یوم عاشورہ اور درس شہادت امام حسینؓ

وردہ صدیقی

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا قمری مہینہ ہے، اسی ماہ سے سال کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس ماہ کے محترم ،معزز اور قابل شرف ہونے کا اندازہ اس بات سے ہوتا کہ اس ماہ مکرم کی نسبت اللہ جل شانہ کی جانب  "شھر اللہ ” کہہ کر کی جاتی ہے۔ قرآن کریم میں بارہ مہینوں میں سے جن چار مہینوں کوخصوصی حرمت اور تقدس حاصل ہے، ان چارعظمت والے مہینوں میں سے بھی پہلا مہینہ محرم الحرام کا ہے۔ نیز حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا ہے: رمضان کے بعدسب مہینوں سے افضل محرم الحرام کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد تہجدکی نماز افضل تر ہے۔(صحیح مسلم)

یوم عاشورا کی اہمیت و فضیلت

اس ماہ کی دسویں تاریخ یعنی یوم عاشورہ کاروزہ رکھنے کے بارے میں بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس  سے یہ روایت منقول ہے کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ تشریف لائے تواہل کتاب کواس دن کاروزہ رکھتے ہوئے پایا، جب اس کاسبب دریافت کیاگیاتوانہوں نے کہاکہ اس دن بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام کی معیت میں فرعون کے ظلم سے نجات پائی تھی اور فرعون مع اپنے ساتھیوں کے دریائے نیل میں غرق ہوا، اس لیے بطور شکرانہ حضرت موسی علیہ السلام نے اس دن کاروزہ رکھا تھا،حضورﷺ نے فرمایا پھر ہم اس کے تم سے زیادہ حق دار اور حضرت موسی کے زیادہ قریب ہیں۔چناںچہ حضورﷺ نے اس دن کاروزہ رکھااوردوسروں کوبھی حکم فرمایا۔(صحیح بخاری)

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی فضیلت والے دن کے روزہ کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے اس دن یعنی یومِ عاشورہ کے  اور سوائے اس ماہ یعنی ماہِ رمضان المبارک کے۔ (بخاری شریف، مسلم شریف )

 حضرت ابن عباس رضی اللہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روزہ کے سلسلے میں کسی بھی دن کو کسی دن پر فضیلت حاصل نہیں؛ مگر ماہِ رمضان المبارک کو اور یوم عاشورہ کو(کہ ان کو دوسرے دنوں پر فضیلت حاصل ہے)(رواہ الطبرانی والبیہقی، الترغیب والترہیب )

کیا ایک روزہ بھی رکھا جاسکتا ہے

مسلم شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس سے یہ بھی روایت ہے کہ :جب رسول اللہﷺ نے عاشورہ کے دن خو دروزہ رکھنے کومعمول بنایا اورصحابہ کرام کواس کاحکم دیا تو بعض صحابہ نے عرض کیاکہ :یارسول اللہﷺ !اس دن کو یہود و نصاری بڑے دن کی حیثیت سے مناتے ہیں (اوریہ گویاان کاقومی ومذہبی شعار ہے)توآپ ﷺنے فرمایا: ان شا اللہ جب اگلاسال آئے گا تو ہم نویں محرم کوبھی روزہ رکھیں گے(تاکہ تشبہ والی بات باقی نہ رہے)

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ لیکن اگلے سال ماہ محرم آنے سے قبل ہی رسول اللہﷺ وصال فرماگئے۔ تو اس روایت میں یہودکے ساتھ اشتباہ سے بچنے کے لیے یہ بھی فرمایا کہ: اگر آئندہ سال رہاتوان شا اللہ ہم اس کے ساتھ نویں تاریخ کاروزہ بھی رکھیں گے۔

اس حدیث مبارکہ کے پیش نظر فقہا لکھتے ہیں کہ10 محرم کے ساتھ نویں تاریخ کاروزہ بھی ملالینا چاہیے، بہتر یہ ہے کہ نویں،دسویں تاریخ کاروزہ رکھاجائے ،اگرنویں کاروزہ نہ رکھ سکے تو پھردسویں تاریخ کے ساتھ گیارہویں تاریخ کا روزہ ملا لینا چاہیے، تاکہ مسلمانوں کا امتیاز برقرار رہے۔

البتہ اکابرعلما ء کی تحقیق کے مطابق فی زمانہ چونکہ یہودونصاری اس دن کاروزہ نہیں رکھتے، بلکہ ان کا کوئی کام بھی قمری حساب سے نہیں ہوتا،اس لیے اب اس معاملے میں یہود کے ساتھ اشتراک اور تشبہ نہیں رہا، لہذا اگر صرف دسویں تاریخ کاروزہ رکھاجائے، تب بھی حرج نہیں۔

نیز 10 محرم کے ساتھ روزہ ملانے کا حکم مستحب کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر کوئی اسے لازم و ملزوم درجہ دے کر دوسرا روزہ ملانا فرض سمجھے تو اس سوچ کے خاتمے کے لیے لازمی ہے وہ ایک ہی روزہ رکھے۔ کیونکہ اس کا عمل ایک مستحب کو فرض کا درجہ دے رہا ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔*

