ﷲ کی نشانیاں (قسط 1)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

ﷲ کی نشانی زمین

          کائنات میں اﷲ تعالیٰ کی بے شمار نشانیاں ہیں اور اُن نشانیوں میں سے ایک نشانی زمین بھی ہے۔ ہماری زمین ایک ایسی جگہ ہے جس پر آج ہزاروں سال سے انسان ، جانور ، پرندے اور سمندری مخلوق آباد ہیں۔ اگر ہم زمین کے اوپر غور وفکر کریں تو ہمیں یہ سمجھ میں آئے گا کہ ہماری زمین ایک بہت بڑے اور بہت وسیع نظام کے تحت چل رہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ اُس کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے کا حُکم دیا ہے۔ اُس نے اپنی نشانیاں میں سے ایک نشانی ہماری زمین کو بھی بتایا اور اِس کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہ کیا۔ سورہ یاسین میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا (ترجمہ) اور اُن کے لیے ایک نشانی مُردہ زمین ہے جسے ہم بارش کے ذریعے زندہ کرتے ہیں اور اُس سے غلہ نکلاتے ہیں جسے وہ کھاتے ہیں اور ہم نے اِس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات لگائے اور ہم نے اِس میں پانی کے چشمے بہا دیئے تاکہ وہ اِس کے ثمرات کھائیں اور اِن سب چیزوں کو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے نہیں بنایا ، پھر کیا وجہ ہے کہ وہ شلر ادا نہیں کرتے؟ (سورہ یاسین آیت نمبر ۳۳؎ سے ۳۶؎ تک)

اﷲ مُردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں

          اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے زمین کے بارے میں کئی باتیں بتائیں۔ پہلی بات یہ کہ جب زمین سوکھ جاتی ہے تو مُردہ ہوجاتی ہے پھر اﷲ تعالیٰ اُس پر بارش برساکر اُسے زندہ کرتے ہیں اور وہ اُس بارش کے پانی سے ہماری زمین پر الگ الگ جگہوں پر الگ الگ قسم کے اناج، پھل اور گھاس  وغیرہ اُگاتے ہیں۔ اِن اناج اور پھلوں اور گھاس وغیرہ کو کھا کر انسان ، جانور ، پرندے اور کیڑے مکوڑے زندہ رہنے کے لیے غذا اور طاقت حاصل کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اسی بارش کے پانی کو پہاڑوں میں برف کی شکل میں جمع کرتے ہیں اور پھر اُس برف کو ضرورت کے مطابق پگھلاتے ہیں اور چشموں ، ندیوں ، دریاؤں کی شکل میں پری زمین میں بہاتے ہیں۔ یہ پانی انسان ، جانور ، پرندے اور کیڑے مکوڑے وغیرہ پینے اور دوسرے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پانی تمام جاندوروں کے لیے خاص طور سے انسان کے لیے بہت ہی اہم ہے۔ کھانے کے بغیر انسان کئی دن گزار سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر ایک دن بھی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سورج سے انتہائی مناسب فاصلہ

          سائنس دانوں نے جب ہماری زمین کا مطالعہ کیا تو اُنہیں معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے ہماری زمین کو ہمارے سورج سے انتہائی مناسب فاصلے پر رکھا ہے اور یہ بھی اﷲ کی ایک نشانی ہے۔ یہ انتہائی مناسب فاصلہ سورج سے زمین تک پہنچنے والی گرمی کی توانائی (انرجی) کی مقدار میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ ہماری زمین کے مدار میں سورج کے اطراف گردش کرنے میں زرّہ برابر بھی فرق کردیں گے تو اِس سے ہماری زمین پر بہت ہی زبردست اثرات مرتب ہوں گے۔ سائنسدانوں نے اِس حوالے سے حساب لگایا تو اُنہیں معلوم ہوا کہ اگر اﷲ تعالیٰ ہماری زمین کو ہمارے سورج سے ذرّہ برابر دُور کردیں گے تو ہمارے سورج سے جو گرمی ہماری زمین پر پہنچ رہی ہے اُس میں تیرہ 13 فیصد کمی آجائے گی اور ہماری زمین پر ایک ایسی برف کی تہہ جمع ہوجائے گی جو ایک ہزار 1000 میٹر دبیز اور موٹی ہوگی۔ اگر اﷲ تعالیٰ ہماری زمین کو ہمارے سورج سے زرّہ برابر قریب کردیں گے تو ہماری زمین پر گرمی اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ درخت ، پپیڑ ،پودے وغیرہ جھلس جائیں گے اور جانداروں اور انسانوں پر طرح طرح کی جلدی بیماریاں حملہ آور ہوں گی اور آخرکار سب موت کا شکار ہوجائیں گے۔

