غیر سائنسی مفروضے اور ان کی اصل حقیقت

احید حسن

ہومو سپرانں سس قدیم  انسان کے خاندان یا جینس ہومو کی ایک مجوزہ قسم یا سپی شیز ہے جس کی بنیاد 1994ء میں دریافت ہونے والی ایک کھوپڑی پہ ہے۔ اس کے قدیم ہونے کا اندازہ 69 ہزار سے 90 ہزار سال لگایا گیا۔ ارتقائیوں کے نزدیک اس کھوپڑی کی کئی خصوصیات جدید انسان سے مختلف ہیں جیسا کہ نامکمل دوائر یا آنکھوں کے اوپر موجود فوق محجری شگاف یعنی Supraorbital sulcus،کم نشوونما یافتہ پیشانی کی ہَڈّی کا بصلہ یا Frontal tuber، بالائی دائروی محدب حصہ یا Medially concave Supraorbital region، کان کی بیرونی نالی کی زاءدہ وجنی یا Zygomatic process کے مقابلے میں درمیانہ مقام،مُفَصّلی بصلہ یا Articular tubercle کی اندرونی محدب پن۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام ساختی تبدیلیاں یا Anatomical variations آج کے جدید انسان میں بھی پائی جاتی ہیں اور یہ ماریانہ جزائر کے کرونو اجداد میں بہت زیادہ ہیں۔ لہذا ان کی بنیاد پہ یہ بالکل نہیں کہا جا سکتا کہ ہومو سپرانں سس ایک الگ نوع یعنی سپی شیز ہے بلکہ یہ آج کے انسان کی طرح خالص انسانی نسل ہے جس کو ارتقائیوں نے انسانی نسل یا Subspecies  ماننے کی جگہ ایک الگ سپی شیز یا قسم قرار دے دیا۔ ان عام ساختی تبدیلیوں کی کچھ وضاحت جو آج کے انسان میں بھی پائی جاتی ہیں آپ درج ذیل لنکس پہ پڑھ سکتے ہیں۔

http://www.joms.org/article/S0278-2391(05)00211-9/pdf
http://journals.lww.com/op-rs/Abstract/2013/01000/Supraorbital_Notch_and_Foramen___Positional.16.aspx
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pubmed/15944977
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pubmed/18642294
http://onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1002/ar.22920/full

لاؤس میں 64 ہزار سال قدیم انسانی فوسلز پہ کی گئی تحقیقات بھی یہی ظاہر کرتی ہیں کہ ابتدائی انسانی نسلوں میں وسیع ساختی تبدیلیاں اور تنوع موجود تھا اور یہی بات ہم ہومو سپرانں سس کے بارے میں کہ سکتے ہیں لیکن ان تبدیلیوں کی بنیاد پہ ان کے انسان ہونے کا انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں ایک نئی سپی شیز میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ارتقا کے حامی اپنے نظریے کے بارے میں اتنے پرجوش ہیں کہ وہ ہر اس رکاز یا فوسل کو ایک نئی قسم یا سپی شیز میں ڈال دیتے ہیں جسے وہ دریافت کرتے ہیں۔ یقینا ارتقا کے حامی اپنے غیر سائنسی مفروضوں میں بہت تیز ہیں۔

2003ء میں انڈونیشیا کے جزیرے فلورز کے علاقے لیانگ بوان میں ایسے افراد کے رکاز یا فوسل دریافت کیے گئے جن کا قد 1.1 میٹر یا تین فٹ سات انچ تھا۔ نو افراد کے نامکمل ڈھانچے دریافت کیے گئے جس میں ایک مکمل کھوپڑی بھی شامل تھی اور اسے ایل بی ون کا نام دیا گیا۔ ہمیشہ کی طرح ان فوسل یعنی رکاز یا ڈھانچوں کو ارتقائی مخلوق نے ایک الگ سپی شیز یا قسم قرار دیا اور ان کی عمر یا قدیم ہونے کا اندازہ ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ سال لگایا گیا،ان ڈھانچوں کے ساتھ پتھر کے اوزار بھی دریافت ہوئے اور ان کی عمر کا اندازہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ نوے سال لگایا گیا۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک انسانی نسل تھی جس کا قد بہت چھوٹا تھا۔ گزشتہ تواریخ کے اندازوں پہ دریافت کرنے والوں نے یہ تجویز بھی کیا کہ یہ نام نہاد نئی قسم جسے ارتقائیوں نے ہومو فلوریسنسس کا نام دیا تھا،اپنے ہمعصر دیگر انسانوں کے ساتھ فلورز جزیروں پہ رہائش پذیر تھی۔ یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ ڈھانچے جن افراد کے تھے وہ ہومو ایرکٹس جو کہ حقیقت میں ایک قدیم انسانی نسل تھی،کی اولاد سے تھے جو فلورز کے جزائر پہ ایک ملین سال پہنچے اور اس بات کی تائید جزیرے پہ دریافت ہونے والے سازو سامان سے ہوتی ہے۔

