زنـدگی کی رفتار : پیدل سے جہاز تک

ندیم خان

(بارہمولہ، کشمیر)

زندگی کی رفتار سفر کی رفتار سے منسلک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں‘ جیسا کہ معیشت‘سیاست اور سماجی تعلقات کی وسعت اور گہرائی کا تعلق اور انحصارٹرانسپورٹ کی رفتار پر ہے۔ اس سلسلے کا پہلا ذریعہ پیدل چلنا ہے ‘اس کے بعد جانور دوسرا مرحلہ ہیں جس میں رفتار کچھ بڑھ گئی‘مگرپہیے کی ایجاد نے اس میں ایک بڑی پیش رفت کر دی جس کی بدولت سائیکل سامنے آئی ‘اس کے بعد مشین نے اسی سائیکل کو موٹر سائیکل بنا کر رفتار میں مزید اضافہ کر دیا جو بعد میں موٹر کار بن گئی اور رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ گئی۔ اس کے بعد ہوائی جہاز سامنے آیا اور سفر کی رفتار دوڑنے سے اڑنے میں بدل گئی۔ اس رفتا ر نے انسانی زندگی کی طرز کو کچھ اس طرح بدلا کہ شروع میں انسانی زندگی کا دائرہ صرف Intra-actionتک محدود تھا اس سے مراد یہ ہے کہ انسان صرف اپنے آپ تک محدود تھا اسی لیے وہ خود کفیل اور مکمل آزاد بھی تھا‘ اگرچہ اس کی زندگی بہت سادہ اور محدود تھی اس کا مطمح نظر بنیادی طور پر اپنی بھوک مٹانا تھا ‘اس کے بعد موسمی شدت ‘قدرتی آفات اور جنگلی جانوروں سے اپنا بچائو تھا۔ اس سے اگلا مرحلہ interactionکا ہے ‘اسے آپ کھیتی باڑی کا ابتدائی دور بھی کہہ سکتے ہیں جبکہ اس لفظ سے مراد یہ ہے کہ آپ لوگوں سے ملنا جلنا شروع ہو گئے تھے مگر ایک دوسرے پر انحصار نہیں تھا ‘جیسا کہ اپنے کھیتوں کی طرف جاتے ہوئے دوسرے کسانوں سے ملاقات اور گفتگو ہو جایا کرتی تھی۔ اس دور میں انسانی بستیاں صرف گائوں تھیں۔ اس کے بعد قصبے یعنی چھوٹے شہر آباد ہوئے اور انسانی زندگی interdependenceکے مرحلے تک آگئی۔ اس کا مطلب ہے کہ گائوں اور شہروں کے لوگ ایک دوسرے پر انحصار کرنے لگے۔ جو اجناس کسان اگاتا اس کی فروخت کے لیے شہروں کا رخ کرتا اور شہر سے اپنے لیے زرعی آلات‘ کپڑا ‘ادویات اور دیگر اشیا خرید کر لاتا۔ گائوں اور شہر کے درمیاں کاروبار کا سارا دارومدار ذرائع آمدورفت پر تھا۔

1750ء کی دہائی سے شروع ہونے والے صنعتی انقلاب نے موٹر کی ایجاد کے ساتھ جہاں ٹرانسپورٹ میں انقلاب برپا کیا وہیں کارخانے بھی بنائے اور پیداوار کی مقدار میں جمع کی بجائے ضرب دینے کی طرح اضافہ کیا۔ اس مشینی دور نے بڑے شہروں کے قیام کو ناگزیرکردیا ‘بڑی تعداد میں آبادی دیہاتوں سے شہروں میں منتقل ہونا شروع ہو گئی۔ ان شہروں نے ہی انسانی زندگی میں ایک سیاسی انقلاب بھی برپا کیا جس کا نام جمہوریت ہے۔ فرانس کا انقلاب شہروں سے ہی شروع ہوا تھا۔ بادشاہتوں کا خاتمہ ہونا شروع ہوا ‘تعلیم کا شعبہ ایک نمایاں اور لازم کے طور پرلوگوں کی زندگی میں آیا‘اسی طرح میڈیا‘ صحت کا شعبہ‘خواتین کے حقوق اور دیگر تبدیلیاں آئیں۔ اسی صنعتی انقلاب نے جنگ وجدل کے شعبوں میں بھی بڑی ایجادات برپا کیں اور پہلے سے زیادہ مہلک ہتھیار بنائے جانے لگے۔ اسی عسکری ترقی نے دنیا میں جنوں کا دائرہ کار صرف دو ریاستوں کی بجائے بین الاقوامی سطح کا کر دیا۔

