ﷲ کی نشانیاں (قسط 3)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

زمین کی فضا سب کے لیے مفید

           ہماری زمین کے اطراف ایک ’’فضا‘‘ ہے اور یہ ’’فضا‘‘ بھی اﷲ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہم انسانوں کی حفاظت کے لیے بہترین ’’فضا‘‘ بنائی ہے۔ سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق ہماری زمین کے اوپر ہماری ’’فضا‘‘ مجموعی طور پر سات تہوں پر مشتمل ہے جس نے ہماری زمین کو کمبل کی طرح گھیرا ہوا ہے۔ اِس کا پھیلاؤ زمین کی سطح سے خلاء تک بارہ سو اسی 1280 کلو میٹر تک ہے۔ سورج کی روشنی و حرارت اور ہماری زمین کے مقناطیسی میدان، اوزون اور فضا کی وجہ سے ہی زمین پر جانداروں کا رہنا ممکن ہے اور یہ تمام انتظامات اور اِن کے علاوہ اور بھی بہت سے انتظامات جنہیں ہم ابھی نہیں جانتے اور ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں جان لیں سب کے سب اﷲ تعالیٰ نے بنائے ہیں۔ ہماری ’’فضا‘‘ سورج کی حرارت کو جذب کرتی ہے۔ اِس حرارت کو اﷲ تعالیٰ پانی اور دوسرے کیمیاوی عوامل سے گزارتے ہیں اور اِسی بدولت موسم بدلتے اور بارشیں برساتے ہیں۔ ہماری فضا کی وجہ سے ہم سورج کی الٹرا وائلیٹ شعاعوں سے بچتے ہیں اور اِسی کی بدولت ہم ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ کی نشریات سنتے اور دیکھتے ہیں۔

زمین کی فضا کی تہیں

          ہماری زمین کی ’’فضا‘‘ بنیادی طور پر چار حصوں یا تہوں پر مشتمل ہے۔ (1) ٹرپوسفیئر Tropospher : یہ حصہ زمین کی سطح سے شروع ہوتا ہے اور ’’فضا‘‘ میں آٹھ 8 سے سترہ 17 کلوفضا‘‘ میں آٹھ 8 سے سترہ 17 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ حصہ یا تہہ بہت کثیف اور گاڑھا ہے اور اگر ہم زمین سے اوپر کی طرف جائیں تو ہمیں اِس کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہوا محسوس ہوگا۔ اِس تہہ کے اندر درجۂ حرارت سترہ 17 سے منفی باون -52 سینٹی گریڈ تک گرجاتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس تہہ میں سب موسم پیدا ہوتے ہیں اور بادلوں کی تمام قسمیں اِسی تہہ میں واقع ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس تہہ کو ایسا بنایا ہے کہ یہ تہہ زمین سے اٹھنے والے آبی بخارات کو گاڑھا کرکے پانی کی شکل دے دیتی ہے اور وہ بارش کی شکل میں زمین پر واپس آجاتے ہیں۔ اِس تہہ کا ایک چھوٹا سا حصہ جسے ’’ٹروپوپاز‘‘ Tropopause کہتے ہیں، ٹروپوسفئیر کو ’’فضا‘‘ کی اگلی تہہ سے الگ کرتا ہے۔ (2) اسٹریٹوسفئیر Stratosphere : یہ ٹروپوسفئیر کے بالکل اوپر والی تہہ ہے جو پچاس 50 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ٹرپوسفئیر کی بہ نسبت کم کثیف اور خشک فضا رکھتی ہے۔ اِس حصے میں درجۂ حرارت بتدریج بڑھنے لگتا ہے اور یہ تین سینٹی گریڈ تک ہوجاتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس تہہ کے اوپر والے حصے میں اوزون کی باریک سی پٹی پائی جاتی ہے جو سورج کی طرف سے آنے والی خطرناک بنفشی شعاعوں کو منعکس کردیتی ہے۔