پھر یہ لوگ نسل در نسل چھوٹے قد کے ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہومو فلوریسنسس کہے جانے والے یہ افراد ایک الگ سپی شیز یا قسم نہیں بلکہ خالص انسانی نسل تھے اور فلورز جزیروں کے قریب واقع مشرقی تیمور میں جدید انسانوں کے بنائے گئے دریافت ہونے والے پتھروں کی فلورز جزیروں کے نام نہاد ہومو فلوریسنسس سے مشابہت ظاہر کرتی ہے کہ یہ افراد خالص انسانی نسل تھے نہ کہ ایک الگ سپی شیز۔ ان افراد کا ایک فوسل جسے لیانگ بوا یا ایل بی ون کا نام دیا گیا تھا، کی 140 خصوصیات ان تبدیلیوں سے تعلق رکھتی ہیں جو جدید انسانی نسلوں جیسا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے افراد میں بھی موجود ہیں۔ ان کے جبڑوں اور دانتوں کی خصوصیات یا جدید انسانوں جیسی ہیں یا قریب کے علاقے ریمپاسا میں رہنے والے انسانوں جیسی ہیں۔ ان کے دانتوں کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ افراد ہومو ایرکٹس کی نسل تھے اور ہومو ایرکٹس ایک خالص انسانی نسل تھی نہ کہ ایک الگ سپی شیز یا قسم اور ہم اپنے مزید مضامین میں اس کی وضاحت کریں گے۔

تحقیق کرنے والے جیکب اور ان کی ٹیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان افراد کی خصوصیات اس علاقے کے آج کے انسانوں سے مختلف نہیں ہیں۔ لیراس کے مطابق ان کی کھوپڑی جدید انسان کی جگہ ہومو ایرکٹس سے ملتی ہے۔ بالفرض یہ بات مان بھی لی جائے تو بھی ہومو فلوریسنسس ایک الگ سپی شیز یا قسم نہیں بلکہ ایک انسانی نسل ہیں کیونکہ خود ہومو ایرکٹس انسان تھے نہ کہ انسان سے الگ ایک اور سپی شیز یا قسم۔ ایل بی ون کے قد کا اندازہ 1.09 میٹر لگایا گیا جب کہ جدید انسانوں میں سب سے چھوٹے قد کی نسلیں مبینگا، مبوتی توا،سیمانگ یا جزائر انڈمان کی ہیں جن کے قد صرف 1.37 میٹر تک ہیں۔ لیکن اس سے ایک بات ظاہر ہوتی ہے اور وہ یہ کہ نام نہاد ہومو فلوریسنسس سے قد میں مشابہ لیکن قد میں کچھ زیادہ افراد کی بونی انسانی نسلیں آج بھی موجود ہیں جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ یہ لوگ ایک خالص انسانی نسل تھے نہ کہ ایک الگ سپی شیز یا قسم۔ براؤن کے مطابق فلورز جزیروں پہ مقیم ہومو ایرکٹس انسان ایک حیاتیاتی مظہر کے ذریعے چھوٹے قد کے ہوگیے جسے جزیراتی بوناپن یا Insular dwarfism کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں ایک محدود ماحول یا جزیرے میں رہائش پذیر انسان اور حیوانی نسلیں نسل در نسل چھوٹے قد کی ہو جاتی ہیں۔ لیکن جیکب اور ان کے رفقاء کے مطابق ہومو فلوریسنسس کے قد آج فلورز جزیروں پر مقیم بونے لوگوں جیسے ہیں جو ایک دیہات ریمپاسا میں مقیم ہیں۔