شہری زندگی نے بہت سے مسائل کو بھی جنم دیا‘انسانی زندگی کا یہ مرحلہ complexityکہلاتا ہے۔ اس مرحلے کی زندگی میں معاشی‘سیاسی‘معاشرتی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں۔ اس سے اگلے مرحلے کو uncertaintyکہا جاتا ہے۔ اور اس مرحلے تک پہنچنے کی وجہ انسانی زندگی میں گلوبلائزیشن کی سٹیج کا آنا ہے۔ اس میں جدید ترین ذرائع مواصلات یعنی انٹرنیٹ اور بعد کے مواصلات بھی شامل ہیں جنہوں نے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سستے ترین نرخوں میں رابطہ ممکن کردیا ہے۔ موبائل فون دور حاضر کی اہم ترین ٹیکنالوجی ہے جو کہ چند ہی دہائیوں میں انسانی معاشرے میں چھا گئی۔ جس قدر استعمال آج موبائل فون کا ہوتا ہے، شاید ہی کسی چیز کا اس قدر استعمال ہوتا ہو۔ یہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک، خواتین سے لے کر مرد حضرات تک ہر کوئی موبائل فون کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتا ہے۔ ہر بڑے سے بڑے بزنس مین سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے مزدور تک سب کے پاس مختلف قیمتوں، مختلف رنگوں اورمختلف کمپنیوں کے موبائل فون دیکھنے کوملتے ہیں۔

 اس مرحلے تک آتے آتے انسانی زندگی کی پیچیدگیاں غیر یقینی کا شکار ہو چکی تھیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ اگر آپ ہوائی جہاز پر سفر کر رہے ہیں اور کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو آپ کے زندہ بچنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ جنگی میدان میں ایٹمی ہتھیاروں کی مثال لے سکتے ہیں جو بہت ہی مناسب بلکہ مکمل مطلب واضح کر دیتی ہے۔ اب اگر دو ملکوں میں جنگ کا خطرہ ہو اور یہ ہتھیار چل جائیں تو صرف دونوں ملک ہی تباہ نہیں ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے ہمسایہ ممالک بھی اس کا شکار ہو جائیں گے اور اگر یہ بم بڑے ہوئے تو پورے خطے کو بھی لپیٹ میں لے سکتے ہیں حتیٰ کہ پوری دنیا کو اگر تباہ نہ بھی کریں تو بھی پوری دنیا کے موسم اور ماحول کو ضرور متاثرکر سکتے ہیں۔ گویا صرف دو ملکوں کی لڑائی پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا سکتی ہے۔ غیر معمولی خطرات کی مثال عالمگیر وباؤں سے بھی دی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کورونا وبا جس کے متعلق ابھی تک یہ شبہات موجود ہیں کہ یہ قدرتی تھی یا انسانی مداخلت یا کسی سائنسی غلطی کا نتیجہ ؟ ایک سازشی تھیوری یہ ہے کہ چین کو اس کا نشانہ بنایا گیا مگر اپنے بے مثال اقدامات کے ذریعے چین اس پر قابو پانے میں کامیاب رہا۔ یہ مفروضہ کہتا ہے کہ اس کا مقصد چین کی ترقی کے عمل کو روکنا تھا مگر اس وبا نے دیگر ممالک بالخصوص مغربی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یعنی یہ کہہ سکتے ہیں کہ لڑائی چین اور کچھ ترقی یافتہ ممالک کی تھی مگر لپیٹ میں پوری دنیا آگئی اور اس وبانے پوری دنیا کو انتہائی گہرے کرب اور بے یقینی کی صورتحال سے دو چار رکھا۔ اگرچہ اب اس میں واضح کمی آ رہی ہے مگر یہ uncertaintyکی عالمی مثال کے طور کبھی نہیں بھلائی جاسکتی۔

