سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کریں

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

”فلاں شخص انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے“ یہ آج سے دس سال پہلے تک تو ایک نئی بات تھی لیکن آج کے دور میں جب دنیا کی اکثریت موبائل کی آمد کے بعد انٹرنیٹ عام استعمال کرنے لگی ہے تو یہ بھی کوئی نئی یا حیرت کی بات نہیں رہی۔

ہم آپ کو آج یہ نہیں بتا رہے کہ آپ اپنی یا اپنے رشتہ داروں کی تصاویر انٹرنیٹ پر ڈالیں یا نہ ڈالیں۔اس کا کتنا نقصان ہے؟لڑکیوں اور بچوں کو انٹرنیٹ استعمال کرنا چاہیے کہ نہیں؟موبائل زیادہ استعمال کرنا صحت کے لیے کتنا مضر ہے؟

جی نہیں،یہ بحثیں آئندہ کے لیے اٹھا رکھیں۔آج ہم ایک ایسے معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں جو افسوس ناک رخ اختیار کرتا چلا جا رہا ہے……وہ معاملہ ہے انٹرنیٹ پر ہر چیز کو بغیر سوچے سمجھے پھیلا دینا!

مثال کے طور پر اگر کسی گمراہ شخص نے اپنی پوسٹوں میں صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم پر تبرا کیا ہوا ہے یا کسی مردود نے جانِ انسانیت سیدنا محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی ہوئی ہے،تو بیش تر کم عقل مسلمان اس کو براہِ راست شیئر کر کے سب کو بتانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ دیکھیں یہ شخص گستاخِ نبیﷺ یا گستاخِ صحابہؓ ہے اور اس طرح کی بات اس نے لکھی ہے۔

اور شیئر کردہ وہ بات یا الفاظ ایمان کو اس قدر لرزا دینے والے ہوتے ہیں کہ الفاظ میں احساسات کی ترجمانی کرنا مشکل ہے۔

نبی کریمﷺ کے دور میں،صحابہ کرامؓ کے دور میں نبی کریمﷺ کی شان میں کتنی گستاخیاں ہوئیں۔کیا ان گستاخانِ رسالت کے کہے یا لکھے گئے الفاظ یا ان کا متن ہم تک پہنچا؟……نہیں پہنچا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم کے جانثاروں نے ان گستاخانِ رسالت کو ان کے کیفر کردار تک تو پہنچا دیا اور آج ان کے ناموں اور مکمل قصوں کا بھی سب کو علم ہے لیکن ان کے کہے گئے ایمان کو چھلنی کر دینے والے الفاظ خاموشی سے مٹی میں دبا دیے۔ان کی تشہیر نہیں کی۔اسی وجہ سے وہ زہریلے الفاظ ہم تک بفضل اللّٰہ تعالیٰ نہیں پہنچ پائے۔

اگر آپ نے کسی شخص کے بارے میں بتانا ہے کہ وہ گستاخ ہے تو اس کے لیے لوگوں کو صرف اس کے نام اور جائے سکونت کے بارے میں آگاہی دے دینی کافی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کا ایک اور طبقہ بھی ہے۔اس طبقے کے لوگوں کو اگر کسی اکاؤنٹ،پیج یا بلاگ کی کچھ پوسٹیں اچھی لگتی ہیں تو وہ دھڑا دھڑ اس اکاؤنٹ،پیج یا بلاگ کی ہر آنے والی پوسٹ کو لائک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ سوچے بغیر کہ ہمارے اس عمل سے شر اور شر کی قوتوں کو کتنی تقویت مل رہی ہے۔اسلام کے دشمنوں کی کتنی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

لوگ اپنے ذاتی مفاد کو دیکھتے ہیں۔اسلام کے مفاد کو نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے ایک لائک سے،ایک کلک سے،ایک شیئر سے اسلام کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔

یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔یہاں جو چیز وائرل ہو گئی،سمجھ لیجیے وہی کامیاب ہو گئی۔یہاں جو شخص یا منظم گروہ گستاخی یا مقدس شخصیات پر لعن طعن یا اسلام کے کسی بھی فریضے کے خلاف یا اس کو مسخ کرنے کی کوششیں کرتا ہے،اس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے۔وہ مقصد ہے سستی شہرت حاصل کرنا۔