سوسان جی لارسن نے ان افراد کی کندھے کی ہڈیوں پہ تحقیق سے یہ اخذ کیا کہ ان کے بازو کی ہڈی کے خم کا زاویہ یا Angle of humoral torsion جدید انسانوں سے کم ہے لیکن نیویارک کے ایرک ڈیلسن سمیت کئی سائنسدانوں نے کہا کہ لارسن کے نتائج محض ایک ہڈی پہ تحقیق سے اخذ کیے گئے ہیں لہذا ناقابل اعتبار ہیں۔ 2007 ء میں توچیری نے ہومو فلوریسنسس کی ہاتھ کی ہڈیوں یعنی Carpal bones پہ تحقیق کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ہڈیاں انسان کی بجائے بن مانس سے مشابہت رکھتی ہیں لیکن اس نظریے کو رابرٹ مارٹن اور ایلن تھارن نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کوئی تحقیق چھوٹی کھوپڑی کے حامل افراد یا Microcephalics  پہ نہیں کی گئی لہذا توچیری کے نتائج ناقابل اعتبار ہیں۔ تھارن کے مطابق ہومو فلوریسنسس کی ہاتھ کی ہڈیاں جدید انسانوں سے مختلف نہیں ہیں اور یہ تبدیلیاں انسانوں میں باہم آج بھی موجود ہیں۔ مزید برآں ایل بی ون فوسل کا وینوسی،بیرون اور ہولووے کی طرف سے 100 عام جسامت اور 17 چھوٹی کھوپڑیوں سے موازنہ ثابت کر چکا ہے کہ چھوٹی کھوپڑی کے دماغ کی جسامت میں وسیع تنوع ہوتا ہے اور اس کے مطابق ہومو فلوریسنسس کی کھوپڑی عام کھوپڑیوں سے مختلف نہیں ہے۔ 2008ء میں آسٹریلیا کے محققین جیسا کہ پیٹر جے اوبینڈراف،چارلس ای اوکسنارڈ اور بین جے کیبورڈ نے کہا کہ ہومو فلوریسنسس آئیوڈین کی کمی کا شکار تھے جو کہ آج بھی انڈونیشیا کی کئی مقامی آبادیوں میں موجود ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں میں تھائیرائیڈ ہارمون کی کمی ہوئی اور ان کے قد چھوٹے رہ گئے۔ اس بیماری کو میڈیکل کی زبان میں Myxodemetous endemic cretinism کہا جاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ نام نہاد ہومو فلوریسنسس کی طرف سے پتھروں کے اوزاروں کا استعمال،ایسے ہی قدیم اوزاروں کا ہمسایہ مشرقی تیمور کے انسانوں کی طرف سے استعمال،جدید انسانوں کے ساتھ رہائش، کھوپڑی کی 140 خصوصیات کا جدید انسان جیسا ہونا اور کئی سائنسدانوں جیسا کہ جیکب،لیراس، براؤن،تھارن، مارٹن،وینوسی،بیرون اور ہولووے کی تحقیقات ظاھر کرتی ہیں کہ یہ نام نہاد ہومو فلوریسنسس ایک الگ سپی شیز یا قسم نہیں بلکہ ایک انسانی نسل تھے۔ ہمارے یعنی نظریہ تخلیق کے حامیوں کے مطابق نام نہاد ہومو فوسل قدیم یا جدید انسانوں کی بقایا جات ہیں اور کچھ نہیں جن کو ارتقائی مخلوق نے اپنا نام نہاد انسانی ارتقا ثابت کرنے کے لیے مختلف انواع یا سپی شیز میں تقسیم کر دیا ہے۔ انسانی استخوانی یا کھوپڑی کی خصوصیات جیسا کہ کھوپڑی کے نیچے موجود مُنفِذ نِخاع۔ پُشتِ سَر کی ہَڈّی کا وہ سوراخ جِس میں سے حَرام مَغَز گُذَر کر مَغَز کے نِچلے حِصّے سے جا مِلتا ہے یا Foramen magnum اور کنپٹی کی ہڈی  یا Temporal Bone میں موجود نیم قمری نالیوں یا Semicircular canals ہمیں واضح طور پہ بتا دیتی ہیں کہ یہ فوسل واضح طور پہ انسان سے تعلق رکھتا ہے اور نام نہاد ہومو ایرکٹس، ہومو نینڈرتھل، اور دوسری ہومو انواع حقیقت میں قدیم انسانی نسلیں تھیں جن میں سے کئی ارتقائی مخلوق کے دعوے کے برعکس تاریخ میں ایک ساتھ موجود تھیں۔

