداز کرکے ذاتی قیاس آرائیوں کی بنیاد پہ ملحدین کیسے کہ سکتے ہیں کہ قرآن نے یہ واقعہ نعوذ بااللہ کتاب ایستھر سے لیا۔

ایرانی ہامان اور اس کے والد کا نام قدیم ایران میں ہونے والی متھریک عبادت اور اس سے منسلک مقدس مشروب ہواما  اور قدیم ایرانی دیوتا ہمان اور ایرانی ہمایوں سے بھی منسوب کیا گیا ہے۔ لیکن اس بات کا بھی تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دیوتا یا قدیم ایرانی تاریخ سے واقف تھے۔ اج تک کوئی مورخ یہ ثابت نہیں کر سکا۔ لہذا قرآن کا ہامان نہ ایران سے اخذ شدہ ہے اور نہ بائبل کی کتاب ایستھر میں مذکور ایرانی ہامان سے۔ مزید برآں قدیم ایران میں بذات خود ہامان دیوتا کا وجود ثابت نہیں بلکہ ہمبان اور ہٹران دیوتا کا نام ہے اور ان میں سے کسی سے قدیم مصری زبان اور تاریخ کا وہ واقعہ منسوب نہیں جو قرآن کے بیان کردہ مصری ہامان سے منسوب ہے لہذا قرآنی مصری ہامان اپنے بیان میں خالص اور قدیم مصری تحریروں سے ثابت شدہ ہے۔ اب تک کی بحث میں ہم ثابت کر چکے ہیں کہ قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان کسی بھی دوسرے ذریعے سے اخذ شدہ نہیں اور قرآن پہ ملحدین و مستشرقین کا یہ الزام بالکل غلط اور جھوٹ پہ مبنی ہے۔

اب ہم اعتراض کے دوسرے حصے پہ بحث کرتے ہیں یعنی قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان کو فرعون کی طرف سے ایک بلند برج کی تعمیر کے حکم کا بیان نعوذ بااللہ قدیم شامی کہانی سے لیا گیا ہے۔ پچھلی پوسٹ میں ہم اس بات پہ بحث کر چکے ہیں کہ قدیم زمانے میں مصر اورشام میں بلند برج اور عمارات کی تعمیر سے آسمان کی طرف دیوتاؤں کی جانب جانے اور ان سے گفتگو کا تصور موجود تھا۔ لہذا یہ تصور جب قدیم مصر اور شام میں الگ الگ موجود تھا اور یہ بات جھوٹ نہیں بلکہ تاریخ سے ثابت ہے تو ایک جگہ یعنی قدیم مصر میں فرعون کی طرف سے ہامان کو حضرت موسی علیہ السلام کے رب کے مقابلے کے لیے ایک بلند برج کی تعمیر کے حکم کے بارے میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بات قدیم شامی کہانی سے اخذ کی گئی ہے جب کہ اس تصور کا ایک کہانی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہونا خود قدیم مصری زبان اور تاریخ سے ثابت ہے۔ اب اگر دو کام ایک ہی وقت میں دو مختلف علاقوں میں رائج  ہوں تو ایک علاقے کے حوالے سے اس رواج کا بیان دوسرے علاقے سے کس طرح اس واقعے کی نقل کہا جا سکتا ہے۔ مزید برآں آہیقار کی قدیم شامی کہانی جس میں اس کی طرف سے ایک بلند برج کی تعمیر کا ذکر ہے، اس کہانی کے بعد کے اور مزید مفصل ترجموں جیسا کہ شامی، عربی اور آرمینیائی ترجموں میں ہے جن میں سے کوئی بھی بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی سے پہلے کا نہیں جب کہ قرآن اس سے پہلے ہی نازل ہوچکا تھا۔ لہذا قرآن ایسی کتاب سے کس طرح چوری کر سکتا ہے جس میں اس برج کی تعمیر کا واقعہ قرآن کے ناول کے پانچ سو سال بعد ہوا ہے۔ بلکہ یہ بات اب الٹ ہوگئ۔ یعنی قرآن نے ان کتابوں کی نقل نہیں کی بلکہ ان کتابوں نے قرآن کی نقل کی جب کہ آہیقار کی کہانی کا آرامی متن جو قرآن کے ناول سے پہلے کا ہے اس میں یہ واقعہ ہے ہی نہیں۔ جہاں تک بات ہے یونانی متن کی تو اس میں بادشاہ کی طرف سے آہیقار یا نادن نام کے ایک شخص کو زمین سے آسمان تک بلند ایک برج کی تعمیر کا حکم ہے لیکن اس میں بھی ہامان نام کے کسی شخص کو یہ حکم نہیں۔ قدیم لاطینی نسخوں نے نادن کو امان کہا ہے جب کہ باقی کسی بھی یونانی یا آرامی نسخے نے نہیں۔ اور بات یہ کہ آرامی آہیقار، یونانی آہیقار، کتاب توبط  آہیقار یا اس کے بعد کے کسی بھی نسخے میں مذکور نادن یا آہیقار سے منسوب کوئی واقعہ قرآن مجید کے بیان کردہ واقعہ فرعون و موسی میں مذکور نہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن کا واقعہ ہامان و فرعون ان کتابوں سے نقل شدہ نہیں۔ اس طرح بالکل نہیں کہا جا سکتا کہ قرآن کی سورہ فاتحہ لارڈ پریئر یا گناہ کے دیوتا کی بابلی دعا سے اخذ کی گئی ہے کیونکہ قرآن کے واقعہ فرعون کی طرح سورہ فاتحہ کا بیان سو فیصد مختلف ہے۔ دوسری بات یہ کہ اج تک کوئی مورخ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ یہ یونانی یا بابلی واقعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں کوئی جانتا تھا اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ یہ یونانی یا بابلی نسخے اور ان کا کوئی ترجمہ مکہ مکرمہ میں میسر تھا۔ اور مزید یہ کہ یونانی واقعے میں برج کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالی سے جنگ نہیں جیسا کہ قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان کے واقعے میں ہے۔ لہذا قرآن مجید میں بیان کردہ یہ واقعہ بالکل مختلف ہے۔  تاریخ کے ہر دور میں اور ہر جگہ زمین سے آسمان تک بلند برج اور عمارات تعمیر کرنے کا تصور رہا ہے۔ لہذا اگر ایک تصور کئ تہذیبوں میں مشترک ہو تو ایک تہذیب جیسا کہ قرآن کی طرف سے اس کا بیان دوسری تہذیب سے نقل شدہ نہیں کہا جا سکتا جب کہ قرآن کے بیان کی قدیم مصری زبان اور تاریخ بھی تصدیق کر چکی ہے۔ لہذا اس سارے معاملے پہ غور و فکر کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن پہ یہ اعتراض بھی بالکل غلط اور جھوٹ پہ مبنی ہے۔