ماہ محرم الحرام کی صرف دسویں تاریخ کے روزے کی فضیلت بھی صحیح احادیث میں رسول اللہﷺ سے منقول ہے ،چنانچہ مسلم شریف میں حضرت ابوقتادہ انصاریؓ  سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں اللہ سے امیدرکھتاہوں کہ اس دن کے روزے کی وجہ سے اللہ تعالی ایک سال (گزشتہ )کے گناہوں کاکفارہ فرمادے گا۔

 یوم عاشورہ تاریخ کی نظر میں

                یوم عاشورہ بڑا ہی مہتم بالشان اور عظمت کا حامل دن ہے، تاریخ کے عظیم واقعات اس سے جڑے ہوئے ہیں؛ چناں چہ مورخین نے لکھا ہے کہ:

(1)  یوم عاشورہ میں ہی آسمان وزمین، قلم اور حضرت آدم علیہما السلام کو پیدا کیاگیا۔

(2)  اسی دن حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلا والسلام کی توبہ قبول ہوئی۔

(3)  اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔

(4) اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہِ جودی پر لنگرانداز ہوئی۔

(5) اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ،،خلیل اللہ بنایا گیا اور ان پر آگ گلِ گلزار ہوئی۔

(6)  اسی دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔

(7) اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی حکومت ملی۔

(8) اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔

(9) اسی دن حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات حاصل ہوئی۔

(10) اسی دن حضرت موسی علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی۔

(11) اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت واپس ملی۔

(12) اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔

(13) اسی دن حضرت یونس علیہ السلام چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔

(14) اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور ان کے اوپر سے عذاب ٹلا۔

(15) اسی دن حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔

(16)  اور اسی دن حضرت عیسی علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے نجات دلاکر آسمان پر اٹھایاگیا۔

(17) اسی دن دنیا میں پہلی بارانِ رحمت نازل ہوئی۔

(18) اسی دن قریش خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے۔

(19) اسی دن حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیج الکبری رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا۔

(20) اسی دن کوفی فریب کاروں نے نواسہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم اور جگر گوشہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو میدانِ کربلا میں شہید کیا۔

(21) اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ )نزہۃ المجالس  ، معارف القرآن )

درس شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ

نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول ، سردار جنت امام عالی مقام  حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنھما کی شہادت سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ ہاں البتہ ! آج بہت سے مسلمان اس واقعے سے حاصل ہونے والے سبق کو بھلا بیٹھے ہیں۔ وہ شہادت کہ جس کی صبر ، ہمت ، استقلال و قربانی کی مثال نہیں، وہی شہادت عالم انسانیت کے مشعل راہ بھی ہے۔

     واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان ہونے والا عظیم معرکہ تھا جو ہمیں درس دیتا ہے کہ حق پر قائم رہتے ہوئے کٹ تو جانا ہے پر باطل کے سامنے کبھی جھکنا نہیں ہے۔ حق کی حفاظت کرنا جان و مال کی حفاظت سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔  حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا مقصد ہی امر بالمعروف ، نہی عن المنکر، احیائے سنت، اصلاح امت اور باطل نظام کا خاتمہ تھا۔

سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہمیں یہ سکھا گئے کہ مشکل میں بھی اللہ کا شکر ادا کرنا ہے ۔ اللہ پر توکل رکھنا ہے کیونکہ اسکی نصرت یقین کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں اپنی جان، مال اولاد سب کو قربان کر دینا ہے۔

سیدنا نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا لہو مبارک یہ اعلان سناتا ہے کہ اگر آپ حق پر ہیں تو دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جائیں ۔دشمن کیسا ہی طاقتور ہو اگر آپ حق پر ہیں تو خوف صرف اللہ کا رکھیں۔

واقعہ کربلا نے ہمیں درس دیا کہ حق کے لیے مر جانا کوئی مرنا نہیں بلکہ شہادت کا مقام پا کر ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔ اس واقعے سے یہ پیغام ملتا ہے حالات کیسے ہی ہوں دشمن نے چاروں طرف سے گھیرا ہو سجدہ تب بھی ایک اللہ کے لیے ہے۔اللہ کی محبت میں سب کچھ قربان کر دینا اور اللہ کی اطاعت میں اس کے حکم پر سر تسلیم خم کردینا ہی پیغام کربلاہے۔

نیز شہادت کے بعد اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور صبر و ہمت سے کام لینا خاندان حسینی کا ہمارے لیے پیغام ہے ۔

مگر آج امت نے حضرت امام حسین ؓکی قربانی و شہادت کے مقصد کو بھلا کر بے پناہ بدعات اور خرافات شروع کر لی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔لہذا یوم عاشورہ کے دن روزہ رکھ کے ان لوگوں کا رد کرنا چاہیے جو اس دن امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی سبیلیں لگاتے ہیں ۔نوحے مرثیے بناتے ہیں ۔روتے پیٹتے اور اپنے کپڑے پھاڑ لیتے ہیں ۔افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سب من گھڑت چیزیں ہیں ۔ان سب باتوں کا شہادت امام حسین ؓسے کوئی تعلق نہیں بلکہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا مقصد غلبہ حق کے لیے ڈٹ جانا ہے اور باطل کو مٹا کر دم لینا ہے اور اللہ اور اسکے رسول کی پیروی ہر صورت کرنی ہے۔

اللہ تعالیٰ شہدائے کربلاکی قربانیوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جذبہ حسینی سے ہر اہل ایمان کو مالا مال فرمائے (آمین)

تبصرے بند ہیں۔