ﷲ کی نشانیاں (قسط 4)

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

زمین و آسمان کی تخلیق

          ہماری زمین کی تخلیق بھی اﷲ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے کہ اُس نے ہماری زمین کی تخلیق کس طرح کی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ’’ ( اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) ان سے کہو! کیا واقعی تم اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کے ساتھ کفر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین کو بنایا اور تم اس کے شریک بناتے ہو۔ وہ ( عظیم) رب ہے تمام جہانوں کا اور اس نے ( اللہ نے ) زمین میں بھاری پہاڑوں کو گاڑ دیا اور اس میں (زمین میں ) برکت رکھی اور زمین میں رہنے والے جانداروں کی غذا بھی چار دنوں میں مقدر کی۔ جو طلب کرنے والوں کے مساوی ہے۔ پھر آسمان کی طرف قصد ( توجہ) کیا۔ جب کہ اس وقت وہ دھواں تھا۔ (اور اسے آسمان بنایا) پھر آسمان و زمین سے فرمایا:’’ تم دونوں خوشی سے یا نا خوشی سے حاضر ہو۔ ‘‘( یعنی میرے حکم کی تعمیل کرو) اُن دونوں نے کہا:’’ ہم خوشی سے حاضر ہوئے۔ ‘‘ ( یعنی ہم خوشی سے حکم کی تعمیل کرتے رہیں گے) پھر دو دنوں میں ( اس ایک آسمان کی پرت الگ کر کے ) سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان میں اس کے موافق حکم بھیجا اور ہم نے ( اللہ نے ) آسمان ِ دنیا ( پہلے آسمان) کو چراغوں ( ستاروں )سے مزین کیا اور اس کی حفاظت کی۔ یہ بہت بڑی ذات اور بڑے علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔ ‘‘( سورہ حٰم ٓ السجدہ آیت نمبر9سے 12تک)اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ’’وہ اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا۔ پھر آسمان کی طرف قصد ( توجہ) کیا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایااور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ ‘‘( سورہ البقرہ آیت نمبر29) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پہلے زمین بنائی پھر آسمان بنائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا۔ ’’ اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی (زمین ) کو پیدا فرمایا۔ پھر اتوار کے دن اس میں (زمین میں )پہاڑوں کو گاڑا۔ پیر کے دن درختوں کو پیدا فرمایا۔ منگل کے دن مکروہ چیزوں کو پید ا فرمایا۔ بدھ کے دن نور ( یعنی زمین پر سورج کی روشنی) کو پیدا فرمایا۔ پھر جمعرات کو زمین میں چوپائے پھیلائے اور جمعہ کے دن عصر کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ ‘‘(صحیح مسلم)

زمین کس طرح وجود میں آئی

 اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جو اوپر ذکر ہوئے ہیں۔ ان میں جامع طور سے تمام تفصیل آگئی ہے۔ اب ہم ان فرمان کی روشنی میں ذرا تفصیل سے زمین و آسمان کی تخلیق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی یعنی زمین کو پید ا فرمایا۔ ‘‘زمین کے وجود میں آنے کے بارے میں ماہرین فلکیات اور سائنسداں دو طریقے بیان کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہماری زمین ہمارے سورج کا ہی حصہ تھی اور کسی وجہ سے سورج سے اتنا مادّہ اُچھل کر خلاء میں آیا کہ نو سیارے وجود میں آئے جن میں ہماری زمین بھی ہے اور اِس طرح نظام شمسی وجود میں آیا۔ دوسرا طریقہ یہ بیا ن کیا کہ ’’بگ بینگ‘‘ (عظیم دھماکہ جو اﷲ تعالیٰ کا ’’کُن‘‘ فرمانا ہے)  کے بعد جو مادّہ خلاء میں بکھرا تو اُس مادّے سے سورج وجود میں آیا اور سورج کے اطراف جو مادّہ تھا وہ اُس کی زبردست کشش ثقل کی وجہ سے اُس کے اطراف گردش کرنے لگا اور دھیرے دھیرے وہ مادّہ نو سیاروں میں سمٹ گیا اور اِس طرح نظام شمسی وجود میں آیا۔ پہلے طریقے کی وضاحت میں سائنسداں کہتے ہیں کہ ہماری زمین بھی سورج کا حصہ تھی پھر کسی دھماکے یا کسی اور وجہ سے سورج سے الگ ہوئی۔ اس کی مثال یو ں سمجھیں کہ ایک کیچڑ کا تالاب ہے۔ اس میں اگر ہم ایک بڑا پتھر پھینکیں گے تو وہ پتھر تالاب میں ضم ہو کر اس کا حصہ بن جائے گا۔ اور اس جگہ کی کیچڑ اچھل کر تالاب کے باہر زمین پر آجائے گی اور کئی روز بعد وہ کیچڑ سوکھ کر سخت ہو جائے گی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کوئی بہت بڑا سیارہ ہمارے سورج سے ٹکرایا ہو گا یا اﷲ کے حُکم سے سورج نے اپنی شدید کششِ ثقل کی وجہ سے کسی بہت بڑے سیارے کو کھینچ کر اپنے اندر ضم کر لیا ہو گا اور نتیجہ میں اس کا جلتا ہوا مادّہ ( جو لاو ا کی شکل میں اور گیسوں کی شکل میں تھا) اچھل کر خلا میں آگیا اور اس طرح نظام ِ شمسی کے نو سیارے عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، زحل، مشتری، یورنیس، نیپچون، اور پلوٹو وجود میں آئے۔ سورج کی بے انتہا کشش ثقل کی وجہ سے یہ نو (9) سیارے اس کے اطراف میں گردش کرنے لگے۔ اس طرح ہماری زمین وجود میں آئی۔ دوسرے طریقے کی وضاحت ماہرین فلکیات اور سائنسدانوں نے یہ کی ہے کہ ’’بگ بینگ‘‘ یعنی عظیم دھماکے کی وجہ سے جب مادہ پھیلنا شروع ہوا تو ہمارے سورج کی تشکیل ہوئی اور سورج کی تشکیل کے بعد اُس کی بے پناہ کشش ثقل کی وجہ سے اچھا خاصا مادّہ اُس کے اطراف گردش کرنے لگا جس سے دھیرے دھیرے سورج کے اطراف گردش کرنے والے نو سیاروں کی تشکیل ہوئی اور اِن میں ہماری زمین بھی ہے۔