اوزون بھی ایک نشانی

          اوزون بھی اﷲ کی ایک نشانی ہے۔ یہ ہمارے سورج سے آنے والی زہریلی شعاعوں کو چھانتی ہے اور صاف اور فائدے مند روشنی زمین کی طرف بھیجتی ہے اور ذہریلے اثرات کو خلاء کی طرف پھینک دیتی ہے۔ ہمارے سورج کی یہ بنفشی شعاعیں سخت نقصان دہ تابکاری پر مشتمل ہوتی ہیں اور اگر اوزون انہیں نہ چھانے تو اِس سے زمین پر موجود ہرشئے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اوزون کی تہہ جو ہماری زمین کو گھیرے ہوئے ہے وہ نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ اِن شعاعوں میں اتنی توانائی ہوتی ہے کہ اگر وہ زمین تک پہنچ جائیں تو تو تمام جاندواروں کو ہلاک کردیں اور تمام پیڑ پودوں کو جلاڈالیں۔ ہماری زمین پر زندگی کو ممکن بنانے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے اوزون کی اِس تہہ کو خاص طور سے تخلیق کیا ہے اور یہ آسمان کی محفوظ چھت کا ایک خاص حصہ ہے۔ اوزون آکسیجن سے پیدا ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہماری زمین کے اطراف ایک نہ دکھائی دینے والاخول بنایا ہے۔ ہمارے سورج کی زہریلی روشنی جب اس خول سے ٹکراتی ہے تو یہ خول زہریلی روشنی کو صاف کر کے ہماری زمین کی طرف آنے دیتا ہے اور زہریلے مادّوں کو خلاء کی طرف واپس بھیج دیتا ہے اور یہ خول ’’اوزون‘‘ ہے۔اﷲ تعالیٰ نے ’’اوزون‘‘ کو اِس طرح پیدا کیا کہ سورج سے آنے والی ہائیڈروجن گیس جب زمین سے اُٹھنے والی آکسیجن سے ٹکراتی ہے تو دونوں میں ٹوٹ پھوٹ ہونے لگی اور اِسی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ’’اوزون‘‘ پیدا ہوتی ہے۔ اوزون کا فارمولہ O3  (او تھری)ہے یعنی اﷲ تعالیٰ نے ’’اوزون‘‘ کا سالمہ آکسیجن کے تین ایٹموں سے بنایا ہے۔ جب ہم آکسیجن کے تین ایٹموں کو ملائیں گے تو ’’اوزون‘‘ بن جائے گی۔ اﷲ تعالیٰ نے آکسیجن کے ہر سالمہ کو اُس کے دو ایٹموں سے بنایا ہے۔ اِس طرح ہم ’’اوزون‘‘ کو آکسیجن کا ’’ڈیوڑھا‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ ماہرین فلکیات اور سائنسدانوں نے جب اوزون کے سالمے میں سے آکسیجن کا ایک ایٹم الگ کیا تو وہ آسانی سے الگ ہوگیا لیکن نتیجے میں اوزون کے سالمے کا خاتمہ ہو گیا اور آکسیجن کا سالمہ وجود میں آگیا۔ جب اُسے پھر سے اوزون بنانے کی کوشش کی گئی تو بہت زیادہ ’’انرجی‘‘ کی ضرورت پیش آئی اور یہ انرجی ہمیں سورج سے وہیں ملتی ہے جہاں ’’اوزون ‘‘کا خول ہے۔ ننانوے 99 فیصد ہوا ہماری ’’فضا‘‘ کی اِن دونوں تہوں یا حصوں یعنی ٹروپوسفئیر اور اسٹریٹوسفئیر میں پائی جاتی ہے۔