نام نہاد ہومو روڈیسی انسس 1921ء میں زیمبیا میں دریافت کردہ آرتھر سمتھ کے فوسلز کی بنیاد پہ قرار دی جانے والی ایک قسم یا سپی شیز کا نام ہے جس کے مشابہ کئی فوسل اب مشرقی اور شمالی افریقہ میں دریافت ہوچکے ہیں۔ ان کی عمر کا اندازہ تین لاکھ سے ایک لاکھ پچیس ہزار سال قدیم لگایا گیا۔ سمتھ کے مطابق ان کی موٹی کھوپڑی،ڈھلوانی پیشانی اور بڑے بڑے ابروئی ابھار یا Brow ridges اسے موجود انسانوں سے الگ کرتے ہیں۔ ان کی کھوپڑی کی جسامت 1250 کیوبک یا مکعب سینٹی میٹر ہے جو کہ جدید انسانوں جیسی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ایسے انسان موجود ہیں جن کے ابرو کے ابھار نمایاں ہوتے ہیں اور یہودی نسل کے افراد عموما ڈھلوانی پیشانی کے ہوتے ہیں۔ لہذا موٹی کھوپڑی اور پیشانی ڈھلوانی کسی طرح بھی ہومو روڈیسی انسس کی وہ خصوصیات نہیں جن کی بنیاد پہ ان کو ایک الگ سپی شیز یا قسم قرار دیا جائے بلکہ یہ ایک خالص انسانی نسل تھی اور دوسری بات یہ کہ قدیم انسانی نسلوں کی کھوپڑی موٹی، ابرو کے ابھار نمایاں جب کہ ٹھوڑی غیر واضح ہوتی تھیں۔ لہذا ایسے کسی بھی فوسل کو انسان سے الگ ایک نئی قسم یا سپی شیز میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ٹم وائٹ کے مطابق ہومو روڈیسی انسس ایک اور انسانی  نسل یعنی ہومو سیپی انز اڈالتو کے جد امجد تھے۔

ارتقائیوں کے مطابق ہومو نیلیڈی نام نہاد خاندان یا جینس ہومینن سے تعلق رکھنے والی ایک قسم یا سپی شیز ہے جسے ماہرین بشریات نے 2015ء میں پیش کیا۔ پہلے ان کی عمر کا اندازہ دو ملین سال قدیم لگایا گیا جب کہ 2017ء کی تحقیقات نے ظاہر کیا کہ یہ فوسل محض تین لاکھ پینتیس ہزار سے دو لاکھ چھتیس ہزار سال پرانے ہیں یعنی اس وقت کے جب کہ انسان پہلے ہی زمین پہ ظاہر ہوچکا تھا۔ یعنی یہ فوسل کسی طرح بھی انسان کا ارتقائی جد امجد نہیں قرار دیا جا سکتا۔ دوسری بات یہ کہ ان کی عمر ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ارتقائی ماہرین حیاتیاتی عرصوں اور فوسل کی عمروں کو اپنے ارتقائی نظریات ثابت کرنے کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جنہیں بعد کی تحقیقات جھوٹ قرار دیتی ہیں۔ اس نام نہاد ہومو روڈیسی انسس کی جسامت اور قد چھوٹے جسم کی حامل انسانی نسلوں جیسا ہے جب کہ کھوپڑی کا حجم کم ( یاد رہے کہ انسانی کھوپڑی کا عمومی حجم 950 سے 1450 کیوبک یا مکعب سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ لہزا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چھوٹے حجم کی وجہ سے ہومو روڈیسی انسس بن مانس کے مشابہ تھے)۔ ان کے پاؤں انسان کے مشابہ ہیں جب کہ یہ ایک غار میں دریافت کیے گئے تھے اور ہڈیاں ایک واضح ترتیب میں نہیں ملیں بلکہ بکھری ہوئی حالت میں تھیں اور یہ غار کی تہوں میں سب سے پہلی آٹھ انچ کی یعنی نئی تہوں میں موجود تھیں اور ان کے ساتھ کوئی اوزار یا زیور موجود نہیں تھے۔