درجۂ حرارت انتہائی مناسب

          ہم زمین پر کہیں بھی جاتے ہیں تو ’’درجۂ حرارت‘‘ میں بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا ہے اوریہ بھی اﷲ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس کے لیے ہماری زمین کو ایک انتہائی مناسب ’’محوری گردش‘‘ پر رکھا ہے۔ ہماری زمین خط استوا پر سترہ ہزار بائیس 1722 کلو میٹر فی گھنٹہ کے حساب سے اپنے محور پر گردش کررہی ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ ہماری زمین کی محوری گردش کی رفتار کو بہت ہی معمولی سا بڑھا دیں گے تو زمین پر گرمی بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ جس کی وجہ سے گیس کے سالموں کی شرح رفتار بڑھ جائے گی اور وہ زمین کی فضا سے نکل جائیں گے اور ہوا منتشر ہو کر خلاء میں غائب ہوجائے گی۔ ہوا کے غائب ہوتے ہی تمام درخت ، پیڑ ، پودے مرجھا جائیں گے اور تمام جاندار مرجائیں گے۔

زمین کا انتہائی مناسب جھکاؤ

          ہماری زمین چپٹی اور گول نہیں ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ نے اِسے کرّوی اور بیضوی شکل کی بنائی ہے ، ساتھ ہی ہماری زمین کو بالکل سیدھی نہیں رکھا ہے بلکہ اِسے 23.27 درجے جھکاؤ پر رکھا ہے۔   یہ جھکاؤ بھی ’’انتہائی مناسب‘‘ ہے اوراِس میں بھی اﷲ کی ایک نشانی ہے۔ ہماری زمین کا یہ جھکاؤ قطبین اور خط استوا کے درمیان زیادہ گرمی کو روکتا ہے ورنہ ہماری زمین پر فضا کی تشکیل میں رُکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ اِس جھکاؤ کو ذرا سا کم کردیں تو قطبی علاقوں اور خط استوا کے درمیان درجۂ حرارت کا فرق کئی گنا بڑھ جائے گا اور پھر زمین پر زندگی کا وجود ناممکن ہوجائے گا۔ اﷲ تعالیٰ نے درجۂ حرارت کو منتشر ہونے سے روکنے اور زمین پر قائم رکھنے کا بھی انتظام کیاہے۔ پیدا شدہ گرمی یا حرارت کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے ایک تہہ کی ضرورت تھی اور زمین کے درجۂ حرارت کو ایک ہی جگہ قائم رکھنے کے لیے درجۂ حرارت کے ضیاع کو بچانا ضروری تھا اور خاص طور سے رات کے وقت۔ اِس لیے اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسا غیر مرئی غلاف زمین کی فضا میں بنایا جو زمین کی گرمی اور درجۂ حرارت کو قابو میں رکھے۔ یہ غلاف کاربن ڈائی آکسائید کا ہے جو ہماری زمین کے اطراف لپٹا ہوا ہے اور گرمی کو خلاء کی طرف جانے سے روکتا ہے۔

زمین کی کرّوی شکل

          ہماری زمین کا کرّوی شکل کا ہونا بھی اﷲ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے۔ ہماری زمین پر کئی ایسی تہہ اﷲ تعالیٰ نے بنائی ہیں جو قطبین اور خط استوا کے درمیان درجۂ حرارت کے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ قطبین اور خط استوا کے درمیان درجۂ حرارت کا تفاوت 120 سینٹی گریڈ کا ہے۔ اگر درجۂ حرارت کا ایسا فرق چپٹی زمین پر ہوتا تو ہوا میں شدید حرکت آجاتی اور تند ہوائی طوفان ایک ہزار 1000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل کر پوری زمین کو تہہ و بالا کردیتا اور تمام جاندار وغیرہ ختم ہوجاتے اور اِ ن طوفانوں کی وجہ سے ہماری زمین کا توازن بگڑ جاتا۔ لیکن اﷲ تعالیٰ نے ہماری زمین کو کرّوی بنا کر اور اُس میں پہاڑوں اور نشیب و فراز رکھ کر توازن برقرار رکھا ہے۔ ہماری زمین پر نشیب و فراز ایسے ہیں جو اُن طاقتورہوائی لہروں اور طوفانوں کو روکتے ہیں جو درجۂ حرارت کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ نشیب و فراز ہمالیہ پہاڑ سے شروع ہوتے ہیں جو برصغیر ہندوپاک اور چین کے درمیان واقع ہے۔ یہ سلسلہ اناطولیہ میں واقع Taurus Mountains تک چلا جاتا ہے اور پھر اِن سلسلوں کے ذریعے جو مغرب میں بحر اوقیانوس اور مشرق میں بحرالکاہل کو آپس میں ملاتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ یورپ میں کوہ ایپلس تک جاپہنچتا ہے۔ سمندروں میں جو فالتو گرمی خط استوا پر پیدا ہوتی ہے اُسے سیال مادوں کے خواص کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ شمال سے جنوب کی طرف موڑ دیتے ہیں اور اِس طرح گرمی کے تفاوت میں توازن پیدا کردیتے ہیں۔ باقی انشاء اﷲ اگلی قسط میں۔

تبصرے بند ہیں۔