زمین کی فضا کی اوپری تہہ

          اسٹریٹوسفئیر کے اوپری حصے پر ’’اسٹریٹوپاز‘‘ Stratospause ہوتی ہے جو اگلی تہہ سے اِس تہہ کو الگ کرتی ہے۔ (3 ) میزوسفئیر Mesosphers : ہماری فضا کی تیسری تہہ کو ’’میزوسفئیر‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ تہہ ہماری فضا میں اوپر کی طرف اسی 80 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں درجۂ حرارت بردریج کم ہوتے ہوتے منفی ترانوے -93  سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اِس تہہ میں کیمیاوی عناصر سورج کی حرارت کو جذب کرنے کی وجہ سے کافی سرگرم ہوجاتے ہیں۔ اِس تہہ کی اوپری سطح پر ’’میزوپاز‘‘ Mesopause ہوتی ہے جو اِس تہہ کو اس سے اوپری تہہ سے الگ کرتی ہے۔ (4 ) تھرموسفئیر Thermosphere : یہ ہماری فضا کی سب سے اوپری تہہ ہے اور یہ بارہ سو اسی 1280 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اِس تہہ یا حصے میں سورج کی حرارت کی وجہ سے درجۂ حرارت بتدریج بڑھتے ہوئے سترہ سو ستائیس 1727 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں پر زمین کی سطح کے مقابلے میں کیمیاوی عوامل بڑی تیزی سے عمل پذیر ہوتے ہیں۔ اِس حصے کو سائنس داں ’’بالائی کرہ ہوائی‘‘ کہتے ہیں۔ ’’آئنوسفئیر‘‘ Ionoshpere اور ’’ایکسپوسفئیر‘‘ Exposphere اِسی تہہ تھرموسفئیر کا حصہ ہیں۔ حالانکہ نعض سائنسداں اِن کو الگ الگ بھی بیان کرتے ہیں اور اِن کی ترتیب میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اِن کے افعال کی نوعیت پر سب ہی متفق ہیں۔ ’’آئنوسفئیر‘‘ چھ سو چالیس640 کلومیٹر تک بلند ہے اور یہی تہہ سورج کے ذرّات ’’فوٹانز‘‘ کو جذب کرتی ہے اور زمین پت نشر ہونے والی ’’ریڈیائی لہروں ‘‘ کو واپس بھیج دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے لیے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ ہم ریڈیو، ٹی وی اور وائر لیس کی نشریات کو دُور دُور تک بھیج سکیں۔ ’’آئنوسفئیر‘‘ سے اوپر والا حصہ ’’ایکسپوسفئیر‘‘ Exosphere کہلاتا ہے۔ یہ بارہ سو اسی کلومیٹر تک بلند ہے اور اِس کے بعد یہ اوپر خلاء کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے۔

زمین کی فضا بھی ایک نشانی

          ہماری فضا بھی اﷲ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے اوراﷲ تعالیٰ نے ہماری زمین کے اطراف ’’فضا‘‘ پیدا کرکے ہماری بہت مدد کی ہے۔ ہماری یہ فضا ہماری ہر طرح سے مدد کرتی ہے۔ ہماری فضا خلاء کی بے پناہ سردی کو زمین تک سیدھے پہنچنے سے روکتی ہے۔ خلاء کی سردی منفی دوسوستر -270 درجہ سینٹی گریڈ ہوتی ہے اور ہماری فضا اُس میں ہماری زمین اور ہمارے سورج کی حرارت کو ملا کر ہم تک بھیجتی ہے۔ ہماری فضا میں ہوا ہے جس کی ہمیں ہر سانس میں ضرورت ہوتی ہے۔ ہر جاندار کی سب سے اہم ضرورت ہوا اور پانی ہے اور اﷲ تعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں ہماری زمین پر بہت ہی وافر مقدار میں رکھی ہیں۔ ہم زمین پر کہیں بھی چلے جائیں ہمیں پانی اور ہوا آسانی سے میسر آجاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج انسان اتنا زیادہ خود غرض اور مطلبی ہوگیا ہے کہ وہ پانی کو بھی خریدنے اور بیچنے لگا

 ہے۔ انسان اِس کوشش میں بھی لگا ہے کہ ہوا کو ایندھن بنائے اور اُس سے چلے والا انجن بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہوا اور پانی سے چلنے والی مشینیں یعنی ہوئی جہاز، کاریں وغیرہ انسان ایجاد کرلے۔ لیکن یہ ایجاد انسان کو تباہی کی طرف لے جائے گی کیونکہ ہوا اور پانی ہر جاندار کے لیے بہت ہی اہم چیزیں ہیں۔ اگر یہ چیزیں بے جان چیزوں میں استعمال ہونے لگیں تو یقینا اِن میں کمی ہوگی اور یہ کمی انسان کے لیے بہت ہی تباہ کن ہے۔ باقی انشاء اﷲ اگلی قسط میں۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