اسلام کی سائنسی تعبیر

مذہبی تعلیمات کو جدید پیرائے خصوصاً سائنسی و فلسفی نظریات سے ہم آہنگ کر کے پیش کرنے کے کافی اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔

عبد الرحمن عالمگیر

یورپ میں جب نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کی تحریک اٹھی تو اس وقت جدید گروہ نے عیسائیت کے عقائد پر شدید تنقید کیا جن عقائد پر ان کی جانب سے تنقیدیں کی گئیں ان میں سے ایک عقیدہ یہ تھا کہ زمین پوری کائنات کا مرکز ہے لیکن جدید تحقیقات سے یہ بات غلط ثابت ہوئی اور قرار پایا کہ زمین کے بجائے سورج دنیا کا مرکز ہے جس کے گرد پوری کائنات گردش کر رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں بہت سارے مغربی جو پہلے عیسائی تھے علی الاعلان ملحد ہوگئے۔ لیکن اس نئی تحقیق کا اس وقت اسلام پر کوئی اثر نہیں پڑا کیوں کہ اسلام میں ایسا کوئی فلسفی نظریہ مذہبی نوعیت کا درجہ نہیں رکھتا تھا۔ اگرچہ بعد میں مسلمانوں پر بھی یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا گہرا اثر پڑا لیکن اس کے باوجود دوسرے تھے۔

متعلقہ مضامین

آج جب مسلمانوں کے یہاں ہر سائنسی نظریے کو اسلامائز کرنے کی تحریک چلی ہوئی ہے کہ سائنس کی تحقیق میں آنے والا ہر نظریہ مسلمانوں کے یہاں آج سے چودہ سو سال پہلے سے موجود ہوتا ہے بس ان کو یہ انتظار رہتا ہے کہ کب کوئی مغربی مفکر اس کو ثابت کریں اور مذہبی حلقہ اس کو اسلام کا چولا اوڑھا دے۔ بلاشبہ یہ غلط طرز عمل ہے۔ اسلام کوئی سائنسی یا فلسفی و منطقی مذہب نہیں ہے کہ اس کے ہر ہر پیغام کو سائنس کے لبادے میں پیش کیا جائے۔ بلکہ اسلام کا طریقۂ کار یہ ہے کہ دنیا جن مقدمات پر کھڑی ہے اس کی بنیاد کو اٹھاتا ہے اور اس کے متعلق اپنا اصولِ ہدایت فراہم کردیتا ہے اور شرعی ہدایتوں کے پس منظر میں جو علوم و فنون آتے ہیں اس کو مس کرتا ہوا گزر جاتا ہے نہ کہ اس پر تفصیلی مباحث قائم کرتا ہے جیسے علم جنین (Embryology) کا معاملہ ہے کہ وہ اس کے مباحث کی تفہیم کا کام نہیں کرتا بلکہ انسان کی حقیقت و ماہیت پر تبصرہ کرتے ہوئے ضمناً ان بنیادوں کو ذکر کر دیتا ہے جس پر علم جنین قائم ہے۔ یہی چیز تمام اسلامی عبادات و احکام میں پوشیدہ ہے۔ اب اگر کوئی ہر ہر اسلامی حکم میں سائنسی نکات تلاش کرنے لگے تو یہ بلاوجہ کی موشگافی ہوگی۔

 سائنس کے نظریات کو قرآن سے ثابت کرنے میں بعض علماء اس قدر جد و جہد کرتے ہیں گویا وہ ایمانیات کا کوئی مسئلہ ہو۔ پھر اس پر مزید حیرت و استعجاب کی بات یہ ہے کہ بڑی معصومیت سے یہ اقرار بھی کرتے ہیں کہ اگر مستقبل میں یہ سائنسی نظریات غلط ثابت ہوئے تو ہم کہیں گے کہ ہماری تفسیر غلط تھی جیسا کہ وحید الدین خان صاحب فرماتے ہیں:

««مستقبل کا مطالعہ کسی موجودہ تحقیق کو کلاً یا جزءاً غلط ثابت کردے تو اس سے کسی بھی درجہ میں قرآن کی تغلیط ثابت نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہو گا کہ قرآن کے مجمل اشارہ کے تفصیلی تعیین میں غلطی ہوگئی تھی»» (مذہب اور جدید چیلنج ص: 166)

سر سید احمد خان صاحب لکھتے ہیں:

««جہاں تک ہمارے علوم کو ترقی ہوتی جاوے گی اور اس ترقی یافتہ علوم کے لحاظ سے ہم اس پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اس (قرآن) کے الفاظ اس لحاظ سے مطابقت حقیقت ہیں اور ہم کو ثابت ہو جاوے گا کہ جو معنی ہم نے پہلے قرار دیے تھے اور اب غلط ثابت ہوئے وہ ہمارے علم کا قصور تھا نہ الفاظ قرآن کا۔ پس اگر ہمارے علوم کو آئندہ زمانہ میں ایسی ترقی ہو جاوے کہ اس وقت کے امور محققہ کی غلطی ثابت ہو تو ہم پھر قرآن مجید پر رجوع کریں گے اور اس کو ضرور مطابق حقیقت پائیں گے اور ہم کو معلوم ہو گا کہ جو معنی ہم نے پہلے قرار دیے تھے وہ ہمارے علم کا نقصان تھا»» (تفسیر القرآن وھو الھدی والفرقان ص 60)

لیکن سوال یہ ہے کہ جب عوام ان سائنسی نظریات کو اسلامی نظریہ سمجھ ازبر کر چکی ہے اور خدانخواستہ اور وہ تھیوریز (Theories) نئی تحقیق سے غلط قرار پائے تو ان سے کیا کہیے گا کہ چودہ سو سالہ سچائی یا تحقیق جو قرآن سے ثابت شدہ تھی اب وہ غلط ہے۔ یہی بات اگر کوئی سائنسدان کہے کہ ہماری کل تک کی تحقیقات غلط تھی تو اس کے نظریے یا ان کے متعلقین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ سائنسی نظریات میں روز بروز جدت یا بدلاؤ آنا غیر متوقع نہیں ہے اور سائنسدانوں کا پرانی نظریات سے رجوع کرکے نئی تحقیقات کو اپنانے میں کسرِ شان کے بجائے رفعِ درجات کا باعث ہے۔ مگر ایک عامی مسلمان جو بگ بینک (Big Bang)، بلیک ہول (Black hole)، نظریۂ ارتقاء،  دوسرے سیاروں پر ایلین (Alien) کا وجود یا دوسرے سائنسی نظریات کو صرف سائنس سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی فکر سمجھتا ہے اس کے لیے یہ بڑا ہی تشویش کا سبب بنے گا اور اس کا بہت برا اثر اس کے ایمان پر بھی متوقع ہے۔ اگر بالفرض اس طرح کے کئی سائنسی نظریات یکے بعد دیگرے غلط ثابت ہوجائیں جسے علمائے کرام بڑے شدومد کے ساتھ اسلام کی حقانیت میں پیش کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ _اللہ نہ کرے_ اسلام پر وہی اثرات مرتب ہوں گے جو اثرات یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے وقت عیسائیت پر مرتب ہوئے تھے اور اسلام سے لوگ اسی طرح برگشتہ ہوں گے جس طرح یورپی عیسائیت سے برگشتہ ہو کر الحاد کی گود میں پناہ لیے تھے اور مذہب کا چولا اتار پھینکا تھا۔

 لیکن اس حقیقت کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مذہبی تعلیمات کو جدید پیرائے خصوصاً سائنسی و فلسفی نظریات سے ہم آہنگ کر کے پیش کرنے کے کافی اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے بارہ چینی بچے جب Church of Barkeley میں صرف اس غرض سے گئے تھے کہ معلوم کریں عیسائیت نے امریکی تمدن کو کتنا اثر انداز کیا ہے حالانکہ وہ عیسائی مذہب میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے لیکن جب Peter W. Stoner نے ان کے سامنے عیسائیت کی ان تعلیمات کو پیش کیا جن کی موجودہ سائنس تصدیق کرتی تھی اور انہیں جب بائبل کے کتاب پیدائش (Book of Genesis) کی تعلیمات کی سائنسی تعبیر بتائی گئی تو وہ عیسائیت قبول کیے بغیر نہ رہ سکے۔ (The Eveidence of God p-138)

اس قسم کے اور بھی واقعات ہیں جس کی بنا پر قرآن اور سائنس کی مطابقت کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر اسی مطابقت کی تلاش میں سائنسی مرعوبیت داخل ہوجائے یا قرآن کی تفسیر کے بجائے فکری تاویلات اور اس کے مفہوم کی تعیین میں کتاب وسنت کی مخالفت کا لازم آئے تو بلاشبہ یہ مذموم عمل ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔

تبصرے بند ہیں۔