دن اور رات زمین تک محدود ہیں     

 ہماری زمین پر جو دن اور رات ہوتے ہیں یہ بھی اﷲ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ بات سمجھ لیں کہ دن اور رات ہماری زمین تک ہی محدود ہیں۔ ہماری زمین ایک سال میں سورج کے اطراف ایک دائرہ مکمل کرتی ہے۔ یاد رہے یہ دائرہ بیضوی ( یعنی انڈے کے جیسا ) ہوتا ہے اور زمین سورج سے دور اور نزدیک ہوتی رہتی ہے۔ اسی سے سردی اور گرمی پڑتی ہے۔ سورج کے اطراف کی گردش کو ’’سالانہ گردش‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس ’’سالانہ گردش‘‘ کے ساتھ ساتھ ہماری زمین اپنے ’’محور‘‘ پر بھی چوبیس 24گھنٹے میں ایک چکر گھومتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری زمین پر دن اور رات ہوتے ہیں۔ اسے زمین کی ’’محوری گردش‘‘ کہا جاتا ہے۔ اپنی ’’سالانہ گردش‘‘ کو مکمل کرنے کے دوران زمین اپنے ’’محور‘‘ پر لگ بھگ تین سو چونسٹھ364چکر گھومتی ہے۔

اب ہماری زمین پر دن اور رات چوبیس 24گھنٹوں کے ہوتے ہیں اور سال لگ بھگ تین سو چونسٹھ دنوں کا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ یہ دن اور رات اور سال ہماری زمین تک ہی محدود ہیں۔ ہماری زمین پر دن اور رات ہمارے سورج کی وجہ سے اور ہماری زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ جب ہم ہماری زمین سے باہر نکلیں گے تو بے انتہا پھیلا ہوا خلاء ہمارا استقبال کرے گا اور خلاء میں گھپ اندھیری رات ہے جو ہمیشہ رہتی ہے۔ اُس مستقل اندھیری رات میں اربوں کھربوں سورج ’’چراغ‘‘ کی طرح ٹمٹماتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ان میں سے ایک ہمارا سورج بھی ہے۔ جب ہم خلاء میں پہنچتے ہیں تو دن ختم ہوجاتا ہے اور ہمارے اطراف ایک مستقل رات پھیلی ہوتی ہے کیونکہ بے حد وسیع خلاء میں ہر طرف گھپ اندھیرا ہے۔

ایک دن ہزاروں سال پر محیط

 اب اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں جو ایک دن کا ذکر فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں جو ایک دن کا ذکر فرماتے ہیں۔ وہ ایک دن ہمارے یہاں کے چوبیس24گھنٹوں کے برابر نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ایک دن ہماری زمین کے ہزاروں سال کے برابر ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: ’’ (ترجمہ) اﷲ وہ ہے جس نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا اور عرش پر مستوی ہوا۔ وہ (اﷲ) آسمان سے لیکر زمین تک کے ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر وہ کام ایک دن میں اُس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کااندازہ تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ ‘‘ (سورہ السجدہ آیت نمبر 4,5) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ ترجمہ، اور ایک دن تیرے رب کے یہاں ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو۔ (سورہ الحج آیت نمبر 47 )۔ اب آپ کی سمجھ میں آگیا ہو گا کہ قرآن پاک اور احادیث میں ذکر کیا گیا ایک دن کم سے کم ایک ہزارسال پر محیط ہے اور زیادہ سے زیادہ ہزاروں سال پر محیط ہوتا ہے اور نو ہزار نو سو ننانوے 9,999 سال بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سے زمین و آسمان کی تخلیق سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ باقی انشاء اﷲ اگلی قسط میں۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