ﷲ کی نشانیاں : قسط 5

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

زمین آگ کا گولہ تھی

          ہماری زمین کی اندرونی ساخت بھی اﷲکی ایک نشانی ہے۔ ہماری زمین کی اندرونی ساخت کو اﷲ تعالیٰ نے اتنی مکمل اور عمدہ بنایا ہے کہ وہ مسلسل ہزاروں لاکھوں سال تک اپنا کام کرتی رہے گی اور اُس کی وجہ سے زمین کے اوپر کا نظام بالکل صحیح چلتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورج میں کوئی بہت بڑا سیارہ ٹکرایا تھا یا کسی اور طرح سے زمین کو سورج سے الگ کیا تھا یا پھر زمین کو اور سورج کو الگ الگ وجود میں لایا تھا۔ اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ جب زمین سورج سے الگ ہوئی تو وہ پوری لاوا یعنی آگ تھی اور لاوے کا یہ مادّہ سورج کی بے پناہ کششِ ثقل کی وجہ سے اس کے اطراف گردش کرنے لگا۔ دھیرے دھیرے گولائی اختیار کر نے لگا کیوں کہ خلاء میں کوئی بھی مادہ گولائی اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح زمین ایک ’’آگ کا گولہ‘‘ بن گئی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سورج بے شمار گیسوں اور دھاتوں کے بڑے بڑے پہاڑوں کا مجموعہ ہے اور اس میں ہائیڈروجن سب سے زیادہ ہے جو مسلسل جل رہی ہے اور ہیلیم میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ پورا جلتا ہوا مادّہ’’ لاوا‘‘کہلاتا ہے۔ زمین جب سورج سے الگ ہوئی تو سینکڑوں، ہزاروں برسوں میں لاوے نے گولائی اختیار کر لی کیونکہ خلاء کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کوئی بھی شئے دھیرے دھیرے ہزاروں برسوں میں گول ہوجاتی ہے۔ ہزاروں سال میں خلاء کی بے انتہا سردی کی وجہ سے اس لاوے کی اوپری سطح پر سخت پرت جمنے لگی۔ جیسا کہ تالاب کی کیچڑ زمین پر آنے کے بعد کئی دنوں کے بعد اس کی اوپری سطح سوکھ کر سخت ہو جاتی ہے۔ اب زمین پر ایک سخت پرت جم چکی تھی اور اس کے اندرجلتا ہوا’’ لاوا‘‘ تھاجو آج کل بھی کسی آتش فشاں پہاڑ کو پھاڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اس لاوے کے اندر بیچوں بیچ میں مخرج ( بہت بڑا مقناطیس ) تھاجو آج بھی ہماری زمین کے عین درمیان میں ہے اور اس کی ’’کشش ثقل‘‘ بہت زبردست ہے اور اِسی کی وجہ سے کوئی بھی چیز زمین پر گرتی ہے کیونکہ وہ ’’میگنیٹ‘‘ یعنی ’’مقناطیس‘‘ اُسے اپنی طرف کھنچ لیتا ہے۔ یہ سب ہزاروں سال میں ہوا جو اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہے اور اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی یعنی زمین کو پیدا فرمایا۔ ‘‘