کئی محققین کا خیال ہے کہ یہ ہڈیاں انتہائی دشوار گزار غار میں کسی سیلاب کے پانی کے ساتھ بہتی ہوئی آکر رہ گئیں۔ ٹم وائٹ جو کہ نظریہ تخلیق کے ماہرین کا بہت بڑا مخالف ہے، خود کہتا ہے کہ یہ ہڈیاں ایک نئی سپی شیز یا قسم سے تعلق نہیں رکھتی۔ جب کہ ارتقائی ماہرین جیسا کہ جین او مکس کے مطابق یہ سپی شیز یا قسم انسانی نہیں بلکہ بن مانس اور ممکنہ طور پر آسٹرالو پیتھی کس کی ایک سپی شیز یا قسم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی کوئی مکمل کھوپڑیاں دریافت نہیں ہوئی جن میں جبڑا اور کھوپڑی باہم ملے ہوں اور یہ کھوپڑیاں مختلف جسامت کی ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ کھوپڑیاں ایک نہیں بلکہ کئی سپی شیز یا قسم کی ہیں جن کو ارتقائی ماہرین نے تصوراتی طور پہ جوڑ کر ایک نئی سپی شیز یا قسم کے طور پہ پیش کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ ہڈیاں یا تو خالص انسانی ہیں یا خالص بن مانسی لیکن کسی درمیانی ارتقائی مخلوق کی نہیں۔

فلورسباد کھوپڑی یا ہومو ہیلمی ان فوسل کا نام نہاد ارتقائی نام ہے جن کو 1932ء میں ٹی ایف ڈریئر نے جنوبی افریقہ میں دریافت کیا۔ یہ فلورسباد کی اس جگہ سے دریافت کیے گئے جس جگہ سے پہلے قدیم انسانی کھوپڑیاں اور پتھر کے زمانے کے اوزار دریافت ہوچکے ہیں اور اب کی بار بھی یہ کھوپڑیاں پتھر کے زمانے کے اوزاروں کے ساتھ دریافت کی گئیں۔ یہ کھوپڑیاں منہ کا سیدھا حصہ،پیشانی کی ہڈی یا Frontal bone،جبڑے کی ہڈی اور کچھ دانتوں پہ مشتمل تھیں اور ان کی عمر کا اندازہ دو لاکھ انسٹھ ہزار سال لگایا گیا۔ ڈریئر نے ان کو ایک الگ سپی شیز یا قسم ہومو ہیلمی قرار دیا تھا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ساختی خصوصیات کسی طرح بھی انسانوں سے مختلف نہیں اور یہ اب جدید انسانوں یا قدیم انسانی نسل جیسا کہ نام نہاد ہومو ہیڈلبرگنسس جیسی ہیں۔ ان کی جسامت عام انسانوں جیسی تھی جب کہ دماغ 1400 کیوبک یا مکعب سینٹی میٹر سے بڑا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی انسانی دماغ 950 سے 1450 کیوبک یا مکعب سینٹی میٹر ہے لہزا یہ ایک الگ سپی شیز یا قسم نہیں بلکہ ایک خالص انسانی نسل ہیں۔

اومو بقایا جات ان فوسل کا نام ہیں جو 1967ء سے 1974ء کے درمیان دریائے اومو کے نزدیک جنوب مغربی ایتھوپیا میں دریافت کیے گئے۔ اس میں دو قسم کے افراد اومو ون اور اومو ٹو شامل ہیں۔ اومو ون پہ کی گئی تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ مجموعی طور پہ جدید انسان جیسی خصوصیات رکھتا ہے اور اس کی عمر کا اندازہ ایک لاکھ پچانوے ہزار سال لگایا گیا جب کہ اومو سوم کی عمر کا اندازہ ایک لاکھ پانچ ہزار سال لگایا گیا۔ اومو ون اور اومو سوم کے ساتھ پتھر کے زمانے کے کئی اوزار دریافت ہوچکے ہیں اور خود ماہرین ارتقاء جیسا کہ رچرڈ لیکی کے مطابق یہ انسانی نسل یعنی ہومو سیپی انز سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہومو سیپی انز اڈالتو ان فوسل کو ارتقائی ماہرین کا دیا ہوا نام ہے جو 1997ء میں ہرٹو بوری، ایتھوپیا میں دریافت کیے گئے۔ ان کو ہرٹو مین بھی کہا جاتا ہے۔ خود کئی ماہرین بشریات کے مطابق یہ فوسل انسانی نسل یا سب سپی شیز سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے دماغ کی جسامت کا اندازہ 1450 کیوبک یا مکعب سینٹی میٹر لگایا گیا۔ ارتقائی ماہر بشریات کرس سٹرنجر نے خود اعتراف کیا کہ یہ یہ فوسل اتنے مختلف نہیں کہ ان کو الگ سپی شیز یا قسم کا درجہ دیا جائے یعنی کہ یہ حقیقی انسانوں کے فوسل ہیں۔

کرو میگنان ان انسانوں کا مشترکہ نام ہے جو یورپ میں پہنچے اور ان کا حقیقی انسان ہونا خود ارتقائی ماہرین تسلیم کرتے ہیں۔
اس ساری تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص اس بات سے واقف نہیں ہے کہ آج بھی جدید انسانوں میں ساختی تبدیلیاں اور تنوع موجود ہے لیکن ارتقائی ماہرین قدیم انسانی نسلوں میں موجود اس تنوع کو سراسر نظر انداز کرکے مختلف قدیم انسانی فوسلز کو اپنا لولا لنگڑا ارتقا ثابت کرنے  کے لیے مختلف سپی شیز یا قسموں جیسا کہ نینڈرتھال، ہومو ہیبلس، ہومو ایرکٹس وغیرہ میں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ساختی تنوع انسان میں آج بھی موجود ہے اور اس کی بنیاد پہ مختلف انسانی نسلوں کو مختلف سپی شیز میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان سائنسی  دھوکے بازوں سے ہوشیار رہیے۔ ان سب کی یہ ثابت کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہوچکی ہیں جس کے مطابق انسان کسی بن مانس جیسے جانور سے ارتقا پذیر ہوا بلکہ ان کے دعووں کے برعکس انسان حضرت آدم و حوا کی اولاد ہیں اور جدید جینیٹکس اس کی تائید کرتی ہے۔
ھذا ما عندی۔ واللہ اعلم باالصواب

حوالہ جات:

Herto skulls (Homo sapiens idaltu)”. talkorigins org. Retrieved June 7, 2016.
White, Tim D.; Asfaw, B.; DeGusta, D.; Gilbert, H.; Richards, G. D.; Suwa, G.; Howell, F. C. (2003), “Pleistocene Homo sapiens from Middle Awash, Ethiopia”, Nature, 423 (6491): 742–747, Bibcode:2003Natur.423..742W,doi:10.1038/nature01669, PMID 12802332
160,000-year-old fossilized skulls uncovered in Ethiopia are oldest anatomically modern humans”. UC Berkeley. June 11, 2003. Retrieved June 7 2016
Fleagle, Jg; Assefa, Z; Brown, Fh; Shea, Jj (Sep 2008). “Paleoanthropology of the Kibish Formation, southern Ethiopia: Introduction”. Journal of Human Evolution. 55 (3): 360–365. doi:10.1016/j.jhevol.2008.05.007. ISSN 0047-2484.PMID 18617219.
Fossil Reanalysis Pushes Back Origin of Homo sapiens. Scientific American 2005-02-17. Retrieved 2005-08-22.[Retrieved 2011-08-27]^ a b c Fleagle, Jg; Assefa, Z; Brown, Fh; Shea, Jj (Sep 2008). “Paleoanthropology of the Kibish Formation, southern Ethiopia: Introduction”. Journal of Human Evolution. 55 (3): 360–365. doi:10.1016/j.jhevol.2008.05.007. ISSN 0047-2484. PMID 18617219.^ a b c d Mcdougall, Ian; Brown, FH; Fleagle, JG (2005). “Stratigraphic placement and age of modern humans from Kibish, Ethiopia”. Nature. 433 (7027): 733–736. Bibcode:2005Natur.433..733M. doi:10.1038/nature03258. PMID 15716951.
Rightmire, G. Philip (2009-09-22). “Middle and later Pleistocene hominins in Africa and Southwest Asia”.Proceedings of the National Academy of Sciences. 106 (38): 16046–16050. doi:10.1073/pnas.0903930106. ISSN 0027-8424. PMC 2752549  . PMID 19581595.
Homo helmei”. Bradshaw Foundation. Retrieved 2015-11-
Lewis, Patrick J.; Brink, James S.; Kennedy, Alicia M.; Campbell, Timothy L. “Examination of the Florisbad microvertebrates”. South African Journal of Science. 107(7/8). doi:10.4102/sajs.v107i7/8.613.
McKie, Robin (24 October 2015). “Scientist who found new human species accused of playing fast and loose with the truth”. The Guardian. Retrieved 25 October 2015.
Shreeve, J. 2015. Mystery man: A trove of fossils found deep in a South African cave adds a baffling new branch to the human family tree. National Geographic. 228(4): 30-57.Gish, D. 1975. Man…Apes…Australopithecines…Each Uniquely Different. Acts & Facts.
Clarey, T. L. 2017. Disposal of Homo naledi in a possible deathtrap or mass mortality scenario. Journal of Creation. 31 (2): 61-70.O’Micks, J. 2017. Likely Discontinuity Between Humans and Non-Human Hominins Based on Endocranial Volume and Body Mass with a Special Focus on Homo naledi – A Short Analysis. Answers Research Journal.10: 241-243.
Jake Hebert, Ph.D. 2013. Was There an Ice Age? Acts & Facts. 42 (12): 20.
Shreeve, J. 2015. Mystery man: A trove of fossils found deep in a South African cave adds a baffling new branch to the human family tree. National Geographic. 228 (4): 30-57.
Dirks, P. et al. Geological and taphonomic context for the hominin species Homo naledi from the Dinaledi Chamber, South Africa. eLife. Posted on elifesciences.org September 10, 2015, accessed September 15, 2015.
http://www.icr.org/article/homo-naledi-new-human-ancestor/
Chutel, L. and M. Ritter. Study: Bones in South African cave reveal new human relative. Associated Press. Posted on news.yahoo.com September 10, 2015, accessed September 10, 2015.Begley, S. The New Science of Human Evolution. Newsweek, March 19, 2007.
Shreeve, Jamie (10 September 2015). “This Face Changes the Human Story. But How?”. National Geographic News. Retrieved 10 September 2015.
Rincon, Paul (9 May 2017). “Amazing haul of ancient human finds unveiled”. BBC. Retrieved 9 May 2017.
Berger, L. R.; Hawks, J.; Dirks, P. HGM; Elliott, M.; Roberts, E. M. (9 May 2017). “Homo naledi and Pleistocene hominin evolution in subequatorial Africa”.eLife. 6. doi:10.7554/eLife.24234.
Berger, Lee R.; et al. (10 September 2015). “Homo naledi, a new species of the genus Homo from theDinaledi Chamber, South Africa”. eLife. 4.doi:10.7554/eLife.09560  . PMC 4559886  .PMID 26354291. Retrieved 10 September 2015.
Grün, Rainer; Brink, James S.; Spooner, Nigel A.; Taylor, Lois; Stringer, Chris B.; Franciscus, Robert G.; Murray, Andrew S. (1996-08-08). “Direct dating of Florisbad hominid”. Nature.382 (6591): 500–501. doi:10.1038/382500a0.
And Homo heidelbergensis were themselves humans.
“The Ndutu cranium and the origin of Homo sapiens – R. J. Clarke” (PDF). American Museum of Natural History. November 27, 1989. Retrieved December 9, 2015
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC1552106/
White, Tim D.; Asfaw, B.; DeGusta, D.; Gilbert, H.; Richards, G. D.; Suwa, G.; Howell, F. C. (2003). “Pleistocene Homo sapiens from Middle Awash, Ethiopia”. Nature. 423 (6491): 742–747. doi:10.1038/nature01669. PMID 12802332
Mallegni, F (2003). “Homo cepranensis sp. nov. and the evolution of African-European Middle Pleistocene hominids”.Comptes Rendus Palevol. 2 (2): 153–159. doi:10.1016/S1631-0683(03)00015-0. ISSN 1631-0683.
Kaifu, Yousuke; Kono, Reiko T.; Sutikna, Thomas; Saptomo, Emanuel Wahyu; Jatmiko, .; Due Awe, Rokus (18 November 2015). Bae, Christopher, ed. “Unique Dental Morphology ofHomo floresiensis and Its Evolutionary Implications”. PLOS ONE. 10 (11): e0141614. doi:10.1371/journal.pone.0141614.
Yirka, Bob (20 November 2015). “Dental analysis suggestsHomo floresiensis was a separate species from modern man”.phys.org. Retrieved 21 November 2015.
Jacob, T.; Indriati, E.; Soejono, R. P.; Hsu, K.; Frayer, D. W.; Eckhardt, R. B.; Kuperavage, A. J.; Thorne, A.; Henneberg, M. (5 September 2006). “Pygmoid Australomelanesian Homo sapiens skeletal remains from Liang Bua, Flores: Population affinities and pathological abnormalities”. Proceedings of the National Academy of Sciences of the United States of America.103 (36): 13421–13426. Bibcode:2006PNAS..10313421J.doi:10.1073/pnas.0605563103. PMC 1552106  .PMID 16938848.
“Pygmy”. Encyclopædia Britannica. Archived from the original on 8 January 2008
Fix, Alan G. (June 1995). “Malayan Paleosociology: Implications for Patterns of Genetic Variation among the Orang Asli”. American Anthropologist. New Series. 97 (2): 313–323. doi:10.1525/aa.1995.97.2.02a00090.JSTOR 681964.
Weber ch. 5″. Andaman.org. Archived from the original on 10 July 2012. Retrieved 1 October 2011
Brown, P.; et al. (27 October 2004). “A new small-bodied hominin from the Late Pleistocene of Flores, Indonesia”.Nature. 431 (7012): 1055–1061.Bibcode:2004Natur.431.1055B. doi:10.1038/nature02999.PMID 15514638.
Elegant, Simon (30 April 2005). “Science: Bones of Contention”. Time. Rampasasa. Retrieved 16 January 2011.
Science Magazine” (PDF). 19 May 2006. Retrieved 1 October 2011.
Holmes, Bob (20 September 2007). “‘Hobbitt’ wrist bones suggest a distinct species”. New Scientist.
Anna Salleh. (21 September 2007). “Wrist gives hobbit theory the flick”. ABC.net.au. Retrieved 14 September 2012.
Morwood, M. J.; et al. (27 October 2004). “Archaeology and age of a new hominin from Flores in eastern Indonesia”.Nature. 431 (7012): 1087–1091.Bibcode:2004Natur.431.1087M. doi:10.1038/nature02956.PMID 15510146.
Jacob, T.; Indriati, E.; Soejono, R. P.; Hsu, K.; Frayer, D. W.; Eckhardt, R. B.; Kuperavage, A. J.; Thorne, A.; Henneberg, M. (5 September 2006). “Pygmoid Australomelanesian Homo sapiens skeletal remains from Liang Bua, Flores: Population affinities and pathological abnormalities”. Proceedings of the National Academy of Sciences of the United States of America.103 (36): 13421–13426. Bibcode:2006PNAS..10313421J.doi:10.1073/pnas.0605563103. PMC 1552106  .PMID 16938848.
Hobbit’ Bones Said to Be of Deformed Human”. Los Angeles Times. 20 May 2006.
Vannucci, Robert C.; Barron, Todd F.; Holloway, Ralph L. (2013). “Frontal Brain Expansion During Development Using MRI and Endocasts: Relation to Microcephaly and Homo floresiensis”. The Anatomical Record. 296 (4): 630–637.doi:10.1002/ar.22663. ISSN 1932-8486.
Obendorf, P.J.; Oxnard, C.E.; Kefford, C.E. (7 June 2008).”Are the small human-like fossils found on Flores human endemic cretins?”. Proceedings of the Royal Society B. Online: Royal Society. 275 (1640): 1287–1296.doi:10.1098/rspb.2007.1488. PMC 2602669  .PMID 18319214.
Cheryl Jones (5 January 2011). “Researchers to drill for hobbit history : Nature News”. Nature.com. Retrieved 1 October 2011.
Baaba, K. L. and K. P. McNulty. Size, shape, and asymmetry in fossil hominins: The status of the LB1 cranium based on 3D morphometric analyses. Journal of Human Evolution. Article in press, posted online December 4, 2008.
Discovery of Giant Roaming Deep Sea Protist Provides New Perspective on Animal Evolution. Florida Atlantic University press release, December 4, 2008.
“Hobbit” fossils represent a new species, concludes U of M anthropologist. University of Minnesota press release,December 17, 2008.Thomas, B. Neanderthal Men Were Modern Men. ICR News. Posted on icr.org December 18, 2008, accessed December 24, 2008.
GBIF 787018738 Fossil of Homo rhodesiensis Woodward, 1921″. GBIF org. Retrieved December 9, 2015
The evolution and development of cranial form in Homo”(PDF). Department of Anthropology, Harvard University. Retrieved December 9, 2015.
Dawkins (2005). “Archaic homo sapiens”. The Ancestor’s Tale. Boston: Mariner. ISBN 0-618-61916-X.
Rightmire, G. Philip. The Evolution of Homo erectus: Comparative Anatomical Studies of an Extinct Human Species Cambridge University Press, 1993. ISBN 0-521-44998-7, ISBN 978-0-521-44998-4.

تبصرے بند ہیں۔