کچھ مستشرقین و ملحدین کہتے ہیں کہ شیراز کے شاعر شاہین کے کلام سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ قرون وسطی کے ایران میں مقیم یہودیوں کے نزدیک قارون کتاب ایستھر کی کہانی میں ایک حیثیت رکھتا تھا جب کہ یہ شاعر چودہویں صدی عیسوی میں گزرا ہے اور قرآن اس سے پہلے ہی نازل ہوچکا تھا۔ لہذا قرآن اس سے بھی یہ واقعہ اخذ نہیں کر سکتا تھا۔ اسی طرح ملحدین و مستشرقین کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں بیان کردہ ہامان قرآن نے ایک ایرانی تصنیف سمک عیار کے ذریعے لیا جب کہ مورخین کے مطابق یہ تصنیف بارہویں صدی عیسوی کی ہے اور اس کا ایک ہی نسخہ جو چودہویں صدی عیسوی کا ہے بودلین  لائبریری میں رکھا ہوا ہے جب کہ قرآن اس سے پانچ سو سال پہلے نازل ہوچکا تھا اور اس بات کا آج تک تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں کہ قرآن کے ناول کے وقت یا اس سے پہلے شمالی عرب میں یہ واقعہ کوئی جانتا تھا قرآن مجید میں بیان کردہ واقعے میں حضرت موسی علیہ السلام حکومت کے خلاف چلتے ہیں، مصر سے بنی اسرائیل کے خروج کا مقصد فرعون کے ظلم سے فرار تھا جب کہ ایسی کوئی خواہش کتاب ایستھر کی کہانی میں سوسا کے فرار میں نہیں ملتی، کتاب ایستھر کی کہانی میں یہودی ایک بادشاہ کی جان بچاتے ہیں جب کہ قرآن کے بیان کردہ واقعہ میں بنی اسرائیل ایک ظالم  بادشاہ یعنی فرعون کی موت کا سبب بنتے ہیں لہذا کس طرح کتاب ایستھر سے قرآن کو واقعات نقل کرنے کا الزام دیا جا سکتا ہے۔ ملحدین و مستشرقین پہلے ہی یہ طے کر چکے ہیں کہ قرآن نے یہ حیرت انگیز واقعات کہیں سے نقل کیے ہیں اور اسی پہ وہ قرآن کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور قدیم مصری زبان اور تاریخ اکثر صورتوں میں نظر انداز کر دیتے ہیں جو قرآن کے بیان کی تصدیق کر رہی ہے۔

اب تک کی پیش کردہ ہماری ساری تحقیق یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ قرآن اپنے واقعہ ہامان کے بیان میں سو فیصد خالص ہے اور قرآن پہ یہ واقعہ دوسرے ذرائع سے نقل کرنے کا مستشرقین و ملحدین کا الزام تاریخی طور پہ سو فیصد غلط اور جھوٹ پہ مبنی ہے۔
الحمد للہ
ھذا ما عندی۔ واللہ اعلم بالصواب

مزید مطالعہ اور مضمون کے حوالہ کے لیے درج ذیل لنک مطالعہ کریں

http://www.islamic-awareness.org/Quran/Contrad/External/haman.html
http://www.iranicaonline.org/articles/elam-

تبصرے بند ہیں۔