واپس آتے ہیں انسانی زندگی کے ارتقا کی طرف جس کو بجا طور غیر انسانی بھی کہا جا سکتا ہے ‘کیونکہ شروع میں انسان کی زندگی صرف بنیادی ضرورتوں تک محدود تھی اور یہ ضرورتیں صرف روٹی کپڑا اور مکان تک محدود تھیں اور یہ روٹی ‘کپڑا اور مکان بھی انتہائی سادہ طرز کے تھے۔ اس کے بعد کچھ ایسی ایجادات ہوئیں جو سہولیات کہلائیں جیسے بجلی کا پنکھا‘پھر ائر کولر اور آخر میں ائر کنڈیشنر۔ آپ اس کو سہولیات کی بجائے تعیشات کا مرحلہ بھی کہہ سکتے ہیں‘ عین اس طرح گاڑیوں کی جگہ ہوائی جہاز کا مرحلہ سہولت سے تعیش تک کا سفر کہا جاتا ہے۔ اس ضمن میں اہم بات یہ ہے کہ شروع میں جو چیزیں تعیشات کے طور پر انسان کی زندگی میں آئیں وہ وقت کے ساتھ سہولت اور سہولت والی چیزیں بنیادی ضرورت بن گئیں جس سے زندگی گزارنے کی قیمت اور تقاضے بڑھ گئے بلکہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کا زاویہ مشکل درجے پر پہنچ گیااسی لیے اب یہ بات ہر کوئی مانتا ہے کہ گھر، گاڑی ہے‘ رتبے ہیں ‘ دولت ہے اشیا ہیں مگرسکون نہیں ہے۔ صحت کی دنیا کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ذہنی امراض کا نمبر تیسرے یا چوتھے نمبر پر آچکا ہے ذہنی  اور جس رفتار سے ذہنی مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس حساب سے یہ بیماری پہلے نمبر پر آسکتی ہے۔ لوگوں کا مسئلہ روٹی کی دستیابی کی بجائے روٹی ہضم کرنا ہوتا جا رہا ہے ‘اس ضمن میں ایک دلچسپ انکشاف یہ ہے کہ دنیا میں کھانا نہ ملے کی وجہ سے سالانہ ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ان سے کم ہے جو زیادہ کھانے کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ لوگوں کی زندگی گزارنے کی رفتا رہے۔ اس رفتار میں صرف تیز تر نقل و حرکت ہی نہیں بلکہ کھانا کھانے بلکہ کھانا بنانے کی رفتار بھی شامل ہے‘جیسا کہ لوگ گھر پر کھانا بنانے کی بجائے غیر معیاری فاسٹ فوڈز کھانے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ایک ہی وقت میں بہت سے کام کرنا یا سوچتے رہنا بھی شامل ہے اس کو دوڑتے ہوئے دماغ(Racing Minds) بھی کہا جاتا ہے۔

اب آپ سمجھ چکے ہوں گے کی اپنی زندگی کو ہوائی جہاز والی غیر یقینی کیفیت سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ پیدل چلنے والی کیفیت کی طرف لائیں۔ ہاں جب کبھی مقابلہ یا جنگی صورت ہو تو گاڑی یا ہوائی جہاز والی رفتار بھی پکڑ لیں لیکن اگر آپ ہر وقت ہوئی جہاز والی طرز پر رہیں گے تو کسی حادثے یا مشکل میں آپ کے بچنے کا امکان بھی اتنا ہی ہو گا جتنا ہوائی حادثہ میں بچنے کا ہوتا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