زمین کا سورج سے فاصلہ

          اﷲ تعالیٰ نے جو مادّہ سورج سے الگ کیا تھا وہ مادّہ سورج سے اتنے مناسب فاصلے پر رکھا کہ نہ تو وہ سورج کی کشش ثقل سے باہر جا سکتا ہے اور نہ ہی سورج اسے کھینچ کر اپنے اندر جذب کر سکتا ہے۔ وہ مادہّ دھیرے دھیرے نو سیاروں اور اُن کے چاندوں میں تبدیل ہوگیا اور اِن نو سیاروں میں سے ایک ہماری ’’زمین‘‘ بھی ہے۔ اﷲ تعالیٰ زمین پر انسان کو بسانے والے تھے اِسی لیے ہماری زمین کو ہمارے سورج سے انتہائی مناسب فاصلے پر رکھا۔ اگر ہماری زمین ہمارے سورج سے تھوڑی قریب ہوجائے تو گرمی سے تمام انسان، جانور، پرندے یہاں تک کہ پیڑ پودے بھی ختم ہوجائیں گے اور اگر ہماری زمین ہمارے سورج سے تھوڑی اور دُور ہو جائے تو ہم تمام انسان، جانور، پرندے اور پیڑ پودے خلاء کی بے انتہا سردی کی وجہ سے ختم ہوجائیں گے۔ اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: ’’ اور اُن کے لیے ایک نشانی رات ہے جس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ اور سورج کے لیے ایک راستہ مقرر کر دیا ہے اور وہ اُسی راستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ غالب اور علم والے (اﷲ) کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔ اورچاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہ سورج کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور یہ سب کے سب آسمان (خلاء) میں تیرتے پھرتے ہیں۔ ‘‘ ( سورہ یاسین آیت نمبر 37 سے40 تک) اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اﷲ نے سورج، زمین اور چاند کو اتنے مناسب فاصلے پر رکھا ہے کہ وہ ایکدوسرے سے ٹکرا نہیں سکتے۔ ہاں جب اﷲ تعالیٰ چاہیں گے تو اِن کو ٹکرا دیں گے اور وہی وقت قیامت کا ہوگا۔

زمین کی اندرونی ساخت

          آج ہماری زمین کی جو ساخت ہے وہ ساخت ہزاروں سال میں وجود میں آئی ہے۔ ہماری زمین کی ساخت کو سمجھنے کے لیے ایک سیب کو لیں اور اُسے درمیان سے دوحصوں میں تقسیم کریں۔ اب اُس کے کٹے ہوئے حصے کو سامنے سے دیکھیں۔ آپ کو اُس سیب کا پتلا سا چھلکا دکھائی دے گا اور وہی پتلا چھلکا ہماری زمین کی اوپری سخت پرت ہے۔ اِس میں پہاڑ گڑے ہوئے ہیں اﷲ تعالیٰ نے زمین کی اوپری سطح پر پہاڑوں کو کیسے گاڑا ہے اِس کے بارے میں انشاء اﷲ آگے بتائیں گے۔ اب سیب کا جو گودا آپ کو نظر آرہا ہے وہ ہماری زمین کی اوپری پرت کے اندر گھومتا ہوا ’’لاوا‘‘ ہے۔ وہ’’ لاوا‘‘ مسلسل گھوم رہا ہے اور اُسی کی وجہ سے ہماری زمین بھی اپنے ’’محور‘‘ پر ایک دن میں ایک چکر گھومتی ہے۔ آپ نے سیب کے چھلکے اور گودے کے بارے میں سمجھ لیا۔ اب وہ حصہ دیکھیں جس میں بیج ہے وہ حصہ ہماری زمین کا ’’مخرج‘‘ ہے اور یہ مخرج ایک بہت بڑا میگنیٹ (مقناطیس) ہے۔ اِس ’’مقناطیس‘‘ کی کشش اﷲ تعالیٰ نے اتنی مناسب رکھی ہے کہ ہم انسان تمام کام باآسانی کر لیتے ہیں۔ اُمید ہے کہ آپ کو ہماری زمین کی ساخت سمجھ میں آگئی ہو گی۔ ہماری زمین کے مخرج کی کشش کا اثر ہماری زمین کے اوپر بھی پڑتا ہے۔ اِسی کشش کی وجہ سے ہم کسی بھی چیز کو اوپر پھینکیں گے تو وہ نیچے زمین پر آگرے گی۔ اِس کو سائنسدانوں نے ’’کشش ثقل‘‘ کا نام دیا ہے۔ اگلی قسط میں ان شاء اﷲ ہماری زمین کی کشش ثقل کے بارے میں بتائیں گے۔

٭…٭…٭

تبصرے بند ہیں۔