ﷲ کی نشانیاں (قسط 2)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

زمین کی تہیں

           اﷲ تعالیٰ نے انسان کے رہنے لیے زمین کو بنایا اور یہاں  زندگی کے تمام لوازمات پیدا کئے جو انسان کے لیے ضروری ہیں۔ سائنسدانوں  کے مطابق ہماری زمین کی چار تہیں  ہیں۔ نمبر 1؎ : قشر ارض (The Crust) یہ زمین کی سب سے بیرونی تہہ ہے جو چٹانوں  سے بنی ہے اور بر اعظم اور سمندر اسی پر قائم ہیں۔ زمین کے اوپر چڑھا خول جو ’’سیلیکیٹ‘‘ پر مبنی ہے۔ اُس کی کم از کم موٹائی چھ 6 کلومیٹر ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 40 کلو میٹر موٹی ہے۔ نمبر 2؎ : کرۂ حجری (The Mantle ) یہ قشر ارض کے نیچے واقع وہ تہہ ہے جو پگھلی ہوئی چٹانوں  پر مشتمل ہے۔ قشر ِارض کے نیچے واقع یہ تہہ کسی حد تک جمے ہوئے ’’سیلیکیٹ‘‘ کی تہہ ہے جو تقریباً 2,800 کلو میٹر موٹی ہے۔ یہ تہہ ’’لاوا‘‘ کا اوپری حصہ ہے نمبر 3؎: بیرونی مرکزہ (Outer Core) پگھلے اور جمے ہوئے فولاد اور نِکل پر مشتمل تہہ ہے۔ اِس کی موٹائی تقریباً 2,300 کلو میٹر ہے۔ یہ تہہ ’’لاوا‘‘ کا نچلا حصہ ہے۔ نمبر 4؎: اندرونی مرکزہ (Inner Core ) یہ زمین کی بالکل درمیان میں  واقع جمے ہوئے فولاد اور نکل پر مشتمل ہے۔ جو نمایا ں فرق کی بناء پر بخوبی پہچانا جاتا ہے۔ یہ اندرونی مرکذہ یعنی مخرج (مقناطیس) تقریباً 2400 کلو میٹر قطر پر محیط ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس مخرج کی بہت زبردست مقناطیسی کشش رکھی ہے۔

زمین کا مخرج

          ہماری زمین کے مخرج کی مقناطیسی کشش کی وجہ سے ہماری زمین کی سطح پر ’’کشش ثقل‘‘ ہوتی ہے اور اگر ہم کوئی بھی چیز اوپر پھینکتے ہیں  تو وہ واپس زمین پر آکر گرجاتی ہے۔ یہ ’’کشش ثقل‘‘ بھی اﷲ کی ایک نشانی ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ ہماری زمین کی ’’کشش ثقل‘‘ کو دس گنا کم کر دیں  گے تو ہر شئے کا وزن دس گنا کم ہوجائے گا۔ ابھی جس انسان کا وزن ساٹھ 60 کلو ہے اُس کا وزن 6 کلو ہو جائے گا اور وہ زمین پر آرام سے چلنے کے بجائے اُڑ اُڑ کر چلے گا یعنی ہمارے لیے چلنا پھرنا اُٹھنا بیٹھنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ تمام انسانوں  اور جانوروں  کو ’’سلوموشن‘‘ میں  انتہائی دھیرے دھیرے حرکت کرنا پڑے گا جیسا کہ خلاء میں  جانے کے بعد ہوتا ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ ’’کشش ثقل‘‘ کو ایک ہزار 1000 گُنا کم کر دیں  گے تو ایک کلو گرام 1KG(یعنی جو ابھی ایک ہزار گرام ہے) کا وزن ایک گرام 1G ہوجائے گا اور جس شخص کا وزن ابھی ساٹھ کلو گرام 60KG ہے اُس کا وزن ساٹھ گرام 60G ہو جائے گا۔ اگراﷲ تعالیٰ ہماری زمین کی ’’کشش ثقل‘‘ دس گُنا بڑھا دیں  یعنی 10G کر دیں  تو ہمارا اطمینان سے چلنا پھرنا اُٹھنا بیٹھنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ہمارا وزن دس گُنا بڑھ چکا ہو گا۔ جس انسان کا وزن ساٹھ کلو گرام 60KGہے اُس کا وزن دس گنا بڑھ جائے گا اور چھ سو کلو گرام 600KGہوجائے گا۔ اگر اﷲ تعالیٰ ہماری زمین کی کشش ثقل سو گُنا بڑھا دیں  یعنی 100Gکر دیں  تو ہمارا حرکت کرنا لگ بھگ ناممکن ہو جائے گا یہاں  تک کہ ہاتھ پیر ہلانا بھی ناممکن ہو جائے گا اور ہمیں  حرکت کرنے کے لیے بے پناہ طاقت خرچ کرنا پڑے گی۔ اِس کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم پر بہت زیادہ دباؤ پڑے گا اور ہوسکتاہے کہ ہمارا جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے یعنی ہم مر جائیں ۔ اُس وقت زمین پر جتنے درخت ہوں  گے وہ سب جھک کر زمین سے لگ جائیں  گے۔ اگر اﷲ تعالیٰ زمین کی کشش ثقل ایک لاکھ گُنا بڑھا دیں  گے تو پہاڑ اور چٹانیں  بھوسہ ہو جائیں  گے۔ اگر اﷲ تعالیٰ ہماری زمین کی کشش ثقل ایک ارب گُنا بڑھا دیں  گے تو ہماری زمین کا پورا مادّہ سُکڑ کر اُس کے مخرج میں  جذب ہو جائے گا اور ہماری زمین اپنی حالیہ سائز سے لاکھوں  گُنا چھوٹی ہوجائے گی۔