انٹرنیٹ کی کسی بھی ایپ پر کوئی بھی ایسا معاملہ یا بحث چھڑ جائے جس کے بارے میں آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام یا مسلمانوں کے لیے غیر مناسب ہے اور بہتر ہے کہ یہ کسی مسلمان تک نہ پہنچے،تو آپ اس کو نظر انداز کر دیں۔نہ اس پر غصے والے ایموجی دینے کی ضرورت ہے،نہ اس کو تنقید کے ساتھ شیئر کریں اور نہ اس پر طنزیہ کمنٹ لکھیں۔بس خاموشی سے اس کو نظر انداز کر دیں۔اس معاملے یا بحث کو اٹھانے والے دشمنانِ اسلام پر واضح کر دیں کہ ہم تدبر اور حکمت کے ساتھ تمہارا قلع قمع کریں گے،تمہارے ساتھ بحث و مباحثہ یا قیل و قال کر کے ہم اسلام کو گرانے میں تمہاری مدد نہیں کرتے……آپ کچھ دنوں کے بعد دیکھیں گے کہ یہ معاملہ خود بخود دب جائے گا۔

ایسے ہی کسی فلمی ادا کار یا گلوکار کی سو باتیں اسلام کے خلاف کر کے ایک بات اسلام کی تعریف میں کر دینے پر اس کی آؤ بھگت کرنے میں انتہا کر دی جاتی ہے۔جب کہ اپنے ملک یا مذہب کا کوئی شخص اگر بڑے سے بڑا کارنامہ بھی سر انجام دے دے تو اس کو فالو کر کے اس کا حوصلہ بڑھانے سے یوں دور بھاگا جاتا ہے جیسے اس کو پیسے دینے پڑ گئے ہوں۔

مثال کے طور پر اپنے ملک کے خانہ بدوش طبقے کی (یہ طبقہ عموماً ہندو مت سے تعلق رکھتا ہے) ایک سیاہ فام بچی گندے نالے سے قرآن کریم کے مقدس اوراق اٹھا رہی ہے اور انہیں چوم رہی ہے۔کسی نے عقیدت سے اس کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی۔اب اس تصویر کے لیے کوئی زیادہ لائکس نہیں،کوئی شیئرز نہیں۔اس کے مقابلے میں ایک ادا کارہ ایک (شرکیہ) نعت کا ایک شعر پوسٹ کرتی ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سب دعوے دار ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے اس پوسٹ کو لائک اور شیئر کرنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔

بہت سے لوگ محض چند لائکس اور کمنٹس کے لیے اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود لوگوں کی ذہنیت کے مطابق لا یعنی پوسٹیں کرتے ہیں اور چند فالوورز بڑھانے کے لیے یا یوٹیوب پر چار پیسے کمانے کے لیے اپنے نظریات اور سوچ کو گروی رکھ دیتے ہیں۔ایک صاحب نے ان لوگوں کی اس روش کو ”فرینڈز پرستی“ کا بر محل نام دیا ہے۔

کسی کے الفاظ،تحاریر،ترانے یا اشعار بلا اجازت اڑا لینے یا چوری کر کے ان کو ایسے لوگوں کی ویڈیوز اور تصاویر پر جن کا ان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا،زبردستی منطبق کرنے کا منفی رجحان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

تحقیق کیے بغیر ہر خبر اور حدیث کو آگے پھیلا دینا ایک افسوس ناک بات ہے۔کتنی ہی ایسی پوسٹیں نظروں سے گزرتی ہیں جن پر لکھے گئے الفاظ کو حدیث کے عنوان سے آراستہ کر کے پھیلایا گیا ہوتا ہے۔تحقیق کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ حدیث کی کتب میں یہ بات کہیں بھی درج ہی نہیں۔سب سے زیادہ یوٹیوب ایپ پر ایسے مواد کی بھرمار ہے۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

”جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے۔“

اس وعید میں حدیث گھڑنے والے،اس کی پوسٹ بنانے والے،اس کو لائک اور شیئر کرنے والے سب شامل ہیں۔

اور ایک اور حدیث میں ہے:

”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلا دے۔“

بد قسمتی سے سوشل میڈیا کے مسلمان صارفین اس نازک ترین دور میں بھی حد درجہ کی غفلت اور حماقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔کم لوگ ہی ایسے ہیں جو ڈیٹا آن کرنے کے بعد بھی اپنے دل و دماغ میں یاد رکھیں کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے اور جو بھی کام ہم سوشل میڈیا پر کریں گے وہ ہمارے نامۂ اعمال میں لکھے جا رہے ہیں۔

حالات جتنے ہمارے مخالف ہیں،ان کو دیکھتے ہوئے ہمیں جتنا مدبر،چوکس اور مستعد ہونا چاہیے تھا ہم اتنے ہی نادان،جلد باز اور سست ہیں۔

افسوس کی بات ہے کہ ہم ہر معاملے کو جذباتیت سے دیکھتے ہیں۔یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارے رد عمل کا ثبات بھی ہو گا یا نہیں۔جب کہ اس کے بر عکس اسلام کے دشمن دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے دیر پا اقدامات کرتے ہیں۔ایک صدی قبل تک یہ صفت ہمارا خاصہ رہی ہے،لیکن ہم نے جب سے اس سے غفلت برتنا شروع کی دشمنوں نے اس کو ہم سے چھین لیا ہے۔

