کم وسائل میں ہمالیہ کا پیدل سفر کرنے والا ایک نوجوان

الکا گاڈگل

(مہاراشٹر)

’’ایسا ضرورہوتا ہوگا کہ آپ نیند میں خواب دیکھتے ہونگے۔لیکن کیا آپ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا ہے۔لیکن میں اپنے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کرنے جا رہا ہوں۔ میں مہاراشٹر سے ہمالیہ تک اپنے دلچسپ سفر کا آغاز کر رہا ہوں۔ اپنی منزل کی سمت ایک قدم۔‘‘ 22 سالہ سدھانت راگنی مہیش گنائی نے یہ واٹس ایپ پر اس وقت شیئر کیا تھا جب وہ ہمالیہ کو فتح کرنے کے اپنے مشن پر جانے کے لیے بالکل تیار تھا۔سدھانت نے مارچ 2020 میں جب اپنا یہ سفر شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تب وہ ممبئی کے اندھیری واقع بھونس کالج میں باٹنی میں بیچلر کی ڈگری کی پڑھائی کر رہا تھا۔ اس وقت اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ لیکن اس نے اس کے لیے وسائل جمع کرنا شروع کر دیا۔ لیکن تبھی قومی سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا اور وہ اپنے منصوبہ پر عملدرآمد نہیں کر سکا۔ پھر جولائی 2021 میں جب لاک ڈاؤن ہٹایا گیا تو سدھانت ممبئی سے اپنا رخست سفر باندھ لیا۔

”میں نے سوچا تھا کہ میں ماؤنٹ ایورسٹ کو فتح کر سکوں گا لیکن جب میں نے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس میں 30 سے 50 لاکھ کے درمیان کچھ بھی لگ سکتا ہے۔اس معلومات کے بعد میرے خواب کے پر حقیقت کی قینچی سے کٹ گئے۔ مجھے اپنے خواب کو پورا کرنا تھا۔ لیکن یہ ٹھیک ہے، ہر چیز آپ کی پہنچ میں نہیں ہوتی ہے۔ بہر کیف کسی دن میں اس کے بارے میں ضرور سوچوں گا۔“سدھانت جیسے زیادہ تر نوجوانوں کو حالات کی وجہ سے اپنے خوابوں کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ کا تخیل اور عزم آپ کو کہیں بھی لے جائے گا۔ہمالیہ کے سفر کے لیے آپ کو دیگر چیزوں کے علاوہ اونی کپڑ ے، جوتے، سن گلاسز اور پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔سدھانت کے دوستوں نے ان کی مدد کی اور وہ سامان اور رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔”بہت سے چھوٹے اور بڑے ایڈونچر ہوں گے، میں فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب کے ذریعے آپ کے ساتھ رہوگا“سدھانت نے اپنے سفر کے آغاز کے دن سوشل میڈیا پر لکھا۔

سدھانت کو ہمیشہ وسائل کی کمی کا سامنا تھا۔ وہ کہتے ہیں ”میرا ماضی بہت پریشان کن ہے۔ میرے والد شرابی تھے، میری ماں نے ہمیں چھوڑ دیا تھا۔ ہمیں اندھیری (مضافاتی ممبئی) میں ایک پل کے نیچے پناہ لینی پڑی، لیکن جلد ہی پولیس نے ہمیں وہاں سے اٹھا دیا۔ تب میری خالہ مجھے بچانے آئیں۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئیں اور میں نے اپنا اسکول کرناٹک کے کاروار میں شروع کیا جہاں وہ رہتی تھیں۔ سد ھا نت جب 8ویں جماعت میں تھے تب ممبئی لوٹ آئے اور میتری کل میں رہنے لگے اور قریب ہی کے ایک سرکاری اسکول میں داخلہ لینے کی کارروائی شروع کر دی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے آس پاس کی بستیوں میں میتری کل کے زیر انتظام بیگ شالا میں چھوٹے بچوں کو پڑھانا بھی شروع کر دیا۔ بیگ شالہ پسماندہ خاندانوں کے بچوں کے لیے ایک مقامی غیر رسمی کوچنگ کلاس ہے۔یاد رہے کہ میتری کل ایک سماجی کارکن کشور جگتاپ کے ذریعہ شروع کیا گیا، کمزور طبقات کے ایسے بچوں کے لیے ایک ہاسٹل ہے جنھیں گھر کے مشکل حالات کی وجہ سے اسکول کی تعلیم حاصل کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔

”میں نے اپنے بیگ، فولڈ ایبل ٹینٹ اور بہت کم نقدی کے ساتھ اپنا سفر شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کے ساتھ ہی میں نے کھانے اور قیام پر پیسہ خرچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ میرا تجربہ ہے کہ جب آپ سفر کر رہے ہوتے ہیں تو آپ دو ست بناتے ہیں اور وہ آپ کو پناہ اور کھانا پیش کرتے ہیں۔ میں نے 3 ماہ سفر کیا اور ایک بار بھی کھانا نہیں خریدا۔ میرا صفر بجٹ کا سفر تھا اور میں نے سفر کے لیے نکلنے سے پہلے اپنے پلان کا ٹرائل رن کیا۔ اس کے لیے میں نے اپنے علاقے میں دو دن سفر کیا اور اس دوران دو وقت کا کھانا بچا نے میں کامیاب رہا۔ ہمالیہ کے سفر کے دوران جب لوگوں نے مجھے تھکاوٹ اور پیاس کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا تو ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے طور پر میری مدد کی۔ مجھے پو ر ے سفر میں دوائی نہیں لینی پڑی کیونکہ میں ایک بار بھی بیمار نہیں ہوا۔“

سدھانت روزانہ 20 سے 30 کلومیٹر پیدل چلتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں ”میں نے جان بوجھ کر ہائی وے نہیں لیا۔ میں نے کچی سڑکوں کا انتخاب کیا جو گاؤں سے گزرتی تھیں۔ سفر صرف منزل تک پہنچنے کے لیے ہی مخصوص نہیں تھا بلکہ میں لوگوں سے مکالمہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ میں ان کی ثقافت اور ان کے عالمی نقطہ نظر کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ سدھانت کو اس مہم میں کل 80 دن لگے۔”ہم سب کو آکسیجن کی ضرورت ہے لیکن ہم واقعی اپنے ماحول کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ میں راستے میں لوگوں سے بحث کرتا تھا۔ میں نے تقریباً تمام ہی جگہوں پر گندگی اور غلاظت دیکھی۔ پھر میں نے سیڈ بامبنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا- جہاں ایک بنجر علاقے میں بیجوں کو پھیلا دیا جاتا ہے۔ پہلے دو ہفتے بہت مشکل تھے۔ میرے پاؤں میں تناؤ تھا اور مجھے اس پر دراڑیں پڑ گئیں لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ خود ہی ٹھیک ہو گئے۔“

سدھانت کو مخصوص دنوں میں ناشتہ یا دوپہر کا کھانا نہیں ملتا تھا لیکن وہ زیادہ تر دنوں میں رات کی پناہ اور رات کا کھانا حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کا ساتھ دینے والی ان نیک روحوں کا تعلق متوسط طبقے سے نہیں بلکہ اس طبقے سے تھا جو حاشیہ بردار ہیں۔ وہ لوگوں سے کورونا، ما حو لیا ت اور زندگی کے رہن سہن جیسے مسائل پر بات چیت کرتے تھے۔لیکن کیا وہ ذات پات کے بارے میں تحقیق سے گزرے بغیر کھانا اور رہائش حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے؟ زیادہ تر ہندوستانی کسی ایسے شخص کو پناہ نہیں دیں گے جنہیں نچلی ذات کا سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستانی اب بھی اپنی سماجی زندگی کو زیادہ تر ذات پات کے درجہ بندی کے اندر چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مہاراشٹر میں مجھ سے کبھی نہیں پوچھا گیا لیکن مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں تقریباً ہر جگہ لوگوں نے میری ذات پوچھی۔

سدھانت کئی گھنٹے برف میں پیدل چلنے کے بعد نیپال میں گنگروک کوکرا ندی پر پہنچے۔ وہاں سے انھیں ہمالیہ کوہ پیمائی کے لیے بیس کیمپ اناپورنا جانا تھا۔”مجھے ایک ایسی جگہ پہنچنا تھا جہاں ایک گروپ میری میزبانی کرنے والا تھا۔ لیکن میں نے اپنی پوری توانائی کھو دی اور میں نے تھوڑی دیر کے لیے رکنے کا فیصلہ کیا۔ میں اپنے خیمے میں تھکا ہوا اور بھوک سے بے جان پڑا تھا تبھی ایک آدمی مجھے بلانے آیا۔ میں اس کی زبان نہیں سمجھ سکا لیکن میں سمجھ گیا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے مجھے شاندار کھانا پیش کیا۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ میرے جوتے علاقے کے لیے موزوں نہیں تھے اور مجھے جوتے کا ایک جوڑا دیا۔ نیپال میں میرا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ وہ تجربہ واقعی دل کو چھو لینے والا تھا۔“

 جب وہ ہمالیہ کے دامن میں نیپال کے اناپورنا بیس کیمپ پہنچے تو وہ پرجوش تھے۔ یہ ان کے سفر کا اختتام تھا۔ لیکن ایک ملا جلا احساس تھا۔ کیا آخر میں کامیابی کا احساس نہیں ہونا چاہیے؟ اس سوال پر سدھانت  مسکراتے ہوئے سر ہلا دیتے ہیں۔(چرخہ فیچرس)

تبصرے بند ہیں۔