زمین کا مقناطیسی میدان

          ہماری زمین پر اﷲ تعالیٰ نے ’’کشش ثقل‘‘ کے علاوہ ایک مقناطیسی میدان بھی بنایا ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ مقناطیسی میدان بھی اﷲ کی ایک نشانی ہے۔ ہماری زمین کی فضا کی سب سے اوپر والی تہہ مقناطیسی زون سے بنی ہوئی ہے جسے ’’وین ایلن پٹی‘‘ Van Allen Belt کہا جاتا ہے کیونکہ اِس پٹی کو اُسی نے دریافت کیا تھا۔ ہماری زمین کے مخرج Core کی خصوصیات سے یہ مون تشکیل پاتا ہے۔ ایک لہر سورج سے نسبتاً کم رفتار سے نکلتی ہے جو تقریباً چار سو 400 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور اِسے ’’شمسی ہوا‘‘ کہتے ہیں۔ اِن شمسی ہواؤں  کو یہ مقناطیسی پٹی کنٹرول کرتی ہے جسے ’’وان ایلن تابکاری پٹی‘‘ کہتے ہیں  اور یہ زمین کے مقناطیسی میدان کے اثر سے پیدا ہوتی ہے اور یہ دنیا کو کوئی نقصان نہیں  پہنچاتی۔ اِس تہہ کی تشکیل ہماری زمین کے مخرج سے ہوتی ہے اور اِس مخرج میں  مقناطیسی دھاتیں  مثلاً لوہا اور نکل بکثرت ہیں۔ ہماری زمین کا مرکز Nucleus دو مختلف اجسام سے بنا ہوا ہے۔ اُس کے اندر کا حصہ ٹھوس ہے اور باہر کا حصہ سیال ہے۔ مخرج کی دونوں  تہیں  ایک دوسرے کے گرد گھومتی ہیں  اور اِس حرکت سے دھاتوں  میں  ایک مقناطیسی اثر پیدا ہوتا ہے۔ یہ مقناطیسی اثر ہماری زمین کے اطراف ایک مقناطیسی میدان کی تشکیل کرتا ہے جو زمین سے ایک طرف سورج کی سمت میں  چوراسی ہزار 84000کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے جبکہ دوسری سمت خلاء میں  تین لاکھ کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ مقناطیسی میدان اُن خطرات سے زمین کو محفوط رکھتا ہے جن کا خلاء کی طرف سے خدشہ رہتا ہے اوراِن میں  ہر قسم کی غیر مرئی لہریں  شامل ہیں۔

زمین کی مقناطیسی پٹی

          ہماری زمین کے اطراف جو مقناطیسی پٹی ہے یہ بھی اﷲ کی ایک نشانی ہے اور اِس میں سے ہمارے سورج سے نکلنے والی ’’شمسی ہوائیں ‘‘ نہیں  گزرسکتیں۔ جب شمسی ہوائیں  ذرّات کی بارش کی شکل میں  اِس مقناطیسی میدان سے ملتی ہیں  تو تحلیل ہو کر اِسی پٹی کے گرد بہنے لگتی ہیں۔ وان ایلن پٹی دو حصوں  پر مشتمل ہے۔ اندرونی حصہ ہماری زمین سے چار سو 400 سے بارہ سو1200 کلومیٹر سے شروع ہوکر دس ہزار10,000 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا انتہائی قوت والا حصہ پنتیس سو 3500 کلو میٹر پر واقع ہے۔ اِس کا بیرونی حصہ دس ہزار10,000 کلو میٹر سے چوراسی ہزار 84000 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی بھرپور قوت والا حصہ زمین کی سطح سے سولہ ہزار 16000 کلو میٹر پر واقع ہے۔ یہ دونوں  مقناطیسی پٹیاں  اِس قدر انتہائی طاقتور برقی چارج کی حامل ذرّات پر مشتمل ہیں  کہ اگر اِن کی زد میں  خلائی جہاز آجائے تو وہ تباہ ہوجائے گا۔ اِن پٹیوں  کے درمیان محفوظ ترین خطہ نوسو900 سے گیارہ سو1100 کلو میٹر کے درمیان خیال کیا جاتا ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ نے یہ مقناطیسی پٹیاں  نہیں  بنائی ہوتیں  تو ہمارے سورج سے نکلنے والی انرجی جو بکثرت خارج ہوتی رہتی ہے روئے زمین پر زندگی کا بالکل خاتمہ کردیتی۔ یہ چونکہ ابردست ہیجان کے ساتھ لپکتی ہے اِس لیے اِسے ’’سورج کے شعلے‘‘ Solar Flares کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں  کی حالیہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اِن شعلوں  کا درجۂ حرارت بیس 20 لاکھ اے ایک کروڑ تینتس لاکھ سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ ہماری زمین کے اطراف کی مقناطیسی پٹی ایک طرح سے ہماری پہریدار ہے۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