سوشل میڈیا استعمال کرنا اگر کوئی بہت خاص بات نہیں تو یہ عام بات بھی نہیں ہے۔ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا ہے کہ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ تمہارے ماں باپ تمہارے لیے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی۔اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم اپنے ماں باپ کی نا فرمانی کرو گے تو یہ عمل تمہارے جہنم میں جانے کا باعث بن سکتا ہے اور اگر تم ان کی فرماں برداری کرو گے تو تم اس عمل کے ذریعہ جنت میں بھی جا سکتے ہو۔اسی طرح آج کل کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ آپ کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتے ہیں اور ان کا غلط استعمال آپ کو جہنم کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔

موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ بذاتِ خود غلط چیزیں نہیں،ان کا غلط استعمال کرنا غلط چیز ہے۔

ان باتوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کبھی بھی کسی شخص کو لائک یا فالو نہ کریں۔بجائے اس کے کہ آپ لائک،کمنٹ یا شیئر کی سہولت کو غیروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے استعمال کریں،ان کے ذریعے سوشل میڈیا پر اسلام کے گم نام رضا کاروں کو حوصلہ دیں۔اس پُر فتن دور میں ہمیں امت میں اتحاد اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔بقول معروف شاعر عابیؔ مکھنوی کئی سلطان صلاح الدین ایوبی ہمارے درمیان میں موجود ہیں۔صرف ان کے پاس وہ سپاہی نہیں ہیں جن کی ہمراہی میں انہوں نے بیت المقدس فتح کیا تھا۔ہم ان کے وہ سپاہی کیوں نہیں بن جاتے؟

ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ آخری جنگ جو امام مہدیؒ اور کفار کے درمیان ہو گی (جس کا وقت لمحہ بہ لمحہ قریب آتا جا رہا ہے) وہ تلواروں سے لڑی جائے گی۔علما کرام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دورِ حاضر کی یہ ٹیکنالوجی اور اس سے منسلکہ ساری جدیدیت کے ہوتے ہوئے یہ جنگ پرانے زمانے کے ہتھیاروں سے لڑی جائے گی،بلکہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ پرانا زمانہ پھر لوٹ آئے گا۔اِس زمانے میں تیار کیا گیا سب کچھ ختم ہو جائے گا۔دورِ حاضر کی ان سینکڑوں ایجادات اور سہولیات کا یک مشت خاتمہ کیسے ہو گا،اس کا علم تو صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی کو ہے،لیکن علما کرام کا کہنا ہے کہ یہ حدیث مبارکہ ہم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم خود کو جدید چیزوں کا عادی نہ بنائیں۔اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ ہم موبائل،انٹرنیٹ سمیت دیگر جدید چیزوں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

مخبر صادقﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق یہ موبائل اور سوشل میڈیا وغیرہ تو ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گے،لیکن آپ نے جو کچھ ان کے ذریعے پھیلایا وہ آپ کے نامۂ اعمال میں بغیر کسی کمی بیشی کے درج کر دیا جائے گا۔آپ نے اپنی پوسٹوں کے ذریعے جو کچھ لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا ہے وہ سوشل میڈیا کے نہ ہوتے ہوئے بھی ان کے ذہنوں میں گردش کرتا رہے گا۔اب چاہے وہ لکھ کر آپ کی باتیں کسی کو بانٹیں یا بول کر،ان میں آپ کا حصہ جوں کا توں ڈلتا رہے گا۔

خدا نخواستہ اگر آپ شر پھیلا رہے ہیں (جان بوجھ کر یا نا واقفی سے) تو یہ جب تک ایک بھی انسان کے ذہن یا فعل میں موجود رہے گا،آپ کو اس کا گناہ مسلسل ملتا رہے گا۔اور اگر آپ سوشل میڈیا کے ذریعے خیر تقسیم کر رہے ہیں تو پھر چاہے وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ہی کیوں نہ ہو،آپ داد کے مستحق ہیں۔

ایک دن یہ ٹویٹر،انسٹا گرام،یوٹیوب،ٹیلی گرام اور فیس بک وغیرہ وغیرہ اس دنیا میں نہیں رہیں گی لیکن یقین جانیے،آپ کی نیکیاں زندہ رہ جائیں گی۔

"اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا”

”روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعث بنایا ہے کہ ہم انہیں آزما لیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال والا ہے“

"وَاِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيۡدًا جُرُزًا”

”اس پر جو کچھ ہے ہم (ایک دن) اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں“

(سورة الكهف _٧،٨)

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا